تازہ ترین
وادی کے شمال و جنوب میں خونین تصاد م آرائیاں،3جنگجو، 2عام شہری، اہلکار سمیت 6افراد جاں بحق
خبراردو:
وادی میں تشدد کی تازہ لہر کے بیچ جمعرات کو شمالی، وسطی اور جنوبی کشمیر میں فوج اور جنگجوؤں کے درمیان الگ الگ خونین تصادم آرائیوں میں 3جنگجوؤں سمیت 2عام شہری جاں بحق ہوئے جبکہ اس دوران ڈورو قاضی گنڈ میں جنگجوؤں کی جوابی فائرنگ سے ایک فوجی اہلکار بھی ہلاک ہوا۔ ادھر فوجی آپریشن کے بیچ بھڑک اُٹھے عوامی احتجاج کو کچلنے اور مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے فورسز نے الگ الگ مقامات پر طاقت کا استعمال کیا جس دوران 2درجن سے زائد افراد زخمی ہوئے جن میں سے 9پیلٹ متاثرین کو نازک حالت میں سرینگر کے ایس ایم ایچ ایس ہسپتال منتقل کردیا گیا۔ جمعرات کی علی الصبح 5بجے سیکورٹی فورسز نے شہر کے مضافاتی علاقے نورباغ قمرواری علاقے کو محاصرہ میں لیتے ہوئے یہاں گھر گھر تلاشی کاآغاز کیا۔ اطلاعات کے مطابق سیکورٹی فورسز کی بھاری جمعیت نے جنگجوؤں کی موجودگی کی اطلاع ملنے کے بعد شہر کے نورباغ قمر واری علاقے کو کڑے محاصرے میں لے لیا جس دوران علاقے کی اندرون و بیرون سڑکوں پر فورسز کی اضافی نفری کو تعینات کرنے کے ساتھ ساتھ جگہ جگہ موبائل بنکروں کی تعیناتی یقینی بنائی گئی۔پویس نے واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ فورسزز نے جب مشتبہ مکان جو کہ محمد یعقوب ملک کا ہے، کے کی جانب پیش قدمی شروع کی تو مکان کے اندر چھپے بیٹھے جنگجوؤں نے فورسز پارٹی پر فائرنگ جس کے بعد طرفین کے درمیان جھڑپ کا آغاز ہوا ۔ انہوں نے بتایا کہ اسی دوران طرفین کے درمیان گولیوں کے تبادلے کے دوران مالک مکان کا بیٹا محمد سلیم ملک گولیوں کی زد میں آکر جاں بحق ہوگیا۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس نوجوان کی ہلاکت سے متعلق حالات و واقعات کی چھان بین کررہی ہے۔ اس دوران نوجوان کی ہلاکت کی خبر پھیلتے ہی شہر کے مختلف مقامات پر احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے جس کے بعد انتظامیہ نے پائین شہر کے مختلف علاقوں میں سخت کرفیو نافذ کردیا۔ انتظامیہ نے کسی بھی امکانی گڑ بڑ سے نمٹنے کی خاطر شہر کے مختلف علاقوں میں سخت بندشیں عائد کی جس دوران یہاں حساس مقامات پر فورسز اہلکاروں کے اضافے دستوں کو تعینات کردیا گیا۔

ا دھر نوجوان کے جلوس جنازہ میں لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی جنہوں نے اسلام و آزادی کے حق میں زور دار نعرے لگائے۔ انہوں نے اس موقعے پر مظاہرین نے فورسز کارروائی کے خلاف بھی جم کر نعرے بازی کی۔جلوس جونہی صفاکدل اور عیدگاہ کے مقام پر پہنچا تو یہاں رتعینات فورسز اہلکاروں نے جلوس کو تتر بتر کرنے کے لیے درجنوں آنسو گیس کے گولے داغنے کے ساتھ ساتھ پیلٹ فائرنگ کی جس کے نتیجے میں کئی مظاہرین زخمی ہوئے۔ اس دوران ضلعی انتظامیہ نے افواہ بازی پر روک لگانے کے لیے جمعرات کی صبح سے ہی موبائل انٹرنیٹ خدمات کو معطل رکھا۔ادھر مقامی لوگوں نے پولیس بیان کو نکارتے ہوئے بتایا کہ علاقے میں کوئی بھی جھڑپ نہیں ہوئی ۔ انہوں نے بتایا کہ فورسز اہلکاروں نے علاقے کا محاصرہ کرتے ہوئے تلاشی کے دوران محمد سلیم ملک پر اندھا دھند فائرنگ کرتے ہوئے اسے موقعے پر ہی جاں بحق کردیا۔

