تازہ ترین
راہل مشتاق: غیر ملکی نسل کے مرغوں کا پالٹری فارم قائم کرنے والا نوجوان
سری نگر،7 مارچ (یو این آئی) وادی کشمیر میں جہاں لوگوں کو کھانے کے لئے چکن فراہم کرنے کی غرض سے پولٹری فارم قائم کئے جاتے ہیں وہیں سری نگر سے تعلق رکھنے والے ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان نے ایک ایسے پولٹری فارم کا قیام وجود میں لایا ہے جہاں لوگ چکن کھانے کے لئے بلکہ گھروں کی زینت و زیبائش بڑھانے کےشوق کو پورا کرنے کے لئے غیر ملکی نسل کے مرغوں کے جوڑے خریدتے ہیں۔
سری نگر کے الٰہی باغ سے تعلق رکھنے والے راہل مشتاق نے سال 2021 میں کشمیر یونیورسٹی سے ایم بی اے کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد باہر جاکر کسی کمپنی میں نوکری کرنے کے بجائے غیر ملکی نسل کے مرغوں کا پولٹری فارم قائم کیا ہے جو نہ صرف ان کے بچپن کے شوق پورا کرنے کا ایک ذریعہ ہے بلکہ ان کے روزگار کا بھی ایک موثر وسیلہ ہے۔انہوں نے یو این آئی کے ساتھ اپنی گفتگو کے دوران کہا: ’جانوروں کو پالنے پوسنے کا شوق بچپن سے ہی تھا اور اب یہی شوق میرا کاروبار اور روزی روٹی کا ذریعہ بھی بن گیا‘۔
ان کا کہنا تھا: ’کورونا لاک ڈاؤن کے دوران جب سب کچھ ٹھپ تھا تو میں نے ولایت سے مرغوں کے کچھ جوڑے لائے اور آن لائن ان کی نمائش کی تو ایک اچھا رسپانس ملنے لگا‘۔
موصوف نوجوان نے کہا کہ ترکی جہاں مختلف ملکوں جیسے امریکہ،نیدر لینڈ، آئر لینڈ وغیر کے مرغوں کے نسل کے انڈے دستیاب ہوتے ہیں میں وہاں سے انڈے اور مرغے بھی لاتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ میرے پاس اس وقت پچیس سے تیس قسموں کی نسل کے مرغوں کے جوڑے موجود ہیں جن کی قیمتیں بھی الگ الگ ہیں۔ان کا کہنا تھا: ’میں نے اس کاروبار میں دس سے پندرہ لاکھ روپیوں کی سرمایہ کاری کی اور میرا یہ کاروبار فروغ پا رہا ہے‘۔
راہل مشتاق نے کہا کہ امریکن نسل کے مرغے کے ایک جوڑے کی قیمت پچاس سے سٹھ ہزار روپیے ہے۔انہوں نے کہا: ’لوگ اپنا شوق پورا کرنے کے لئے آتے میرے فارم پر آتے ہیں اور اپنی پسند کے جوڑے خریدتے ہیں‘۔ان کا کہنا تھا کہ اس وقت میرے پاس مختلف قسموں کے قریب دو سو جوڑے موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ جس جوڑے کی قیمت دس ہزار روپیے ہے اس کے انڈے کی قیمت دو سو روپیے ہے۔
موصوف نوجوان نے کہا کہ مجھے مختلف ریاستوں سے آن لائن آڈرز بھی ملتے ہیں جن کو میں ان کی پسند کے جوڑے بھیجتا ہوں۔انہوں نے کہا: ’یہ ایک اچھا کاروبار ہے جتنی محنت کی جائے گی اتنا یہ بھی ترقی کرسکتا ہے‘۔ان کا کہنا تھا کہ لوگوں میں اس کے متعلق جس قدر جانکاری پھیل رہی ہے اسی قدر یہ کاروبار بھی ترقی کی منزلیں طے کرتا ہے۔
راہل مشتاق نے وادی کے اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کو مشورہ دیا کہ ڈگری حاصل کرنے کے بعد نوکری کی تلاش میں بیٹھنے سے بہتر ہے کہ اپنا کوئی کاروبار شروع کیا جائے۔انہوں نے کہا: ’ایسا کرنے سے ہم نہ صرف اپنا روزگار کما سکتے ہیں بلکہ دوسروں کی روزی روٹی کی سبیل بھی کرسکتے ہیں‘۔ان کا کہنا تھا کہ محنت کرنے سے کسی بھی منزل تک پہنچا جا سکتا ہے اور اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے اپنے آپ کو کسی کمپنی میں نوکری کرنے تک محدود رکھنا صحیح نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ میں نے کے اے ایس کے لئے پری لمنری امتحان بھی کوالیفائی کیا لیکن اپنے شوق کو ہی اپنے کاروبار کے بطور اختیار کیا۔
دنیا
