ہندوستان
ہندوستان اور قطر کے درمیان اسٹریٹجک ساجھیداری قائم، تجارت دوگنی ہو جائے گی
نئی دہلی، ہندوستان اور قطر نے آج اپنے دوطرفہ تعلقات کو ‘اسٹریٹجک پارٹنرشپ’ کی سطح پر اپ گریڈ کیا اور باہمی تجارت کو پانچ برسوں میں دوگنا کرنے، ہندوستان میں قطر سرمایہ کاری مرکز کھولنے اور ہندوستان اور قطر کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے پر بات چیت شروع کرنے کا اعلان کیا وزیر اعظم نریندر مودی اور قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی کے درمیان حیدرآباد ہاؤس میں ہونے والی دو طرفہ چوٹی کانفرنس میں یہ فیصلے کئےگئے۔ دونوں ممالک نے حماس اور اسرائیل کے درمیان تنازع اور افغانستان کے مسئلے سمیت عالمی اور علاقائی جغرافیائی سیاسی امور پر بھی بات چیت کی۔ امیر قطر کے سرکاری دورے کے دوران دو معاہدوں اور پانچ مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے جن میں سے ایک دوطرفہ تعلقات کو اسٹریٹجک پارٹنرشپ کی سطح تک بڑھانے اور دوسرا دوہرے ٹیکس سے بچنے کے حوالے سے ہے۔
وزارت خارجہ میں سکریٹری (قونصلر، پاسپورٹ، ویزا اور سمندر پار ہندوستانی امور) ارون کمار چٹرجی نے میٹنگ کے بعد ایک پریس کانفرنس میں یہ اطلاع دی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک ساجھیداری میں توانائی، تجارت، سرمایہ کاری اور سیکورٹی کے شعبے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک نے انفراسٹرکچر، بندرگاہوں، جہاز سازی، فوڈ پارکس، قابل تجدید توانائی، روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی نے آخری بار مارچ 2015 میں ہندوستان کا دورہ کیا تھا۔ جب وزیر اعظم مودی نے فروری 2024 میں اپنا دوسرا دورہ کیا تو انہوں نے قطر کے امیر کو ہندوستان کا سرکاری دورہ کرنے کی دعوت دی تھی۔ قطر کے امیر کے ہمراہ ایک اعلیٰ سطحی وفد بھی آیا ہے جس میں وزیر اعظم اور وزیر خارجہ، سینئر حکام اور کاروباری رہنما شامل ہیں۔
قطر کے امیر کا آج صبح راشٹرپتی بھون میں صدر جمہوریہ ہند دروپدی مرمو اور وزیر اعظم نریندر مودی کی موجودگی میں ایک رسمی استقبال کیا گیا۔قطر کے امیر آج شام در جمہوریہ سے ملاقات کریں گے اور وفد کے ہمراہ امیر کے اعزاز میں صدر ضیافت بھی دیں گی ۔ حیدرآباد ہاؤس میں وزیر اعظم مودی اور امیر قطر کے درمیان دو طرفہ ملاقات کے دوران، دونوں رہنماؤں نے تاریخی تجارتی تعلقات، عوام سے عوام کے گہرے تعلقات اور دونوں ممالک کے درمیان مضبوط دو طرفہ تعلقات کو یاد کیا۔
مسٹر چٹرجی نے کہا کہ اپنے دو طرفہ تعلقات کو اسٹریٹجک پارٹنرشپ کی سطح تک بڑھانے کی کوشش میں ہندوستان اور قطر نے آج اس سلسلے میں ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ تجارت، سرمایہ کاری اور توانائی دونوں رہنماؤں کے درمیان آج ہونے والی بات چیت کے اہم موضوعات میں شامل تھے۔ آج ہندوستان اور قطر کے درمیان سالانہ تجارت تقریباً 14 بلین ڈالر ہے۔ دونوں فریقوں نے اگلے 5 برسوں میں اسے دوگنا کرنے کا ہدف مقرر کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ ہندوستان میں سرمایہ کاری کے لیے قطر بھی ایک اہم پارٹنر ہے۔ قطر کے خودمختار دولت فنڈ، قطر انویسٹمنٹ اتھارٹی کے پاس اس وقت ہندوستان میں تقریباً 1.5 بلین ڈالر کی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری ( ایف ڈی آئی ) ہے۔