ادھر جنوبی کشمیر کے کولگام میں فوج کی 19آر آر نے گاسی گنڈ ڈورو میں ایک مصدقہ اطلاع ملنے پر ناکہ لگایا جس دوران یہاں جنگجوؤں کی ایک جمعیت کا فورسز کے ساتھ آمنا سامنا ہوا جس کے بعد ہتھیار بند جنگجوؤں نے فوجی اہلکاروں پر شدید فائرنگ کی جس کے ساتھ ہی طرفین کے درمیان جھڑپ کا باضابطہ آغاز ہوگیا۔ نمائندے کے مطابق اس موقعے پر فوجی اہلکاروں نے جنگجوؤں کو زیر کرنے کے لیے علاقے کے باہری راستوں پر اضافی دستوں کو تعینات کرتے ہوئے تمام راستوں کو مکمل طور پر سیل کردیا ۔ فوج نے اس موقعے پر علاقے میں چھپے بیٹھے جنگجوؤں کے خلاف حتمی کارروائی کرتے ہوئے گھماسان کی لڑائی شروع کی جس کے نتیجے میں لشکر طیبہ کا مقامی کمانڈر آصف ملک عرف ابو عکاشا ساکن کھاہ گنڈ ویری ناگ جاں بحق ہوا۔ معلوم ہوا ہے کہ مہلوک جنگجو کمانڈر نے انجینئرنگ مضمون میں گریجویشن حاصل کی تھی اور بعد میں جنگجوؤں کی صفوں میں شامل ہوا تھا۔ طرفین کی گولہ باری کے نتیجے میں فوج کے 3اہلکار بھی بری طرح زخمی ہوگئے جن کی شناخت ہیپی سنگھ، بھوپندر سنگھ اور کلونت سنگھ کے طور پر کی گئی جنہیں بعد میں علاج و معالجے کی خاطر فوجی ہسپتال منتقل کیا گیا تاہم ہیپی سنگھ نامی فوجی اہلکار یہاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ بیٹھا۔ ادھر معلوم ہوا ہے کہ جھڑپ کے دوران مزید جنگجو فوج کے چنگل سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئے ہیں جن میں معروف عسکری کمانڈر نوید جٹ بھی شامل ہیں۔ معلوام ہوا ہے کہ جھڑپ کے دوران نوید جاٹ بھی زخمی ہوا ہے تاہم فوج اور فورسز نے فرار ہوئے جنگجوؤں کو ڈھونڈ نکالنے کے لیے بڑے پیمانے پر قاضی گنڈ اور جنوبی کشمیر کے دیگر علاقوں کا تلاشی آپریشن تیز کردیا ہے۔ادھر مہلوک جنگجو آصف ملک کو جونہی اپنی آبائی گاؤں ویری ناگ میں سپرد خاک کیا جارہا تھا تو یہاں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے اُن کی آخری رسومات میں شرکت کی۔ نمائندے کے مطابق اس موقعے پر جاں بحق جنگجو کی نماز جنازہ کئی بار ادا کی گئی جن میں جنوبی کشمیر کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے شرکت کی۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ جونہی آصف کا جلوس جنازہ رواں دواں تھا تو اسی دوران چند ہتھیار بند جنگجو نمودار ہوئے جنہوں نے اپنی ساتھی کو خراج عقیدت ادا کرنے کے لیے سلامی پیش کی۔ انہوں نے بتایا کہ جنگجوؤں نے اس موقعے پر ہوا میں گولیوں کے کئی راؤنڈ فائر کئے اور اسلام و آزادی کے حق میں زور دار نعرے بازی کی۔
ویڈیو دیکھیں:
