ہندوستان
کرتویہ پتھ پر ملک کی فوجی بہادری، ثقافتی تنوع کا انوکھا سنگم نظر آیا
نئی دہلی، ملک کے 76 ویں یوم جمہوریہ کے موقع پر اتوار کو کرتویہ پتھ پر ہندوستان کی بھرپور ثقافتی تنوع، اتحاد، مساوات، ترقی اور فوجی صلاحیتوں کا انوکھا امتزاج نظر آیا۔
یوم جمہوریہ کے موقع پر کرتویہ پتھ پر منعقدہ تقریب میں انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔
اس سال قومی اہمیت کی تقریبات میں ‘عوامی شرکت’ بڑھانے کے حکومت کے مقصد کے مطابق پریڈ دیکھنے کے لئے تقریباً 10,000 خصوصی مہمانوں کو مدعو کیا گیا ہے۔ ان میں مختلف شعبوں میں بہترین کارکردگی دکھانے والے اور سرکاری اسکیموں کا بہترین استعمال کرنے والے شامل ہیں۔
یوم جمہوریہ کی پریڈ صبح 10.30 بجے شروع ہوئی اور تقریباً 90 منٹ تک جاری رہی۔ تقریبات کا آغاز وزیر اعظم نریندر مودی کے نیشنل وار میموریل کے دورے سے ہوا، جہاں انہوں نے ملک کے ہیروز کو پھول چڑھائے۔ اس کے بعد، وزیر اعظم اور دیگر معززین پریڈ دیکھنے کے لیے کرتویہ پتھ سلامی ڈائس کی طرف بڑھے۔
اس کے بعد صدر جمہوریہ دروپدی مرمو اور انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو ‘روایتی بگی’ میں سوار ہو کر کرتویہ پتھ پر آئے۔ قابل ذکر ہے کہ یہ روایت 40 سال کے وقفے کے بعد 2024 میں دوبارہ شروع کی گئی تھی۔ صدر کے باڈی گارڈ، ہندوستانی فوج کی سب سے سینئر رجمنٹ کی طرف سے انہیں سیکورٹی فراہم کی گئی۔
صدرجمہوریہ کی آمد کے بعد حسب روایت قومی پرچم لہرایا گیا، جس کے بعد 105 ایم ایم لائٹ فیلڈ گن، ایک دیسی ہتھیاروں کے نظام کا استعمال کرکے 21 توپوں کی سلامی دی گئی اور اور قومی ترانہ ہوا۔
پریڈ کا آغاز ملک کے مختلف حصوں سے موسیقی کے آلات کے ساتھ ‘سارے جہاں سے اچھا’ بجاتے ہوئے 300 ثقافتی فنکاروں کے ذریعہ کیاگیا۔ آلات کا یہ دیسی امتزاج ہر ہندوستانی کے دل میں راگ، تال اور امید سے گونج اٹھا۔ آلات کے اس گروپ میں شہنائی، سندری، نادسورام، بین، مشک بین، رنسنگھ – راجستھان، بانسری، کارڈی مجالو، موہوری، شنکھ، توتاری، ڈھول، گونگ، نشان، چنگ، تاشا، سنبل، چینڈا، اڈکا، لیزم، تھویل، گدم باجا، تالم اور مونباہ شامل تھے۔
پرچم کی تشکیل میں 129 ہیلی کاپٹر یونٹ کے ایم آئی 17 1 وی ہیلی کاپٹروں کے ذریعے پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں۔ قومی پرچم کے ساتھ ہیلی کاپٹروں کے اس گروپ کی قیادت گروپ کیپٹن آلوک اہلاوت کر رہے تھے۔ اس کے بعد پریڈ کا آغاز صدر کی طرف سلامی لینے کے ساتھ ہوا۔ اس سال پریڈ کی کمان دہلی ایریا کے جنرل آفیسر کمانڈنگ لیفٹیننٹ جنرل بھونیش کمار نے کی۔ نیز دہلی ایریا ہیڈکوارٹرکے چیف آف اسٹاف میجر جنرل سمت مہتا پریڈ میں سکینڈ ان کمانڈ رہے۔
اس کے بعد بہادری کے اعلیٰ ترین ایوارڈز کے فاتحین نے شرکت کی۔ ان میں پرم ویر چکر کے فاتح صوبیدار میجر (اعزازی کیپٹن) یوگیندر سنگھ یادو (ریٹائرڈ) اور صوبیدار میجر سنجے کمار (ریٹائرڈ) اور اشوک چکر کے فاتح لیفٹیننٹ کرنل جس رام سنگھ (ریٹائرڈ) شامل تھے۔
قابل ذکر ہے کہ پرم ویر چکر دشمن کے مقابلے میں بہادری اور خود قربانی کے سب سے نمایاں کام کے لیے دیا جاتا ہے، جب کہ اشوک چکر دشمن کے سامنے بہادری اور قربانی کے برابر کاموں کے لئے دیاجاتا ہے۔
