ہندوستان
آئین شہریوں کی فلاح و بہبود کے لیے ہے، کانگریس نے اسے ہائی جیک کر لیا: راجناتھ
نئی دہلی، وزیر دفاع اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر لیڈر راج ناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ ہندوستان کا آئین تمام طبقات کی فلاح و بہبود کے لیے ہے اور سب کو مساوی حقوق دیتا ہے، غریبوں کو اعلیٰ عہدوں پر فائز ہونے کی اجازت دیتا ہے لیکن آج ایک پارٹی اس آئین کو ‘ہائی جیک’ کرنا چاہتی ہے، اسے اپنی اجارہ داری سمجھتی ہے اور موقع ملتے ہی اس آئین کی توہین کرتی ہے ‘آئین ہند کے شاندار سفر کے 75 سال’ پر لوک سبھا میں بحث کا آغاز کرتے ہوئے مسٹر سنگھ نے کہا کہ ہندوستان کا آئین تمام شہریوں کو مساوی حقوق دیتا ہے اور ملک کی ثقافت اور روایات کو برقرار رکھنے کی اجازت دیتا ہے۔ آئین میں کمل کا پھول اور بھگوان رام کی تصویر ہے، جس سے پتہ چلتا ہے کہ ہمارا آئین ہماری روایت اور وراثت کا نگہبان ہے اور مودی حکومت ان اقدار پر عمل کرتے ہوئے ملک کی ترقی کے لیے سب کو ساتھ لے کر کام کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آئین کو اپنانے کے 75 سال مکمل ہونے پر آج پارلیمنٹ میں بحث ہو رہی ہے۔ ہندوستان کے آزادی پسندوں اور عام ہندوستانیوں نے جو خواب دیکھا تھا اس دن پورا ہوا۔ اسی دن یعنی 26 نومبر کو حکومت ہند نے اپنا آئین منظور کیا اور ملک میں بادشاہت اور برطانوی نظام کا خاتمہ ہوا اور جمہوریت وجود میں آئی۔ اس موقع پر ایوان اور اہل وطن کو مبارکباد دیتے ہوئے انہوں نے ہندوستان کی جدوجہد آزادی میں حصہ لینے والے عظیم محب وطن لوگوں کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ ہمارا آئین آفاقی ہے جو شہریوں کو آئینی اور بنیادی حقوق فراہم کرتا ہے۔ ہمارا آئین، سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی پہلوؤں کو چھوتے ہوئے، ملک کو سب کو مساوی حقوق دینے کا راستہ فراہم کرتا ہے اور سب کو مل کر کام کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ آئین مذہب اور فرض ادا کرنے کا حق دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا آئین ہندوستان کو ایک مثالی ملک بنانے، قومی یکجہتی، ملک کی ترقی، شہریوں کے وقار کو محفوظ بنانے اور ملک کی اقتصادی اور ثقافتی ترقی کے لیے ایک روڈ میپ ہے۔ ہمارا آئین تمام شہریوں کی فلاح و بہبود کی اجازت دیتا ہے اور اس کے نتیجے میں ملک کے غریب گھرانے میں پیدا ہونے والا شخص ملک کا وزیراعظم اور صدر بن سکتا ہے۔ یہ آئین ہندوستان کے شہریوں کی امنگوں کو پورا کرتا ہے اور انہیں عزت کے ساتھ جینے کا حق دیتا ہے۔ آئین اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ ملک کے شہریوں کے حقوق کی کبھی خلاف ورزی نہ ہو اور تمام مذاہب کے لوگوں کو مساوی حقوق حاصل ہوں۔
مسٹر سنگھ نے کہا کہ کچھ عرصے سے ایسا ماحول بنایا جا رہا ہے کہ ملک کا آئین صرف ایک پارٹی کا ہے اور اس میں صرف اس کا حق ہے۔ آج آئین کے تحفظ کی بات ہو رہی ہے لیکن سب سمجھتے ہیں کہ کس نے آئین کا تحفظ کیا اور کس نے آئین کی توہین کی ہے۔