ادھر جنگجو کی ہلاکت کی خبر پھیلتے ہی ڈورو، لارکی پورہ، دیالگام، شاہ آباد، کیموہ سمیت متعدد علاقوں میں نوجوانوں کی مختلف ٹولیوں نے فورسز کارروائی کے خلاف جم کر نعرہ بازی کی۔ نمائندے کے مطابق اس موقعے پر جنوبی اضلاع کے کئی مقامات پر احتجاجی مظاہرین نے فورسز اہلکاروں پر سنگ باری کی جس کے جواب میں فورسز نے مظاہرین کو منتشرکرنے کے لیے آنسو گیس کے درجنوں گولے داغے جس دوران یہاں افرا تفری کا ماحول بپا ہوا۔ ادھر وسطی کشمیر کے پانزن بڈگام میں فوج اور جنگجوؤں کے درمیان خونین مڈبھیڑ میں حزب المجاہدین سے وابستہ 2جنگجو جاں بحق ہوئے جس کے بعد یہاں عوامی احتجاج بھڑک اُٹھا جسے منتشر کرنے کے لیے فورسز نے آنسو گیس کے گولے داغنے کے ساتھ ساتھ پیلٹ فائرنگ کی جس کے نتیجے میں یہاں درجنوں افراد زخمی ہوئے جن میں سے 9پیلٹ متاثرین کو شہر کے ایس ایم ایچ ایس ہسپتال منتقل کیا گیا۔کے این ایس نمائندے کے مطابق فوج نے جمعرات کی صبح پانزن نامی بستی کو محاصرے میں لیتے ہوئے یہاں چھپے بیٹھے جنگجوؤں کو ڈھونڈ نکالنے کی خاطر تلاشی آپریش شروع کردیا ۔ فوج، سی آر پی ایف اور ایس او جی کی مشترکہ تلاشی پارٹی جونہی پانزن نامی بستی میں داخل ہوگئی اور گھر گھر تلاشی کا باضابطہ آغاز کیا تو یہاں مسجد میں چھپے بیٹھے جنگجوؤں نے فورسز پارٹی پر خودکار ہتھیاروں سے فائرنگ شروع کردی جس کے ساتھ ہی یہاں بھی جھڑپ کا باضابطہ آغاز ہوگیا۔ پولیس نے بتایا کہ اس مسجد کے تقدس کو مدنظر رکھتے ہوئے جنگجوؤں کو خودسپردگی کرنے کی پیش کش کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ اس موقعے پر مقامی اوقاف کمیٹی سے بھی جنگجوؤں کو سرینڈر کرنے کو کہا گیا تاہم انہوں نے فورسز کے سامنے سرنڈر کرنے سے انکار کردیا جس کے بعد ہی مسجد میں چھپے بیٹھے جنگجوؤں کے خلاف حتمی کارروائی تیز کی گئی جس کے نتیجے میں یہاں حزب المجاہدین سے وابستہ 2جنگجوؤں کوجاں بحقکردیا گیا۔ پولیس نے مارے گئے جنگجوؤں کی شناخت شیراز احمد بٹ ساکن کرالہ واری چاڈورہ اور عرفان احمد ڈار ساکن کاکہ پورہ پلوامہ کے بطور کی ۔ انہوں نے کہا کہ عرفان نامی جنگجو حزب میں شامل ہونے سے قبل محکمہ پولیس میں بطور ایس پی او کام کرتا تھا جس کے بعد وہ اچانک لاپتہ ہوا اور جنگجوؤں کی صف میں شامل ہوا۔
اس دوران جنگجوؤں کی ہلاکت کی خبر پھیلتے ہیں پانزن اور ملحقہ علاقوں میں زبردست افرا تفری پھیل گئی جس کے نتیجے میں یہاں عوامی مظاہرے بھڑک اُٹھے۔ نمائندے کے مطابق پانزن اور ملحقہ علاقوں میں نوجوانوں کی مختلف ٹکڑیوں نے فورسز اہلکاروں پر پتھراؤ کیا اور آزادی کے حق میں زور دار نعرے بازی کی تاہم فورسز نے انہیں منتشر کرنے کے لیے درجنوں آنسو گیس کے گولے داغنے کے ساتھ ساتھ پیلٹ فائرنگ کی جس کے نتیجے میں یہاں ایک درجن سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ معلوم ہوا ہے کہ اس دوران زخمیوں میں سے 9پیلٹ متاثرین کو نازک حالت میں سرینگر کے ایس ایم ایچ ایس ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں اُن کا علاج و معالجہ جاری ہے۔

