کھیل
بنگلورو ٹیسٹ میں سرفراز خان کا جلوہ
بنگلورو، کرکٹ کی دنیا کا وہ نام ‘سرفراز خان’ جس نے کامیابی کے ساتھ ہندوستانی ٹیم میں جگہ بنانے کا طویل انتظار کیا تھا، آج ان کا خواب بنگلورو کے چناسوامی اسٹیڈیم میں پورا ہوگیا۔ایم چناسوامی اسٹیڈیم میں کھیلے جارہے پہلے ٹیسٹ کے چوتھے دن سرفراز خان نے کیریئر کی پہلی بین الاقوامی سنچری اسکور کی۔ تیسرے دن اپنے اسکور 70 رنز سے آگے کھیلتے ہوئے سرفراز نے اپنی سنچری مکمل کی۔ سرفراز خان نے 195 گیندوں پر 150 رنز بنائے۔ سرفراز نے ایسے وقت میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا جب ٹیم انڈیا اننگز ہارنے کے خطرے سے دوچار تھی ، تب سرفراز خان نے اپنے کیرئیر کی سب سے بڑی اننگز کھیل کر سب کا دل جیت لیا۔
ایک ایسے وقت میں جب ٹیم انڈیا مشکلات کے بھنور میں پھنسی ہوئی تھی، ایسے دباؤ کے لمحے میں سرفراز خان نےشاندار سنچری لگاکر ٹیم میں اپنی جگہ کو درست ثابت کیا اور ڈریسنگ روم کے ساتھ ساتھ پورا ملک ان کی شاندارکارکردگی کا جشن منانے لگا ۔ سرفراز نے جب اپنے بلے کوگھومایا اور اپنا ہیلمٹ ہٹا یا، اپنی پہلی ٹیسٹ سنچری کے بعد میدان میں خوشی کی جذباتی لہر دوڑ گئی۔ بنگلورو کے شائقین کھڑے ہو گئے، ان کے ساتھیوں نے پویلین سے خوشی کا اظہار کیا اور آسمان ان کی جیت کا گواہ بنا۔ سرفراز کے لیے یہ بے حد خاص لمحہ تھا۔
سرفراز کی نیوزی لینڈ کے خلاف آج کی سنچری نہ صرف ذاتی سنگ میل تھی بلکہ اس میچ میں ایک اہم موڑ بھی تھا جہاں ہندوستان300 سے زائد رنز کی کمی کے ساتھ بیک فٹ پر تھا۔
دباؤ بہت زیادہ تھا۔ ہندوستان پیچھے رہ گیا تھا اور ٹیم کو اننگز کی ذمہ داری سنبھالنے کے لیے کسی کی ضرورت تھی اس وقت ممبئی کے سرفراز، جو اپنی گھریلو کارکردگی کے لیے مشہور ہیں، نے کرکٹ کی دنیا میں شاندار ڈیبیو کیا۔ٹم ساؤتھی کی گیندپربیک فٹ سے گیند کو کور کے باہر سے پنچ کیا اور گیند باؤنڈری لائن کے پار چلی گئی۔ جیسے ہی گیندنے رسیوں کو پار کیا، سرفراز کا طویل انتظار کا لمحہ آگیا۔ یہ نہ صرف ان کی دباؤ میں کھیلنے کی مہارت کا بلکہ ذہنی طور پر مضبوط ہونے کا بھی ثبوت تھا۔
ڈومیسٹک کرکٹ میں کافی رنز بنانے کے بعد سرفراز کافی دیر تک اپنی باری کا انتظار کرتے رہے لیکن انہیں ٹیم انڈیا میں جگہ نہ مل سکی۔ حوصلہ شکنی کے بجائے وہ خود پر کام کرتے رہے۔ سنچری کے بعد سنچری اسکور کرتے رہے۔ آخر کار 15 فروری کو راجکوٹ میں انگلینڈ کے خلاف ڈیبیو کرنے کا موقع ملا۔ 62 رنز بنانے کے بعد وہ تیزی سے سنچری کی جانب بڑھ رہے تھے لیکن رویندرا جدیجا کی غلطی کے باعث وہ رن آؤٹ ہوگئے۔سرفراز خان بھلے ہی اپنے ڈیبیو ٹیسٹ میں سنچری بنانے سے محروم رہے لیکن اس بار انہوں نے بیک فٹ پر ٹم ساؤتھی کو شاندار پنچ دے کر یہ کارنامہ مکمل کیا۔ اس سنچری کی خوشی سرفراز کے چہرے پر صاف دیکھی جا سکتی تھی۔ جس طرح انہوں نے میدان میں دوڑ کر اس لمحے کا جشن منایا وہ خاص تھا۔
