دنیا
بنگلہ دیشی وزیر اعظم طارق رحمان کا دورۂ ہند ’’موزوں ماحول‘‘ سے مشروط: ہمایوں کبیر
ڈھاکہ، بنگلہ دیش کے وزیر اعظم کے خارجہ امور کے مشیر ہمایوں کبیر نے کہا ہے کہ وزیر اعظم طارق رحمان کا مجوزہ دورۂ ہند اسی وقت ممکن ہوگا جب باہمی اعتماد، خودمختاری کے احترام، سفارتی مذاکرات اور ’’باعزت دعوت‘‘ کی بنیاد پر ایک ’’موزوں ماحول‘‘ پیدا کیا جائے۔
کبیر نے کہا کہ ڈھاکہ واضح قومی مفادات کے تعین کے بغیر کسی اعلیٰ سطحی دورے کے انعقاد میں جلد بازی نہیں کرے گا۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب 12 اور 13 ستمبر کو ہندوستان میں ہونے والی برکس سربراہ کانفرنس میں طارق رحمان کی ممکنہ شرکت کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال بڑھ رہی ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان تعلقات سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی فوری حوالگی کے مطالبے پر ایک بار پھر کشیدہ ہوگئے ہیں۔
کبیر نے سرکاری خبر رساں ادارے بی ایس ایس کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا، ’’آئندہ برکس سربراہ کانفرنس سے قبل وزیر اعظم کے ہندوستان کا دورہ کرنے کا امکان اس وقت تک کم ہے جب تک مخصوص معاملات پر دونوں ممالک کے درمیان اتفاق رائے اور ایک باعزت دعوت کی بنیاد پر موزوں ماحول پیدا نہیں ہوتا۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ڈھاکہ کو پہلے یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ نئی دہلی دو تہائی اکثریت سے منتخب ہونے والی بنگلہ دیشی حکومت کے ساتھ کس نوعیت کے تعلقات چاہتا ہے۔
کبیر کے مطابق، دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کا مستقبل اور وزیر اعظم کا اعلیٰ سطحی دورہ ہند کی موجودہ قیادت کی سوچ یا طرزِ عمل میں تبدیلی پر منحصر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی قیادت کو 2024 کی جولائی تحریک کی ’’حقیقت‘‘ اور اس کے نتیجے میں بنگلہ دیش کے سیاسی نظریے میں آنے والی بنیادی تبدیلیوں کو سمجھنا ہوگا۔
یہ بیان ہندوستانی ہائی کمشنر دینیش ترویدی کے اس بیان کے چند روز بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی دونوں رہنماؤں کی ملاقات چاہتے ہیں اور مجوزہ دورے کے دوران طارق رحمان کو ’’باعزت استقبال‘‘ کی یقین دہانی کرائی ہے۔
ترویدی نے بنگلہ دیشی کاروباری رہنماؤں اور ہندوستان کی صنعتوں کی نمائندہ تنظیم کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹری (سی آئی آئی) کے دورہ کرنے والے وفد کے اعزاز میں ہندوستانی ہائی کمیشن کی جانب سے منعقدہ استقبالیہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا، ’’وزیر اعظم مودی نے صرف ایک بات کہی ہے: ہمیں ملاقات کرنی ہے۔‘‘
انہوں نے کہا تھا کہ مودی چاہتے ہیں کہ طارق رحمان کا دورہ ’’یادگار‘‘ ہو۔
شیخ حسینہ کی ہندوستان میں موجودگی کے باعث دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔ سابق وزیر اعظم اپنی حکومت کے خاتمے کے بعد 5 اگست 2024 کو ہندوستان فرار ہوگئی تھیں اور اس کے بعد سے نئی دہلی میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہی ہیں۔
کبیر نے نئی دہلی کو اس بات پر بھی تنقید کا نشانہ بنایا کہ اس نے حسینہ کو ہندوستانی سرزمین سے سیاسی سرگرمیوں اور میڈیا سے گفتگو کی اجازت دی، جس سے بنگلہ دیش میں غم و غصہ پیدا ہوا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ جن افراد کو فوجداری مقدمات کا سامنا ہو یا جنہیں سزا سنائی جاچکی ہو، انہیں سیاسی یا میڈیا پلیٹ فارم فراہم کرنا ہندوستان کے ’’جمہوری آداب‘‘ کے منافی ہے۔ تاہم، ہندوستانی وزارت خارجہ پہلے ہی واضح کر چکی ہے کہ نئی دہلی میں 5 اگست کو سابق وزیر اعظم کی آن لائن پریس گفتگو یا ان کے بیانات میں ہندوستانی حکومت کا کوئی کردار نہیں تھا۔