انہوں نے کہا کہ دونوں لیڈروں نے آج کئی ایسے شعبوں کی نشاندہی کی ہے جن میں قطر انویسٹمنٹ اتھارٹی ہندوستان میں سرمایہ کاری بڑھا سکتی ہے۔ وزیراعظم نے اس دورے پر قطر کے اعلیٰ کاروباری رہنماؤں کے ایک بڑے وفد کو لانے پر امیر قطر کی ستائش کی ۔ اس کے ساتھ ساتھ آج ہندوستان اور قطر کے وزرائے صنعت و تجارت کی شریک صدارت میں ایک مشترکہ بزنس فورم کا بھی انعقاد کیا گیا جس میں دونوں ممالک کے سرکردہ صنعت کاروں، کمپنیوں اور اداروں نے بہت مفید بات چیت کی۔
مسٹر چٹرجی نے کہا کہ ہندوستان اور قطر کے درمیان توانائی کے میدان میں بہت ہی متحرک ساجھیداری ہے۔ قطر ہندوستان کے لیے توانائی کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔ دونوں رہنماؤں نے آج کہا کہ فروری 2024 میں قطر انرجی اور پیٹرونیٹ ایل این جی لمیٹڈ نے 2028 سے شروع ہونے والے 20 برسوں کے لیے قطر سے ہندوستان کو سالانہ 7.5 ملین میٹرک ٹن ایل این جی کی فراہمی کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ دونوں رہنماؤں نے باہمی سرمایہ کاری کو تلاش کرنے سمیت توانائی کی ساجھیداری کو مزید مضبوط اور وسیع کرنے کے طریقوں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور قطر کے درمیان گہرے دوستانہ تعلقات تاریخی تجارت اور عوام سے عوام کے تعلقات پر مبنی ہیں۔ وزیر اعظم نے قطر میں مقیم بڑی ہندوستانی برادری کی حمایت کے لیے امیر قطر کا شکریہ ادا کیا، خاص طور پر کووڈ۔ 19 وبائی مرض کے دوران ہندوستانیوں کی مدد کے لئے شکریہ ادا کیا۔
ایک سوال کے جواب میں، مسٹر چٹرجی نے کہا “ہم فی الحال ہندوستان اور خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے پر بات چیت کر رہے ہیں۔ جہاں تک قطر کا تعلق ہے، دونوں فریق مستقبل میں دوطرفہ آزاد تجارتی معاہدے پر دستخط کرنے کے امکانات تلاش کر رہے ہیں اور آج کی بات چیت میں اس موضوع پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ جہاں تک اسٹریٹجک پارٹنرشپ کے معاہدے کا تعلق ہے، یہ درحقیقت دو طرفہ تعلقات کی موجودہ حالت کو اسٹریٹجک سطح تک بلند کرتا ہے۔ ہم جس چیز کو دیکھ رہے ہیں وہ تجارت، توانائی، سرمایہ کاری، سلامتی کے شعبوں میں تعاون کو گہرا کرنا ہے۔
عالمی اور علاقائی مسائل پر بات چیت سے متعلق ایک سوال کے جواب میں مسٹر چٹرجی نے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے علاقائی اور بین الاقوامی مسائل پر بات کی اور قدرتی طور پر مغربی ایشیا کی صورتحال اور وہاں ابھرتی ہوئی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ۔ دونوں فریقین نے اسرائیل اور حماس کے معاملے پر اپنے باہمی موقف کا تبادلہ کیا اور دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کے موقف کو سمجھا اور ان کی تعریف کی۔
قطر کی جیلوں میں بند ہندوستانیوں کی حالت کے بارے میں پوچھے جانے پر مسٹر چٹرجی نے کہا ‘ہمارے کچھ لوگ جیل میں ہیں، اس وقت ان کی تعداد 600 کے قریب ہے۔ وقتاً فوقتاً قطری قیادت نے انہیں معاف کیا اور اپنی شرائط سے رہائی دلائی۔ 2024 میں تقریباً 85 ہندوستانیوں کو معاف کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ہمارے پاس قیدیوں کی سزا کی منتقلی کا معاہدہ ہے جو ابھی تک قطری فریق کی منظوری کا منتظر ہے۔