اس سال انڈونیشین نیشنل آرمڈ فورسز کی مارچنگ ٹکڑی اور انڈونیشین ملٹری اکیڈمی کے فوجی بینڈ کے ذریعہ مارچ پاسٹ کے ذریعہ کیا گیا۔ انڈونیشیا کی مارچنگ ٹکڑی میں 352 ارکان ہوں گے، جس میں فوجی بینڈ میں 190 ارکان شامل تھے۔
ماؤنٹڈ کالم کی قیادت کرنے والی پہلی فوج کی ٹکڑی لیفٹیننٹ اہان کمار کی قیادت میں 61 کیولری کی رہی۔ سال 1953 میں تشکیل کردہ 61 کیولری دنیا کی واحد فعال گھوڑسوار رجمنٹ ہے، جس میں تمام ‘ریاستی گھڑسوار یونٹس’ کا مجموعہ ہے۔ اس کے بعد نو مشینی کالم اور نو مارچنگ دستے تھے۔
پریڈ کے دوران ٹینک ٹی-90 (بھیشم)، بی ایم پی-2 سرتھ کے ساتھ ناگ میزائل سسٹم، برہموس، پناکا ملٹی لانچر راکٹ سسٹم، اگنیبان ملٹی بیرل راکٹ لانچر، آکاش ہتھیاروں کا نظام، انٹیگریٹڈ بیٹل فیلڈ سرویلنس سسٹم، آل ٹیرین وہیکل (چیتک)، لائٹ اسپیشلسٹ وہیکل (بجرنگ)، وہیکل ماونٹڈ انفنٹری مارٹر سسٹم (ایراوت)، کوئیک ری ایکشن فورس وہیکلز (نندی گھوش اور تریپورانتک) اور شارٹ اسپین برجنگ سسٹم کا بھی کرتویہ پتھ پر مظاہرہ کیا گیا۔
کرتویہ پتھ پر بریگیڈ آف دی گارڈز، جاٹ رجمنٹ، گڑھوال رائفلز، مہار رجمنٹ، جموں و کشمیر رائفلز رجمنٹ، کور آف سگنلز وغیرہ کے دستوں نے مارچ کیا۔ کرتویہ پتھ پر پہلی بار تینوں فوجوں کا ایک ٹیبلو نکالا جائے گا جو اتحاد اور یکجہتی کے جذبے کو ظاہر کرے گا۔ ‘مضبوط اور محفوظ ہندوستان’ کے تھیم کے ساتھ، جھانکی میں تینوں افواج کے درمیان نیٹ ورکنگ اور مواصلات کی سہولت فراہم کرنے والے مشترکہ آپریشن روم کو دکھایا گیا۔ مقامی ارجن مین جنگی ٹینک، تیجس اے کے-2 لڑاکا طیارے، جدید ہلکے ہیلی کاپٹر، ڈسٹرائر آئی این ایس وشاکھاپٹنم اور ایک ریموٹلی پائلیٹڈ ایئرکرافٹ کے ساتھ زمین، پانی اور فضا میں ایک مربوط آپریشن کا مظاہرہ کرتے ہوئے میدان جنگ کا منظر پیش کیا، جو ملٹی ڈومین آپریشنز میں تینوں افواج کی ہم آہنگی کو ظاہر کرتا ہے۔
اس کے بعد، ریٹائرڈ فوجیوں کی جھانکی نکلی، جو ‘ہمیشہ ترقی یافتہ ہندوستان کی طرف آگے بڑھنا’ کے موضوع پر مبنی تھی۔ یہ ہمارے سابق فوجیوں کے غیر متزلزل جذبے کو دلی خراج عقیدت ہے، جو نظم و ضبط، لچک اور غیر متزلزل لگن کی علامت ہیں۔
اعزازی تقریب میں کھیلوں میں ہندوستان کا نام روشن کرنے والے ایوارڈ یافتہ سابق فوجیوں کو بھی شامل کیاگیا۔ ان میں پدم شری ایوارڈ یافتہ صوبیدار مرلی کانت پیٹکر، جن کی کہانی بالی وڈ فلم چندو چیمپئن بنی تھی اور اعزازی کپتان جیتو رائے شامل ہیں۔ اس دوران ارجن اور کھیل رتن ایوارڈ یافتہ کرنل بلبیر سنگھ کلر، کیپٹن (آئی این) ہومی موتی والا، ماسٹر چیف پیٹی آفیسر تاجندر تور، ماسٹر وارنٹ آفیسر رام مہر سنگھ اور ونگ کمانڈر گرمیت سندھو بھی موجود تھے۔
ناری شکتی کی نمائندگی تینوں خدمات کی تجربہ کار خواتین افسران نے کی، جن میں لیفٹیننٹ کرنل رویندرجیت رندھاوا، لیفٹیننٹ کمانڈر منی اگروال اور فلائٹ لیفٹیننٹ روچی ساہا شامل تھیں، جنہوں نے ہماری مسلح افواج کی تشکیل میں خواتین کے اہم کردار کو ظاہر کیا۔