چین اور نیپال کے سرحدی علاقے میں بڑے پیمانے پر لینڈ سلائیڈنگ، بھاری جانی نقصان
گیرونگ، چین اور نیپال کے درمیان سرحدی علاقے میں بڑے پیمانے پر لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں بدھ کی شب سینکڑوں افراد، جن میں بڑی تعداد میں غیر ملکی سیاح بھی شامل ہیں، لاپتہ رہے۔
چینی سرکاری میڈیا کے مطابق، لینڈ سلائیڈنگ صبح تقریباً 9 بجے نیپال میں شروع ہوئی اور بعد میں تبت کے گیرونگ کاؤنٹی تک پھیل گئی۔ یہ آفت شیگاتسے شہر کے زیر انتظام ایک سرحدی چیک پوسٹ سے ٹکرائی، جہاں حکام نے ’’بڑے پیمانے پر جانی نقصان اور افراد کے لاپتہ ہونے‘‘ کی اطلاع دی ہے۔
ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کے مطابق، آن لائن گردش کرنے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لینڈ سلائیڈنگ چند ہی سیکنڈ میں چیک پوسٹ کی جانب بڑھی، جس پر لوگ اپنی جان بچانے کے لیے بھاگنے لگے، جبکہ اس کے بعد کیچڑ اور ملبے نے پورے علاقے کو ڈھانپ لیا۔
نیپال میں ٹورزم بورڈ نے بتایا کہ 384 سیاح اور مسافر لاپتہ ہیں، جن میں 93 نیپالی شہری اور 291 غیر ملکی شامل ہیں۔ لاپتہ غیر ملکیوں میں ہندوستان، آسٹریلیا، امریکہ، برطانیہ اور نیدرلینڈز کے شہری شامل ہیں، جبکہ مزید 111 افراد کی قومیت کی ابھی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔
چین کے صدر شی جن پنگ نے مقامی حکام کو لاپتہ افراد کی تلاش اور انہیں بچانے، متاثرہ آبادی کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے، زخمیوں کے علاج اور جانی نقصان کو کم سے کم رکھنے کے لیے ’’ہر ممکن کوشش‘‘ کرنے کی ہدایت دی۔انہوں نے نگرانی اور پیشگی انتباہ کے نظام کو مزید مضبوط بنانے اور ثانوی آفات سے بچاؤ کے لیے اقدامات کرنے پر بھی زور دیا
چینی فوج اور پیپلز آرمڈ پولیس کے اہلکاروں کو امدادی اور بچاؤ کی کارروائیوں میں مدد کے لیے متاثرہ علاقے میں تعینات کیا گیا ہے۔ حکام نے گیرونگ چیک پوسٹ کی جانب جانے والی سڑک کو سات روز کے لیے بند کر دیا ہے۔
سرکاری تعمیراتی اور ہنگامی امدادی کمپنی چائنا اینینگ کنسٹرکشن گروپ نے 200 امدادی کارکنوں، ماہرین ارضیات اور انجینئرز کو جائے حادثہ پر بھیجا ہے، جبکہ مزید 100 اہلکاروں کو تیار رکھا گیا ہے۔ ژنہوا کے مطابق امدادی ٹیمیں بھاری مشینری اور جدید آلات، جن میں نگرانی کرنے والے ڈرون، تھری ڈی لیزر اسکینرز اور زندگی کا سراغ لگانے والے آلات شامل ہیں، ساتھ لے گئی ہیں۔
لینڈ سلائیڈنگ سے ایک اہم تجارتی سرحدی گزرگاہ بھی متاثر ہوئی ہے۔ گیرونگ پورٹ تبت کی اہم ترین غیر ملکی تجارتی بندرگاہ ہے اور چین اور نیپال کے درمیان زیادہ تر تجارت اسی راستے سے ہوتی ہے۔ 2022 میں کورونا وبا کے بعد دوطرفہ مسافروں اور مال بردار گاڑیوں کی آمدورفت دوبارہ شروع ہونے کے بعد اس بندرگاہ سے گزرنے والی ٹریفک میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس میں نیپال کو چینی الیکٹرک گاڑیوں کی برآمد بھی شامل ہے۔
نیپال میں چینی سفارتخانے نے کہا ہے کہ اس نے ہنگامی ردعمل کا نظام فعال کر دیا ہے اور متاثرہ علاقے میں موجود چینی شہریوں اور کمپنیوں کے بارے میں معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔
سفارتخانے نے نیپالی حکومت پر بھی زور دیا ہے کہ وہ متاثرہ علاقے میں بڑے پیمانے پر امدادی اور بچاؤ کی کارروائیاں انجام دے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
سعودی عرب کے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے بدلے شہری جوہری ٹیکنالوجی معاہدہ: وائٹ ہاؤس