کبیر نے کہا کہ ڈھاکہ پہلے ہی نئی دہلی کے سامنے سفارتی احتجاج درج کرا چکا ہے اور بنگلہ دیش اپنے بقول ہندوستان کی سرزمین سے ہونے والی ’’بنگلہ دیش مخالف سرگرمیوں‘‘ کو روکنے کے لیے سفارتی ذرائع کا استعمال جاری رکھے گا۔
شیخ حسینہ کو نومبر 2025 میں بنگلہ دیش کی ایک خصوصی عدالت نے جولائی اور اگست 2024 میں مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کے دوران مبینہ انسانیت کے خلاف جرائم کے الزام میں ان کی غیر موجودگی میں سزائے موت سنائی تھی۔
اس کے بعد ڈھاکہ نے ہندوستان سے ان کی حوالگی کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ نئی دہلی کا کہنا ہے کہ اس درخواست کا جائزہ قابلِ اطلاق قوانین اور طے شدہ قانونی طریقۂ کار کے تحت لیا جا رہا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
امریکہ نے آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل کے لیے خفیہ بحری راہداری قائم کردی: رپورٹ
واشنگٹن، امریکہ نے عالمی منڈیوں تک تیل کی ترسیل جاری رکھنے کے لیے آبنائے ہرمز کے ذریعے ایک خفیہ بحری راہداری قائم کی ہے، جس کے تحت امریکی قیادت میں ہونے والے آپریشن کے دوران ہر رات 15 سے 20 تیل بردار ٹینکر آبنائے سے گزر رہے ہیں۔ ایکسیوس نے اس کوشش سے واقف دو امریکی عہدیداروں کے حوالے سے یہ رپورٹ دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ آپریشن کئی ہفتوں سے جاری ہے اور اس میں عمان کے ساحل کے ساتھ واقع جنوبی بحری راستے کو استعمال کیا جارہا ہے۔ امریکی عہدیداروں نے بتایا کہ اس راہداری کے ذریعے اس وقت خلیج سے روزانہ تقریباً ایک کروڑ بیرل تیل باہر بھیجا جارہا ہے، جو جنگ سے قبل آبنائے کے ذریعے ہونے والی ترسیل کے حجم کا تقریباً نصف ہے۔
عہدیداروں کے مطابق اس آپریشن سے جنگ کے باعث عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کو کم کرنے اور خام تیل کی قیمتوں میں اضافے پر قابو پانے میں مدد مل رہی ہے۔
امریکی فوج صرف تیل سے لدے ٹینکروں کو آبنائے سے باہر نکلنے میں سکیورٹی فراہم نہیں کررہی بلکہ خالی ٹینکروں کو بھی بحیرہ عرب سے خلیج فارس میں داخل ہونے میں مدد دے رہی ہے، تاکہ وہ علاقائی تیل پیدا کرنے والے ممالک سے تیل لے کر اسی آبی راستے سے واپس نکل سکیں۔
امریکی عہدیداروں کے مطابق اس آپریشن کو شمالی کیرولائنا کے فورٹ بریگ سے کام کرنے والی ایک ٹاسک فورس، خلیجی خطے کے شراکت داروں کے تعاون سے مربوط کررہی ہے۔
ہر رات بحری جہازوں کو الگ الگ اندر جانے والے اور باہر نکلنے والے قافلوں میں تقسیم کیا جاتا ہے اور امریکی فوج کی ہدایات کے مطابق انہیں جنوبی بحری راستہ استعمال کرنے کی ہدایت دی جاتی ہے۔
عہدیداروں نے بتایا کہ اس آپریشن میں امریکی فضائیہ کے لڑاکا طیارے بھی معاونت کررہے ہیں، جو ایرانی ڈرونز اور کروز میزائلوں کے ممکنہ حملوں سے جہازوں کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔
عہدیداروں کے مطابق یہ آپریشن امریکی سینٹرل کمانڈ کی دو ہفتوں پر محیط اس مہم کے بعد شروع ہوا جس میں ایرانی ریڈار اور بحری نگرانی کے نظام کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس کے نتیجے میں جنوبی بحری راستے سے گزرنے والے جہازوں کی نگرانی کرنے کی تہران کی صلاحیت کم ہوگئی۔انہوں نے کہا کہ ایران اب محدود تعداد میں بحال کیے گئے رڈار نظام اور اسلامی پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) کی جانب سے چلائی جانے والی چھوٹی کشتیوں پر موجود نگرانی کرنے والے اہلکاروں پر انحصار کررہا ہے۔
