ہندوستان
وفاق کے خلاف ون نیشن ون الیکشن بل: اپوزیشن
نئی دہلی، حزب اختلاف کے اراکین کی شدید مخالفت کے درمیان حکومت نے آج لوک سبھا میں ملک بھر میں بیک وقت انتخابات کرانے کا بل پیش کیا وزیر قانون ارجن رام میگھوال نے آئین (129 ویں) ترمیمی بل 2024 اور یونین ٹیریٹری لاز (ترمیمی) بل 2024 پیش کیا کانگریس کے منیش تیواری نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہماری جمہوریت اور وفاقی ڈھانچے کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں وفاقیت کا نظام ہے اور یہ بل آئین کے اس نظام کے مکمل خلاف ہے۔
سماج وادی پارٹی کے دھرمیندر یادو نے بل کی مخالفت کی اور اسے آئین کی بنیادی روح کے خلاف قرار دیا۔ انہوں نے ان بلوں کو آمریت کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے حکومت سے انہیں واپس لینے کا مطالبہ کیا۔
کانگریس کے گورو گوگوئی نے اس بل کو ملک کے ووٹروں کے حق رائے دہی پر حملہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے بل کو پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی (جے پی سی) کو بھیجنے کا مطالبہ کیا۔ ان بلوں میں صدر جمہوریہ کو ریاستی اسمبلیاں تحلیل کرنے کا پہلے سے زیادہ اختیار دیا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن کو ریاستی حکومتوں کو برطرف کرنے کا حق بھی دیا گیا ہے جو کہ غلط ہے۔
ترنمول کانگریس کے کلیان بنرجی نے بلوں کو آئین کی بنیادی روح کے خلاف قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی انتخابات وہاں کی حکومت کی میعاد پر منحصر ہوتے ہیں اور مرکزی انتخابات مرکزی حکومت کی میعاد پر منحصر ہوتے ہیں تو پھر ایک ساتھ انتخابات کیسے ہو سکتے ہیں۔ اس میں ریاستوں کی خود مختاری کو تباہ کیا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ ایک ہی پارٹی ہمیشہ نہیں رہتی اور ایک دن اقتدار میں تبدیلی ضرور آئے گی۔ یہ انتخابی اصلاحات نہیں، صرف ایک شخص کی خواہش پوری کرنے کا بل ہے۔
ڈی ایم کے کے ٹی آر بالو نے بل کو جے پی سی کو سونپنے کا مطالبہ کیا۔
پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے کہا کہ اس میں تمام پارٹیوں کی نمائندگی ہے اور اسپیکر اوم برلا نے خود کہا ہے کہ وہ تمام پارٹیوں کے لیڈروں کو اس مسئلہ پر اپنے خیالات کا اظہار کرنے کا موقع دیں گے۔
انڈین یونین مسلم لیگ ( آئی یو ایم ایل ) کے ای ٹی بشیر نے اس بل کو آئین پر حملہ قرار دیا۔ شیوسینا کے انل یشونت دیسائی نے بل کو ملک کے وفاقی ڈھانچے پر حملہ قرار دیا ۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی مقننہ کے حقوق کو کم نہیں کیا جانا چاہئے۔
مسٹر گوگوئی نے کہا کہ صدر جمہوریہ صرف وزراء کی کونسل سے مشورہ لیتے ہیں، وہ الیکشن کمیشن سے مشورہ نہیں لے سکتے۔ اس بل کی شقوں کے مطابق اب صدر الیکشن کمیشن سے بھی مشورہ لے سکتے ہیں۔ وہ اس کی سخت مخالفت کرتے ہیں ۔ اس بل میں الیکشن کمیشن کو ضرورت سے زیادہ اختیارات دیے گئے ہیں۔
مسٹر گوگوئی نے کہا ‘اگر بھارتیہ جنتا پارٹی یہ سمجھتی ہے کہ وہ وزیر اعظم نریندر مودی کی مہم سے تمام انتخابات چھین لے گی، تو یہ غلط فہمی میں ہے۔ یہ بل مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کو بھیجا جائے، وہ اس بل کی مخالفت کرتے ہیں۔
آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے اسد الدین اویسی نے کہا کہ اس بل کے نفاذ سے ریاستوں میں صدر راج کے رجحان کو فروغ ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بل ایک آدمی کی انا کو بڑھانے کے لیے لایا گیا ہے۔ میں اس بل کی مخالفت کرتا ہوں۔‘‘
نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شرد پوار) کی سپریا سولے نے کہا کہ یہ بل وفاقیت اور آئین کے خلاف ہے۔ ایم پی اور ایم ایل اے پانچ سال کے لیے منتخب ہوتے ہیں، انہیں درمیان میں کیوں ہٹایا جائے گا؟ انہوں نے کہا کہ وہ اس بل کی مخالفت کرتی ہیں ۔ بل کو واپس لیا جائے یا اسے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے پاس بھیجا جائے۔
انقلابی سوشلسٹ پارٹی کے این کے پریما چندرن نے کہا کہ وہ بل کی سخت مخالفت کرتے ہیں۔ یہ وفاقیت کی بنیادی روح کے خلاف ہے۔ اس کو لانے سے وفاقیت کے ڈھانچے کی خلاف ورزی ہوگی۔ اس پر جامع بحث ہونی چاہیے تھی۔
قانون اور انصاف کے وزیر مملکت ارجن رام میگھوال نے کہا کہ یہ آئینی ترمیمی بل آئینی ہے اور اس سے کسی بھی طرح ریاست کے اختیارات میں کمی نہیں آتی۔ اس بل کے ذریعے آئین کے بنیادی ڈھانچے کے ساتھ کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں کی جائے گی۔ اس سے نہ تو پارلیمنٹ کی طاقت کم ہو رہی ہے اور نہ ہی مقننہ کے اختیارات کم ہو رہے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ اگر ہم آئین کی کسی فہرست میں ترمیم نہیں کر رہے ہیں تو وفاقی ڈھانچے پر حملہ کیسے ہو گا۔ بابا صاحب ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر نے بھی کہا تھا کہ ملک کے وفاقی ڈھانچے کو کوئی نہیں بدل سکتا۔ ہم آئین کے کسی شیڈول میں کوئی ترمیم نہیں کر رہے ہیں ۔ ،
سابق صدر رام ناتھ کووند کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ بل بہت تفصیلی بحث کے بعد لایا گیا ہے۔ اس حوالے سے کل جماعتی اجلاس میں بھی بحث ہوئی جس میں اکثریت ترمیم کے حق میں تھی۔
انہوں نے کہا کہ یہ بل 41 سال سے زیر التوا تھا اور وزیر اعظم مودی نے فیصلہ کرکے اسے تبدیل کرنے کا عزم کیا ہے۔ انہوں نے دونوں بلوں کو مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کو بھیجنے کی سفارش کی۔
اس سے پہلے آج حکومت نے لوک سبھا میں ‘ون نیشن ون الیکشن’ بل پیش کیا اور اپوزیشن نے اسے وفاقی ڈھانچے کے خلاف قرار دیا اور بل کو واپس لینے کا مطالبہ کیا۔
یو این آئی ۔ ع خ
ہندوستان
نیپال سیلاب: 287 ہندوستانی شہری لاپتہ، 88 ہندوستانی شہریوں کو بچایا گیا
نئی دہلی، نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد وہاں 287 ہندوستانی شہری ابھی بھی لاپتہ ہیں اور ہفتے کے روز چار مزید لوگوں کو بچائے جانے کے بعد محفوظ بچائے گئے ہندوستانی شہریوں کی تعداد بڑھ کر 88 ہو گئی ہے۔
وزارتِ خارجہ نے ہفتے کے روز یہ معلومات دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب کی وجہ سے چین کے علاقے میں پھنسے 120 ہندوستانی شہری آج وہاں سے زمینی راستے سے ہوتے ہوئے نیپال پہنچ گئے۔
وزارت نے بتایا کہ آج چار ہندوستانی شہریوں کو رسوا میں ایک پن بجلی منصوبے سے بچایا گیا۔ ان کے جلد ہی کاٹھمنڈو پہنچنے کی امید ہے۔ ان کے نام رپو کمار، چنیشور نرجاری، کرپا شنکر اور محمد منہاج الدین ہیں۔
راحت اور بچاؤ کی کارروائیوں میں ہندوستان کے تعاون کا ذکر کرتے ہوئے وزارت نے کہا ہے کہ ہندوستان سے چھ فارنسک ماہر ٹیموں کے آج کاٹھمنڈو پہنچنے کی امید ہے، تاکہ متوفین کی لاشوں کی باقیات کی شناخت کے لیے ڈی این اے نمونوں کے تجزیے میں مدد کی جا سکے۔
