جموں و کشمیر
عوام سے کئے گئے وعدوں کو عملی جامہ پہنانے کی خاطر ریاستی درجے کی بحالی ناگزیر ہے:عمرعبداللہ
سری نگر وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اپنی پہلی پریس کانفرنس میں جموں وکشمیر کو درپیش مختلف مسائل پر کھل کر بات کی انہوں نے حکومت کو درپیش چیلنجز، میڈیا کی آزادی، ریاستی درجے کی بحالی،راج بھون اور منتخب حکومت کے درمیان دوہری گورننس کے ساتھ ساتھ عوام سے کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے کی اہمیت پر زور دیا عمر عبداللہ نے کہاکہ عوام الناس سے کئے گئے وعدوں کو عملی جامہ پہنانے کی خاطر ریاستی درجے کی بحالی ناگزیر ہے۔
وزیرا علیٰ عمر عبداللہ کی پہلی پریس کانفرنس کی جھلکیاں :
’ریاستی درجے کی بحالی کے بارے میں‘ :
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کا کہنا ہے کہ جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ بحال کرنے کے لئے مرکزی حکومت کے پاس ایک سال کا وقت کافی ہے۔
انہوں نے کہا: ‘عدالت عظمیٰ نے دفعہ 370 پر اپنا فیصلہ سناتے ہوئے حکومت ہند کو ریاست کا درجہ جلد بحال کرنے کی ہدایت دی تھی’۔
ان کا کہنا تھا: ‘ایک سال بیت گیا ہے جو جموں وکشمیر کا ریاستی درجہ بحال کرنے کے لئے حکومت ہند کے لئے کافی وقت ہے’۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ اکتوبر 2024 میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں لوگوں نے بڑے پیمانے پر حصہ لیا اور جس کی حکومت ہند کی طرف سے کافی پذیرائی ہوئی۔
انہوں نے کہا: ‘ لہذا اس کے بدلے میں جموں و کشمیر کے لوگوں کو بھی امید ہے کہ انہیں انتخابات میں زیادہ سے زیادہ حصہ لینے کا صلہ ملے گا۔
انہوں نے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا: ‘ہمیں امید ہے کہ جموں و کشمیر میں ریاست کا درجہ بہت جلد بحال کیا جائے گا’۔
’گورننس کے بارے میں‘ :
گورننس کے بارے میں پوچھے جانے والے ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا: ‘ہم سمجھتے ہیں کہ لوگوں کے جذبات اور امنگوں کا خیال رکھنے کی ضرورت ہے اور ہم اچھی حکمرانی کو یقینی بنانے کی پوری کوشش کر رہے ہیں’۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ‘بہت ساری چیزیں ہمیں ملی ہیں لیکن میں ایک ایک کرکے ان مسائل کی نشاندہی نہیں کرنا چاہتا ہوں’۔
انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس حکومت نے اچھی شروعات کی ہیں اور جو ہم نے الیکشن سے پہلے لوگوں کے ساتھ وعدے کئے ہیں ہم ان کو پورا کرنے کے لئے پر عزم ہیں۔
ان کا کہنا تھا: ‘ہم لوگوں کے ساتھ کئے گئے وعدوں سے منہ نہیں پھیریں گے’۔
’بجلی کی موجودہ صورتحال کے بارے میں‘ :
انہوں نے کہاکہ جموں وکشمیر میں بجلی کی صورتحال کو بہتر بنانے کی خاطر سرکار مرکزی وزارت بجلی کے ساتھ مکمل تعاون فراہم کر رہی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہاکہ جہاں تک بجلی میٹرلگانے کی بات ہے تو اس نظام سے ہی برقی رو کی موجودہ صورتحال بہتر ہو سکتی ہے۔
عمر عبداللہ نے کہاکہ ہر سال خزانے کو اضافی بجلی خریدنے کی صورت میں نو ہزار پانچ سو کروڑ روپیہ کا بوجھ اٹھانا پڑ رہا ہے۔
ان کے مطابق خراب ترسیلی لائنوں کی وجہ سے زائد از پچاس فیصد بجلی ضائع ہو رہی ہیں اورا س کو بہتر بنانے کی خاطر زمینی سطح پر اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔
’دوہری گورننس کے بارے میں‘ :
دوہری گورننس کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے راج بھون اور منتخب حکومت کے درمیان چیلنجوں کو تسلیم کرتے ہوئے کہاکہ زائد از دو مہینے ہو گئے اور یہ سمجھنا کہ مرکزی زیر انتظام حکومت کس طرح کام کرتی ہے ایک نیا تجربہ ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم راج بھون اور منتخب حکومت کی ذمہ داروں کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم لوگوں کی مشکلات کا ازالہ کرنے کی خاطر راج بھون اور منتخب حکومت کے دروازے کھلے ہیں۔
عمر عبداللہ نے کہاکہ جہاں بھی شکایات کا ازالہ ہو (راج بھون یا منتخب حکومت) وہاں لوگوں کو جانا چاہئے اور میں یہ مشورہ نہیں دونگا کہ لوگ راج بھون نہ جائیں ۔
ایڈوکیٹ جنرل کی تقرری اور شیخ محمد عبداللہ کی یوم پیدائش کی تعطیل کے بارے میں عمر عبداللہ نے کہاکہ مرحوم شیخ محمد عبداللہ جموں وکشمیر کے میراث ہے۔
ان کے مطابق وادی کشمیر میں جب سردیاں شروع ہو جاتی ہیں تو حماموں میں بیٹھ کر لوگ خیالی پلاو پکاتے ہیں ۔