نتیجتاً ایرانی فورسز بڑی حد تک ایسے علاقوں کی جانب ڈرونز اور کروز میزائل داغ رہی ہیں جہاں انہیں شبہ ہوتا ہے کہ بحری جہاز موجود ہوسکتے ہیں۔
امریکی فورسز نے ان میں سے متعدد حملوں کو ناکام بنایا ہے۔ ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ رواں ہفتے کے آغاز میں امریکی فورسز نے آٹھ ایرانی ڈرونز اور دو کروز میزائل مار گرائے۔
امریکی عہدیداروں کے مطابق آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل بتدریج بڑھ رہی ہے اور روزانہ برآمدات تقریباً ایک کروڑ بیرل تک پہنچ رہی ہیں۔ بعض دنوں میں حالیہ ہفتوں کے دوران خلیج سے ڈیڑھ کروڑ سے دو کروڑ بیرل تک تیل باہر منتقل کیا گیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو ایکسیوس سے گفتگو میں کہا، ’’آبنائے ہرمز سے بہت بڑی مقدار میں تیل باہر جارہا ہے۔‘‘
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ واشنگٹن اس وقت ایران کے ساتھ مذاکرات نہیں کررہا اور تہران پر مذاکرات میں ’’وقت ضائع کرنے‘‘ کا الزام عائد کیا۔
ٹرمپ نے کہا، ’’ایرانیوں میں اب بھی کچھ مزاحمت باقی ہے، لیکن مجموعی طور پر وہ اپنی سابقہ حالت کا محض ایک سایہ رہ گئے ہیں۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
نیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
تل ابیب، اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے شام میں ایک فوجی اڈے پر اسرائیلی حملے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل نے اپنی سرحد کے قریب ترکی کی جانب سے فوجی موجودگی بڑھانے کو روکنے کے لیے کارروائی کی۔ یہ بیان دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران سامنے آیا ہے۔
نیتن یاہو نے کہا کہ ترکی حلب کے قریب اپنی موجودہ پوزیشن کے جنوب میں واقع ایک فوجی اڈے پر اپنی افواج تعینات کرنے پر غور کر رہا تھا، جسے اسرائیل نے ممکنہ سکیورٹی خطرہ قرار دیا۔
نیتن یاہو نے اپنی جماعت لِکوڈ کی جانب سے جاری کردہ ایک ویڈیو میں کہا، ’’ہم ترکی کی ایسی فوجی تیاریوں کو برداشت نہیں کریں گے جو جنوب کی جانب بڑھتے ہوئے ہمارے لیے خطرہ پیدا کریں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے ابتدائی طور پر ترکی کو حلب کے قریب ایک فوجی اڈے پر ممکنہ ترک فوجی موجودگی کے حوالے سے اپنے خدشات سے آگاہ کیا تھا۔
ان کے مطابق ترکی نے اس مشورے پر توجہ نہیں دی، جس کے باعث کارروائی ضروری ہوگئی۔
نیتن یاہو نے کہا، ’’بظاہر انہوں نے بات نہیں سنی، اس لیے ہم نے یقینی بنایا کہ وہ اسے زیادہ واضح طور پر سمجھ جائیں۔‘‘ یہ بیان اسرائیلی حملے میں اسرائیل کے ملوث ہونے کا بظاہر اعتراف ہے۔
نیتن یاہو کے دفتر نے منگل کو ہونے والے حملے کی براہ راست ذمہ داری قبول کرنے سے گریز کیا تھا، تاہم دفتر نے کہا تھا کہ ترک افواج نے حال ہی میں مذکورہ فوجی اڈے کا معائنہ کیا تھا اور خبردار کیا تھا کہ اسرائیل شام میں ترک فوجی موجودگی سے پیدا ہونے والے کسی بھی ممکنہ خطرے کو برداشت نہیں کرے گا۔
ترکی میں امریکی سفیر ٹام بارک، جو ٹرمپ انتظامیہ کے شام کے لیے خصوصی ایلچی بھی ہیں، نے حملے کی ذمہ داری اسرائیل پر عائد کرتے ہوئے اسے غیر ضروری کشیدگی میں اضافہ قرار دیا۔
یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب اسرائیل اور ترکی کے تعلقات میں تیزی سے خرابی آئی ہے اور انقرہ اسرائیل کے سب سے نمایاں علاقائی ناقدین میں شامل ہوگیا ہے۔
اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر نے بھی شام میں اسرائیلی فوجیوں سے ملاقات کے دوران ترکی کو بالواسطہ طور پر خبردار کیا۔
زامیر نے کہا، ’’ہمیں دہشت گردی کے خطرات کو پیدا ہونے سے روکنا ہوگا، اور ساتھ ہی اپنی سرحدوں پر کسی بڑے فوجی خطرے کے قیام کو بھی روکنا ہوگا۔‘‘
انہوں نے ترکی کا نام لیے بغیر کہا کہ اسرائیل اپنی ’’آپریشنل صلاحیتوں‘‘ کو ضرورت کے مطابق، درست مقام اور درست وقت پر استعمال کرنے کا طریقہ بخوبی جانتا ہے۔
بارک نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ اسرائیلی کارروائی کو کشیدگی میں اضافہ سمجھتی ہے۔
دوسری جانب ترکی نے نیتن یاہو کے دعووں کو ’’ناقابل قبول‘‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا اور ان پر خطے میں توسیع پسندانہ اور عدم استحکام پیدا کرنے والی پالیسیاں اختیار کرنے کا الزام عائد کیا۔
تازہ تنازع پہلے ہی انتہائی غیر مستحکم مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کی ایک اور پرت کا اضافہ کرتا ہے، جہاں اسرائیل ایران اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ وسیع تر علاقائی محاذ آرائی میں بھی شامل ہے۔
نیتن یاہو کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل اپنی شمالی سرحدوں کے قریب ابھرتے ہوئے خطرات، بشمول شام میں کسی بھی اہم غیر ملکی فوجی موجودگی، کو خطرہ سمجھنے کی صورت میں فوجی کارروائی کرنے کے لیے تیار ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران کے خلاف امریکی اقتصادی کارروائی مزید بڑی شکست کا باعث بنے گی: عراقچی
تہران، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعرات کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تہران کے خلاف شروع کی گئی تازہ اقتصادی مہم کو امریکہ کے اپنے معاشی مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ پالیسی واشنگٹن کی شکست کو مزید گہرا کرے گی اور ایران میں امریکہ مخالف جذبات کو فروغ دے گی۔
ٹرمپ نے ایران کے خلاف اپنی کارروائی کو ’’کسی بھی ملک کے خلاف کی جانے والی اب تک کی سب سے تباہ کن اقتصادی کارروائی‘‘ قرار دیتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ تہران کو مالی یا دیگر معاونت فراہم کرنے والے ممالک اور اداروں کو سنگین اقتصادی نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
عراقچی نے ایکس پر لکھا، ’’نام نہاد ’اقتصادی ڈی ڈے‘ امریکہ کے اپنے بحران سے توجہ ہٹانے کی ایک کوشش ہے، جسے بے مثال قرض اور بڑھتی ہوئی شرحِ سود کی لاگت کا سامنا ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ان پالیسیوں کو مزید آگے بڑھانا، جنہیں انہوں نے ناکام قرار دیا، واشنگٹن کی ’’مزید شکست‘‘ کا باعث بنے گا اور ایرانی عوام میں امریکہ کے خلاف دشمنی میں اضافہ کرے گا۔
عراقچی نے واشنگٹن پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ وہ اقتصادی دباؤ کو ایسے انداز میں استعمال کررہا ہے جو عالمی معیشت کو خطرے میں ڈال رہا ہے اور قومی خودمختاری کو نقصان پہنچا رہا ہے۔
ایران کے نائب وزیر خارجہ برائے قانونی و بین الاقوامی امور کاظم غریب آبادی نے بھی ٹرمپ کے اعلان کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ فوجی کارروائی کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکامی کے بعد واشنگٹن نے فوجی دباؤ سے اقتصادی جنگ کی جانب رخ کرلیا ہے۔
غریب آبادی نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا، ’’وہ کہتے ہیں کہ ایران شکست کے دہانے پر ہے اور ایک دھاگے سے لٹکا ہوا ہے، لیکن وہ اپنے تمام اتحادیوں سے ان کی مدد کرنے کو کہہ رہے ہیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’فوجی جنگ کوئی نتیجہ نہیں دے سکی۔ اب انہوں نے اپنی اگلی ناکامی کو ’اقتصادی جنگ‘ کا نام دے دیا ہے۔‘‘
ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ کے پاس مزید پابندیاں عائد کرنے کے اختیارات موجود ہیں اور ضرورت پڑنے پر مزید اقدامات کیے جاسکتے ہیں۔انہوں نے ٹروتھ سوشل پر ایک بیان میں ایران کی مدد کرنے والے ممالک کو خبردار کیا کہ اگر وہ تہران کو، ان کے الفاظ میں، ’’زندہ رہنے کا سہارا‘‘ فراہم کرتے ہیں تو ان کے مالیاتی اداروں، کاروباری کمپنیوں، ہوائی اڈوں اور سرکاری اداروں کو ’’بہت بڑے اقتصادی نتائج‘‘ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ٹرمپ نے خاص طور پر تیل کی اسمگلنگ، مالیاتی سواپ لائنز، نقد رقم کی منتقلی، ایکسچینج ہاؤسز، بحری جہازوں کی رجسٹریشن اور فرنٹ کمپنیوں کا ذکر کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ایسی سرگرمیاں فوری طور پر بند کی جائیں۔
یہ اعلان تہران کے خلاف واشنگٹن کی اقتصادی دباؤ کی مہم میں مزید شدت کی نشاندہی کرتا ہے، تاہم ٹرمپ نے بیک وقت دوبارہ مذاکرات کے امکان کو بھی کھلا رکھا ہے۔
تازہ اقدامات ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب عالمی توانائی کی منڈیوں میں خلل بدستور جاری ہے۔ فروری کے اواخر سے جاری لڑائی نے تیل کی ترسیل کے لیے دنیا کے اہم ترین راستوں میں سے ایک آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری آمدورفت کو شدید متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں توانائی کی قیمتوں میں اضافہ اور ایندھن کی فراہمی کے حوالے سے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔
ٹرمپ بارہا دعویٰ کرچکے ہیں کہ امریکا اس اہم آبی گزرگاہ پر ’’قبضہ‘‘ اور ’’مکمل کنٹرول‘‘ رکھتا ہے، جس کے باعث آبنائے ہرمز تنازع میں دباؤ ڈالنے کے ایک اہم ذریعے کے طور پر سامنے آئی ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی نے تہران کے لیے اشیا درآمد کرنا نمایاں طور پر مشکل بنا دیا ہے اور ملک کے اندر قیمتوں میں اضافے میں بھی کردار ادا کیا ہے۔
ٹرمپ کا تازہ اعلان اس طرح تہران کے خلاف امریکی مہم میں ایک اور شدت کی نشاندہی کرتا ہے، جس میں اقتصادی دباؤ میں اضافہ اور ممکنہ طور پر دوبارہ سفارت کاری کی گنجائش دونوں شامل ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
ہندوستان1 week agoملک کی اجتماعی یادداشت کے محافظ اور مستقبل کے تصور کے خالق ہیں فنکار: مرمو
-
دنیا1 week agoکولمبیا کے صدر نے معاشی ہنگامی حالت نافذ کی
-
دنیا6 days agoغزہ سٹی کے پولیس سربراہ اسرائیلی حملوں میں ہلاک، اسرائیل کی مہلک کارروائیاں جاری
-
جموں و کشمیر1 week agoمعروف کشمیری مصنف سروا نند کول ‘پریمی’، ان کے چھوٹے بیٹے ویریندر کول کے قتل کیس میں جموں و کشمیر میں نو مقامات پر چھاپے
-
ہندوستان1 week agoکھرگے کی توہین پر پرینکا نے جتایا سخت اعتراض، مودی سے مانگا جواب
-
ہندوستان1 week agoتبدیلی، اتحاد، آئین کے تحفظ کے لیے سیاسی طاقت ضروری: کھرگے
-
دنیا1 week agoلبنان میں ہماری فوج تعینات رہے گی:اسرائیل کاتز
-
دنیا1 week agoعمان کے تباہ حال ٹینکر سے ساحل تک تیل پہنچ گیا، 40 کلومیٹر ساحلی پٹی متاثر
-
جموں و کشمیر6 days agoکشمیری پنڈتوں کے لیے ’گھر سے کام‘ کا کوئی حکم جاری نہیں کیا گیا: ڈویژنل کمشنر
-
دنیا1 week agoکولمبیا:زلزلے سے ہلاک شدگان کی تعداد496ہو گئی،قومی سوگ کا اعلان
-
دنیا1 week agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
