جموں و کشمیر
عوام سے کئے گئے وعدوں کو عملی جامہ پہنانے کی خاطر ریاستی درجے کی بحالی ناگزیر ہے:عمرعبداللہ
سری نگر وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اپنی پہلی پریس کانفرنس میں جموں وکشمیر کو درپیش مختلف مسائل پر کھل کر بات کی انہوں نے حکومت کو درپیش چیلنجز، میڈیا کی آزادی، ریاستی درجے کی بحالی،راج بھون اور منتخب حکومت کے درمیان دوہری گورننس کے ساتھ ساتھ عوام سے کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے کی اہمیت پر زور دیا عمر عبداللہ نے کہاکہ عوام الناس سے کئے گئے وعدوں کو عملی جامہ پہنانے کی خاطر ریاستی درجے کی بحالی ناگزیر ہے۔
وزیرا علیٰ عمر عبداللہ کی پہلی پریس کانفرنس کی جھلکیاں :
’ریاستی درجے کی بحالی کے بارے میں‘ :
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کا کہنا ہے کہ جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ بحال کرنے کے لئے مرکزی حکومت کے پاس ایک سال کا وقت کافی ہے۔
انہوں نے کہا: ‘عدالت عظمیٰ نے دفعہ 370 پر اپنا فیصلہ سناتے ہوئے حکومت ہند کو ریاست کا درجہ جلد بحال کرنے کی ہدایت دی تھی’۔
ان کا کہنا تھا: ‘ایک سال بیت گیا ہے جو جموں وکشمیر کا ریاستی درجہ بحال کرنے کے لئے حکومت ہند کے لئے کافی وقت ہے’۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ اکتوبر 2024 میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں لوگوں نے بڑے پیمانے پر حصہ لیا اور جس کی حکومت ہند کی طرف سے کافی پذیرائی ہوئی۔
انہوں نے کہا: ‘ لہذا اس کے بدلے میں جموں و کشمیر کے لوگوں کو بھی امید ہے کہ انہیں انتخابات میں زیادہ سے زیادہ حصہ لینے کا صلہ ملے گا۔
انہوں نے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا: ‘ہمیں امید ہے کہ جموں و کشمیر میں ریاست کا درجہ بہت جلد بحال کیا جائے گا’۔
’گورننس کے بارے میں‘ :
گورننس کے بارے میں پوچھے جانے والے ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا: ‘ہم سمجھتے ہیں کہ لوگوں کے جذبات اور امنگوں کا خیال رکھنے کی ضرورت ہے اور ہم اچھی حکمرانی کو یقینی بنانے کی پوری کوشش کر رہے ہیں’۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ‘بہت ساری چیزیں ہمیں ملی ہیں لیکن میں ایک ایک کرکے ان مسائل کی نشاندہی نہیں کرنا چاہتا ہوں’۔
انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس حکومت نے اچھی شروعات کی ہیں اور جو ہم نے الیکشن سے پہلے لوگوں کے ساتھ وعدے کئے ہیں ہم ان کو پورا کرنے کے لئے پر عزم ہیں۔
ان کا کہنا تھا: ‘ہم لوگوں کے ساتھ کئے گئے وعدوں سے منہ نہیں پھیریں گے’۔
’بجلی کی موجودہ صورتحال کے بارے میں‘ :
انہوں نے کہاکہ جموں وکشمیر میں بجلی کی صورتحال کو بہتر بنانے کی خاطر سرکار مرکزی وزارت بجلی کے ساتھ مکمل تعاون فراہم کر رہی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہاکہ جہاں تک بجلی میٹرلگانے کی بات ہے تو اس نظام سے ہی برقی رو کی موجودہ صورتحال بہتر ہو سکتی ہے۔
عمر عبداللہ نے کہاکہ ہر سال خزانے کو اضافی بجلی خریدنے کی صورت میں نو ہزار پانچ سو کروڑ روپیہ کا بوجھ اٹھانا پڑ رہا ہے۔