پریڈ کے دوران ہندوستانی بحریہ کا دستہ 144 اہلکاروں پر مشتمل تھا، جس کی قیادت لیفٹیننٹ کمانڈر ساحل اہلووالیہ نے کی اور اس میں لیفٹیننٹ کمانڈر اندریش چودھری، لیفٹیننٹ کمانڈر کاجل انیل بھرانی اور لیفٹیننٹ دیویندر پلاٹون کمانڈر شامل تھے۔ اس کے بعد ایک بحری جھانکی دکھائی گئی، جس میں ہندوستان کے سمندری مفادات کی حفاظت کرنے کے قابل ایک مضبوط ‘خود انحصار’ بحریہ کو دکھایا گیا۔
اس جھانکی میں ڈسٹرائر آئی این ایس سورت، فریگیٹ آئی این ایس نیلگری اور آبدوز آئی این ایس واگھویر سمیت نئے نئے مقامی فرنٹ لائن جدید ترین جنگی جہازوں کی نمائش کی گئی، جومقامی جنگی جہازوں کے ڈیزائن اور تعمیر میں ہندوستان کی تیز رفتار ترقی کو ظاہر کرتے ہیں اور ایک مضبوط اور خود انحصاری دفاعی ماحولیاتی نظام کی تعمیر کے لئے ہندوستانی بحریہ کے عزم کو مضبوط کرتے ہیں۔
ہندوستانی فضائیہ کے دستے میں چار افسران اور 144 اہلکار شامل تھے، جن کی قیادت اسکواڈرن لیڈر مہندر سنگھ گراتی کر رہے تھے، جبکہ فلائٹ لیفٹیننٹ نیپو موئرنگتھم، فلائٹ لیفٹیننٹ دامنی دیشمکھ اور فاریسٹ آفیسر ابھینو گوراسی ایڈیشنل آفیسرکے طور پر شامل ہوئے۔ اس کے بعد ‘باز فارمیشن’ میں تین مگ 29 طیارے نے فلائی پاسٹ کیا۔
یواین آئی۔الف الف
ہندوستان
نیپال سیلاب: 287 ہندوستانی شہری لاپتہ، 88 ہندوستانی شہریوں کو بچایا گیا
نئی دہلی، نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد وہاں 287 ہندوستانی شہری ابھی بھی لاپتہ ہیں اور ہفتے کے روز چار مزید لوگوں کو بچائے جانے کے بعد محفوظ بچائے گئے ہندوستانی شہریوں کی تعداد بڑھ کر 88 ہو گئی ہے۔
وزارتِ خارجہ نے ہفتے کے روز یہ معلومات دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب کی وجہ سے چین کے علاقے میں پھنسے 120 ہندوستانی شہری آج وہاں سے زمینی راستے سے ہوتے ہوئے نیپال پہنچ گئے۔
وزارت نے بتایا کہ آج چار ہندوستانی شہریوں کو رسوا میں ایک پن بجلی منصوبے سے بچایا گیا۔ ان کے جلد ہی کاٹھمنڈو پہنچنے کی امید ہے۔ ان کے نام رپو کمار، چنیشور نرجاری، کرپا شنکر اور محمد منہاج الدین ہیں۔
راحت اور بچاؤ کی کارروائیوں میں ہندوستان کے تعاون کا ذکر کرتے ہوئے وزارت نے کہا ہے کہ ہندوستان سے چھ فارنسک ماہر ٹیموں کے آج کاٹھمنڈو پہنچنے کی امید ہے، تاکہ متوفین کی لاشوں کی باقیات کی شناخت کے لیے ڈی این اے نمونوں کے تجزیے میں مدد کی جا سکے۔
اس کے علاوہ سرنگ بچاؤ کے لیے ایک خاص تکنیکی ٹیم کل کاٹھمنڈو پہنچی اور متاثرہ علاقے میں سرنگ بچاؤ میں مدد کے لیے آج سے کام شروع کر دیا۔ ان کی سفارش کی بنیاد پر، سامان کے ساتھ ہندوستان کی ایک خاص سرنگ بچاؤ ٹیم کے آج نیپال پہنچنے کی امید ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ وزارتِ خارجہ نے کہا تھا کہ نیپال میں پھنسے تمام شہریوں کو وطن واپس لانے کے لیے حکومت کی طرف سے انتظام کیا جائے گا۔ اسی کے تحت جمعہ کو 21 ہندوستانی شہری وطن واپس لوٹے تھے۔
ہندوستان نے اب تک تین طیاروں میں کئی ٹن امدادی سامان کاٹھمنڈو بھیجا ہے اور اس نے نیپال کو ہر طرح کی انسانی امداد فراہم کرنے کا یقین دلایا ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
