جموں و کشمیر
سینٹرل جیل سری نگرمیں تلاشی کے دوران سیل فونز، سم کارڈز سمیت کئی ڈیجیٹل آلات ضبط کئے گئے :کاونٹر انٹیلی جنس کشمیر
سری نگر، کاونٹرانٹیلی جنس کشمیر(سی آئی کے)اور سٹیٹ انوسٹی گیشن ایجنسی(ایس آئی اے) نے بدھ کے روز سینٹرل جیل سری نگر میں دہشت گردی سے جڑے ایک معاملے میں مشترکہ طورپر تلاشی لی جس دوران قابل اعتراض مواد،سم کارڈز،سیل فون اور کئی ڈیجیٹل آلات ضبط کئے گئے۔
ترجمان کے مطابق دہشت گرد ی کے ایک کیس کے سلسلے میں بدھ کے روز ایس آئی اے اور سی آئی کے نے مشترکہ طورپر سینٹرل جیل سری نگرمیں تلاشی لی ۔
انہوں نے کہاکہ ایف آئی آر زیر نمبر 6/23زیر دفعات 153A,505, 121,120Bکے سلسلے میں معززجج کی جانب سے جاری کردہ سرچ وارنٹ کی تعمیل میں سری نگر سینٹرل جیل کی تلاشی لی گئی۔
موصوف ترجمان کے مطابق یہ مقدمہ پاکستانی ایجنسیز کی ایماءپر جموں وکشمیراور لائن آف کنٹرول کے اُس پار سرگر م دہشت گردتنظیموں کی جانب سے رچائی گئی ایک بڑی سازش سے متعلق ہے۔ اس سازش کے تحت کشمیرمیں دہشت گردوں کے سہولیت کار ، معاونین اورمدد گار نئے دہشت گرد ماڈیولز تشکیل دینے میں برابر متحرک ہے اور یہ کہ مذکورہ گروپ سوشل میڈیا کی مختلف اپیلی کیشنز کا غلط استعمال کرکے کشمیری نوجوانوں کوورغلانے کا کام بھی انجام دے رہے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ کشمیری نوجوانوں کو غیر قانونی اوردہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث کرانے اورتخریبی سرگرمیوں کو فعال کرنے کی خاطر انہیں مختلف طریقوں سے بنیادپرستی کی طرف مائل کر رہے ہیں۔
ترجمان کے مطابق تحقیقات کے دوران پتہ چلا کہ سینٹرل جیل سری نگرمیں مقیدمشتبہ قیدی، ملی ٹینٹ معاونین،سہولیت کار اورمدد گار اور زیر سماعت دہشت گرد اپنے آقاوں ، ہینڈلرز اور سرگرم دہشت گردوں کے ساتھ موبائیل فون کے ذریعے رابطے میں تھے تاکہ کشمیرمیں تخریبی سرگرمیوں کو انجام دیا جاسکے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ مشتبہ قیدی سرحد کے اس پار دہشت گرد تنظیموں کے ہینڈلرز اور ساتھیوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھے جہاں سے انہیں وادی کشمیرمیں سرگرمدہشت گرد وں تک پیغام پہنچانے کی ہدایات مل رہی تھیں۔
انہوں نے کہاکہ اس سب کو مد نظررکھتے ہوئے بدھ کے روز سی آئی کے کشمیر اور ایس آئی اے نے مشترکہ طورپر سینٹرل جیل سری نگر کے مختلف بلاکس اوربارکوں کی تلاشی لی جس دوران سم کارڈز، موبائیل فونزاوردیگرڈیجیٹل آلات کی شکل میں مجرمانہ مواد برآمدکرکے ضبط کیاگیا ۔
ترجمان کامزید کہنا ہے کہ سینٹرل جیل سری نگراحاطے میں ڈیجیٹل اورمواصلاتی آلات کیسے پہنچے اس کی بڑے پیمانے پر تحقیقات شروع کی گئی ہے۔
یہاں یہ امرقابل ذکرہے کہ اس آپریشن کامقصد اہم شواہداکھٹاکرنا، غیر قانونی سرگرمیوں کو روکنا ، موبائیل فون جیسے مواصلاتی آلات کے غلط استعمال کوروکنا اورجیلوں سمیت سیکورٹی زون کے اندر دہشت گردی کے ماحولیاتی نظام کو ختم کرنا مقصود ہے۔
ترجمان کاکہنا ہے اس آپریشن کامقصد دہشت گردوں ، بالائی ورکروں اور ان کے ساتھیوں کی نشاندہی کرناہے جو جیل کے اندرموبائیل فون کا غلط استعمال کرکے دہشت گردی کی حمایت اور حوصلہ افزائی کرنے میں پیش پیش ہیں اور یہ کہ ایسے افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
یو این آئی، ارشید بٹ
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
