دنیا
ایرانی حملوں سے امریکی جاسوسی نیٹ ورک کو اربوں ڈالر کا نقصان: رپورٹ
نیویارک، ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں کے نتیجے میں مغربی ایشیا میں امریکی خفیہ اداروں کے ٹھکانوں اور نگرانی کے آلات کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے، جبکہ ان کی مرمت پر اربوں ڈالر خرچ ہونے کا اندازہ ہے۔ این بی سی نیوز نے یہ اطلاع دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، ایرانی حملوں میں سی آئی اے سے منسلک ٹھکانوں، نگرانی کے آلات اور امریکی فوج کے ساتھ شیئر کیے جانے والے انٹیلی جنس آلات کو نشانہ بنایا گیا۔ اس کے نتیجے میں امریکی کانگریس کو متاثرہ ٹھکانوں کی مرمت کے لیے اضافی فنڈز کا انتظام کرنا پڑ رہا ہے۔
ان حملوں نے امریکی فوجی تیاریوں کی سنگین خامیوں کو بھی بے نقاب کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، امریکی ادارے ایران کے خلاف جنگ میں شامل تو ہوئے، لیکن انہوں نے ایران کے میزائل اور ڈرون ہتھیاروں سے اپنے فوجی اڈوں اور انٹیلی جنس ڈھانچے کے تحفظ کے لیے مناسب تیاری نہیں کی تھی۔
سینٹر فار اسٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز (سی ایس آئی ایس ) کے سیٹھ جونز نے این بی سی نیوز سے کہا، ’’امریکہ اس جنگ میں شامل ہوا اور اس نے کسی بھی طرح اپنے ٹھکانوں کے تحفظ پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی تھی۔‘‘
انہوں نے کہا، ’’اور ہمیں بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔‘‘
رپورٹ کے مطابق، ایران کے خلاف امریکی جنگ نے تباہ شدہ فوجی اور خفیہ تنصیبات کی مرمت کے لیے بھاری مالی بوجھ کا اضافہ کر دیا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ہندوستان، چین کے درمیان سرحدی مذاکرات کا 25واں دور، سیاسی حل کی کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق
بیجنگ، ہندوستان اور چین نے بدھ کے روز طویل عرصے سے جاری سرحدی تنازعے کے سیاسی حل کی تلاش کے لیے کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا، جبکہ سرحد پر امن اور سکون برقرار رکھنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
یہ اتفاق رائے دونوں ممالک کے خصوصی نمائندوں، ہندوستانی قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈووال اور چینی وزیر خارجہ وانگ یی کے درمیان مذاکرات کے 25ویں دور میں ہوا۔ دونوں نے 24 اور 25 اگست کو بیجنگ میں مذاکرات کی مشترکہ صدارت کی۔
ڈووال نے وانگ یی کی دعوت پر چین کا دورہ کیا۔ وانگ یی کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی مرکزی کمیٹی کے پولیٹیکل بیورو کے رکن اور چین کے وزیر خارجہ بھی ہیں۔
ہندوستانی وزارت خارجہ (ایم ای اے) نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی اور صدر شی جن پنگ کی اسٹریٹجک رہنمائی میں دونوں خصوصی نمائندوں نے سرحدی مسئلے پر تعمیری اور مستقبل پر مبنی جذبے کے ساتھ کھلے اور گہرے تبادلۂ خیال کیا۔
وزارت نے کہا کہ دونوں فریقوں نے اپنے مجموعی اور طویل مدتی مفادات کے تناظر میں سرحدی مسئلے کے سیاسی حل کی تلاش کے لیے کام جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
ڈووال نے ہند-چین سرحدی علاقوں میں امن اور سکون برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا تاکہ دونوں ممالک کے دوطرفہ تعلقات کی مسلسل ترقی اور پیش رفت یقینی بنائی جاسکے۔
دونوں جانب سے باہمی دلچسپی کے دوطرفہ، علاقائی اور بین الاقوامی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
چینی وزارت خارجہ کے مطابق وانگ یی اور ڈوول نے سرحدی مسئلے اور دوطرفہ تعلقات پر جامع، گہرے، دوستانہ اور کھلے انداز میں بات چیت کی۔