ادھر جمعرات کو وادی بھر میں خونین تصادم آرائیوں کے مابعد حالات کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے انتظامیہ نے امن و قانون کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے سرینگر، بڈگام اور کولگام کے کئی علاقوں میں موبائل انٹرنیٹ خدمات کو معطل رکھا۔ انتظامیہ کے ایک اعلیٰ افسر نے کے این ایس کو بتایا کہ وادی بھر میں ممکنہ عوامی احتجاج کے پیش نظر انتظامیہ نے سرینگر، بڈگام اور کولگام کے کئی علاقوں میں موبائل انٹرنیٹ سروس معطل رکھا تاہم جمعرات کی شام کو سرینگر میں انٹرنیٹ خدمات کو بحال کردیا گیا۔ اس دوران محکمہ ریلوے نے بھی مسافروں کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے وادی بھر میں ریل خدمات کو بند کردیاہے۔

اس دوران مشترکہ مزاحمتی قیادت نے وادی بھر میں نہتے عوام کیخلاف اختیار کی گئی جارحانہ اور نسل کشی سے عبارت پالیسیوں، پائین شہر میں ایک نہتے شہری محمد سلیم ملک کو اپنے ہی گھر میں ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے جاں بحق کئے جانے، نام نہاد انتخابات کو بنیاد بناکر درجنوں حریت پسند قائدین اور کارکنوں کو پابند سلاسل کرنے اور وادی کے طول و ارض میں قتل و غارت گری، عوام کو زدو کوب کرنے اور تلاشی آپریشن کی آڑ میں فوجی آپریشن کے ذریعہ نوجوانوں کو جاں بحق کرنے کو بھارتی استعماریت کے مذموم حربے قرار دیتے ہوئے ان واقعات کیخلاف جمعتہ المبارک 28 ستمبر کو پوری ریاست جموں وکشمیر میں ہمہ گیر احتجاجی ہڑتال کی اپیل کی ہے۔KNS
دنیا
ٹرمپ نے اونٹاریو جھیل کا نام تبدیل کرکے ‘لیک امریکہ’ رکھ دیا
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ اور کینیڈا کے درمیان واقع اونٹاریو جھیل کا نام تبدیل کرکے ”لیک امریکہ” رکھنے کے لیے ایک انتظامی حکم نامے پر دستخط کیے ہیں۔
ٹرمپ نے حکم نامے پر دستخط کرنے سے قبل اوول آفس میں کہا، ”ہم اونٹاریو جھیل کا نام فوری طور پر تبدیل کرکے لیک امریکہ کرنے جا رہے ہیں۔ میں ابھی اس حکم نامے پر دستخط کر رہا ہوں۔” انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے ذریعے وہ کوئی خاص پیغام نہیں دے رہے، تاہم وہ طویل عرصے سے اس بارے میں سوچ رہے تھے۔
ایک روز قبل صدر ٹرمپ نے کینیڈا کے ساتھ جاری تجارتی تنازع کے دوران ایک ویڈیو پوسٹ کی تھی، جس میں انہوں نے نقشے پر علامتی طور پر اونٹاریو جھیل کا نام تبدیل کرکے ”لیک امریکہ” دکھایا تھا۔
تاہم کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے اس کا نام ”لیک امریکہ” رکھے جانے کے باوجود کینیڈا اس جھیل کو اونٹاریو جھیل ہی کہتا رہے گا۔
کارنی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا، ”ہم جانتے ہیں کہ امریکہ تجارتی تعلقات، خارجہ پالیسیاں، قومی یادگاروں اور آبی ذخائر کے نام بھی تبدیل کر رہا ہے، لیکن کینیڈین جانتے ہیں کہ حقیقت میں اس کا نام اونٹاریو جھیل ہی ہے—تب بھی، اب بھی اور ہمیشہ یہی رہے گا۔”
