تازہ ترین
این آئی اے نے سری نگر میں العمر کے چیف مشتاق زرگر کے مکان کو قرق کر دیا
سری نگر،2 مارچ (یو این آئی) قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے جمعرات کی صبح سری نگر کے نوہٹہ علاقے کے گنائی محلے میں العمر نامی جنگجو تنظیم کے اعلیٰ کمانڈر مشتاق زرگر المعروف مشتاق لٹرم کے مکان کو قرق کر دیا۔
سرکاری ذرائع نے بتایا کہ این آئی اے کی ایک ٹیم نے پولیس اور سی آر پی ایف اہلکاروں کی مدد سے جمعرات کی صبح نوہٹہ میں مشتاق زرگر کے مکان کو قرق کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ اس موقع پر مکان پر ’نوٹس آف اٹیچمنٹ‘ بھی لگا دی گئی۔
این آئی اے کی یہ کارروائی وزارت امور داخلہ کی طرف سے مشتاق زرگر جو اس وقت پاکستان میں مقیم ہے، کو یو اے پی اے کے تحت ’دہشت گرد‘ قرار دینے کے بعد انجام دی گئی ہے۔
بتادیں کہ مشتاق زرگر کو15 مئی 1992 کو گرفتار کیا گیا تھا جس کے بعد اس کو سال 1999 میں جیش محمد کے چیف مسعود اظہر اور شیخ عمر کے ساتھ رہا کیا گیا۔ ان کی رہائی 1999 میں ہائی جیک کئے گئے انڈین ایئر لائنز طیارے آئی سی- 814 میں سوار مسافروں کے بدلے کی گئی تھی۔
یہ طیارہ نیپال کے تری بھون انٹرنیشنل ہوائی اڈے سے اندار گاندھی بین الاقوامی ہوائی اڈہ دہلی کی طرف جا رہا تھا اور اس کو ہائی جیک کرکے قندھار لے جایا گیا تھا۔
دنیا
اقوام متحدہ کے سربراہ کا بحری جہازوں پر حملے ختم کرنے پر زور، آبنائے ہرمز سے آمدورفت کے لیے طریقہ کار کی تجویز
نیویارک، اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے تجارتی بحری جہازوں اور شہری بنیادی ڈھانچے پر حملے فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اہم بحری راستوں میں خلل سے خوراک، توانائی اور کھاد کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور عالمی سطح پر بھوک کا مسئلہ مزید سنگین ہو رہا ہے۔
گوتریس نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کے تنازعات اور یوکرین کی جنگ اہم بحری راستوں میں خلل ڈال رہی ہیں اور ’’عالمی تجارت کی شریانوں کو مفلوج‘‘ کر رہی ہیں۔
انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’صرف آبنائے ہرمز میں ہی بحری آمدورفت تقریباً مکمل طور پر رک گئی ہے۔‘‘
گوتریس کے مطابق تنازع شروع ہونے کے بعد سے تیل کی قیمتوں میں تقریباً 33 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ عالمی کنٹینر شپنگ کے نرخ ایک سال پہلے کے مقابلے میں 84 فیصد بڑھ چکے ہیں۔ کھاد اور دیگر ضروری زرعی اشیا کی قیمتوں میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
اقوام متحدہ کے سربراہ نے کہا کہ جہاز رانی کے حقوق اور آزادی محض سیاسی اصول نہیں بلکہ بین الاقوامی قانون کے تحت عائد ذمہ داریاں ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’ہمیں بین الاقوامی قانون، بشمول سمندری قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کا مکمل احترام، شہری بحری جہازوں، بنیادی ڈھانچے اور شہری ملاحوں کا تحفظ اور جہاز رانی کے حقوق و آزادیوں کو برقرار رکھنا ہوگا۔‘‘