چینی وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق دونوں فریقوں نے سرحدی حد بندی کے مذاکرات کو آگے بڑھانے، سرحدی انتظام کو مضبوط بنانے، متعلقہ نظام کو بہتر کرنے اور سرحد پار تعاون کو فروغ دینے پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔
دونوں نے 2005 میں طے پانے والے سیاسی رہنما اصولوں پر کاربند رہنے اور باہمی احترام و مفاہمت کے جذبے کے تحت خصوصی نمائندوں کے مذاکرات کے طریقۂ کار کو استعمال کرتے ہوئے سرحدی مسئلے کا ایک منصفانہ، معقول اور باہمی طور پر قابل قبول جامع حل تلاش کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
دونوں ممالک نے خصوصی نمائندوں کے مذاکرات کے 26ویں دور کا انعقاد 2027 میں ہندوستان میں کرنے پر بھی اتفاق کیا۔
وانگ یی نے کہا کہ چین اور ہندوستان کو اپنے تعلقات کو اسٹریٹجک اور طویل مدتی نقطۂ نظر سے دیکھنا، رابطوں کو مضبوط کرنا اور اختلافات کا بہتر انتظام کرنا چاہیے۔
انہوں نے دونوں ممالک کو اہم ہمسایہ اور بڑی ترقی پذیر معیشتیں قرار دیتے ہوئے کہا کہ مستحکم اور صحت مند دوطرفہ تعلقات دونوں ممالک کے عوام کے بنیادی مفادات میں ہیں۔
چین کے مطابق وانگ یی نے زور دیا کہ دونوں فریق سرحدی مسئلے کو وسیع تر دوطرفہ تعلقات میں اس کا مناسب مقام دیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ سرحدی امور میں مذاکرات، امن، مشاورت اور تعاون ہی بنیادی رجحان رہیں۔
چینی بیان کے مطابق ڈووال نے کہا کہ ہندوستان اور چین ’’شراکت دار ہیں، حریف نہیں‘‘ اور ایک مستحکم، قابل پیش گوئی اور مستقبل پر مبنی تعلقات دونوں ممالک کے مشترکہ مفاد میں ہیں، جو ایشیا اور وسیع تر دنیا کے لیے بھی اہم ہیں۔
مذاکرات میں اکتوبر 2024 میں قازان اور اگست 2025 میں تیانجن میں مودی اور شی جن پنگ کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں میں طے پانے والی مفاہمت پر عمل درآمد میں ہونے والی پیش رفت کا بھی ذکر کیا گیا۔
ہندوستانی وزارت خارجہ کے مطابق عوامی سطح پر روابط اور سرحد پار آمدورفت بھی بتدریج بحال ہو رہی ہے، جن میں کیلاش مان سروور یاترا اور تین مقررہ تجارتی راستوں کے ذریعے سرحدی تجارت شامل ہے۔
تازہ مذاکرات نئی دہلی اور بیجنگ کے درمیان جاری سفارتی رابطوں کا حصہ ہیں، کیونکہ دونوں ممالک 2020 کی ہلاکت خیز سرحدی جھڑپ کے بعد تعلقات کو مستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس جھڑپ نے دوطرفہ تعلقات کو شدید متاثر کیا تھا۔
اپنے دورۂ بیجنگ کے دوران ڈووال نے چین کے نائب صدر ہان ژینگ سے بھی ملاقات کی۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں خاص اہمیت رکھتے ہیں جب چینی صدر شی جن پنگ کے 12 اور 13 ستمبر کو نئی دہلی میں ہونے والی برکس سربراہ کانفرنس میں شرکت کے لیے ہندوستان آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔
ہندوستان اور چین کے درمیان سرحدی تنازعہ 3,488 کلومیٹر طویل سرحد سے متعلق ہے۔ خصوصی نمائندوں کے مذاکرات کا طریقۂ کار 2003 میں قائم کیا گیا تھا۔ مذاکرات کا 24واں دور گزشتہ سال اگست میں بیجنگ میں ہوا تھا، جس میں دونوں فریقوں نے بات چیت کو کھلا اور گہرا قرار دیتے ہوئے متعدد مشترکہ مفاہمتوں تک پہنچنے کی بات کہی تھی۔
یو این آئی
دنیا
امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ کو ڈاک کے ذریعے ووٹنگ پر پابندیوں کے منصوبے پر آگے بڑھنے کی اجازت دے دی
