ہندوستان
ہندستان نے آر ایس ایس کے بارے میں امریکی تنظیم کی رپورٹ مسترد کی، کہا یہ تنظیم تعصب پسند: وزارت خارجہ
نئی دہلی، ہندستان نے امریکہ کی ایک تنظیم کی راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) پر پابندی لگانے والی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کی تعصب پسند تنظیموں سے دور رہنا چاہیے وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے جمعہ کو میڈیا بریفنگ میں اس سلسلے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ امریکی تنظیم یو ایس سی آئی آر ایف (یو ایس کمیشن آن انٹرنیشنل ریلیجئس فریڈم) تعصب برتنے والی تنظیم ہے اور اس طرح کی تنظیموں سے دوری بنا کر رکھنی چاہیے۔ ترجمان نے کہا کہ یہ تنظیم طویل عرصے سے ہندستان کے سلسلے میں توہین آمیز اور اشتعال انگیز تبصرے کرتی رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تنظیم اپنے ایجنڈے پر کام کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کی ساکھ قابل اعتماد اور بھروسے مند نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی تنظیموں سے دوری بنا کر رکھنی چاہیے۔
قابل ذکر ہے کہ اس تنظیم نے اپنی رپورٹ میں امریکہ سے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ پر پابندی لگانے کی اپیل کی ہے۔ تنظیم کی یہ رپورٹ سنگھ سربراہ موہن بھاگوت کے دورۂ امریکہ سے کچھ دن پہلے آئی ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
وندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
نئی دہلی، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کانگریس کے قومی گیت ‘وندے ماترم’ کے مکمل گانے کے بجائے صرف شروعات کے دو بند گائے جانے کے فیصلے کو غیر آئینی، افسوس ناک اور قابل مذمت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سیاسی نقطہ نظر سے مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا ہے وزیر دفاع نے جمعہ کو سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پوسٹ میں اس فیصلے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ سے منظور شدہ کوئی بھی قانون ہر شخص کے لیے واجب التعمیل ہوتا ہے۔ اگر کوئی قانون کو نہیں مانتا تو آئین کے تئیں اس کی وفاداری شک کے دائرے میں آ جاتی ہے اور اس کی حب الوطنی پر سوالیہ نشان لگتا ہے۔
راج ناتھ سنگھ نے کہا، “کانگریس کے ذریعہ وندے ماترم کا احترام کرنے سے باضابطہ طور پر نہ صرف انکار کرنا، بلکہ براہ راست مخالفت کرنا، انتہائی افسوس ناک اور آئینی نقطہ نظر سے بہت سنگین معاملہ ہے۔ ہندوستان کے آئین کے مطابق، پارلیمنٹ ملک کا اعلیٰ ترین ادارہ ہے اور پارلیمنٹ سے منظور شدہ کوئی بھی قانون ہر شخص کے لیے واجب التعمیل ہے۔ اگر کوئی اسے ماننے سے انکار کرتا ہے تو یقیناً آئین کے تئیں اس کی وفاداری شک کے دائرے میں آ جاتی ہے اور اگر قومی ترانے کا احترام کرنے سے کوئی انکار کرتا ہے تو اس کی حب الوطنی پر بھی سوالیہ نشان لگ جاتا ہے۔”