ہندوستانی بحریہ کے سابق افسروں کی رہائی کے بارے میں مسٹر چٹرجی نے کہا “بحریہ کے سابق افسر کے بارے میں جو اب بھی قطر کی جیل میں ہے، میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ان کا مقدمہ قطر کی مقامی عدالتوں میں ابھی بھی زیر التوا ہے۔ وزیر اعظم نے ہندوستانی شہریوں کی سلامتی اور بہبود کے لیے قطر کے امیر اور ان کی حکومت کی کوششوں کی تعریف کی۔
یو این آئی ۔ ع خ
ہندوستان
کھرگے کے اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ سنگین جرم، فوری ایف آئی آر درج ہو: راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کے ہلدوانی میں ہوئے پروگرام کے بعد اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ کرنا چھوت چھات کو فروغ دینے والا سنگین جرم ہے، اس لیے قصورواروں کے خلاف درج فہرست ذات اوردرج فہرست قبائل (مظالم کی روک تھام) قانون کے تحت فوری ایف آئی آر درج کی جانی چاہیے۔
مسٹر گاندھی نے ہفتے کے روز یہاں کانگریس ہیڈکوارٹر اندرا بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئین نے چھوت چھات کو جرم قرار دیا ہے اور کسی دلت شخص کے کسی مقام پر جانے کے بعد اس کا ‘شُدھیکرن’ کرنا اسی ذہنیت کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ صرف مسٹر کھرگے کی نہیں، بلکہ ملک کے ہر دلت شخص کی توہین ہے۔
انہوں نے کہا کہ آٹھ اگست کو ہلدوانی میں مسٹر کھرگے کا پروگرام ہوا تھا اور اس کے بعد ان کی تقریر والے اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ کیا گیا۔ اس واقعے کو تقریباً 20 دن ہو چکے ہیں لیکن ابھی تک کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی قصورواروں کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی ہے۔
مسٹر گاندھی نے وزیرِ اعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اتراکھنڈ حکومت کو اس معاملے میں فوری کارروائی کرنے اورقصورواروں کے خلاف ایس سی-ایس ٹی قانون کے تحت ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم دلتوں کے احترام کی بات کرتے ہیں، اس لیے انہیں یہ یقینی بنانا چاہیے کہ مسٹر کھرگے کو انصاف ملے۔
کانگریس رہنما نے کہا کہ ملک میں دو نظریات کے درمیان لڑائی ہے۔ ایک آئین کا نظریہ ہے اور دوسرا بی جے پی-آر ایس ایس کا نظریہ ہے۔ آئین نافذ ہونے کے بعد بھی ملک میں دلتوں کے ساتھ امتیازی سلوک اور مظالم کے واقعات سلسلہ جاری ہے ۔ ملک کے کئی اسکولوں میں دلت بچوں سے بیت الخلا صاف کرایا جاتا ہے اور جھاڑو لگوائی جاتی ہے، انہیں کنوؤں سے پانی لینے سے روکا جاتا ہے، چائے کی دکانوں پر ان کے لیے الگ کپ رکھے جاتے ہیں۔ شادی بیاہ کے موقع پر گھوڑی پر بیٹھ کر بارات نکالنے والے دلتوں پر بھی حملے ہوتے ہیں اور دھمکیاں دی جاتی ہیں۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ کوئی دلت شخص جتنا کامیاب ہوتا ہے، اس پر اتنے ہی زور دار طریقے سے حملہ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاروبار، کرکٹ یا کسی دوسرے شعبے میں کامیاب ہونے والے دلت شخص کو بھی اس ذہنیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور دلت لیڈروں کے ساتھ بھی ایسا سلوک کیا جاتا ہے۔ اس تناظر میں انہوں نے راجستھان کانگریس اسمبلی پارلیمانی پارٹی کے لیڈر ٹیکارام جولی اور بہار کے سابق وزیرِ اعلیٰ جیتن رام مانجھی کے ساتھ ہوئے ‘شُدھیکرن’ کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ذہنیت صرف ایک فرد تک محدود نہیں ہے۔