کانگریس نے آئین میں تبدیلی کی کوشش کی اور یہ تبدیلی جواہر لال نہرو، اندرا گاندھی، راجیو گاندھی اور منموہن سنگھ کی حکومتوں میں ہوئی۔ آئینی ترمیم کے نام پر کانگریس کی حکومتوں نے آئین کو بدلنے کا کام کیا ہے۔ پہلی آئینی ترمیم میں کانگریس حکومت کو پریس میں تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور 1950 میں کانگریس حکومت نے اسے روکنے کی کوشش کی۔ آج جو کانگریس آئین کے گن گا رہی ہے، اس نے 1951 میں عام انتخابات ہونے سے پہلے ہی شہریوں کے حقوق کو دبانے کا کام کیا ہے۔ آئین کے نفاذ کے بعد کانگریس نے بنیادی حقوق کو کمزور کر دیا ہے اور آئین کے خالق بابا صاحب امبیڈکر زندگی بھر اس کے خلاف لڑتے رہے ہیں۔
انہوں نے کانگریس پر طنزیہ حملہ کرتے ہوئے کہا کہ جن لوگوں نے کبھی آئین پر یقین نہیں کیا، وہ اپنی جیب میں آئین کی کاپی رکھتے ہیں اور اس کی اہمیت کو نہیں سمجھتے، جب کہ بی جے پی آئین کو اپنی جیب میں نہیں بلکہ ماتھے پر رکھتی ہے۔ . ہمارے اعمال میں آئین نظر آتا ہے۔ ہماری حکومت نے پچھلے دس برسوں میں جتنی بھی ترامیم کیں ان کا مقصد عوام کے حقوق کو مضبوط کرنا ہے۔ بی جے پی نے جو بھی قانون بنایا ہے اس میں سب کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس آئین نے بی جے پی حکومت کو دفعہ 370 کو ہٹانے کا اختیار دیا ہے۔ ہم نے ملک میں وفاقیت کو مضبوط کرنے کے لیے کام کیا ہے۔ ہم نے آئین کے تحفظ کے لیے ہر قدم اٹھایا ہے اور اسے مضبوط کرنے کے لیے کام کیا ہے۔ سیاسی کرپشن کی روک تھام کے لیے پارٹی مخالف قانون کو مزید مضبوط کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کے دور میں ایک ترمیم کی گئی تھی، جس میں اگر کوئی مجرم شخص ایک بار بھی اعلیٰ آئینی عہدہ پر فائز ہو تو اس کے تمام جرائم کو معاف کر دیا جاتا تھا۔ یہ ایک بار پھر عوام کو ان کے حقوق سے محروم کرنے کی کوشش تھی، لیکن آج کانگریس پارٹی آئین کی کاپی لے کر گھوم رہی ہے، سیاست کر کے آئین کو بچانے کی بات کر رہی ہے، لیکن آئین پر عمل نہیں کرتی ہے۔
مرکزی وزیر نے کہا کہ محترمہ اندرا گاندھی نے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہوئے منتخب حکومتوں کو گرایا ۔ ایک بار نہیں بلکہ درجنوں بار محترمہ گاندھی کے دور میں منتخب حکومتوں کو گرایا گیا اور من مانی کی گئی اور آئین کے نظام کی خلاف ورزی کی گئی۔ کانگریس نے کبھی آئین کو تسلیم نہیں کیا اور نہ ہی اس کے مطابق برتاؤ کیا ہے لیکن وہ لوگ اپنی جیبوں میں آئین کی کاپی اٹھائے ہوئے ہیں جنہوں نے کبھی آئین کو نہیں مانا اور ان کا ایک لیڈر آج بھی بیرون ملک جا کر ہندوستان کے خلاف آگ بھڑکاتا ہے۔ حکومت ہند پر تنقید اور ملک کے شہریوں کی توہین کرتا ہے ۔ حیرت اس بات پر ہے کہ وہ لیڈر ملک میں محبت کی دکانیں کھولنے کی بات کرتے ہیں جو بیرون ملک بہت مشہور ہیں۔
شری سنگھ نے دسمبر 1992 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب اجودھیا میں متنازعہ ڈھانچہ کو منہدم کرنے کا معاملہ پیش آیا تو وزیر اعلیٰ کلیان سنگھ نے فوری طور پر شام کو گورنر کو اپنا استعفیٰ پیش کر دیا۔ لیکن کانگریس کی مرکزی حکومت نے ان کا استعفیٰ منظور نہیں کیا۔ اکثریت والی حکومت کو برطرف کردیا ۔ اس کے بعد مخلوط حکومت آئی اور بی جے پی کی قیادت والی حکومت نے اتر پردیش میں اکثریت حاصل کر لی لیکن کہا گیا کہ حکومت اکثریت میں نہیں ہے اور جس حکومت نے ایوان میں اکثریت حاصل کر لی تھی اسے برخاست کر دیا گیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا یہ آئین کا تحفظ ہے، جس پر فوری طور پر صدر کے آر نارائن نے اتر پردیش حکومت کی برخاستگی پر دستخط کرنے سے انکار کردیا اور مرکزی حکومت سے اس پر دوبارہ غور کرنے کو کہا۔