وزیر دفاع نے کہا کہ کانگریس 1937 کی جس قرارداد کی بات کرتی ہے، وہ کانگریس نے مسلم لیگ کے بنیاد پرستی پرمبنی مطالبات کے آگے گھٹنے ٹیک کر منظور کی تھی اور اس کا خمیازہ مستقبل میں ملک کو تقسیم کی صورت میں بھگتنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ بنیادپرست عناصر کے آگے سمجھوتہ کرنا، ہمیشہ ملک کے لیے مہلک ثابت ہوا ہے اور آج کانگریس جب بنیادپرست عناصر کے آگے اسی طرح خودسپردگی کر رہی ہے، تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے سنگین خطرے کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا، “میں مانتا ہوں کہ کانگریس کا یہ فیصلہ سراسر غیر آئینی اور قابل مذمت ہے ساتھ ہی سیاسی نقطہ نظر سے مستقبل میں ایک سنگین بحران پیدا کرنے والا ہے۔ وندے ماترم کی مخالفت کر کے کانگریس نے اپنے نا سمجھی بھرے خطرناک ارادوں کو ملک کے سامنے ظاہر کر دیا ہے۔”
قابل ذکر ہے کہ کانگریس ورکنگ کمیٹی کے حال ہی میں منعقدہ اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ کانگریس اپنے پروگراموں میں قومی گیت ‘وندے ماترم’ کو مکمل طورپر نہیں گائیگی اور پہلے کی طرح صرف شروعات کے دو بند ہی گائے جائیں گے۔
حکومت نے مانسون سیشن میں بل منظور کر کے قومی گیت ‘وندے ماترم’ کو قومی ترانے کے مساوی درجہ دیتے ہوئے اس کی توہین کرنے والے کے لیے سزا اور جرمانے کا التزام کیا ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
مودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
ئی دہلی، وزیراعظم نریندر مودی نے جمعہ کو پہلے سیوا تیرتھ میں خلائی شعبے کی 20 اسٹارٹ اپ کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹو افسران (سی ای اوز) اور بانیوں کے ساتھ بات چیت کی انہوں نے خلائی صنعت میں قدم رکھنے کی جرأت کا مظاہرہ کرنے پر انہیں مبارکباد دی اور کہا کہ اس سے خلائی شعبے کو نجی شعبے کے لیے کھولنے کے حکومت کے وژن کو تقویت ملی ہے۔
وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری ایک بیان کے مطابق وزیراعظم نے خلائی شعبے کے ان نئے رہنماؤں کو نئے میدان میں جرأت اور پہل کرنے پر مبارکباد دی۔
انہوں نے کہا کہ صنعت کی جانب سے ظاہر کیا گیا اعتماد اس وژن کو مزید مضبوط کرتا ہے، جس کے تحت ہندوستان کے خلائی شعبے کو نجی شراکت داری کے لیے کھولا گیا تھا۔
مسٹر مودی نے کہا کہ کئی ممالک یا تو خلائی شعبے میں سرمایہ کاری کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں یا وہاں ایسا کرنے کی خواہش موجود نہیں ہے۔ اس صورتحال سے ہندوستان کے پاس عالمی خلائی شعبے میں اپنی پوزیشن تیزی سے مضبوط کرنے کا ایک بڑا موقع ہے۔
اس بات چیت میں راکٹ اور دوبارہ قابلِ استعمال سیمی کریوجینک لانچ وہیکلز، ایویانکس، سیٹلائٹس، جدید پروپلشن سسٹمز، خلائی اور دفاعی انٹیلی جنس، خلاء میں موجود ملبے کو ہٹانے اور مصنوعی ذہانت پر مبنی انتہائی مقامی موسمی اور آب و ہوا سے متعلق معلومات سمیت مختلف شعبوں میں کام کرنے والی اہم کمپنیوں کے نمائندے شامل ہوئے۔
ان اسٹارٹ اپ کمپنیوں کے نمائندوں نے وزیراعظم کی حمایت اور اعتماد کے لیے اظہار تشکر کرتے ہوئے ملک کی خلائی صنعت میں نجی اداروں کی پیش رفت اور اس شعبے کے مستقبل کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ملک میں مقامی صلاحیتوں اور ضروری ٹیکنالوجیز کی ترقی کے لیے انہوں نے کافی وقت اور کوشش صرف کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی ٹیمیں خلائی شعبے میں بلند حوصلہ اہداف حاصل کرنے کے لیے پوری لگن اور عزم کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔
اسٹارٹ اپ کمپنیوں کے نمائندوں نے کہا کہ خلائی شعبے کو نجی شراکت داری کے لیے کھولنے کے فیصلے سے صنعت میں زبردست جوش پیدا ہوا اور نئے مواقع کے دروازے کھلے ہیں۔
جاری۔یواین آئی۔ ط ا
ہندوستان
طلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
نئی دہلی، لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے کہا ہے کہ 20 جولائی کو کناٹ پلیس میں طلبہ پر پیلٹ گن کا استعمال ہوا ہے اور اس کے پختہ ثبوت ان کے پاس ہیں اس لیے اس معاملے میں ایف آئی آر درج کر کے قصوروار افراد کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔
مسٹر راہل گاندھی نے جمعہ کو یہاں پارلیمنٹ اسٹریٹ پولیس اسٹیشن میں طلباء تحریک کے دوران ساحل نامی ایک طالب علم پر پیلٹ گن کے استعمال کا حوالہ دیتے ہوئے اس معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا اور جب ایف آئی آر درج نہیں ہوئی تو وہ پارلیمنٹ اسٹریٹ پولیس اسٹیشن میں یہ کہتے ہوئے دھرنے پر بیٹھ گئے کہ جب تک ایف آئی آر نہیں لکھی جاتی وہ دھرنے کی جگہ سے نہیں ہٹیں گے۔ میڈیا کو اس کی اطلاع راہل کے پارلیمنٹ اسٹریٹ پولیس اسٹیشن پہنچتے ہی دی گئی تھی۔ خبریں سامنے آنے کے بعد بڑی تعداد میں کانگریس کارکنان بھی پارلیمنٹ اسٹریٹ پہنچ گئے۔ کئی کارکنان تھانے کے اندر پہنچ کر نعرے بازی کرتے بھی سنائی دیے۔ دھرنے کی جگہ پر راہل کے ساتھ پیلٹ گن سے متاثرہ ساحل، اس کے والد دیپک اور والدہ جیوتی کے علاوہ کانگریس رہنما محترمہ پرینکا گاندھی واڈرا، کماری شیلجا، ادھیر رنجن چودھری، سلمان خورشید، رندیپ سنگھ سرجے والا، جے رام رمیش، ہریش راوت سمیت کئی اہم رہنما موجود رہے۔
دھرنے کی جگہ پر میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا، ” طلبہ پر پیلٹ گن کا استعمال ہوا ہے اس کے ان کے پاس ثبوت ہیں۔” انہوں نے ساحل کے جسم پر لگے چھرے میڈیا اہلکاروں کو دکھاتے ہوئے کہا کہ اسی طرح کے تین چھرے اس نوجوان کی آنکھ میں ہیں۔ لیڈی ہارڈنگ ہسپتال کے ڈاکٹر کی رپورٹ میں بھی اس کے جسم میں چھرے ہونے کی بات صاف طور پر لکھی ہے۔ ان چھروں کی وجہ سے ساحل کی ایک آنکھ کی بینائی چلی گئی ہے اور اس کے دل کے پاس بھی چھرے ہیں، جنہیں چھوا نہیں جا سکتا۔ دہلی پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے پیلٹ گن کا استعمال نہیں کیا، “تو سوال ایک ہی ہے کہ آپ نے نہیں چلائے تو کسی اور نے چھرے چلا دیے ہوں گے اور اگر کسی اور نے بھی چھرے چلائے ہیں تو بھی جرم ہوا ہے۔”