ان کے مطابق خراب ترسیلی لائنوں کی وجہ سے زائد از پچاس فیصد بجلی ضائع ہو رہی ہیں اورا س کو بہتر بنانے کی خاطر زمینی سطح پر اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔
’دوہری گورننس کے بارے میں‘ :
دوہری گورننس کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے راج بھون اور منتخب حکومت کے درمیان چیلنجوں کو تسلیم کرتے ہوئے کہاکہ زائد از دو مہینے ہو گئے اور یہ سمجھنا کہ مرکزی زیر انتظام حکومت کس طرح کام کرتی ہے ایک نیا تجربہ ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم راج بھون اور منتخب حکومت کی ذمہ داروں کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم لوگوں کی مشکلات کا ازالہ کرنے کی خاطر راج بھون اور منتخب حکومت کے دروازے کھلے ہیں۔
عمر عبداللہ نے کہاکہ جہاں بھی شکایات کا ازالہ ہو (راج بھون یا منتخب حکومت) وہاں لوگوں کو جانا چاہئے اور میں یہ مشورہ نہیں دونگا کہ لوگ راج بھون نہ جائیں ۔
ایڈوکیٹ جنرل کی تقرری اور شیخ محمد عبداللہ کی یوم پیدائش کی تعطیل کے بارے میں عمر عبداللہ نے کہاکہ مرحوم شیخ محمد عبداللہ جموں وکشمیر کے میراث ہے۔
ان کے مطابق وادی کشمیر میں جب سردیاں شروع ہو جاتی ہیں تو حماموں میں بیٹھ کر لوگ خیالی پلاو پکاتے ہیں ۔
’پریس کی آزادی کے بارے میں:‘
میڈیا اداروں کے کام کاج کے بارے میں پوچھے جانے پر عمر عبداللہ نے کہا: ‘میں آزاد میڈیا اداروں کو دیکھنا چاہوں گا جو بغیر کسی مداخلت اور دباﺅ کے کام کریں گے’۔
انہوں نے کہا: ‘میں یہ دیکھنا چاہتا ہوں کہ میڈیا اداروں کو کیا شائع کرنا ہے اور کیا نہیں کے بارے میں کہیں سے کوئی ٹیلی فون کال نہ آئے’۔
عبداللہ نے آزاد اور منصفانہ پریس کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ذرائع ابلاغ کی موجودہ حالت پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر میں میڈیا غیر جانبدرانہ رپورٹنگ کے لئے پوری طرح سے آزاد ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ کشمیر پریس کلب کے الیکشن جلدازجلد منعقد ہو۔
’مجوزہ سٹیلائٹ کالونی کی تعمیر کے بارے میں‘ :
سٹیلائٹ کالونیوں کی تعمیر کے بارے میں وزیر اعلیٰ نے کہاکہ اس حوالے سے سرکار کے پاس کوئی منصوبہ زیر غور نہیں۔ انہوں نے کہاکہ کچھ سیاستدان اس حوالے سے بیانات دے رہے ہیں لیکن سرکار کے پاس ایسا کوئی منصوبہ نہیں آیا ہے۔
وزیر اعلیٰ کے مطابق جب اس طرح کا منصوبہ حکومت کے پاس آئے گا تو اس بارے میں لوگوں کو جانکاری فراہم کی جائے گی۔
انہوں نے کہاکہ جہاں تک میری ذاتی رائے ہے تو مجھے لگ رہا ہے کہ اگر اس طرح کی کالونیوں کا منصوبہ بنایا گیا ہوگا تو وہاں پریہاں کے لوگوں کو ہی بسایا جائے گا۔
پلوامہ میں این آئی ٹی کیمپس پر لوگوں کی جانب سے تحفظات کا اظہار کرنے پر وزیر اعلیٰ نے کہاکہ اگر پلوامہ کے لوگ کیمپس نہیں چاہتے تو دوسرے علاقے کے لوگ اس کیمپس کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
’آغا روح اللہ مہدی کی جانب سے احتجاج کرنے کے بارے میں‘ :
وزیر اعلیٰ نے کہاکہ جمہوریت میں ہر کسی کو احتجاج کرنے کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے کہاکہ میری رہائشی گاہ کے باہر جب احتجاج کیا گیا تو کچھ طلبا کے ساتھ بات کی اور انہیں یقین دلایا کہ ریزرویشن کے مسئلے کو حل کیا جائے گا۔
