جموں و کشمیر
جموں وکشمیر میں سخت حفاظتی حصار میں یوم جمہوریہ کی فل ڈریس ریہرسل
سری نگرجموں وکشمیر کے دونوں دارالحکومتوں سری نگر اور جموں میں جمعے کو سخت ترین حفاظتی حصار میں یوم جمہوریہ کے سلسلے میں فل ڈریس ریہرسل کی گئی۔
اس کے علاوہ ضلعی ہیڈکوارٹروں میں بھی سخت سیکورٹی انتظامات میں یوم جمہوریہ کی فل ڈریس ریہرسل تقریبات کا انعقاد عمل میں آیا۔
سری نگر کے ہائی سیکورٹی زون بخشی اسٹیڈیم اور جموں میں ایم اے اسٹیڈیم میں فل ڈریس ریہرسل کے موقع پر بالترتیب ڈویژنل کمشنر کشمیر وی کے بدھوری اور ڈویژنل کمشنر جموں نے پرچم کشائی کی رسم انجام دی اور پریڈ پر سلامی لی
بخشی اسٹیڈیم سری نگر میں منعقدہ ریہرسل تقریب میں سخت سردی کے باوجود مختلف تعلیمی اداروں کے طلبا وطالبات کے ساتھ ساتھ مرکزی نیم فوجی دستوں، جموں وکشمیر پولیس، ہوم گارڈ اور فائر اینڈ ایمرجنسی سروس نے پریڈ میں حصہ لیا۔
فل ڈریس ریہرسل کی اس تقریب میں فنکاروں اور طالب علموں نے رنگا رنگ ثقافتی پروگرام بھی پیش کئے۔ سیکورٹی ذرائع نے بتایا کہ یوم جمہوریہ کی ریہرسل تقریبات کے دوران سری نگر کے بخشی اسٹیڈیم اور دیگر اضلاع میں واقع اسٹیڈیموں کے اندر و باہر سیکورٹی فورسز اور ریاستی پولیس کے اضافی اہلکاروں کو تعینات کر رکھا گیا تھا۔
دریں اثنا یونین ٹریٹری کے دونوں خطوں (کشمیر اور جموں) میں یوم جمہوریہ کی تقریبات کے احسن انعقاد کے لئے سیکورٹی کے غیرمعمولی انتظامات کئے گئے ہیں۔
سیکورٹی ذرائع کے مطابق یوم جمہوریہ کی تقریبات سے قبل دراندازی کی ممکنہ کوششوں کو ناکام بنانے کے لئے جموں خطہ میں پاکستان کے ساتھ لگنے والی سرحدوں پر تعینات سیکورٹی فورسز کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد پر شبانہ گشت بھی بڑھا دی گئی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ یوم جمہوریہ کی تقریبات جہاں جہاں منعقد ہونے والی ہیں، کو چوبیسوں گھنٹے سیکورٹی اہلکاروں کی نگرانی میں رکھا گیا ہے۔
سری نگر میں بخشی اسٹیڈیم جہاں یوم جمہوریہ کی سب سے بڑی تقریب منعقد ہوگی، کے گرد ونواح میں سیکورٹی کا سخت بندوبست کیا گیا ہے جبکہ سری نگر اور وادی کے دوسرے اضلاع میں راہگیروں کی جامہ تلاشیوں اور گاڑیوں کی چیکنگ کا عمل گذشتہ کئی ہفتوں سے جاری ہے
کسی بھی ناگہانی واقعہ سے نمٹنے کے لئے بخشی اسٹیڈیم کے گردونواح میں ریاستی پولیس اور نیم فوجی دستوں کی بھاری نفری کو تعینات کیا گیا ہے جبکہ اسٹیدیم کے قریب واقع تمام اونچی عماروں پر ماہر نشانہ بازوں کو تعینات کیا گیا ہے۔
اسٹیڈیم کے باب الداخلہ کو بھی خاردار تار سے بند رکھا گیا ہے اور صرف سیکورٹی فورسز کی گاڑیوں کو اندر جانے کی اجازت دی جارہی ہے۔
اسٹیڈیم کے گردونواح میں کئی ایک حساس مقامات پر مشتبہ افراد کی نقل وحرکت پر قریبی نگاہ رکھنے کے لئے سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے گئے ہیں اور بلٹ پروف گاڑیاں تعینات کردی گئی ہیں۔
یوم جمہوریہ کی تقریبات کے پرامن انعقاد کو یقینی بنانے کے لئے وادی کے اطراف واکناف بالخصوص مختلف اضلاع کو گرمائی دارالحکومت کے ساتھ جوڑنے والی سڑکوں پر سیکورٹی فورسز اور ریاستی پولیس کے خصوصی ناکے بٹھائے گئے ہیں جہاں چھوٹی بڑی گاڑیوں کو روک کر ان کی تلاشی لی جاتی ہے اور ان میں سوار مسافروں کی جامہ تلاشی لینے کے علاوہ شناختی کارڈ چیک کئے جاتے ہیں۔
یو این آئی- ارشید بٹ
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
ہندوستان1 week agoراہل پیلیٹ گن متاثرہ کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کے حق میں ڈی سی پی دفتر کے باہر دھرنے پر بیٹھے