مسٹر سنگھ نے کہا کہ ہمارا آئین آزادی پسندوں کی قربانیوں کے امرت سے نمودار ہوا ہے اور یہ ملک کے ہر شہری اور آئین ساز اسمبلی کے تمام اراکین کے خیالات اور جذبات پر مبنی ہے اور ان عظیم شخصیات نے اس آئین کو تقویت بخشی ہے۔ ایک پارٹی ہمارے آئین کو ہائی جیک کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ آئین کسی ایک پارٹی کے نظریے کے مطابق نہیں بنایا گیا بلکہ سب کے جذبات کے مطابق بنایا گیا ہے اور اس کے بنانے میں تمام نظریات کے لوگوں نے اہم رول ادا کیا ہے۔
بی جے پی کے سینئر لیڈر نے کہا کہ ہمارے لیڈر شیاما پرساد مکھرجی کا ماننا تھا کہ آئین اجتماعی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی نے کہا کہ ہماری جمہوریہ سب کے فائدے کے لیے ہونی چاہیے۔ ہمارے ملک میں راج دھرم اور آئین کے ذریعے تمام شہریوں کی فلاح و بہبود اور ترقی کے لیے سازگار حالات پیدا کرنے کا حکم بھی دیتا ہے۔ بی جے پی آئین کے بنیادی کردار کو کبھی تبدیل نہیں ہونے دے گی اور جب بھی ایسی کوششیں کی گئی ہیں، بی جے پی نے ہمیشہ ان کی مخالفت کی ہے۔ بی جے پی سے پہلے کی گئی تمام ترامیم میں آئین کو بدلنے کی کوشش کی گئی ہے۔
مرکزی وزیر نے کہا کہ انہیں اس بات پر فخر ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں تمام مذاہب اور سب کی ترقی کے لئے برابری کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ ہمارا آئین تمام طبقات کی ہم آہنگی اور ان کی فلاح و بہبود کی اجازت دیتا ہے اور اسی کا نتیجہ ہے کہ ملک کے غریب گھرانے میں پیدا ہونے والا شخص ملک کا وزیر اعظم اور صدر بن سکتا ہے۔ اس آئین کے تحت، ہم نے انڈین جوڈیشل کوڈ جیسے نئے قوانین پاس کیے ہیں اور ہماری حکومت معاشرے کے کمزور طبقات کی ترقی اور سب کو یکساں مواقع فراہم کرنے کے عزم کے ساتھ کام کر رہی ہے۔
مسٹر سنگھ نے کہا کہ آئین میں نہ صرف مرد بلکہ خواتین کی بھی خصوصی اہمیت ہے۔ خواتین نے آئین کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ 24 جنوری 1950 کو جب آئین پر دستخط ہوئے تو اس میں 11 خواتین بھی شامل تھیں۔ ان میں امرت کور، ہنسا مہتا، سچیتا کرپلانی وغیرہ شامل تھیں ۔ ملک کی عظیم خواتین کی خدمات کو اجتماعی طور پر سراہا جانا چاہیے۔
مرکزی وزیر نے کہا کہ ہندوستان کے آئین کی تشکیل جمہوریت کی تاریخ میں ایک اہم واقعہ ہے۔ استعمار سے آزاد ہونے والے ممالک میں سے ہندوستان نے اپنا آئین تیار کیا ہے اور یہ ملک کے لیے فخر کی بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج آئین کے 75 سال مکمل ہونے پر امرت سال منایا جا رہا ہے۔ اس موقع پر سپریم کورٹ کا تذکرہ ضروری ہے جس نے ملک کے آئین کے تحفظ میں اہم کردار ادا کیا ہے اور اس کے کئی ججوں نے سخت دباؤ کے باوجود آمرانہ حکومت کی بات نہیں سنی۔
مسٹر سنگھ نے کہا کہ گزشتہ سات دہائیوں میں آئین کو بہت سے چیلنجز کا سامنا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بابا صاحب نے کہا تھا کہ پہلے ہم انگریزوں پر الزام لگاتے تھے لیکن اب آئین ہمارا ہے اور ہم آزاد ہیں اس لیے اب ہمارے پاس کوئی بہانہ نہیں ہے اور آئین کی حفاظت کرنا ہماری ذمہ داری ہے اور اسے متاثر نہیں ہونے دینا ہے اور آئین کے تقدس کو پامال نہیں ہونے دیں گے۔ یہ فرض کسی دوسرے فرض سے کم نہیں ہونا چاہیے۔