کانگریس رہنما نے پارلیمنٹ میں مسٹر کھرگے کے اس معاملے کو اٹھانے کا ذکر کیا اور کہا کہ بی جے پی کے سینئر رہنما جے پی نڈّا نے کہا تھا کہ اگر ایسا واقعہ ہوا ہے تو کارروائی کی جائے گی۔ اس کے باوجود اتراکھنڈ بی جے پی صدر مہیندر بھٹ نے ‘شُدھیکرن’ کے واقعے کو درست قرار دیا ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ وزیرِ اعظم کہتے ہیں کہ وہ ہر ذات کا احترام کرتے ہیں لیکن اگر ان کی پارٹی کے رہنما اس طرح کے واقعے کو صحیح ٹھہراتے ہیں تو ان کے قول و فعل میں فرق صاف دکھائی دیتا ہے۔
کانگریس کی لڑائی اسی امتیازی سلوک اور عدم مساوات کے نظریے کے خلاف ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ یہ صرف کانگریس صدر کھرگے کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ ملک کے ہر دلت شخص کے وقار ، مساوات اور آئینی حقوق سے جڑا معاملہ ہے۔ حکومت کو فوری کارروائی کرنی چاہیے اور اگر ایسا نہیں کیا جاتا ہے تو کانگریس قصورواروں کو انصاف کے کٹھہرے تک پہنچانے کے لیے اپنی لڑائی جاری رکھے گی۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
کھڑگے نے مودی، شاہ کو خط لکھ کر آفت زدہ نیپال کو ضروری امداد دینے کی اپیل کی
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے نیپال میں آئے تباہ کن سیلاب کے سلسلے میں وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کو خط لکھ کر آفت سے متاثرہ لوگوں کو مناسب انسانی اور راحت امداد فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔
مسٹر کھڑگے نے جمعہ کو لکھے گئے دونوں خطوط کو آج جاری کرتے ہوئے نیپال میں آئے سیلاب پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے نیپال کو انسانی امداد فراہم کرنے کے ساتھ قومی آفات سے نمٹنے والی فورس (این ڈی آر ایف) کی مہارت سے فائدہ اٹھانے کی بھی اپیل کی ہے۔
وزیر اعظم کو لکھے خط میں انہوں نے کہا ہے کہ وہ نیپال میں آنے والے تباہ کن سیلاب سے گہری تشویش میں مبتلا ہیں، جس سے جانی اور مالی نقصان بڑے پیمانے پر ہوا ہے۔ حالیہ ذرائع ابلاغ کی خبروں کے مطابق 500 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور متعدد افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ اس آفت کے باعث ہزاروں افراد کو خوراک، دوا، پناہ گاہ اور دیگر ضروری امداد کی فوری ضرورت ہے۔
انہوں نے وزیر اعظم سے درخواست کی ہے کہ نیپال حکومت کے ساتھ مل کر متاثرہ لوگوں تک مناسب انسانی اور راحت امداد پہنچائی جائے۔
وزیر داخلہ کو لکھے خط میں مسٹر کھڑگے نے کہا کہ نیپال میں حالیہ سیلاب سے ہونے والے جانی و مالی نقصان، گھروں اور بنیادی ڈھانچے کی بڑے پیمانے پر تباہی اور لوگوں کے بے گھر ہونے سے انہیں گہرا صدمہ پہنچا ہے۔
ہندستان اور نیپال کے عوام کے درمیان گہرے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ نیپال کو فوری طور پر وسیع پیمانے پر انسانی اور آفات سے متعلق راحت امداد فراہم کی جائے۔ خاص طور پر ضرورت پڑنے پر این ڈی آر ایف کی ٹیمیں تعینات کی جائیں اور نیپال حکومت کے ساتھ تال میل کرکے بچاؤ، انخلا اور راحت کے کاموں میں مدد کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس بحران میں این ڈی آر ایف کی مہارت قیمتی تعاون فراہم کر سکتی ہے اور وزارت داخلہ کو اس معاملے سے فوری اور حساسیت کے ساتھ نمٹنا چاہیے۔
یو این آئی۔ایم جے
ہندوستان