انہوں نے کہاکہ سرکار نے پہلے ہی ریزرویشن کے معاملے پر ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دی ہے جنہیں وقت مقررہ کے اندرا ندر اپنی رپورٹ پشی کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ جہاں تک یہ بات ہے کہ آغا روح اللہ مہدی نے راج بھون کے باہر احتجاج کیوں نہیں کیا تو اسکا جواب تو ممبرپارلیمنٹ ہی دے سکتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ممبر پارلیمنٹ آغا روح اللہ مہدی کے ساتھ کھبی کھبار فون پر بھی بات چیت ہوا کرتی ہیں۔
’دفعہ 370اور مسئلہ کشمیر کے بارے میں‘ :
بھاجپا کے اس دعوئے کہ دفعہ 370کی منسوخی سے کشمیر کا مسئلہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے حل ہو گیا ہے کے جواب میں عمر عبداللہ نے سوالیہ انداز میں کہا :’بی جے پی دعویٰ کرتی ہے کہ مسئلہ حل ہو گیا ہے لیکن پاکستانی زیر قبضہ کشمیر کے مسلئے کا کیا ہوا ہے ؟
وزیر اعلیٰ نے کہاکہ کشمیر کا مسئلہ ابھی حل نہیں ہوا ہے اور اس حوالے سے بی جے پی کا دعویٰ یک طرفہ ہے۔
’انتخابی منشور میں کئے گئے وعدے پورے کرنے کے بارے میں‘ :
عمر عبداللہ نے کہاکہ جموں وکشمیر کے لوگوں کے ساتھ الیکشن سے قبل جتنے بھی وعدئے کئے گئے انہیں ہر حال میں پورا کیا جائے گا۔
انہوں نے کہاکہ موجودہ سرکار نے پہلے دو ماہ کے دوران تعلیمی کلینڈر کو تبدیل کیا ، ریاستی درجے کی بحالی کے لئے قرار داد پاس کی ، عوام کے ساتھ رابطوں کو مزید وسعت دی گئی ۔
ان کے مطابق جہاں تک ریاستی درجے کا تعلق ہے تو اس میں مزید کچھ وقت لگ سکتا ہے تاہم موجودہ سرکار اس سمت میں بھی اپنا کام کررہی ہیں۔
’فائر اینڈ ایمرجنسی بھرتی گھوٹالہ کے بارے میں‘ :
وزیر اعلیٰ نے کہاکہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ امیدواروں کے ساتھ نا انصافی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ کیس کو اینٹی کرپشن بیورو کے سپرد کیا گیا ہے اور میں یہ یقین دلاتا ہوں کہ فائر اینڈ ایمرجنسی سروس امیدواروں کو انصاف فراہم کیا جائے گا۔
عمر عبداللہ کا کہنا تھا کہ اینٹی کرپشن بیورو (اے سی بی) نے تحقیقات شروع کی ہے اور ہمیں رپورٹ کا انتظا ر کرنا چاہئے۔
یو این آئی- ارشید بٹ، ایم افضل
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر پولیس نے 500 گرام گانجا کے ساتھ منشیات کے اسمگلر کو گرفتار کیا
جموں، جموں و کشمیر پولیس نے فوجی کالونی کے علاقے میں منشیات کے 3 اسمگلروں کو گرفتار کرکے ان کے قبضے سے تقریباً 500 گرام گانجا برآمد کیا ہے۔ سرکاری ذرائع نے ہفتہ کو یہ اطلاع دی۔
حکام کے مطابق، معمول کی گشت کے دوران پولیس کی ایک ٹیم نے دشہرہ میدان کے قریب سینک پبلک اسکول کے سامنے 3 افراد کو روکا۔ اس کے بعد ان کی تلاشی لی گئی، جس میں تقریباً 500 گرام گانجا برآمد ہوا۔
ملزمین کی شناخت مغربی بنگال کے رہنے والے ایشَر علی اور مدھیہ پردیش کے چھترپور کے رہنے والے اجے اہروار اور منوج بنسل کے طور پر ہوئی ہے۔ پولیس نے تینوں کو موقع پر ہی گرفتار کرلیا۔ برآمد شدہ منشیات کو مقررہ قانونی کارروائی کے تحت ضبط کرلیا گیا ہے اور ملزمین کے خلاف قانونی کارروائی شروع کردی گئی ہے۔