انہوں نے بحیرہ اسود میں تجارتی بحری جہازوں اور شہری بنیادی ڈھانچے پر ’’فوری طور پر حملے بند کرنے‘‘، آبنائے ہرمز میں ’’جہاز رانی کے حقوق بحال کرنے‘‘ اور بحیرہ احمر اور باب المندب کے اطراف بحری جہازوں پر حملے ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔
گوتریس نے کہا، ’’سمندری گزرگاہیں کبھی بھی دباؤ ڈالنے کا ذریعہ نہیں بننی چاہئیں۔ اور دنیا کی خوراک کی فراہمی کو کبھی بھی تنازعات کا ضمنی نقصان نہیں بننا چاہیے۔‘‘
انہوں نے بتایا کہ اقوام متحدہ نے ایک مجوزہ طریقہ کار تیار کیا ہے، جس کا ابتدائی مقصد آبنائے ہرمز کے ذریعے کھاد اور اس سے متعلق خام مال کی نقل و حرکت میں سہولت فراہم کرنا ہے۔
گوتریس کے مطابق یہ طریقہ کار اقوام متحدہ کے ایک ٹاسک فورس نے تیار کیا ہے، جو مارچ میں قائم کی گئی تھی اور جس کی سربراہی اقوام متحدہ کے دفتر برائے پروجیکٹ سروسز کر رہا ہے۔ اس میں اقوام متحدہ کی تجارت و ترقی کانفرنس (انکٹاڈ)، بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن اور بین الاقوامی چیمبر آف کامرس شامل ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس طریقہ کار کے تحت بحری جہازوں کی رجسٹریشن اور تصدیق کے ساتھ ساتھ عمان میں ایک ’’ڈی کنفلکشن‘‘ یعنی فریقین کے درمیان ممکنہ تصادم سے بچنے کے لیے رابطہ کاری کا نظام قائم کیا جائے گا۔
گوتریس نے کہا، ’’ہم اسے عملی شکل دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔‘‘ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ یہ طریقہ کار اسی وقت کام کر سکتا ہے جب تنازع میں شامل تمام فریق اس پر رضامند ہوں۔
اقوام متحدہ غیر جانب دار سہولت کار کا کردار ادا کرے گا، جبکہ یہ طریقہ کار آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں دے گا اور نہ ہی بین الاقوامی قانون کے تحت کسی ریاست کے حقوق و ذمہ داریوں میں کوئی تبدیلی کرے گا۔
گوتریس نے کہا، ’’خودمختار فیصلے مکمل طور پر شریک رکن ممالک کے پاس ہی رہیں گے۔‘‘
مجوزہ طریقہ کار کا مقصد فوری خطرات کو کم کرنا، بحری آمدورفت کو زیادہ قابلِ پیش گوئی بنانا اور سفارت کاری و کشیدگی میں کمی کے لیے درکار اعتماد بحال کرنا ہے۔
گوتریس نے کہا کہ متعلقہ فریق پہلے ہی مجوزہ طریقہ کار کے عملی طریقہ کار سے تفصیلی طور پر آگاہ ہیں اور انہوں نے ان پر تعاون کرنے پر زور دیا۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا اس طریقہ کار کو چلانے کے لیے اقوام متحدہ کو ایران یا اس کی اسلامی انقلابی گارڈ کور سے اجازت درکار ہوگی تو گوتریس نے اقوام متحدہ کے اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ جہاز رانی کی آزادی کا احترام کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا، ’’اگر کسی مرحلے پر یہ ممکن نہ ہو تو ہم فریقین کی رضامندی سے ایسا طریقہ کار قائم کرنے کے لیے تیار ہوں گے جو یقیناً ریاستوں کے خودمختار حقوق استعمال نہیں کرے گا۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’اس کے لیے متعلقہ ریاستوں کی خودمختار رضامندی ضروری ہوگی۔‘‘