کھرگے کے اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ سنگین جرم، فوری ایف آئی آر درج ہو: راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کے ہلدوانی میں ہوئے پروگرام کے بعد اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ کرنا چھوت چھات کو فروغ دینے والا سنگین جرم ہے، اس لیے قصورواروں کے خلاف درج فہرست ذات اوردرج فہرست قبائل (مظالم کی روک تھام) قانون کے تحت فوری ایف آئی آر درج کی جانی چاہیے۔
مسٹر گاندھی نے ہفتے کے روز یہاں کانگریس ہیڈکوارٹر اندرا بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئین نے چھوت چھات کو جرم قرار دیا ہے اور کسی دلت شخص کے کسی مقام پر جانے کے بعد اس کا ‘شُدھیکرن’ کرنا اسی ذہنیت کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ صرف مسٹر کھرگے کی نہیں، بلکہ ملک کے ہر دلت شخص کی توہین ہے۔
انہوں نے کہا کہ آٹھ اگست کو ہلدوانی میں مسٹر کھرگے کا پروگرام ہوا تھا اور اس کے بعد ان کی تقریر والے اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ کیا گیا۔ اس واقعے کو تقریباً 20 دن ہو چکے ہیں لیکن ابھی تک کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی قصورواروں کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی ہے۔
مسٹر گاندھی نے وزیرِ اعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اتراکھنڈ حکومت کو اس معاملے میں فوری کارروائی کرنے اورقصورواروں کے خلاف ایس سی-ایس ٹی قانون کے تحت ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم دلتوں کے احترام کی بات کرتے ہیں، اس لیے انہیں یہ یقینی بنانا چاہیے کہ مسٹر کھرگے کو انصاف ملے۔
کانگریس رہنما نے کہا کہ ملک میں دو نظریات کے درمیان لڑائی ہے۔ ایک آئین کا نظریہ ہے اور دوسرا بی جے پی-آر ایس ایس کا نظریہ ہے۔ آئین نافذ ہونے کے بعد بھی ملک میں دلتوں کے ساتھ امتیازی سلوک اور مظالم کے واقعات سلسلہ جاری ہے ۔ ملک کے کئی اسکولوں میں دلت بچوں سے بیت الخلا صاف کرایا جاتا ہے اور جھاڑو لگوائی جاتی ہے، انہیں کنوؤں سے پانی لینے سے روکا جاتا ہے، چائے کی دکانوں پر ان کے لیے الگ کپ رکھے جاتے ہیں۔ شادی بیاہ کے موقع پر گھوڑی پر بیٹھ کر بارات نکالنے والے دلتوں پر بھی حملے ہوتے ہیں اور دھمکیاں دی جاتی ہیں۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ کوئی دلت شخص جتنا کامیاب ہوتا ہے، اس پر اتنے ہی زور دار طریقے سے حملہ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاروبار، کرکٹ یا کسی دوسرے شعبے میں کامیاب ہونے والے دلت شخص کو بھی اس ذہنیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور دلت لیڈروں کے ساتھ بھی ایسا سلوک کیا جاتا ہے۔ اس تناظر میں انہوں نے راجستھان کانگریس اسمبلی پارلیمانی پارٹی کے لیڈر ٹیکارام جولی اور بہار کے سابق وزیرِ اعلیٰ جیتن رام مانجھی کے ساتھ ہوئے ‘شُدھیکرن’ کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ذہنیت صرف ایک فرد تک محدود نہیں ہے۔
کانگریس رہنما نے پارلیمنٹ میں مسٹر کھرگے کے اس معاملے کو اٹھانے کا ذکر کیا اور کہا کہ بی جے پی کے سینئر رہنما جے پی نڈّا نے کہا تھا کہ اگر ایسا واقعہ ہوا ہے تو کارروائی کی جائے گی۔ اس کے باوجود اتراکھنڈ بی جے پی صدر مہیندر بھٹ نے ‘شُدھیکرن’ کے واقعے کو درست قرار دیا ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ وزیرِ اعظم کہتے ہیں کہ وہ ہر ذات کا احترام کرتے ہیں لیکن اگر ان کی پارٹی کے رہنما اس طرح کے واقعے کو صحیح ٹھہراتے ہیں تو ان کے قول و فعل میں فرق صاف دکھائی دیتا ہے۔