یو این آئی ۔ ع خ
ہندوستان
کھرگے کے اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ سنگین جرم، فوری ایف آئی آر درج ہو: راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کے ہلدوانی میں ہوئے پروگرام کے بعد اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ کرنا چھوت چھات کو فروغ دینے والا سنگین جرم ہے، اس لیے قصورواروں کے خلاف درج فہرست ذات اوردرج فہرست قبائل (مظالم کی روک تھام) قانون کے تحت فوری ایف آئی آر درج کی جانی چاہیے۔
مسٹر گاندھی نے ہفتے کے روز یہاں کانگریس ہیڈکوارٹر اندرا بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئین نے چھوت چھات کو جرم قرار دیا ہے اور کسی دلت شخص کے کسی مقام پر جانے کے بعد اس کا ‘شُدھیکرن’ کرنا اسی ذہنیت کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ صرف مسٹر کھرگے کی نہیں، بلکہ ملک کے ہر دلت شخص کی توہین ہے۔
انہوں نے کہا کہ آٹھ اگست کو ہلدوانی میں مسٹر کھرگے کا پروگرام ہوا تھا اور اس کے بعد ان کی تقریر والے اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ کیا گیا۔ اس واقعے کو تقریباً 20 دن ہو چکے ہیں لیکن ابھی تک کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی قصورواروں کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی ہے۔
مسٹر گاندھی نے وزیرِ اعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اتراکھنڈ حکومت کو اس معاملے میں فوری کارروائی کرنے اورقصورواروں کے خلاف ایس سی-ایس ٹی قانون کے تحت ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم دلتوں کے احترام کی بات کرتے ہیں، اس لیے انہیں یہ یقینی بنانا چاہیے کہ مسٹر کھرگے کو انصاف ملے۔
کانگریس رہنما نے کہا کہ ملک میں دو نظریات کے درمیان لڑائی ہے۔ ایک آئین کا نظریہ ہے اور دوسرا بی جے پی-آر ایس ایس کا نظریہ ہے۔ آئین نافذ ہونے کے بعد بھی ملک میں دلتوں کے ساتھ امتیازی سلوک اور مظالم کے واقعات سلسلہ جاری ہے ۔ ملک کے کئی اسکولوں میں دلت بچوں سے بیت الخلا صاف کرایا جاتا ہے اور جھاڑو لگوائی جاتی ہے، انہیں کنوؤں سے پانی لینے سے روکا جاتا ہے، چائے کی دکانوں پر ان کے لیے الگ کپ رکھے جاتے ہیں۔ شادی بیاہ کے موقع پر گھوڑی پر بیٹھ کر بارات نکالنے والے دلتوں پر بھی حملے ہوتے ہیں اور دھمکیاں دی جاتی ہیں۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ کوئی دلت شخص جتنا کامیاب ہوتا ہے، اس پر اتنے ہی زور دار طریقے سے حملہ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاروبار، کرکٹ یا کسی دوسرے شعبے میں کامیاب ہونے والے دلت شخص کو بھی اس ذہنیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور دلت لیڈروں کے ساتھ بھی ایسا سلوک کیا جاتا ہے۔ اس تناظر میں انہوں نے راجستھان کانگریس اسمبلی پارلیمانی پارٹی کے لیڈر ٹیکارام جولی اور بہار کے سابق وزیرِ اعلیٰ جیتن رام مانجھی کے ساتھ ہوئے ‘شُدھیکرن’ کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ذہنیت صرف ایک فرد تک محدود نہیں ہے۔