راہل نے کہا کہ ان کا مطالبہ صرف ایف آئی آر درج کرنے کا ہے۔ ان کے ساتھ متاثرہ نوجوان ساحل کی والدہ جیوتی اور والد دیپک بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں بتایا گیا ہے کہ اوپر سے حکم آیا ہے کہ ایف آئی آر درج نہیں کرنی ہے، لیکن جب تک ایف آئی آر درج نہیں ہوتی، وہ یہاں سے نہیں جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک میں ہزاروں لوگوں کے ساتھ اس طرح کے واقعات ہوتے ہیں۔ خواتین کے ساتھ عصمت دری اور غریبوں کے ساتھ جرائم ہوتے ہیں نیز نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں پیلٹ گن چلائی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ خاندان کے لیے انصاف مانگ رہے ہیں اور ایف آئی آر درج ہونے تک یہاں سے نہیں جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ صبح وہ خود مندر مارگ تھانے گئے تھے، لیکن وہاں ایف آئی آر درج کرنے سے منع کر دیا گیا اور انہیں یہاں بھیجا گیا اور اب ایف آئی آر درج ہونے کے بعد ہی وہ یہاں سے جائیں گے۔
راہل نے کہا کہ پرامن احتجاج کے خلاف ایسی بربریت سنگین جرم ہے۔ اس واقعے کے لیے نہ وزیر داخلہ امت شاہ نے طلبہ کو کوئی صفائی دی اور نہ وزیراعظم نے ان سے معافی مانگی ہے۔ اب ایف آئی آر ہوگی، عدالتی جانچ ہوگی اور اوپر سے نیچے تک جو بھی اس بربریت کے قصوروار ہیں، ان تمام پر کارروائی ہوگی۔
اس دوران ساحل نے میڈیا سے کہا کہ 20 جولائی کو اس پر پیلٹ گن سے گولی چلائی گئی تھی۔ اسے لیڈی ہارڈنگ ہسپتال میں داخل کرایا گیا، جہاں سے ایمس ریفر کیا گیا۔ ایمس میں اس کی سرجری ہوئی لیکن اس کی آنکھ کی بینائی ابھی بھی واضح نہیں ہے۔ اس نے 14 اگست کو سات صفحات پر مشتمل شکایت اپنے وکیل کے ذریعے دی تھی لیکن ابھی تک ایف آئی آر درج نہیں ہوئی ہے۔ کانگریس ایم پی کشوری لال شرما نے کہا، “ایف آئی آر درج کروانا ہمارا جمہوری حق ہے۔ پیلٹ گن کی گولی سے متاثرہ نوجوان اتنے دنوں سے بھٹک رہا ہے اور اس کی ایف آئی آر درج نہیں ہو رہی ہے۔ اس لیے راہل اس کی ایف آئی آر درج کروانے کے لیے یہاں آئے۔ آپ دیکھیے کہ جمہوریت کا کتنا قتل ہو رہا ہے کہ ایک عام شہری کے حقوق کے لیے بھی قائد حزب اختلاف کو اس کی ایف آئی آر درج کروانے آنا پڑ رہا ہے۔”
یو این آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
ہندوستان1 week agoملک کی اجتماعی یادداشت کے محافظ اور مستقبل کے تصور کے خالق ہیں فنکار: مرمو
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیری پنڈتوں کے لیے ’گھر سے کام‘ کا کوئی حکم جاری نہیں کیا گیا: ڈویژنل کمشنر
-
دنیا1 week agoغزہ سٹی کے پولیس سربراہ اسرائیلی حملوں میں ہلاک، اسرائیل کی مہلک کارروائیاں جاری
-
جموں و کشمیر1 week agoمحبوبہ نے بی جی ایس بی یو کے بحران کی نشاندہی کرتے ہوئے طلبہ کے متاثر ہونے سے پہلے حکومت سے کارروائی کی اپیل کی
-
ہندوستان1 week agoکھرگے کی توہین پر پرینکا نے جتایا سخت اعتراض، مودی سے مانگا جواب
-
جموں و کشمیر1 week agoیومِ آزادی سے قبل جموں میں عظیم الشان ترنگا ریلی نکالی گئی
-
دنیا1 week agoکولمبیا کے صدر نے معاشی ہنگامی حالت نافذ کی
-
دنیا1 week agoعمان کے تباہ حال ٹینکر سے ساحل تک تیل پہنچ گیا، 40 کلومیٹر ساحلی پٹی متاثر
-
ہندوستان7 days agoعالمی عدم استحکام کے باوجود سب سے تیز رفتار سے بڑھ رہی ہے ہندستانی معیشت: مرمو
-
دنیا1 week agoنیپال کے رولپا میں لینڈ سلائیڈنگ سے ہلاکتوں کی تعداد 10 ہوگئی، 3 افراد تاحال لاپتہ
-
دنیا1 week agoلبنان میں ہماری فوج تعینات رہے گی:اسرائیل کاتز