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ شہری جوہری تعاون کے مجوزہ معاہدے کو کانگریس بھیج دیا ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا ہے کہ یہ معاہدہ اسی صورت میں آگے بڑھے گا جب ریاض اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے پر رضامند ہوگا۔
جولائی میں طے پانے والے اس معاہدے کو پیر کے روز کانگریس میں پیش کیا گیا۔ اس کے تحت امریکی کمپنیاں سعودی عرب کو شہری جوہری ٹیکنالوجی برآمد کر سکیں گی، جس میں اے پی1000 ری ایکٹرز کی تعمیر کے منصوبے بھی شامل ہیں۔
یہ منصوبہ دسیوں ارب ڈالر مالیت کا ہو سکتا ہے اور اس سے ویسٹنگ ہاؤس کو فائدہ پہنچے گا، جو کینیڈا میں قائم کیمیکو اور بروک فیلڈ اثاثہ جاتی انتظامیہ کی مشترکہ ملکیت ہے۔
امریکی انتظامیہ کے ایک عہدیدار نے دی ٹائمز آف اسرائیل کو بتایا کہ، ’’صدر کا مؤقف تبدیل نہیں ہوا کہ یہ معاہدہ اسی صورت میں آگے بڑھے گا جب سعودی عرب ابراہیم معاہدوں میں شامل ہوگا۔‘‘
ابراہیم معاہدوں سے مراد امریکہ کی ثالثی میں ہونے والے وہ معاہدے ہیں جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لائے تھے۔
یہ شرط اس وقت عائد کی گئی جب جولائی میں ابتدائی طور پر معاہدہ سعودی-اسرائیلی تعلقات کو معمول پر لانے کی واضح شرط کے بغیر طے کیا گیا تھا۔ اس پر اسرائیل اور اس کے حامیوں کی جانب سے شدید تنقید کی گئی، جو ایسی کسی بھی جوہری ڈیل کی پیش رفت کے سخت مخالف تھے جس میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی شرط شامل نہ ہو۔
اب یہ معاہدہ کانگریس کے 90 قانون ساز اجلاسوں کے دنوں پر مشتمل جائزے کے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ معاہدے کو کانگریس بھیجنے سے ٹرمپ کے وسیع تر مقصد، یعنی ریاض سے اسرائیل کو باضابطہ طور پر تسلیم کروانے میں کس حد تک پیش رفت ہوگی۔
اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا معاملہ خاص طور پر پیچیدہ ہے، کیونکہ سعودی عرب نے اسرائیل کو تسلیم کرنے سے قبل فلسطینی ریاست کے قیام کی جانب ناقابل واپسی راستے کی ضمانت کا مطالبہ کر رکھا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو اور ان کی حکومت نے اس شرط کو واضح طور پر مسترد کر دیا ہے۔
سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان تعلقات معمول پر لانے کی ابتدائی کوششوں میں 2023 میں نمایاں پیش رفت ہوئی تھی، تاہم 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے اور اس کے بعد غزہ میں شروع ہونے والی جنگ نے اس پیش رفت کو تیزی سے متاثر کر دیا، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات معمول پر لانے کے امکانات مزید کم ہوگئے۔
اس جوہری معاہدے کو جوہری عدم پھیلاؤ کے حفاظتی اقدامات کے حوالے سے بھی تنقید کا سامنا ہے۔ واشنگٹن اور متحدہ عرب امارات کے درمیان 2009 کے شہری جوہری معاہدے کے برعکس سعودی معاہدے میں واضح طور پر ریاض کو یورینیم افزودگی یا استعمال شدہ جوہری ایندھن کی دوبارہ پروسیسنگ کی ٹیکنالوجی حاصل کرنے سے نہیں روکا گیا، حالانکہ ان ٹیکنالوجیز کو ممکنہ طور پر جوہری ہتھیار بنانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ معاہدے میں امریکی قانون کے تحت مطلوبہ جوہری عدم پھیلاؤ کے حفاظتی اقدامات شامل ہیں۔
تاہم نان پروولیفریشن پالیسی ایجوکیشن سینٹر کے ہنری سوکولسکی نے مؤقف اختیار کیا کہ کانگریس کے جائزے کے نتیجے میں معاہدہ مزید سخت یورینیم افزودگی کی پابندیوں یا اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی شرط کے بغیر بھی آگے بڑھ سکتا ہے۔
