جموں و کشمیر
نیشنل کانفرنس، کانگریس اتحاد نے 48 سیٹیں حاصل کرکے حکومت تشکیل دینے کی راہ ہموار کی
سری نگردفعہ 370کی تنسیخ کے بعد جموں وکشمیر میں منعقدہ پہلے اسمبلی انتخابات میں نیشنل کانفرنس کانگریس الائنس نے بھاری اکثریت حاصل کرکے تین دہائیوں کی روایت کو توڑ دیا جموں وکشمیر اسمبلی کی 90 سیٹوں میں سے این سی ، کانگریس اتحاد نے 48 سیٹیں حاصل کرکے 46 کے اکثریتی نمبر کو عبور کیا تجربہ کار سیاست دان فاروق عبداللہ کی قیادت میں، این سی نے 42 نشستیں حاصل کیں، جن میں کشمیر صوبےسے 35 اور جموں سے سات سیٹیں شامل ہیں۔
جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس نے اس بار وادی کشمیر میں 40 نشستوں پر امیدوار کھڑا کئے تھے۔ این سی کے نائب صدر عمر عبداللہ نے بڈگام اور گاندربل سے اپنی دونوں سیٹیں جیت کر کامیابی حاصل کی۔
نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے، این سی صدر فاروق عبداللہ نے کہا کہ مرکزی حکومت کے یک طرفہ فیصلے کو یہاں کے لوگوں نے مسترد کیا ہے ۔
فاروق عبداللہ نے یہ بھی اعلان کیا کہ عمر مخلوط حکومت کے وزیر اعلیٰ ہوں گے۔
کانگریس نے اس بار کے الیکشن میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کیا اور صرف چھ سیٹوں پر ہی کامیابی حاصل کی جن میں پانچ کشمیر صوبے سے ہیں۔
جموں میں کانگریس کو صرف راجوری کی سیٹ پر جیت نصیب ہوئی ، سال 2014کے اسمبلی انتخابات میں کانگریس کو جموں میں پانچ سیٹیں ملی تھیں۔
بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے جموں میں اپنا تسلط برقرار رکھتے ہوئے خطے سے 29 نشستیں جیت لیں۔
کشمیر صوبے میں بی جے پی کو ایک بھی سیٹ نہیں مل پائی جبکہ بھاجپا صدر رویندر رینا نوشہرہ سیٹ ہار گئے جو بی جے پی کے لئے ایک بہت بڑا دھچکا سمجھا جا رہا ہے۔
کشمیر صوبے میں نیشنل کانفرنس کا غلبہ صاف دکھائی دے رہا تھا۔ سری نگر ضلع کی آٹھ نشستوں پر نیشنل کانفرنس نے آٹھ میں سے سات سیٹوں پر کامیابی حاصل کی۔
سری نگر میں اپنی پارٹی کے صدر الطاف بخاری اور سابق میئر جنید عظیم متو کو بھی ہار کا منہ دیکھنا پڑا۔
سرحدی ضلع کپواڑہ میں نیشنل کانفرنس نے پانچ میں سے تین نشستیں جیت کر تاریخ رقم کی تاہم پارٹی کے ایک سینئر لیڈر ناصر اسلم وانی کو پی ڈی پی کے فیاض میر نے شکست دی ۔
شمالی ضلع بارہ مولہ میں نیشنل کانفرنس نے سات میں سے چھ سیٹوں پر قبضہ جمایا یہاں پر سابق ڈپٹی چیف منسٹر مظفر بیگ اور سابق وزرا بشارت بخاری، تاج محی الدین، غلام حسن میر اور عمران رضا انصاری جیسے قدر آور لیڈر وں کو بھی شکست کا سامنا کرناپڑا۔
ممبر پارلیمان انجینئر رشید کے بھائی خورشید شیخ نے لنگیٹ سیٹ جیتی جبکہ پیپلز کانفرنس کے سربراہ سجاد لون ہندواڑہ سے جیت گئے ۔
جنوبی کشمیر جو ہمیشہ سے ہی پی ڈی پی کا گڑھ رہا ہے وہاں پر اس بار پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار ہار گئے۔ جنوبی کشمیر کی سولہ نشستوں میں سے نیشنل کانفرنس نے دس سیٹیں جیت لی۔
جنوبی کشمیر میں جن بڑے امیدواروں کو شکست کا سامنا کرناپڑا ، اُن میں پی ڈی پی صدر کی صاحبزادی التجا مفتی، عبدالرحمن ویری ، سرتاج مدنی اور محبوب بیگ شامل ہیں۔
اسمبلی انتخابات میں پی ڈی پی کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا اور اپنے ہی گھر میں پی ڈی پی کے امیدوار نیشنل کانفرنس سے ہار گئے۔
پی ڈی پی سال 2014کے اسمبلی انتخابات میں واحد بڑی پارٹی کے طورپر ابھر کر سامنے آئی تھی اور بی جے پی کے ساتھ مخلوط سرکار بنائی۔
دریں اثنا جموں صوبے میں بی جے پی نے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرکے 29سیٹوں پر کامیابی حاصل کی۔ جموں میں کانگریس کے سینئر لیڈررمن بھلہ اور چودھری لال سنگھ بھی ہار گئے۔
یو این آئی- ارشید بٹ
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
ہندوستان1 week agoراہل پیلیٹ گن متاثرہ کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کے حق میں ڈی سی پی دفتر کے باہر دھرنے پر بیٹھے