اس کے علاوہ سرنگ بچاؤ کے لیے ایک خاص تکنیکی ٹیم کل کاٹھمنڈو پہنچی اور متاثرہ علاقے میں سرنگ بچاؤ میں مدد کے لیے آج سے کام شروع کر دیا۔ ان کی سفارش کی بنیاد پر، سامان کے ساتھ ہندوستان کی ایک خاص سرنگ بچاؤ ٹیم کے آج نیپال پہنچنے کی امید ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ وزارتِ خارجہ نے کہا تھا کہ نیپال میں پھنسے تمام شہریوں کو وطن واپس لانے کے لیے حکومت کی طرف سے انتظام کیا جائے گا۔ اسی کے تحت جمعہ کو 21 ہندوستانی شہری وطن واپس لوٹے تھے۔
ہندوستان نے اب تک تین طیاروں میں کئی ٹن امدادی سامان کاٹھمنڈو بھیجا ہے اور اس نے نیپال کو ہر طرح کی انسانی امداد فراہم کرنے کا یقین دلایا ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
کھرگے کے اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ سنگین جرم، فوری ایف آئی آر درج ہو: راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کے ہلدوانی میں ہوئے پروگرام کے بعد اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ کرنا چھوت چھات کو فروغ دینے والا سنگین جرم ہے، اس لیے قصورواروں کے خلاف درج فہرست ذات اوردرج فہرست قبائل (مظالم کی روک تھام) قانون کے تحت فوری ایف آئی آر درج کی جانی چاہیے۔
مسٹر گاندھی نے ہفتے کے روز یہاں کانگریس ہیڈکوارٹر اندرا بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئین نے چھوت چھات کو جرم قرار دیا ہے اور کسی دلت شخص کے کسی مقام پر جانے کے بعد اس کا ‘شُدھیکرن’ کرنا اسی ذہنیت کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ صرف مسٹر کھرگے کی نہیں، بلکہ ملک کے ہر دلت شخص کی توہین ہے۔
انہوں نے کہا کہ آٹھ اگست کو ہلدوانی میں مسٹر کھرگے کا پروگرام ہوا تھا اور اس کے بعد ان کی تقریر والے اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ کیا گیا۔ اس واقعے کو تقریباً 20 دن ہو چکے ہیں لیکن ابھی تک کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی قصورواروں کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی ہے۔
مسٹر گاندھی نے وزیرِ اعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اتراکھنڈ حکومت کو اس معاملے میں فوری کارروائی کرنے اورقصورواروں کے خلاف ایس سی-ایس ٹی قانون کے تحت ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم دلتوں کے احترام کی بات کرتے ہیں، اس لیے انہیں یہ یقینی بنانا چاہیے کہ مسٹر کھرگے کو انصاف ملے۔
کانگریس رہنما نے کہا کہ ملک میں دو نظریات کے درمیان لڑائی ہے۔ ایک آئین کا نظریہ ہے اور دوسرا بی جے پی-آر ایس ایس کا نظریہ ہے۔ آئین نافذ ہونے کے بعد بھی ملک میں دلتوں کے ساتھ امتیازی سلوک اور مظالم کے واقعات سلسلہ جاری ہے ۔ ملک کے کئی اسکولوں میں دلت بچوں سے بیت الخلا صاف کرایا جاتا ہے اور جھاڑو لگوائی جاتی ہے، انہیں کنوؤں سے پانی لینے سے روکا جاتا ہے، چائے کی دکانوں پر ان کے لیے الگ کپ رکھے جاتے ہیں۔ شادی بیاہ کے موقع پر گھوڑی پر بیٹھ کر بارات نکالنے والے دلتوں پر بھی حملے ہوتے ہیں اور دھمکیاں دی جاتی ہیں۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ کوئی دلت شخص جتنا کامیاب ہوتا ہے، اس پر اتنے ہی زور دار طریقے سے حملہ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاروبار، کرکٹ یا کسی دوسرے شعبے میں کامیاب ہونے والے دلت شخص کو بھی اس ذہنیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور دلت لیڈروں کے ساتھ بھی ایسا سلوک کیا جاتا ہے۔ اس تناظر میں انہوں نے راجستھان کانگریس اسمبلی پارلیمانی پارٹی کے لیڈر ٹیکارام جولی اور بہار کے سابق وزیرِ اعلیٰ جیتن رام مانجھی کے ساتھ ہوئے ‘شُدھیکرن’ کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ذہنیت صرف ایک فرد تک محدود نہیں ہے۔