گوتریس نے زور دیا کہ مجوزہ انتظام جہاز رانی کی آزادی بحال کرنے یا ان تنازعات کے حل کا متبادل نہیں ہے جو موجودہ خلل کا باعث بن رہے ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’جہاز رانی کے حقوق اور آزادیوں کا بلا رکاوٹ استعمال امن، سلامتی اور مشترکہ خوشحالی کی بنیاد ہے اور اس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ اس کا تحفظ قانونی ذمہ داری اور انسانی ضرورت ہے۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
ہندستانی دفاعی صنعتوں کو ملے گی ڈی آر ڈی او کے روایتی میزائل نظام کی ٹیکنالوجی
نئی دہلی، دفاعی شعبے میں خود انحصاری کے وژن کو شرمندۂ تعبیر کرنے اور ملک میں میزائل سازی کو فروغ دینے کی سمت میں ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے، وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ نے دفاعی تحقیق و ترقی کی تنظیم (ڈی آر ڈی او) کی جانب سے تیار کردہ تمام روایتی میزائل نظام کی ٹیکنالوجی ہندستانی دفاعی صنعت کو ملک میں ہی پیداوار کے لیے منتقل کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے سے اب ملک میں دفاعی شعبے کی نجی کمپنیاں بھی میزائل سازی کر سکیں گی اور میزائلوں کی در آمد پر انحصار میں کمی آئے گی۔
وزارتِ دفاع نے منگل کے روز بتایا کہ ٹیکنالوجی کی یہ منتقلی گھریلو صنعتوں کو مقررہ اہلیتوں، سرٹیفکیشن اور ضوابط کی ضروریات کے مطابق دیسی پیداوار کے قابل بنا کر دفاعی شعبے کے سازگار ماحول میں ان کی زیادہ سے زیادہ شراکت کو فروغ دینے کی سمت میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔
وزیرِ دفاع کے دفتر نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ میں کہا، “اس التزام سے میزائل نظام کی ترقی سے صنعتی پیداوار کی طرف کامیابی کے ساتھ آگے بڑھنے کے عمل میں مدد ملے گی۔ یہ جدید دفاعی نظام کی ترقی اور ساخت کے لیے ہندستانی صنعت کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کی ڈی آر ڈی او کی مسلسل کوششوں کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کا مقصد گھریلو پیداواری صلاحیتوں کو بڑھانا، دفاعی صنعتی بنیاد کو مضبوط کرنا نیز سپلائی چین میں ہندستانی ایم ایس ایم ای اور دیگر ٹیکنالوجی شراکت داروں کی شرکت کے لیے مواقع پیدا کرنا ہے۔”
اس اقدام کا مقصد عملی صلاحیت میں اضافہ کرنا، در آمدات پر انحصار گھٹانا نیز معیار اور افادیت کو بڑھانے کے لیے گھریلو سطح پر اصلاحات یا تبدیلیوں کو فروغ دینا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس سے ہندستان کے دفاعی مینوفیکچرنگ کے شعبے کی ترقی میں بھی تعاون حاصل ہوگا۔ ڈی آر ڈی او جدید دفاعی ٹیکنالوجیز کی منتقلی، انہیں اپنی ضروریات کے مطابق ڈھالنے اور دفاعی نظام میں شامل کرنے کے عمل کو آسان بنانے نیز ملک کی دیسی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط کرنے کے مقصد سے ہندستانی صنعت کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
یو این آئی ایف اے
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر کے ڈی جی پی نے عید میلاد النبی اور آئندہ تقریبات کے لیے سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا
سری نگر، جموں و کشمیر کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) نے منگل کے روز عید میلاد النبی اور آئندہ ہونے والی دیگر تقریبات، جن میں رکشا بندھن بھی شامل ہے، کے لیے سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے وادی میں خصوصاً اہم درگاہوں، مساجد اور دیگر مذہبی مقامات کے اطراف سخت نگرانی، فعال پولیسنگ اور فول پروف سکیورٹی انتظامات کی ہدایت دی۔
پولیس کنٹرول روم (پی سی آر) کشمیر میں منعقدہ اجلاس میں سینئر پولیس افسران نے شرکت کی۔ پولیس کے مطابق اجلاس میں سکیورٹی تیاریوں، فورسز کی تعیناتی، بھیڑ کے نظم و نسق اور ٹریفک کو منظم کرنے کے اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا تاکہ تمام تقریبات پرامن اور محفوظ انداز میں منعقد ہوسکیں۔
ڈی جی پی نے خاص طور پر حضرت بل درگاہ اور دیگر اہم مذہبی مقامات پر سکیورٹی کے فول پروف انتظامات پر زور دیا، جہاں رات بھر کی عبادت اور بڑی تعداد میں عقیدت مندوں کی آمد متوقع ہے۔ افسران کو ہدایت دی گئی کہ مناسب سکیورٹی تعیناتی یقینی بنانے کے ساتھ تمام فیلڈ یونٹس کے درمیان قریبی رابطہ برقرار رکھا جائے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹا جاسکے۔
ڈی جی پی نے حساس اور خطرے سے دوچار مقامات پر نگرانی مزید مضبوط بنانے اور اہم و زیادہ بھیڑ والے علاقوں میں مناسب فورس تعینات کرنے کی بھی ہدایت دی۔ مذہبی مقامات اور جلوس کے راستوں کے اطراف ٹریفک کو منظم کرنے اور روٹ مینجمنٹ کا مؤثر منصوبہ تیار کرنے پر بھی زور دیا گیا۔
رکشا بندھن کے انتظامات کا جائزہ لیتے ہوئے انہوں نے بازاروں اور مندروں میں پیشگی سکیورٹی و ٹریفک انتظامات یقینی بنانے اور اہم مذہبی مقامات پر نگرانی بڑھانے کی ہدایت دی۔
اجلاس کے اختتام پر ڈی جی پی نے کہا کہ جموں و کشمیر میں آئندہ تمام تقریبات کے پرامن، محفوظ اور خوش اسلوبی سے انعقاد کے لیے ضروری انتظامات پیشگی مکمل کیے جائیں۔
یو این آئی۔ م س
-
دنیا1 week agoپوپ لیو کا مطالبہ: مغربی کنارے میں تشدّد بند کیا جائے
-
پاکستان1 week agoپاکستان کی سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا
-
ہندوستان1 week agoیو جی سی – نیٹ کے تین مضامین کا امتحان دوبارہ کرانے پر جواب دیں مودی: راہل
-
ہندوستان1 week agoمحض 24 گھنٹوں میں ہی سامنے آ گیا کہ کس کے دماغ میں ’نکسل‘ ہے: بی جے پی
-
ہندوستان1 week agoطلبہ کے مطالبات پر راہل گاندھی نے ہیمنت سورین سے مداخلت کی اپیل کی، مظاہرین سے ملنے کی خواہش ظاہر کی
-
ہندوستان1 week agoٹرمپ کا ہندوستان کے انتخابی نظام کو ماڈل قرار دے کر۔ دو آخری واشنگٹن
-
دنیا1 week agoامریکہ نے بات چیت میں رکاوٹ ڈالنے پر عمان کو دھمکی دی
-
دنیا1 week agoاردوغان کی ٹرمپ سے ایران کے ساتھ بات چیت جاری رکھنے کی اپیل
-
ہندوستان1 week agoملک میں ‘پیپر لیک نکسل’ کو ختم کرنے کی ضرورت: کانگریس
-
ہندوستان1 week agoہریانہ، پنجاب میں 17-18 اگست کو شدید بارش کی پیش گوئی، ہماچل اور جموں و کشمیر میں بہت شدید بارش کا خدشہ
-
جموں و کشمیر1 week agoشری بوڈھا امرناتھ یاترا کا آغاز، منوج سنہا نے پہلے جتھے کو کیا روانہ
-
دنیا1 week agoکشنر نیتن یاہو سے ملاقات کرکے ٹرمپ کے غزہ منصوبے کو آگے بڑھائیں گے