اس سلسلے میں متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ پولیس یہ معلوم کرنے کے لیے تحقیقات کر رہی ہے کہ برآمد شدہ منشیات کہاں سے لائی گئی تھی۔ اس کے علاوہ منشیات کی مبینہ سپلائی کے نیٹ ورک سے وابستہ تمام رابطوں کا بھی پتہ لگایا جا رہا ہے۔ جموں پولیس نے منشیات کی اسمگلنگ پر روک لگانے اور جموں و کشمیر کو منشیات سے پاک بنانے کے اپنے عزم کو دہرایا ہے۔
پولیس نے عام لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ منشیات کی اسمگلنگ اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کے بارے میں مستند معلومات ڈائل 112 یا 9858034100 پر فراہم کریں۔ حکام نے کہا کہ اطلاع دینے والوں کی شناخت خفیہ رکھی جائے گی۔
یو این آئی۔ ایم جے
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر پولیس نے جے کے آئی ایم کے خفیہ نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، چار خواتین سمیت چھ افراد گرفتار
سری نگر، جموں و کشمیر پولیس نے ہفتہ کے روز ممنوعہ تنظیم ‘جموں و کشمیر اتحاد المسلمین’ (جے کے آئی ایم) کے ایک خفیہ نیٹ ورک کا پردہ فاش کرتے ہوئے چار خواتین سمیت چھ افراد کو گرفتار کرلیا۔
بانڈی پورہ ضلع پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نیٹ ورک کو پاکستان میں موجود ایک ہینڈلر چلا رہا تھا۔ پولیس کے مطابق، یہ نیٹ ورک علیحدگی پسند نظریات اور گمراہ کن پروپیگنڈے کو فروغ دے رہا تھا، جس میں خاص طور پر خواتین کو نشانہ بنایا جارہا تھا۔
پولیس نے گرفتار افراد میں کاچلو قاضی پورہ کے رہنے والے وحید احمد بھٹ کو اس معاملے کا مرکزی ملزم قرار دیا ہے۔ اس کے علاوہ بانڈی پورہ کے دچی گام کی رہائشی مبینہ بانو، چیک پنجی گام کی خوشبو جان، مہک جان اور عالیہ جان، نیز ہندواڑہ کے انن وان کے رہنے والے عرفان احمد ریشی عرف رئیس کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور نیٹ ورک کی سرگرمیوں، اس سے وابستہ دیگر افراد اور اس کے مبینہ رابطوں کے بارے میں معلومات جمع کی جارہی ہیں۔
واضح رہے کہ مرکزی حکومت نے 2025 میں جے کے آئی ایم پر پانچ سال کے لیے پابندی عائد کردی تھی۔ تنظیم پر ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے، دہشت گردی کی حمایت کرنے اور علیحدگی پسند سرگرمیوں کو فروغ دینے کے الزامات ہیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
لداخ کی خاموشی کو ہتھیار ڈالنا نہ سمجھا جائے: کے ڈی اے کی مرکز کو تنبیہ
سرینگر، مرکزی وزارت داخلہ اور لداخ کے رہنماؤں کے درمیان بات چیت میں تعطل کے درمیان کرگل ڈیموکریٹک الائنس (کے ڈی اے) نے ہفتے کے روز مرکز کو خبردار کیا کہ وہ لداخ کے لیے آئینی تحفظات اور جمہوری حقوق کے مطالبات کو مزید تاخیر کا شکار نہ بنائے۔ الائنس نے کہا کہ عوام غیر معینہ مدت تک خاموش نہیں رہیں گے۔
کرگل میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کے ڈی اے کے رہنماؤں نے مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے پیش کردہ مجوزہ انتظامی ڈھانچے کو مسترد کردیا۔ ان کا الزام تھا کہ یہ تجویز سابقہ اجلاسوں کی کارروائی کے منٹس میں درج وعدوں پر پوری نہیں اترتی اور لداخ کے عوام کی امنگوں کو پورا کرنے میں ناکام ہے۔