کانگریس رہنما نے پارلیمنٹ میں مسٹر کھرگے کے اس معاملے کو اٹھانے کا ذکر کیا اور کہا کہ بی جے پی کے سینئر رہنما جے پی نڈّا نے کہا تھا کہ اگر ایسا واقعہ ہوا ہے تو کارروائی کی جائے گی۔ اس کے باوجود اتراکھنڈ بی جے پی صدر مہیندر بھٹ نے ‘شُدھیکرن’ کے واقعے کو درست قرار دیا ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ وزیرِ اعظم کہتے ہیں کہ وہ ہر ذات کا احترام کرتے ہیں لیکن اگر ان کی پارٹی کے رہنما اس طرح کے واقعے کو صحیح ٹھہراتے ہیں تو ان کے قول و فعل میں فرق صاف دکھائی دیتا ہے۔
کانگریس کی لڑائی اسی امتیازی سلوک اور عدم مساوات کے نظریے کے خلاف ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ یہ صرف کانگریس صدر کھرگے کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ ملک کے ہر دلت شخص کے وقار ، مساوات اور آئینی حقوق سے جڑا معاملہ ہے۔ حکومت کو فوری کارروائی کرنی چاہیے اور اگر ایسا نہیں کیا جاتا ہے تو کانگریس قصورواروں کو انصاف کے کٹھہرے تک پہنچانے کے لیے اپنی لڑائی جاری رکھے گی۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
کھڑگے نے مودی، شاہ کو خط لکھ کر آفت زدہ نیپال کو ضروری امداد دینے کی اپیل کی
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے نیپال میں آئے تباہ کن سیلاب کے سلسلے میں وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کو خط لکھ کر آفت سے متاثرہ لوگوں کو مناسب انسانی اور راحت امداد فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔
مسٹر کھڑگے نے جمعہ کو لکھے گئے دونوں خطوط کو آج جاری کرتے ہوئے نیپال میں آئے سیلاب پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے نیپال کو انسانی امداد فراہم کرنے کے ساتھ قومی آفات سے نمٹنے والی فورس (این ڈی آر ایف) کی مہارت سے فائدہ اٹھانے کی بھی اپیل کی ہے۔
وزیر اعظم کو لکھے خط میں انہوں نے کہا ہے کہ وہ نیپال میں آنے والے تباہ کن سیلاب سے گہری تشویش میں مبتلا ہیں، جس سے جانی اور مالی نقصان بڑے پیمانے پر ہوا ہے۔ حالیہ ذرائع ابلاغ کی خبروں کے مطابق 500 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور متعدد افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ اس آفت کے باعث ہزاروں افراد کو خوراک، دوا، پناہ گاہ اور دیگر ضروری امداد کی فوری ضرورت ہے۔
انہوں نے وزیر اعظم سے درخواست کی ہے کہ نیپال حکومت کے ساتھ مل کر متاثرہ لوگوں تک مناسب انسانی اور راحت امداد پہنچائی جائے۔
وزیر داخلہ کو لکھے خط میں مسٹر کھڑگے نے کہا کہ نیپال میں حالیہ سیلاب سے ہونے والے جانی و مالی نقصان، گھروں اور بنیادی ڈھانچے کی بڑے پیمانے پر تباہی اور لوگوں کے بے گھر ہونے سے انہیں گہرا صدمہ پہنچا ہے۔
ہندستان اور نیپال کے عوام کے درمیان گہرے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ نیپال کو فوری طور پر وسیع پیمانے پر انسانی اور آفات سے متعلق راحت امداد فراہم کی جائے۔ خاص طور پر ضرورت پڑنے پر این ڈی آر ایف کی ٹیمیں تعینات کی جائیں اور نیپال حکومت کے ساتھ تال میل کرکے بچاؤ، انخلا اور راحت کے کاموں میں مدد کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس بحران میں این ڈی آر ایف کی مہارت قیمتی تعاون فراہم کر سکتی ہے اور وزارت داخلہ کو اس معاملے سے فوری اور حساسیت کے ساتھ نمٹنا چاہیے۔
یو این آئی۔ایم جے