کانگریس رہنما نے پارلیمنٹ میں مسٹر کھرگے کے اس معاملے کو اٹھانے کا ذکر کیا اور کہا کہ بی جے پی کے سینئر رہنما جے پی نڈّا نے کہا تھا کہ اگر ایسا واقعہ ہوا ہے تو کارروائی کی جائے گی۔ اس کے باوجود اتراکھنڈ بی جے پی صدر مہیندر بھٹ نے ‘شُدھیکرن’ کے واقعے کو درست قرار دیا ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ وزیرِ اعظم کہتے ہیں کہ وہ ہر ذات کا احترام کرتے ہیں لیکن اگر ان کی پارٹی کے رہنما اس طرح کے واقعے کو صحیح ٹھہراتے ہیں تو ان کے قول و فعل میں فرق صاف دکھائی دیتا ہے۔
کانگریس کی لڑائی اسی امتیازی سلوک اور عدم مساوات کے نظریے کے خلاف ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ یہ صرف کانگریس صدر کھرگے کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ ملک کے ہر دلت شخص کے وقار ، مساوات اور آئینی حقوق سے جڑا معاملہ ہے۔ حکومت کو فوری کارروائی کرنی چاہیے اور اگر ایسا نہیں کیا جاتا ہے تو کانگریس قصورواروں کو انصاف کے کٹھہرے تک پہنچانے کے لیے اپنی لڑائی جاری رکھے گی۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
کھڑگے نے مودی، شاہ کو خط لکھ کر آفت زدہ نیپال کو ضروری امداد دینے کی اپیل کی
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے نیپال میں آئے تباہ کن سیلاب کے سلسلے میں وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کو خط لکھ کر آفت سے متاثرہ لوگوں کو مناسب انسانی اور راحت امداد فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔
مسٹر کھڑگے نے جمعہ کو لکھے گئے دونوں خطوط کو آج جاری کرتے ہوئے نیپال میں آئے سیلاب پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے نیپال کو انسانی امداد فراہم کرنے کے ساتھ قومی آفات سے نمٹنے والی فورس (این ڈی آر ایف) کی مہارت سے فائدہ اٹھانے کی بھی اپیل کی ہے۔
وزیر اعظم کو لکھے خط میں انہوں نے کہا ہے کہ وہ نیپال میں آنے والے تباہ کن سیلاب سے گہری تشویش میں مبتلا ہیں، جس سے جانی اور مالی نقصان بڑے پیمانے پر ہوا ہے۔ حالیہ ذرائع ابلاغ کی خبروں کے مطابق 500 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور متعدد افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ اس آفت کے باعث ہزاروں افراد کو خوراک، دوا، پناہ گاہ اور دیگر ضروری امداد کی فوری ضرورت ہے۔
انہوں نے وزیر اعظم سے درخواست کی ہے کہ نیپال حکومت کے ساتھ مل کر متاثرہ لوگوں تک مناسب انسانی اور راحت امداد پہنچائی جائے۔
وزیر داخلہ کو لکھے خط میں مسٹر کھڑگے نے کہا کہ نیپال میں حالیہ سیلاب سے ہونے والے جانی و مالی نقصان، گھروں اور بنیادی ڈھانچے کی بڑے پیمانے پر تباہی اور لوگوں کے بے گھر ہونے سے انہیں گہرا صدمہ پہنچا ہے۔
ہندستان اور نیپال کے عوام کے درمیان گہرے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ نیپال کو فوری طور پر وسیع پیمانے پر انسانی اور آفات سے متعلق راحت امداد فراہم کی جائے۔ خاص طور پر ضرورت پڑنے پر این ڈی آر ایف کی ٹیمیں تعینات کی جائیں اور نیپال حکومت کے ساتھ تال میل کرکے بچاؤ، انخلا اور راحت کے کاموں میں مدد کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس بحران میں این ڈی آر ایف کی مہارت قیمتی تعاون فراہم کر سکتی ہے اور وزارت داخلہ کو اس معاملے سے فوری اور حساسیت کے ساتھ نمٹنا چاہیے۔
یو این آئی۔ایم جے
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
ہندوستان1 week agoراہل پیلیٹ گن متاثرہ کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کے حق میں ڈی سی پی دفتر کے باہر دھرنے پر بیٹھے