کے ڈی اے اور لیہ ایپکس باڈی (ایل اے بی) گزشتہ کئی برسوں سے لداخ کے لیے آئینی تحفظات کے مطالبے کی قیادت کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں مرکز کے ساتھ بات چیت بھی کرتے رہے ہیں۔
کے ڈی اے کے شریک چیئرمین سجاد کرگلی نے کہا کہ مجوزہ انتظام عوام کی امنگوں کو مدنظر رکھ کر تیار نہیں کیا گیا، بلکہ ان کے بقول اسے مرکزی زیر انتظام علاقے کی انتظامیہ کے مفادات کو سامنے رکھ کر وضع کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کے ڈی اے اور لیہ ایپکس باڈی نے اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے اپنے اعتراضات مرکز کے سامنے پیش کردیے ہیں۔
کرگلی نے لداخ انتظامیہ پر الزام لگایا کہ وہ مسلسل احکامات اور نوٹیفکیشن جاری کرکے جمہوری حقوق کو کمزور کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ الائنس آئینی تحفظات اور عوام کے حقوق کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔
انہوں نے کہاکہ ”ہم مرکزی زیر انتظام علاقے کی انتظامیہ کی اس آمرانہ روش کی مذمت کرتے ہیں، جس کے تحت ہم پر یکے بعد دیگرے احکامات مسلط کیے جا رہے ہیں۔ یہ لداخ کے عوام کے حقوق پر حملہ ہے۔”
ملک کے دیگر حصوں میں انتخابی بے ضابطگیوں کے الزامات کا حوالہ دیتے ہوئے کرگلی نے کہا کہ لداخ کو ایک ”تجربہ گاہ” بنا دیا گیا ہے اور الزام لگایا کہ خطے کی سیاسی نمائندگی کو کمزور کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”لداخ کو ایک تجربہ گاہ بنا دیا گیا ہے۔ یہاں تو عوام کی نمائندگی ہی چھین لی گئی ہے۔”
ان کا کہنا تھا کہ ملک کے دیگر حصوں میں ووٹوں کی چوری کے الزامات سامنے آتے ہیں، جبکہ ان کے مطابق لداخ میں عوام کی سیاسی نمائندگی چھیننے کا معاملہ ہے۔
کے ڈی اے کے دوسرے شریک چیئرمین اسگر علی کربلائی نے کہا کہ لداخ میں چھائی خاموشی کو خوف یا ہتھیار ڈالنے سے تعبیر نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ ”طوفان سے پہلے کی خاموشی” ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”انتظامیہ کو موجودہ خاموشی کو خوف، تابع داری یا ہتھیار ڈالنے کی علامت نہیں سمجھنا چاہیے۔”
کربلائی نے بتایا کہ کے ڈی اے اور لیہ ایپکس باڈی گزشتہ چھ برس سے مرکزی وزارت داخلہ کے ساتھ اپنے چار نکاتی ایجنڈے پر بات چیت کر رہے ہیں۔ ریاست کا درجہ اور آئینی تحفظات ان کے دو اہم مطالبات ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 22 مئی کو منعقدہ اجلاس کی کارروائی کے منٹس میں، جن پر 7 جولائی کو دستخط کیے گئے تھے، لداخ کے لیے خصوصی انتظامی ڈھانچے پر اتفاق درج تھا۔ اس انتظام میں قانون سازی، انتظامی اور مالی اختیارات کے ساتھ آئینی تحفظات فراہم کرنے کی بات شامل تھی۔
تاہم، ان کا الزام تھا کہ 15 اکتوبر کے اجلاس میں مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے پیش کردہ خاکہ ان وعدوں کے برعکس تھا اور اس میں بامعنی اختیارات یا آئینی ضمانتوں کے بغیر ایک انتظامی ڈھانچہ پیش کیا گیا۔