ازبکستان اور کرغیزستان کے دورے سے وسطی ایشیا میں ہندستان کی حکمت عملی پر مبنی شراکت داری مضبوط ہوگی: مودی
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ ازبکستان اورجمہوریہ کرغیز کے ان کے دورے سے وسطی ایشیا میں ہندستان کی حکمت عملی پر مبنی شراکت داری مضبوط ہوگی اور امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے مشترکہ کوششوں کو تقویت ملے گی۔
مسٹر مودی نے دونوں ملکوں کے چار روزہ دورے پر روانہ ہونے سے پہلے ہفتہ کو ایک بیان میں کہا کہ وہ صدر شوکت مرزایوف کی دعوت پر 29 اور 30 اگست کو سرکاری دورے کے لیے تاشقند میں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ صدر مرزایوف کے ساتھ دو طرفہ اہمیت کے مختلف امور پر بات چیت کے لیے پرجوش ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’حالیہ برسوں میں ہندستان-ازبکستان حکمت عملی پر مبنی شراکت داری میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ میں صدر مرزایوف کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری، ڈیجیٹل رابطے، دفاع اور توانائی کے شعبوں میں ہمارے تعاون کو مزید گہرا کرنے اور وکست بھارت اور یانگی ازبکستان کے ہمارے مشترکہ تصورات کو آگے بڑھانے پر اپنی بات چیت کا منتظر ہوں۔‘‘
وزیر اعظم نے کہا کہ وہ تاشقند اسٹیٹ یونیورسٹی آف اورینٹل اسٹڈیز میں شاستری یادگار اور مہاتما گاندھی مرکز کا بھی دورہ کریں گے، جو دونوں ملکوں کو جوڑنے والے قریبی ثقافتی اور عوام سے عوام کے تعلقات کے لیے ایک خراج عقیدت ہے۔
مسٹر مودی نے کہا کہ تاشقند سے وہ کرغیز جمہوریہ کے صدر صادر ژاپاروف کی دعوت پر 26ویں ایس سی او سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک کا سفر کریں گے، جو اس اہم تنظیم کے 25 سال مکمل ہونے کی علامت ہے۔ ہندستان 2017 سے ایس سی او کا فعال اور تعمیری رکن رہا ہے۔
انہوں نے کہا، ’’میں خطے کے لیے ہندستان کے نقطۂ نظر کو آگے بڑھانے کا منتظر ہوں، جو سلامتی، رابطے اور مواقع پر مبنی ہے، اور ایسے خطے کے لیے رکن ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے کا خواہاں ہوں جو دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی کے بحران سے پاک ہو، جو ہمارے پڑوس اور اس سے آگے امن اور استحکام کے لیے مسلسل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔‘‘
وزیر اعظم نے کہا کہ وہ صدر ژاپاروف اور ایس سی او کے دیگر رہنماؤں سے ملاقات اور چھٹے عالمی خانہ بدوش کھیلوں کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے لیے بھی پرجوش ہیں، جو وسطی ایشیا کے مالا مال اور جاندار ورثے کا جشن ہے، جس کا ہندستان گہرا احترام کرتا ہے۔
انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ ان کے دورے سے وسطی ایشیا میں ہندستان کی حکمت عملی پر مبنی شراکت داری مضبوط ہوگی۔ انہوں نے کہا، ’’مجھے یقین ہے کہ یہ سفر وسطی ایشیا میں ہندستان کی حکمت عملی پر مبنی شراکت داریوں کو مضبوط کرے گا، خطے کے ساتھ ہمارے تہذیبی تعلق کو مزید گہرا کرے گا اور امن، استحکام اور خوشحالی کی ہماری مشترکہ جستجو کو آگے بڑھائے گا—یہ وہ اقدار ہیں جو دنیا کے ساتھ ہندستان کے تعلقات کے مرکز میں ہیں۔‘‘
یو این آئی، ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
تازہ ترین7 days agoیوم آزادی اور مسلمان
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
