جموں و کشمیر
کشمیر: برف و باراں کے بعد موسم بتدریج بہتر، 24 فروری تک خاص تبدیلی کا کوئی امکان نہیں
سری نگر، وادی کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں برف باری اور میدانی علاقوں میں بارشوں کے بعد موسم میں بتدریج بہتری واقع ہو رہی ہے۔
محکمہ موسمیات کے ایک ترجمان کے مطابق وادی میں اب 24 فروری تک موسم میں کسی خاص تبدیلی کا کوئی امکان نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ تاہم بعد ازاں 26 سے 28 فروری تک وادی میں برف و باراں کا ایک اور مرحلہ متوقع ہے۔ان کا کہنا تھا کہ وادی میں 26 سے 28 فروری تک وادی میں کئی مقامات پر برف باری یا بارشوں کا امکان ہے۔
دریں اثنا سری نگر میں گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران 11.4 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے۔وادی کے شہرہ آفاق سیاحتی مقام گلمرگ میں گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران 7.8 ملی میٹر بارش اور 7 سینٹی میٹر برف ریکارڈ ہوئی ہے جبکہ اس دوران وادی کے دوسرے مشہور سیاحتی مقام پہلگام میں 14.6 ملی میٹر بارش اور 13 سینٹی میٹر برف ریکارڈ ہوئی ہے۔
سری نگر ہوائی اڈے پر11.0 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے۔
سرحید ضلع کپوارہ میں گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران 9.6 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے جبکہ گیٹ وے آف کشمیر کے نام سے مشہور قصبہ قاضی گنڈ میں 14.2 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے۔
چرار شریف، سوپور، اور ٹنگہ مرگ میں بالترتیب 3.6 ملی میٹر،8.0 ملی میٹر اور 14.2 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے۔
شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ اور بانڈی پورہ میں بالترتیب 12.0 ملی میٹر اور 6.0 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے جبکہ وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام اور گاندربل میں بالترتیب 7.0 ملی میٹر اور9.0 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے۔
جنوبی کشمیر کے اننت ناگ، پلوامہ، شوپیاں اور کولگام میں گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران بالترتیب 12.0 ملی میٹر،5.0 ملی میٹر، 10.5 ملی میٹر اور 5.5 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے۔
جموں میں گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران 27.4 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے جبکہ کٹھوعہ، اودھم پور، رام بن، پونچھ، راجوری، کشتواڑ، ریاسی اور سانبہ میں بالترتیب34.2 ملی میٹر، 34.6 ملی میٹر، 35.5 ملی میٹر، 23.0 ملی میٹر،20.0 ملی میٹر، 16.0 ملی میٹر21.0 ملی میٹر اور20.5 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے۔
وادی میں خراب موسمی صورتحال سے شبانہ درجہ حرارت میں گراوٹ درج ہوئی ہے۔
گرمائی دارلحکومت سری نگر میں کم سے کم درجہ حرارت 1.6 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جو معمول سے0.1 ڈگری سینٹی گریڈ کم ریکارڈ ہوا تھا۔
سیاحتی مقامات گلمرگ اور پہلگام میں شبانہ درجہ حرارت ایک بار پھر نقطہ انجماد سے نیچے ریکارڈ ہوا ہے۔
گلمرگ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی5.6 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جبکہ پہلگام میں شبانہ درجہ حرارت منفی2.4 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا ہے۔
سرحدی ضلع کپوارہ میں کم سے کم درجہ حرارت 0.9 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ قاضی گنڈ میں شبانہ درجہ حرارت0.3 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا ہے۔ادھر تازہ برف و باراں سے وادی میں لوگوں بالخصوص کسانوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔
وادی میں خشک موسم صورتحال سے جہاں وادی کئی چشمے سوکھ گئے ہیں، وہیں اس دوران کئی علاقوں کے جنگلوں میں آتشزدگی کے واقعات رونما ہو رہے ہیں۔
محکمہ موسمیات کے مطابق وادی میں سال رواں کے پہلے ڈیڑھ ماہ کے دوران بارش کی 79 فیصد کمی ریکارڈ ہوئی ہے جبکہ اس دوران جموں میں بارش کی 84 فیصد کمی درج ہوئی ہے۔
یو این آئی ایم افضل
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