سرفراز کے لیے یہ سنچری کئ معنوں میں کافی اہم تھی۔ یہ ان کے سفر، ان کے خاندان کی قربانیوں اور سب سے بڑھ کر اپنے والد نوشاد خان کو خراج عقیدت پیش کرنے جیسی تھی ۔ ان کے والد، جنہوں نے بچپن سے ہی ان کی تربیت کی اور ان کی کافی حوصلہ افزائی کی۔
جب ٹیم کو سخت ضرورت تھی تو سرفراز کی مضبوطی سے کھڑے ہونے کی صلاحیت وہی ہے جس کے لیے یہ اننگز یاد رکھی جائے گی۔ انہوں نے ایسے وقت میں محتاط انداز میں میدان پر ڈٹ کر سامنا کیا جب ٹیم انڈیا دباؤ میں تھی۔
ہندوستان کے پرجوش وکٹ کیپر رشبھ پنت نے فوری طور پر سرفراز کو گلے لگایا، جو ٹیم کے اندر مشترکہ خوشی کی علامت ہے۔ پنت بخوبی جانتے تھے کہ سرفراز کے لیے اس لمحے کا کیا مطلب ہے اور ٹیم کے لیے اس کا کیا مطلب ہے۔ اس سنچری نے نہ صرف نوجوان بلے باز کا بلکہ پورے ہندوستانی کیمپ کا جوش بڑھا دیا۔ اعدادوشمار کے نقطہ نظر سے سرفراز کی سنچری اب ایک ایلیٹ کلب کا حصہ ہے۔ یہ 22 واں موقع تھا جب کسی ہندوستانی بلے باز نے ایک ہی ٹیسٹ میچ میں صفر اور سنچری دونوں ریکارڈ کیے۔ اس کلب میں حال ہی میں شبمن گل کا نام درج ہے جنہوں نے گزشتہ ماہ چنئی میں بنگلہ دیش کے خلاف یہ کارنامہ انجام دیا تھا۔نیوزی لینڈ کے معاملے میں، ایسا کرنے والے واحد دوسرے ہندوستانی کھلاڑی شیکھر دھون تھے، جنہوں نے 2014 میں ایڈن پارک، آکلینڈ میں 0 اور 115 رنز بنائےتھے۔
سرفراز کی اس سنچری نے ثابت کردیا ہے کہ جب داؤ بڑا ہوتو وہ عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرسکتے ہیں اور ایسا کرکے انہوں نے یہ دکھادیا ہے کہ وہ مستقبل کے لئے ایک ایسے کھلاڑی ہیں جو ملک کی توقعات پر پورا اترسکتے ہیں اور ٹیم کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔
یواین آئی۔ م س
کھیل
قومی یومِ کھیل پر جموں و کشمیر کی کھیل برادری نے میجر دھیان چند کو خراجِ عقیدت پیش کیا
جموں، جموں و کشمیر کے کھلاڑیوں، سابق کھلاڑیوں، کوچز اور کھیلوں سے وابستہ دیگر افراد نے ہفتہ کے روز قومی یومِ کھیل کے موقع پر کھیل برادری کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے عظیم ہاکی کھلاڑی میجر دھیان چند کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
قومی یومِ کھیل ہر سال 29 اگست کو میجر دھیان چند کی یومِ پیدائش کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ وہ ہندوستان کے عظیم ترین کھلاڑیوں میں شمار ہوتے ہیں اور ہندوستانی ہاکی کے لیے ان کی خدمات نسلوں کے لیے آج بھی تحریک کا ذریعہ ہیں۔