وزیر اعظم نے یاد دلایا کہ جھیل کا نام مقامی باشندوں کی زبان سے نکلا ہے اور اس کی تاریخ چار صدیوں سے بھی زیادہ پرانی ہے۔ یہ نام کینیڈین کنفیڈریشن اور امریکہ کے اعلانِ آزادی، دونوں سے بھی پہلے کا ہے۔
کارنی کے مطابق ”لیک اونٹاریو” کا نام وینڈاٹ زبان کے لفظ ”اونٹاریو” سے ماخوذ ہے، جس کا مطلب ”جھیل خوبصورت ہے، جھیل بڑی ہے” ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نام 400 سال سے زیادہ پرانا ہے۔
اونٹاریو جھیل گریٹ لیکس نظام کا حصہ ہے اور امریکہ اور کینیڈا کی سرحد پر واقع ہے۔ اس کے ساحل امریکی ریاست نیویارک اور کینیڈا کے صوبے اونٹاریو سے ملتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد 320 ہندوستانی شہری لاپتہ، 21 کو وطن واپس لایا گیا: وزارتِ خارجہ
نئی دہلی، نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد وہاں تقریباً 320 ہندوستانی شہری لاپتہ ہیں جبکہ 21 ہندوستانی شہریوں کو اب تک بحفاظت وطن واپس لایا گیا ہے وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے جمعہ کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ جمعرات کو ترشولی توانائی منصوبے میں پھنسے 63 افراد کو بچایا گیا تھا۔
کاٹھمنڈو میں ہندوستانی سفیر نے ان سے ملاقات کی ہے۔ اس کے علاوہ 96 ہندوستانی شہری چین کے علاقے سے زمینی راستے سے نیپال کی طرف بحفاظت پہنچ چکے ہیں۔ ان تمام کو وطن واپس لانے کے لیے حکومت انتظام کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین کے علاقے میں ابھی بھی تقریباً 400 ہندوستانی شہری ہیں لیکن وہ تمام محفوظ ہیں اور ان کے اہل خانہ نیز ہندوستانی سفارت خانے سے ان کی بات ہوئی ہے کیونکہ وہاں موبائل نیٹ ورک کام کر رہا ہے۔ اس علاقے میں بھی لینڈ سلائیڈنگ ہوئی ہے اور راستوں کی خرابی کی وجہ سے ان کی واپسی میں وقت لگ سکتا ہے۔ حکومت انہیں وطن واپس لانے کا انتظام کر رہی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ اس کے علاوہ ہند نژاد تقریبا 100 مزید افراد لاپتہ ہیں جو مختلف ممالک کے رہنے والے ہیں۔ ممکن ہے کہ یہ لوگ کیلاش مانسروور یاترا کے لیے گئے ہوں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ابھی تک صرف لاپتہ افراد کا اعداد و شمار ملا ہے اور کسی ہندوستانی شہری کی موت کی تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔
مسٹر جیسوال نے کہا کہ تمل ناڈو کے جن 21 افراد کو کل محفوظ بچایا گیا تھا آج وہ وطن واپس لوٹ آئے۔ وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے ہوائی اڈے پر ان لوگوں سے ملاقات کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جہاں تک انسانی امداد کا تعلق ہے تو اب تک دو طیاروں میں بالترتیب دس ٹن اور 37.5 ٹن امدادی سامان بھیجا جا چکا ہے اور تیسرا طیارہ آج جانے والا ہے جس میں 12 سے 13 ٹن امدادی سامان بھیجا جائے گا۔
