جموں و کشمیر
جموں وکشمیر میں تقریباً 550 میڈیکل اَفسران کی اسامیاں خالی:جاوید احمد ڈار
جموں،حکومت نے آج ایوان کو بتایا کہ جموں و کشمیر میں تقریباً 550 میڈیکل اَفسران ( ایم اوز) کی اسامیاں خالی ہیں جبکہ 181 میڈیکل اَفسران کی بھرتی کا عمل جاری ہے۔
وزیر زرعی پیداوار جاوید احمد ڈار وزیر صحت و طبی تعلیم کی جانب سے ایوان میں ارکان قانون ساز ڈاکٹر سجاد شفیع اور جاوید حسن بیگ کے مشترکہ ایک سوال کا جواب دے رہے تھے۔
اُنہوں نے مزید بتایا کہ ضلع بارہمولہ کے شیری اور کریری بلاکوں میں 57 صحت کے اِدارے فعال ہیں۔ بلاک کریری میں میڈیکل اَفسران اور پیرامیڈیکل سٹاف سمیت منظور شدہ عمل کی تعداد 157 ہے جن میں سے 121 عملے کے ارکان تعینات ہیں جبکہ 36 اَسامیاں خالی ہیں۔
اسی طرح بلاک شیری میں 330 منظور شدہ عملے میں سے 223 تعینات ہیں اور 107 اَسامیاں خالی ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ اِن اَسامیوں میں ریگو لر کیٹگری اور نیشنل ہیلتھ مشن (این ایچ ایم) شامل ہے۔
وزیر نے کہا کہ کمیونٹی ہیلتھ سینٹر (سی ایچ سی) چندوسہ کے لئے زمین حاصل کرنے کا عمل جاری ہے اورر یاستی اراضی کی نشاندہی کے لئے معاملہ متعلقہ ریونیو حکام کے ساتھ اُٹھایا گیا ہے۔۔
اُنہوں نے مزید کہا کہ سال 2021-2022 ءکے دوران این ٹی پی ایچ سی لاریڈورا کے لئے زمین کے معاوضے کے طور پر 8 لاکھ روپے کی رقم جاری کی گئی تھی جو ضلع ترقیاتی کمشنر بارہمولہ کے پاس رکھی گئی تھی۔ تاہم، مالی برس کے اختتام کی وجہ سے یہ رقم زمین کے مالک کو ادا نہیں کی جا سکی اور فنڈز منسوخ ہو گئے۔
تاہم مذکورہ زمین پر این ٹی پی ایچ سی کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے اوریہ مرکز ستمبر 2024 ءسے نئی تعمیر شدہ عمارت میں کام کر رہا ہے۔
اُنہوں نے ایوان کو آگاہ کیا کہ محکمہ میڈیکل اَفسران کی خالی اَسامیوں کے مسئلے کو حل کرنے کے لئے اہم اور مستقل کوششیں کر رہا ہے جو اِس وقت تقریباً 550 اَسامیاں موجود ہیں۔
وزیر زراعت کے مطابق 181 میڈیکل اَفسران کی بھرتی کا عمل جموں و کشمیر پبلک سروس کمیشن (جے کے پی ایس سی) میں جاری ہے اور جیسے ہی یہ اِنتخاب مکمل ہوگا، ان ڈاکٹروں کو اُن طبی اداروں میں تعینات کیا جائے گا جہاں عملے کی شدید کمی ہے۔
وزیر موصوف نے ایوان کو مزید بتایا کہ اِس کے علاوہ محکمہ 91 منتخب میڈیکل اَفسران کی ویٹ لسٹ پر بھی کام کر رہا ہے جنہیں جموں و کشمیر کے پسماندہ علاقوں میں تعینات کیا جائے گا تاکہ صحت سہولیات کو مزید مضبوط کیا جا سکے۔
اُنہوں نے ضلع بارہمولہ میں میڈیکل اَفسران کی خالی اَسامیوں کے حوالے سے ایوان کو بتایا کہ منظور شدہ 275 اَسامیوں میں سے 219 پر تعیناتی ہو چکی ہے جبکہ 56 اَسامیاں مختلف طبی بلاکوں میں خالی ہیں۔
وزیر نے مزید کہا کہ حال ہی میں تعینات کئے گئے 365 میڈیکل اَفسران میں سے 39 کو ضلع بارہمولہ میں تعینات کیا گیا ہے تاکہ عملے کی کمی کو دور کیا جا سکے اور صحت خدمات کو بہتر بنایا جا سکے۔
یو این آئی- ارشید بٹ
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان1 week agoراہل پیلیٹ گن متاثرہ کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کے حق میں ڈی سی پی دفتر کے باہر دھرنے پر بیٹھے