جموں و کشمیر کی کھیل شخصیات نے اس موقع پر ایک صحت مند اور نظم و ضبط والی معاشرہ تشکیل دینے میں کھیلوں کی اہمیت کو اجاگر کیا اور ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں کے لیے مزید تعاون اور مواقع فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے، کوچنگ کی بہتر سہولیات فراہم کرنے اور نوجوانوں کی مختلف کھیلوں میں زیادہ سے زیادہ شرکت کو یقینی بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
کئی سابق کھلاڑیوں اور کوچز نے کہا کہ قومی یومِ کھیل کھلاڑیوں کی کامیابیوں کو تسلیم کرنے اور نئی نسل کو لگن اور عزم کے ساتھ کھیلوں کو اپنانے کی ترغیب دینے کا ایک اہم موقع ہے۔
دریں اثنا، اس موقع کی مناسبت سے جموں و کشمیر اسپورٹس کونسل، محکمہ یوتھ سروسز اینڈ اسپورٹس، مختلف غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) اور کھیلوں کی متعدد انجمنوں کی جانب سے کئی پروگرام بھی منعقد کیے گئے۔
نئی تشکیل دی گئی جموں اسپورٹس جرنلسٹس ایسوسی ایشن نے بھی اس موقع پر کھیل برادری کو مبارکباد پیش کی۔
یواین آئی۔ ظ ا
کھیل
میسی کی شکست کے باوجود اسکالونی کو ٹیم پر فخر
نیویارک، ارجنٹینا کے مینیجر لیونل اسکالونی نے اعتراف کیا کہ اسپین ورلڈ کپ جیتنے کا حقدار تھا، لیکن ہار کے باوجود انہیں اپنی ٹیم پر فخر ہے۔
دفاعی چیمپئن نے اپنے پچھلے چاروں ناک آؤٹ میچوں میں سے ہر ایک کو جیتنے کے لیے آخری لمحات میں گول کیے تھے، لیکن نیو جرسی اسٹیڈیم میں ایک اور ڈرامائی کھیل سے بچنے میں ناکام رہے۔
میچ کے بعد اسکالونی نے کہا، “مجھے دکھ ہو رہا ہے۔ کوئی اس بارے میں بہت کچھ کہہ سکتا ہے کہ ہم یہاں تک کیسے پہنچے، لیکن یہ اس کے لائق نہیں ہے۔ میں بس ان کھلاڑیوں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جو ایک بار پھر ہمیں فائنل میں لے گئے۔ وہ (اسپین) بہتر تھے، یہ سچ ہے، لیکن میرے کھلاڑیوں نے جو کچھ حاصل کیا، اس کی زبردست یادیں میرے پاس رہیں گی۔ ہم جیت میں عظیم ہیں اور ہار میں بھی ایسا ہی ہونا چاہیے۔ آج رات، ہم دکھاتے ہیں کہ ہم ہارنا جانتے ہیں۔
ہم ہار گئے اور ہم نے اسے قبول کر لیا۔”
یواین آئی۔الف الف
کھیل
طویل علالت کے بعد شہپور زادران انتقال کر گئے
نئی دہلی، افغانستان کے سابق فاسٹ گیندباز شہپور زادران 39ویں سالگرہ سے ایک روز قبل طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔ وہ گزشتہ کئی ماہ سے دہلی کے ایک اسپتال میں نایاب بیماری ہیموفیگوسائٹک لمفوہسٹیوسائٹوسس (ایچ ایل ایچ) کے باعث زیر علاج تھے۔