ترجمان نے کہا کہ نیپال کی درخواست کے مطابق ایک سرنگ بچاؤ ٹیم بھیجنے کی تیاری کر رہے ہیں، جس کے لیے ضروری سامان وغیرہ کا جائزہ لینے کے لیے پہلے ایک ریکی ٹیم بھیجی جا رہی ہے۔ ایک طبی ٹیم بھی بھیجی جا رہی ہے۔ ہندوستان نے متعلقہ تکنیکی ٹیموں کے ساتھ بیلی برج کی بھی پیشکش کی ہے، تاکہ نیپال کے متاثرہ حصوں میں مواصلاتی نظام کو جلد بحال کیا جا سکے۔ ایک بیلی برج پہلے سے ہی نیپال میں موجود ہے اور اسے امدادی کوششوں کے لیے تعینات کیا جا سکتا ہے۔
مسٹر جیسوال نے کہا کہ ہندوستان نے نیپال کے حکام کو این ڈی آر ایف کی ٹیموں کو ان کے متعلقہ سامان کے ساتھ بھیجنے کی بھی خاص پیشکش کی ہے، جو تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں میں مدد کر سکتی ہیں اور سانحے سے متاثرہ لوگوں تک امداد پہنچا سکتی ہیں۔ اس سلسلے میں نیپال حکومت کے جواب کا انتظار ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان نیپال کی درخواست پر کوئی بھی دیگر امداد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
یو این آئی ایف اے
جموں و کشمیر
کشمیر میں عسکریت پسندی مخالف کارروائیاں اولین ترجیح رہیں گی: نئے آئی جی پی
سری نگر، کشمیر کے نو تعینات انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) سجیت کمار نے جمعہ کے روز کہا کہ کشمیر میں عسکریت پسندی کے خلاف کارروائیاں پولیس کی اولین ترجیح برقرار رہیں گی۔
سجیت کمار نے جمعرات کو کشمیر کے آئی جی پی کا عہدہ سنبھالا تھا۔ انہوں نے کہا کہ عسکریت پسندی مخالف کارروائیاں پولیس کی پہلی ترجیح تھیں اور آئندہ بھی رہیں گی۔
عید میلاد النبیؐ کے موقع پر جمعہ کی نماز کے لیے بڑی تعداد میں لوگوں کے اجتماع کے پیش نظر سری نگر کے حضرت بل درگاہ کے دورے کے دوران صحافیوں سے بات کرتے ہوئے، حالیہ دنوں وادی میں عسکریت پسندوں کے معاونین (او جی ڈبلیوز) کی گرفتاریوں اور عسکریت پسندی مخالف کارروائیوں کے دوران برآمدگی کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں آئی جی پی نے کہاکہ ’’کارروائیاں ہماری پہلی ترجیح تھیں اور اب بھی ہماری ترجیح ہیں۔‘‘
آئی جی پی نے کہا کہ عید میلاد کے موقع پر جمعہ کے دن بڑے اجتماعات کے پیش نظر پولیس کی توجہ نمازوں کے پرامن اور منظم انعقاد کو یقینی بنانے پر بھی مرکوز ہے۔
انہوں نے کہا کہ پولیس بڑے اجتماعات کے مؤثر انتظام اور سکیورٹی برقرار رکھنے کے لیے پولیس ٹیموں اور دیگر سکیورٹی و سول ایجنسیوں کے درمیان تال میل کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔
سجیت کمار نے کہا کہ سری نگر کے دیگر مقامات پر بھی اسی طرح کے انتظامات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ پولیس اور سکیورٹی ایجنسیوں کے ساتھ تعاون کریں۔
انہوں نے عوام کو یقین دلایا کہ زونل پولیس ان کی حفاظت کے لیے پوری طرح پرعزم ہے اور امن و سلامتی برقرار رکھنے میں عوام سے پولیس کا تعاون کرنے کی اپیل کی۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