’پریس کی آزادی کے بارے میں:‘
میڈیا اداروں کے کام کاج کے بارے میں پوچھے جانے پر عمر عبداللہ نے کہا: ‘میں آزاد میڈیا اداروں کو دیکھنا چاہوں گا جو بغیر کسی مداخلت اور دباﺅ کے کام کریں گے’۔
انہوں نے کہا: ‘میں یہ دیکھنا چاہتا ہوں کہ میڈیا اداروں کو کیا شائع کرنا ہے اور کیا نہیں کے بارے میں کہیں سے کوئی ٹیلی فون کال نہ آئے’۔
عبداللہ نے آزاد اور منصفانہ پریس کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ذرائع ابلاغ کی موجودہ حالت پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر میں میڈیا غیر جانبدرانہ رپورٹنگ کے لئے پوری طرح سے آزاد ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ کشمیر پریس کلب کے الیکشن جلدازجلد منعقد ہو۔
’مجوزہ سٹیلائٹ کالونی کی تعمیر کے بارے میں‘ :
سٹیلائٹ کالونیوں کی تعمیر کے بارے میں وزیر اعلیٰ نے کہاکہ اس حوالے سے سرکار کے پاس کوئی منصوبہ زیر غور نہیں۔ انہوں نے کہاکہ کچھ سیاستدان اس حوالے سے بیانات دے رہے ہیں لیکن سرکار کے پاس ایسا کوئی منصوبہ نہیں آیا ہے۔
وزیر اعلیٰ کے مطابق جب اس طرح کا منصوبہ حکومت کے پاس آئے گا تو اس بارے میں لوگوں کو جانکاری فراہم کی جائے گی۔
انہوں نے کہاکہ جہاں تک میری ذاتی رائے ہے تو مجھے لگ رہا ہے کہ اگر اس طرح کی کالونیوں کا منصوبہ بنایا گیا ہوگا تو وہاں پریہاں کے لوگوں کو ہی بسایا جائے گا۔
پلوامہ میں این آئی ٹی کیمپس پر لوگوں کی جانب سے تحفظات کا اظہار کرنے پر وزیر اعلیٰ نے کہاکہ اگر پلوامہ کے لوگ کیمپس نہیں چاہتے تو دوسرے علاقے کے لوگ اس کیمپس کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
’آغا روح اللہ مہدی کی جانب سے احتجاج کرنے کے بارے میں‘ :
وزیر اعلیٰ نے کہاکہ جمہوریت میں ہر کسی کو احتجاج کرنے کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے کہاکہ میری رہائشی گاہ کے باہر جب احتجاج کیا گیا تو کچھ طلبا کے ساتھ بات کی اور انہیں یقین دلایا کہ ریزرویشن کے مسئلے کو حل کیا جائے گا۔
انہوں نے کہاکہ سرکار نے پہلے ہی ریزرویشن کے معاملے پر ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دی ہے جنہیں وقت مقررہ کے اندرا ندر اپنی رپورٹ پشی کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ جہاں تک یہ بات ہے کہ آغا روح اللہ مہدی نے راج بھون کے باہر احتجاج کیوں نہیں کیا تو اسکا جواب تو ممبرپارلیمنٹ ہی دے سکتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ممبر پارلیمنٹ آغا روح اللہ مہدی کے ساتھ کھبی کھبار فون پر بھی بات چیت ہوا کرتی ہیں۔
’دفعہ 370اور مسئلہ کشمیر کے بارے میں‘ :
بھاجپا کے اس دعوئے کہ دفعہ 370کی منسوخی سے کشمیر کا مسئلہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے حل ہو گیا ہے کے جواب میں عمر عبداللہ نے سوالیہ انداز میں کہا :’بی جے پی دعویٰ کرتی ہے کہ مسئلہ حل ہو گیا ہے لیکن پاکستانی زیر قبضہ کشمیر کے مسلئے کا کیا ہوا ہے ؟
وزیر اعلیٰ نے کہاکہ کشمیر کا مسئلہ ابھی حل نہیں ہوا ہے اور اس حوالے سے بی جے پی کا دعویٰ یک طرفہ ہے۔
’انتخابی منشور میں کئے گئے وعدے پورے کرنے کے بارے میں‘ :
عمر عبداللہ نے کہاکہ جموں وکشمیر کے لوگوں کے ساتھ الیکشن سے قبل جتنے بھی وعدئے کئے گئے انہیں ہر حال میں پورا کیا جائے گا۔
انہوں نے کہاکہ موجودہ سرکار نے پہلے دو ماہ کے دوران تعلیمی کلینڈر کو تبدیل کیا ، ریاستی درجے کی بحالی کے لئے قرار داد پاس کی ، عوام کے ساتھ رابطوں کو مزید وسعت دی گئی ۔
ان کے مطابق جہاں تک ریاستی درجے کا تعلق ہے تو اس میں مزید کچھ وقت لگ سکتا ہے تاہم موجودہ سرکار اس سمت میں بھی اپنا کام کررہی ہیں۔
’فائر اینڈ ایمرجنسی بھرتی گھوٹالہ کے بارے میں‘ :
وزیر اعلیٰ نے کہاکہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ امیدواروں کے ساتھ نا انصافی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ کیس کو اینٹی کرپشن بیورو کے سپرد کیا گیا ہے اور میں یہ یقین دلاتا ہوں کہ فائر اینڈ ایمرجنسی سروس امیدواروں کو انصاف فراہم کیا جائے گا۔
عمر عبداللہ کا کہنا تھا کہ اینٹی کرپشن بیورو (اے سی بی) نے تحقیقات شروع کی ہے اور ہمیں رپورٹ کا انتظا ر کرنا چاہئے۔
یو این آئی- ارشید بٹ، ایم افضل
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان1 week agoراہل پیلیٹ گن متاثرہ کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کے حق میں ڈی سی پی دفتر کے باہر دھرنے پر بیٹھے