کانگریس کی لڑائی اسی امتیازی سلوک اور عدم مساوات کے نظریے کے خلاف ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ یہ صرف کانگریس صدر کھرگے کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ ملک کے ہر دلت شخص کے وقار ، مساوات اور آئینی حقوق سے جڑا معاملہ ہے۔ حکومت کو فوری کارروائی کرنی چاہیے اور اگر ایسا نہیں کیا جاتا ہے تو کانگریس قصورواروں کو انصاف کے کٹھہرے تک پہنچانے کے لیے اپنی لڑائی جاری رکھے گی۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
کھڑگے نے مودی، شاہ کو خط لکھ کر آفت زدہ نیپال کو ضروری امداد دینے کی اپیل کی
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے نیپال میں آئے تباہ کن سیلاب کے سلسلے میں وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کو خط لکھ کر آفت سے متاثرہ لوگوں کو مناسب انسانی اور راحت امداد فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔
مسٹر کھڑگے نے جمعہ کو لکھے گئے دونوں خطوط کو آج جاری کرتے ہوئے نیپال میں آئے سیلاب پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے نیپال کو انسانی امداد فراہم کرنے کے ساتھ قومی آفات سے نمٹنے والی فورس (این ڈی آر ایف) کی مہارت سے فائدہ اٹھانے کی بھی اپیل کی ہے۔
وزیر اعظم کو لکھے خط میں انہوں نے کہا ہے کہ وہ نیپال میں آنے والے تباہ کن سیلاب سے گہری تشویش میں مبتلا ہیں، جس سے جانی اور مالی نقصان بڑے پیمانے پر ہوا ہے۔ حالیہ ذرائع ابلاغ کی خبروں کے مطابق 500 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور متعدد افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ اس آفت کے باعث ہزاروں افراد کو خوراک، دوا، پناہ گاہ اور دیگر ضروری امداد کی فوری ضرورت ہے۔
انہوں نے وزیر اعظم سے درخواست کی ہے کہ نیپال حکومت کے ساتھ مل کر متاثرہ لوگوں تک مناسب انسانی اور راحت امداد پہنچائی جائے۔
وزیر داخلہ کو لکھے خط میں مسٹر کھڑگے نے کہا کہ نیپال میں حالیہ سیلاب سے ہونے والے جانی و مالی نقصان، گھروں اور بنیادی ڈھانچے کی بڑے پیمانے پر تباہی اور لوگوں کے بے گھر ہونے سے انہیں گہرا صدمہ پہنچا ہے۔
ہندستان اور نیپال کے عوام کے درمیان گہرے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ نیپال کو فوری طور پر وسیع پیمانے پر انسانی اور آفات سے متعلق راحت امداد فراہم کی جائے۔ خاص طور پر ضرورت پڑنے پر این ڈی آر ایف کی ٹیمیں تعینات کی جائیں اور نیپال حکومت کے ساتھ تال میل کرکے بچاؤ، انخلا اور راحت کے کاموں میں مدد کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس بحران میں این ڈی آر ایف کی مہارت قیمتی تعاون فراہم کر سکتی ہے اور وزارت داخلہ کو اس معاملے سے فوری اور حساسیت کے ساتھ نمٹنا چاہیے۔
یو این آئی۔ایم جے
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان1 week agoراہل پیلیٹ گن متاثرہ کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کے حق میں ڈی سی پی دفتر کے باہر دھرنے پر بیٹھے