ہندوستان
ازبکستان اور کرغیزستان کے دورے سے وسطی ایشیا میں ہندستان کی حکمت عملی پر مبنی شراکت داری مضبوط ہوگی: مودی
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ ازبکستان اورجمہوریہ کرغیز کے ان کے دورے سے وسطی ایشیا میں ہندستان کی حکمت عملی پر مبنی شراکت داری مضبوط ہوگی اور امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے مشترکہ کوششوں کو تقویت ملے گی۔
مسٹر مودی نے دونوں ملکوں کے چار روزہ دورے پر روانہ ہونے سے پہلے ہفتہ کو ایک بیان میں کہا کہ وہ صدر شوکت مرزایوف کی دعوت پر 29 اور 30 اگست کو سرکاری دورے کے لیے تاشقند میں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ صدر مرزایوف کے ساتھ دو طرفہ اہمیت کے مختلف امور پر بات چیت کے لیے پرجوش ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’حالیہ برسوں میں ہندستان-ازبکستان حکمت عملی پر مبنی شراکت داری میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ میں صدر مرزایوف کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری، ڈیجیٹل رابطے، دفاع اور توانائی کے شعبوں میں ہمارے تعاون کو مزید گہرا کرنے اور وکست بھارت اور یانگی ازبکستان کے ہمارے مشترکہ تصورات کو آگے بڑھانے پر اپنی بات چیت کا منتظر ہوں۔‘‘
وزیر اعظم نے کہا کہ وہ تاشقند اسٹیٹ یونیورسٹی آف اورینٹل اسٹڈیز میں شاستری یادگار اور مہاتما گاندھی مرکز کا بھی دورہ کریں گے، جو دونوں ملکوں کو جوڑنے والے قریبی ثقافتی اور عوام سے عوام کے تعلقات کے لیے ایک خراج عقیدت ہے۔
مسٹر مودی نے کہا کہ تاشقند سے وہ کرغیز جمہوریہ کے صدر صادر ژاپاروف کی دعوت پر 26ویں ایس سی او سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک کا سفر کریں گے، جو اس اہم تنظیم کے 25 سال مکمل ہونے کی علامت ہے۔ ہندستان 2017 سے ایس سی او کا فعال اور تعمیری رکن رہا ہے۔
انہوں نے کہا، ’’میں خطے کے لیے ہندستان کے نقطۂ نظر کو آگے بڑھانے کا منتظر ہوں، جو سلامتی، رابطے اور مواقع پر مبنی ہے، اور ایسے خطے کے لیے رکن ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے کا خواہاں ہوں جو دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی کے بحران سے پاک ہو، جو ہمارے پڑوس اور اس سے آگے امن اور استحکام کے لیے مسلسل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔‘‘
وزیر اعظم نے کہا کہ وہ صدر ژاپاروف اور ایس سی او کے دیگر رہنماؤں سے ملاقات اور چھٹے عالمی خانہ بدوش کھیلوں کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے لیے بھی پرجوش ہیں، جو وسطی ایشیا کے مالا مال اور جاندار ورثے کا جشن ہے، جس کا ہندستان گہرا احترام کرتا ہے۔
انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ ان کے دورے سے وسطی ایشیا میں ہندستان کی حکمت عملی پر مبنی شراکت داری مضبوط ہوگی۔ انہوں نے کہا، ’’مجھے یقین ہے کہ یہ سفر وسطی ایشیا میں ہندستان کی حکمت عملی پر مبنی شراکت داریوں کو مضبوط کرے گا، خطے کے ساتھ ہمارے تہذیبی تعلق کو مزید گہرا کرے گا اور امن، استحکام اور خوشحالی کی ہماری مشترکہ جستجو کو آگے بڑھائے گا—یہ وہ اقدار ہیں جو دنیا کے ساتھ ہندستان کے تعلقات کے مرکز میں ہیں۔‘‘
یو این آئی، ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
