جموں و کشمیر
امیرا کدل فٹ برج تکمیل کے آخری مرحلے میں، سیاحوں کے لئے باعث کشش ہوگا
سری نگر، سری نگرا سمارٹ سٹی لمیٹڈ کے تحت تعمیر ہونے والا امیرا کدل فٹ برج تکمیل کے آخری مرحلے میں ہے۔یہ سری نگر کے ان سات مشہورقدیم ترین پلوں میں سے ایک ہے جو امتداد زمانہ کے ساتھ نا قابل آمد ورفت بن گیا تھا بلکہ اس کے فقط نشان باقی ہی رہ گئے تھے۔
اعلیٰ معیار کی خالص دیودار لکڑی سے تعمیر ہونے والا یہ پل اب نہ صرف لوگوں کے لئے آرام و آسائش کا ذریعہ بنے گا بلکہ یہ سیاحوں کے لئے باعث کشش ہوگا۔
اپنی نوعیت کے اس منفرد برج کی تعمیر کے لئے رفیع ثاقب آرکیٹکٹس اور البرج کنسلٹنسی کام کر رہے ہیں۔
رفیع ثاقب آرکیٹکٹس کے انجم ثاقب نے یو این آئی کو بتایا، ‘اس پل کو ڈیزائن کرنے میں تین ماہ لگ گئے، اس کی چوڑائی 9 میٹر ہے اور اس کو بنانے کے لئے اعلیٰ معیار کی دیودار لکڑی استعمال کی گئی ہے’۔
انہوں نے کہا، ‘یہ حبہ کدل اور زیر برج کے پلوں سے ڈیزائن میں قدرے مختلف ہے کیونکہ اس برج میں وہ جگہ زیادہ ہے جس کو چھت سے ڈکھ لیا گیا ہے اور جہاں چھوٹی دکانیں لگائی جا سکتی ہیں اور جہاں بیٹھنے کے لئے کافی جگہ ہے’۔
ان کا کہنا تھا کہ اس پل میں چونکہ چھت والی جگہ زیادہ ہے جہاں لوگ برف وباراں میں اپنا ساز و سامان رکھ سکتے ہیں یا وہاں برف باری یا بارش سے بچنے کے لئے بیٹھ سکتے ہیں۔
موصوف نے کہا کہ اس پل پر بیٹھنے کے لئے جو مخصوص جگہ رکھی گئی ہے وہاں لوگ خاص طور پر سیاح بیٹھ کر دریائے جہلم کے پر کیف نظاروں سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس میں اوپن ٹائپ ہٹس بنائی گئی ہیں جہاں لوگ بیٹھ کر تھکان بھی دور کر سکیں گے۔
ان کا کہنا ہے کہ اس برج کا لکڑی کا فریم ورک مکمل ہوچکا ہے جو انتہائی دلکش ہے اب اختتامی کام جیسے رنگ وغیرہ کرنا باقی ہے۔
دیو دار کی لکڑی کے بنے اس پل کو پرانے پتھروں کے ستونوں پر تعمیر کیا گیا ہے جو صدیوں پہلے بنائے گئے پل کے نشان باقی رہ گئے تھے۔
تاریخی اعتبار سے یہ پل افغان دور میں سال 1774 میں ایک افغان گورنر امیر خان نے تعمیر کر وایا تھا جس کے بعد سیلابوں کی وجہ سے یہ خستہ ہوگیا تھا۔
مہاراجہ دور میں اس کی تجدید کاری کی گئی تھی لیکن پھر سیلابوں کی نذر ہونے کے باعث اس کے اب صرف پتھروں کے نشان ہی باقی رہ گئے تھے۔
حکام کے مطابق سری نگر سمارٹ سٹی لمیٹڈ کے تحت تعمیر ہونے والے اس پل کو سال رواں کے ماہ مئی میں لوگوں کے لئے وقف کئے جانے کی توقع ہے۔
ادھر لوگ خاص طور پر مقامی لوگ اس پل کے تعمیر پر انتہائی خوش ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اس سے نہ صرف اس کے متصل واقع دوسرے پل پر رش کم ہوگا اور ٹریفک کی نقل و حمل میں کوئی دقت نہیں ہوگی وہیں لوگوں کو بھی آسائش ہوگی۔
ایک مقامی شخص نے بتایا، ‘یہ پل سیاحوں کے لئے پر کشش ہوگا اور لوگوں خاص طور پر پیدل چلنے والوں کے لئے سب سے زیادہ آرادم دہ ہوگا’۔
انہوں نے کہا کہ ہم اس کے لئے سمارٹ سٹی لمیٹڈ کے انتہائی مشکور ہیں جنہوں نے یہ اقدام کیا۔
یو این آئی ۔ایم افضل، ارشید بٹ
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
ہندوستان1 week agoراہل پیلیٹ گن متاثرہ کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کے حق میں ڈی سی پی دفتر کے باہر دھرنے پر بیٹھے