کربلائی نے کہاکہ ”جن حقوق کو فراہم کرنے پر تحریری طور پر اتفاق کیا گیا تھا اور جن کے لیے اجلاس کی کارروائی کے منٹس پر دستخط کیے گئے تھے، اب وہی حقوق ہمیں دینے سے انکار کیا جا رہا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ مجوزہ کونسل کو بامعنی مالی اختیارات حاصل نہیں ہیں، نہ ہی اسے زمین سے متعلق معاملات پر اختیار دیا گیا ہے اور نہ ہی آزادانہ انتظامی اختیارات فراہم کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق، کے ڈی اے اور لیہ ایپکس باڈی نے آئینی اور قانونی ماہرین سے مشورے کے بعد اس تجویز پر اپنا تفصیلی جواب مرکز کو پیش کردیا ہے۔
کربلائی نے خبردار کیا کہ اگر حکومت اس معاملے میں مزید تاخیر کرتی ہے تو الائنس اپنی احتجاجی تحریک تیز کردے گا۔
انہوں نے کہاکہ ”اگر کل ہمیں اپنے ایجنڈے اور مطالبات کے لیے سڑکوں پر اترنا پڑا، تحریک چلانی پڑی، احتجاج کرنا پڑا، بند کی اپیل کرنی پڑی، ہڑتال کرنی پڑی یا جیلیں بھرنی پڑیں تو ہم ایسا کریں گے۔”
لداخ کے رکن پارلیمنٹ حاجی محمد حنیفہ جان نے کہا کہ مجوزہ انتظامی ڈھانچے نے ان امیدوں کو ختم کردیا ہے جو سابقہ بات چیت کے دوران پیدا ہوئی تھیں، جب دونوں فریق ایک انتظامی نظام کے بنیادی خدوخال پر متفق ہوگئے تھے۔
انہوں نے مرکز سے اپیل کی کہ ملتوی شدہ اجلاس جلد از جلد طلب کیا جائے اور دستخط شدہ منٹس میں درج وعدوں کے مطابق مسودہ پیش کیا جائے۔
جان نے کہا کہ لداخ کے عوام اپنی پالیسیاں خود طے کرنا اور خطے کی ترقی کی سمت کا فیصلہ کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ الائنس لداخ میں امن برقرار رکھنے کا خواہاں ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ مسلسل تاخیر سے عوام میں، خصوصاً نوجوانوں میں، ایک بار پھر غم و غصہ پیدا ہوسکتا ہے۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ مجوزہ انتظامی ڈھانچے کو پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں پیش کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
کے ڈی اے نے ایک بار پھر واضح کیا کہ وہ اپنے ایجنڈے سے دست بردار نہیں ہوگا۔ الائنس نے مرکزی وزارت داخلہ اور مرکزی زیر انتظام علاقے کی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ ان ضوابط کو واپس لیں جنہیں وہ لداخ کے عوام کے مفادات کے خلاف سمجھتا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا1 week agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
ہندوستان1 week agoسی جے پی بانی ابھیجیت دیپکے کو ملی ضمانت
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے صوبہ بلوچستان میں 5.8 شدت کا زلزلہ
-
ہندوستان1 week agoجی ٹی ٹی سی آئی اور شری دھرمک لیلا کمیٹی نے لال قلعے میں ‘عالمی یومِ خوراک’ منایا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: رام بن میں چرس اور ہیروئن کے ساتھ تین افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoٹرمپ نے روس پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ مؤخر کردیا
-
ہندوستان1 week agoتمل ناڈو اور کرناٹک میں شدید بارش کی وارننگ، جنوبی ریاستوں میں بارش کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان
-
ہندوستان1 week agoیوپی، اتراکھنڈ اور پنجاب انتخابات سے پہلے بی ایس پی کے خلاف ‘فرضی سروے’ کی تشہیر، کارکنان ہوشیار رہیں: مایاوتی