ان کے انتقال کی تصدیق ان کے چھوٹے بھائی غمئی زادران نے کی، جو جنوری میں علاج کے لیے دہلی منتقل کیے جانے کے بعد سے مسلسل ان کے ساتھ تھے۔ شہپور زادران ایچ ایل ایچ کی شدید نوعیت میں مبتلا تھے، جو ایک نایاب بیماری ہے جس میں جسم کا مدافعتی نظام درست طریقے سے کام کرنا چھوڑ دیتا ہے۔
2000 اور 2010 کی دہائی میں افغانستان کرکٹ کے عروج کے دوران شہپور زادران نمایاں شخصیات میں شمار ہوتے تھے۔ چھ فٹ دو انچ قد کے شہپور زادران اپنے طویل رن اپ اور لہراتے بالوں کے ساتھ گیندبازی کے لیے مشہور تھے۔ افغانستان کرکٹ بورڈ کے مطابق ملک میں کرکٹ کی بنیاد مضبوط کرنے میں ان کا اہم کردار رہا۔ انہوں نے 2009 سے 2020 کے درمیان 44 ایک روزہ اور 36 ٹی20 بین الاقوامی میچ کھیلے اور مجموعی طور پر 80 بین الاقوامی وکٹیں حاصل کیں۔
2015 کے ایک روزہ ورلڈ کپ میں انہوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 10 وکٹیں حاصل کیں اور افغانستان کے سب سے کامیاب گیندباز رہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے 2010 سے 2016 کے درمیان چار ٹی20 ورلڈ کپ کھیلے، جن میں نو میچوں میں نو وکٹیں حاصل کیں۔
شہپور زادران کی علالت کے دوران راشد خان، سابق کپتان اصغر افغان اور دیگر کئی نمایاں کرکٹرز مسلسل ان کے رابطے میں رہے۔
افغانستان کرکٹ بورڈ نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ شہپور زادران نے اپنے پورے کریئر میں عزت، حوصلے اور فخر کے ساتھ افغانستان کرکٹ کی خدمت کی اور ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ بورڈ نے کہا کہ وہ نوجوان افغان کرکٹرز اور دنیا بھر کے شائقین کے لیے ایک تحریک تھے، جبکہ ان کی جرات، عزم اور کھیل سے محبت نے نئی نسل کو بڑے خواب دیکھنے کا حوصلہ دیا۔
بیان میں شہپور زادران کے اہل خانہ، دوستوں، سابق ساتھیوں اور افغانستان کرکٹ برادری سے بھی گہرے تعزیت کا اظہار کیا گیا۔
شہپور زادران افغانستان کے صوبہ لوگر میں پیدا ہوئے، تاہم جنگ کے باعث ان کا خاندان پشاور منتقل ہوگیا، جہاں انہوں نے نیاز اسٹیڈیم اور جمخانہ میں کرکٹ سیکھی۔ ابتدا میں وہ پاکستان کی نمائندگی کرنا چاہتے تھے اور شعیب اختر ان کے آئیڈیل تھے، لیکن بعد میں سابق کرکٹر اقبال سکندر کی ترغیب پر افغانستان واپس آ گئے۔
انہوں نے اگست 2009 میں نیدرلینڈز کے خلاف ایک روزہ میچ سے بین الاقوامی کریئر کا آغاز کیا اور 24 رنز دے کر 4 وکٹیں حاصل کیں، جو ان کے ون ڈے کریئر کی بہترین بولنگ رہی۔ فروری 2010 میں آئرلینڈ کے خلاف ٹی20 بین الاقوامی کریئر کا آغاز کیا، جبکہ اس فارمیٹ میں ان کی بہترین بولنگ 2018 میں دہرادون میں بنگلہ دیش کے خلاف 40 رنز دے کر 3 وکٹیں تھی۔
یو این آئی۔ م س
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