سوکولسکی نے کہا، ’’اس عمل کا آغاز کرکے ٹرمپ نے یہ امکان پیدا کر دیا ہے کہ کانگریس معاہدے کو معمول پر لانے اور جوہری پھیلاؤ سے متعلق شرائط کے بغیر آگے بڑھنے کی اجازت دے سکتی ہے۔ اگر آپ واقعی یورینیم افزودگی نہ ہونے اور اسرائیل کو تسلیم کیے جانے کے معاملے میں سنجیدہ ہیں تو یہ یقیناً مثالی صورتحال نہیں ہے۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
کشمیر بھر میں عید میلاد النبی منائی گئی، ہزاروں عقیدت مندوں کا درگاہ حضرت بل میں ہجوم
سرینگر، پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا یوم ولادت، عید میلاد النبی بدھ کے روز پورے کشمیر میں مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ منایا گیا، جس کے دوران ہزاروں عقیدت مندوں نے سرینگر میں واقع درگاہ حضرت بل میں حاضری دی۔
حکام نے بتایا کہ عقیدت مندوں نے اس درگاہ پر نماز ادا کی، جہاں پیغمبر اسلام کی مقدس تبرکات موجود ہیں۔
نماز کے بعد عقیدت مندوں کے لیے موئے مقدس کی زیارت بھی کروائی گئی۔ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے حضرت بل میں ظہر کی نماز ادا کی اور جموں و کشمیر میں امن، خوشحالی اور ترقی کے لیے دعا کی۔ جموں و کشمیر وقف بورڈ نے عقیدت مندوں کے بڑے اجتماع کے پیش نظر درگاہ پر خصوصی انتظامات کیے تھے۔
اس موقع کی مناسبت سے حضرت بل اور وادی بھر کی متعدد دیگر مساجد کو سجا کر چراغاں کیا گیا تھا۔ کشمیر بھر میں مختلف مقامات پر میلاد کے اجتماعات بھی منعقد کیے گئے، جہاں مذہبی علماء اور خطباء نے پیغمبر اسلام کی زندگی، تعلیمات اور ان کے پیغام کے ساتھ ساتھ انسانیت کے لیے ان کی خدمات پر روشنی ڈالی۔
حکام نے عید میلاد النبی کے پیش نظر پورے کشمیر میں سخت چوکس رویہ اپنایا اور سیکیورٹی کے انتظامات کو مضبوط کیا، جس میں خاص توجہ ان بڑی درگاہوں، مساجد اور دیگر مذہبی مقامات پر مرکوز کی گئی جہاں بھاری اجتماعات دیکھے گئے۔
حکام نے بتایا کہ حضرت بل درگاہ اور دیگر اہم مذہبی مقامات پر فول پروف سیکورٹی انتظامات کیے گئے تھے، جہاں عقیدت مندوں نے شب و روز کی نمازوں اور مذہبی اجتماعات میں شرکت کی۔
یو این آئی۔ م س ۔ م الف
-
پاکستان1 week agoپاکستان کی سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا
-
ہندوستان1 week agoٹرمپ کا ہندوستان کے انتخابی نظام کو ماڈل قرار دے کر۔ دو آخری واشنگٹن
-
دنیا1 week agoاردوغان کی ٹرمپ سے ایران کے ساتھ بات چیت جاری رکھنے کی اپیل
-
دنیا1 week agoامریکہ نے بات چیت میں رکاوٹ ڈالنے پر عمان کو دھمکی دی
-
جموں و کشمیر1 week agoای او ڈبلیو کشمیر نے تحقیقات کو متاثر کرنے کی کوشش کرنے والے بڈگام کے شہری کے خلاف چارج شیٹ داخل کی
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
جموں و کشمیر1 week agoکولگام میں ہوئے حادثے میں سی آر پی ایف کے چار جوان اور ٹرک ڈرائیور زخمی
-
جموں و کشمیر1 week agoسجاد لون نے یومِ آزادی کی تقریبات کے بائیکاٹ کی خبر کو ’’بالکل بے بنیاد‘‘ قرار دیا
-
دنیا1 week agoایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر قالیباف عراق کا دورہ کریں گے
-
ہندوستان1 week agoذات پرمبنی مردم شماری پر مودی حکومت نے پھر ماری پلٹی: کانگریس
-
دنیا1 week agoاسرائیل غزہ میں ٹارگٹ کلنگ جاری رکھے گا:نیتن یاہو
-
دنیا5 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
