جموں و کشمیر
جموں وکشمیر اور لداخ یونین ٹریٹری میں بارش کی 80 فیصد کمی صرف 42 فیصد رہ گئی
سری نگر، موجودہ موسمی صورتحال سے جموں وکشمیر اور لداخ یونین ٹریٹری میں بارش کی کمی کے منظر نامے میں نمایاں بہتری واقع ہوئی ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق جموں و کشمیر اور لداخ یونین ٹریٹری میں جنوری اور فروری کے دوران بارش کی 80 فیصد کمی 42 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ 25 سے 28 فروری تک گلمرگ میں 113 سینٹی میٹر جبکہ سونہ مرگ میں 75 سینٹی میٹر برف ریکارڈ ہوئی ہے۔
اس دوران کپوارہ، بانڈی پورہ اور جنوبی کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں بالترتیب 70 سے 90 اور 60 سے 90 سینٹی میٹر برف ریکارڈ ہوئی ہے۔محکمے کے مطابق 26 سے 28 فروری تک جموں وکشمیر اور لداخ میں 78.4 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہے جو معمول کی15.5 ملی کی بارش سے 407 فیصد زیادہ ریکارڈ ہوئی ہے۔سری نگر میں ان تین دنوں کے دوران 30.4 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے جو معمول کی 13.6 ملی میٹر کی بارش سے 123 فیصد زیادہ ریکارڈ ہوئی ہے۔وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام میں اس دوران31.1 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے جو معمول کی 11 ملی میٹر بارش سے 183 فیصد زیادہ ریکارڈ ہوئی ہے جبکہ گاندربل ضلع میں 58 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی جو معمول کی9.5 ملی میٹر بارش سے 511 فیصد زیادہ ریکارڈ ہوئی ہے۔شمالی کشمیر کے ضلع کپوارہ میں 26 سے 28 فروری تک 79.3 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے جو معمول کی22.8 ملی میٹر کی بارش سے248 فیصد زیادہ ریکارڈ ہوئی ہے۔
بارہمولہ ضلع میں اس دوران 76 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے جو معمول کی 17 ملی میٹر بارش سے347 فیصد زیادہ ریکارڈ ہوئی ہے جبکہ ضلع بانڈی پورہ میں 81.4 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے جو معمول کی 13.5 ملی میٹر کی بارش سے 503 فیصد زیادہ ریکارڈ ہوئی ہے۔جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں 26 سے 28 فروری تک 49.6 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے جو معمول کی 13.3 ملی میٹر بارش سے273 فیصد زیادہ ریکارڈ ہوئی ہے۔ضلع کولگام میں اس دوران 60 ملی میٹرا بارش ریکارڈ ہوئی ہے جو معمول کی 21.8 ملی میٹر بارش سے 175 فیصد زیادہ ریکارڈ ہوئی ہے۔ضلع پلوامہ میں ان تین دنوں کے دوران 31.7 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے جو معمول کی 7.7 ملی میٹر کی بارش سے 312 فیصد زیادہ ریکارڈ ہوئی ہے جبکہ ضلع شوپیاں میں 26.8 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے جو معمول کی14.2 ملی میٹر بارش سے 89 فیصد زیادہ ریکارڈ ہوئی ہے۔
صوبہ جموں کے ضلع جموں میں 26 سے 28 فروری تک 60 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے جو معمول کی 7.7 ملی میٹر بارش سے680 فیصد زیادہ ریکارڈ ہوئی ہے۔ضلع ڈوڈہ میں اس دوران 64.7 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے جو معمول کی19.7 ملی میٹر بارش سے228 فیصد زیادہ ریکارڈ ہوئی ہے جبکہ ضلع کٹھوعہ میں 74.3 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے جو معمول کی20.4 ملی میٹر بارش سے 264 فیصد زیادہ ریکارڈ ہوئی ہے۔ضلع کشتواڑ میں ان تین دنوں کے دوران 88 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے جو معمول کی 19.7 ملی میٹر بارش سے 347 فیصد زیادہ ریکارڈ ہوئی ہے جبکہ ضلع پونچھ میں اس دوران 90.5 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے جو معمول کی 7.6 ملی میٹر بارش سے1091 فیصد زیادہ ریکارڈ ہوئی ہے۔ضلع راجوری میں 26 سے 28 فروری تک 83 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے جو معمول کی 7.7 ملی میٹر بارش سے977 فیصد زیادہ ریکارڈ ہوئی ہے جبکہ اس دوران ضلع رام بن میں 173.3 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے جو معمول کی 25 ملی میٹر بارش سے 593 فیصد زیادہ ریکارڈ ہوئی ہے۔
ضلع ریاسی میں ان تین دنوں کے دوران 98.6 ملی میٹرا بارش ریکارڈ ہوئی ہے جو معمول کی14.8 ملی میٹر بارش سے 566 فیصد زیادہ ریکارڈ ہوئی ہے۔ضلع سانبہ میں اس دوران 63 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے جو معمول کی4.2 ملی میٹرا بارش سے 1400 فیصد زیادہ ریکارڈ ہوئی ہے جبکہ ضلع اودھم پور میں 151.4 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے جو معمول کی7.6 ملی میٹر بارش سے 1891 فیصد زیادہ ریکارڈ ہوئی ہے۔
لداخ یونین ٹریٹری کے ضلع کرگل میں 26 سے 28 فروری تک 32.6 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے جو معمول کی0.2 ملی میٹر سے16200 فیصد زیارہ ریکارڈ ہوئی ہے جبکہ ضلع لیہہ میں اس دوران 8.3 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے جو معمول کی0.5 ملی میٹرٓ بارش سے1560 فیصد زیادہ ریکارڈ ہوئی ہے۔جموں و کشمیر اور لداخ یونین ٹریٹری میں جنوری سے فروری تک 131.5 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے جو معمول کی 225.4 ملی میٹر بارش سے 42 فیصد کم ریکارڈ ہوئی ہے۔محکمہ موسمیات نے گذشتہ روز کہا تھا کہ وادی میں موجودہ موسمی صورتحال سے بارشوں کی 80 فیصد کمی اب صرف 65 فیصد رہ گئی ہے۔دریں اثنا وادی میں وسیع پیمانے پر برف و باراں سے لوگوں خاص طور پر کسانوں کے دل باغ باغ ہوئے ہیں۔خشک موسم صورتحال سے جہاں وادی میں کئی چشمے سوکھ گئے تھے وہیں اس دوران کئی علاقوں کے جنگلوں میں آتشزدگی کے واقعات رونما ہو رہے ہیں تاہم موجودہ موسمی صورتحال سے جہاں وادی کے ندلی نالوں میں پانی کی سطح میں اضافہ ہوا ہے وہیں کھیت کھلیانوں اور پیڑ پودوں میں تر و تازگی آئی ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق وادی میں سال رواں کے پہلے ڈیڑھ ماہ کے دوران بارش کی 79 فیصد کمی ریکارڈ ہوئی تھی جبکہ اس دوران جموں میں بارش کی 84 فیصد کمی درج ہوئی تھی۔
یو این آئی ایم افضل
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان1 week agoراہل پیلیٹ گن متاثرہ کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کے حق میں ڈی سی پی دفتر کے باہر دھرنے پر بیٹھے