نیویارک، امریکی سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ڈاک کے ذریعے ووٹنگ کو محدود کرنے کے مقصد سے جاری کیے گئے ایگزیکٹو آرڈر کے بعض حصوں پر عمل درآمد شروع کر سکتے ہیں، تاہم مزید قانونی چیلنجز نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل اس منصوبے کے نفاذ میں تاخیر یا اسے روک سکتے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے کو محدود قرار دیا ہے، تاہم اس حکم سے وسط مدتی انتخابات کے لیے ووٹنگ کے قوانین کے حوالے سے نئی غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ فیصلے سے یہ امکان برقرار ہے کہ ٹرمپ مارچ میں جاری کیے گئے اپنے حکم میں شامل اقدامات کو بالآخر نافذ کر سکتے ہیں۔ اس حکم میں امریکی پوسٹل سروس اور محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کو انتخابات کے انتظام میں غیر معمولی اختیارات دینے کی کوشش کی گئی تھی، سی این این نے رپورٹ کیا۔
سپریم کورٹ نے 10 صفحات پر مشتمل غیر دستخط شدہ حکم میں، عدالت کے تین لبرل ججوں کے اختلافی موقف کے باوجود، ٹرمپ انتظامیہ کو ایک تجویز پر آگے بڑھنے کی اجازت دے دی۔ اس تجویز کے تحت ہوم لینڈ سکیورٹی محکمہ ان ریاستوں کے لیے ووٹ ڈالنے کے اہل سمجھے جانے والے افراد کی الگ الگ فہرستیں تیار کر سکتا ہے، جن کی قیادت ڈیموکریٹس کر رہے ہیں اور جنہوں نے عدالت میں اس منصوبے کو چیلنج کیا تھا۔
ٹرمپ کے ایگزیکٹو آرڈر کی ایک اور شق میں پوسٹل سروس کو ان ریاستوں کے لیے نئی شرائط عائد کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جو ڈاک کے ذریعے بیلٹ بھیجنا چاہتی ہیں۔ منصوبے کے تحت ریاستوں کو پوسٹل سروس کو اہل ووٹروں کی فہرستیں فراہم کرنا ہوں گی اور بیلٹ کے لفافوں پر ایسی معلومات درج کرنا ہوں گی جن سے ان کی ترسیل کا سراغ لگایا جا سکے۔
ججوں نے اس حصے پر بھی امریکی پوسٹل سروس کو آگے بڑھنے کی اجازت دی، تاہم ایک نچلی عدالت پہلے ہی ملک بھر میں اس کے نفاذ کو روک چکی ہے۔
نتیجتاً، پوسٹل سروس کے لیے اس اقدام پر عمل درآمد سے قبل مزید عدالتی کارروائی ضروری ہوگی۔ ان کارروائیوں کے نتیجے میں سپریم کورٹ میں نئی ہنگامی اپیلیں بھی دائر ہو سکتی ہیں، جو ممکنہ طور پر چند دنوں کے اندر سامنے آسکتی ہیں۔
اس لیے پیر کا فیصلہ ڈاک کے ذریعے ووٹنگ سے متعلق ٹرمپ کے ایگزیکٹو آرڈر پر آخری فیصلہ نہیں سمجھا جا رہا۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا، ’’اگر پوسٹل سروس کا حتمی ضابطہ ریاستوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے تو وہ اس ضابطے کو چیلنج کر سکتی ہیں۔‘‘
سپریم کورٹ نے اس سوال پر فیصلہ نہیں دیا کہ ٹرمپ کا ایگزیکٹو آرڈر قانونی طور پر درست ہے یا نہیں، بلکہ صرف ریاستوں کی جانب سے دائر چیلنج کے وقت سے متعلق فیصلہ کیا ہے۔
ٹرمپ بارہا بڑے پیمانے پر ووٹوں میں دھاندلی کے بے بنیاد دعوے کرتے رہے ہیں اور ڈاک کے ذریعے ووٹنگ پر عوام کے اعتماد کو کمزور کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔
عدالت نے کہا، ’’اس درخواست پر عدالت کا فیصلہ یہ معنی نہیں رکھتا کہ حکومت کی جانب سے حکم پر عمل درآمد کے لیے اٹھایا جانے والا ہر اقدام لازماً قانونی ہوگا۔ اس معاملے میں وقت ہی فیصلہ کرے گا۔‘‘
اس کے باوجود یہ فیصلہ ڈیموکریٹس کی قیادت والی ریاستوں کے لیے ایک دھچکا ہے۔ ان ریاستوں نے خبردار کیا تھا کہ انہیں رواں سال کے انتخابات کی تیاریوں سے وقت اور وسائل ہٹا کر اس معاملے پر صرف کرنے پڑیں گے۔
وائٹ ہاؤس نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کیا۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان لارین بِس نے کہا، ’’یہ امریکی انتخابات کی سکیورٹی کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔ یہ عام فہم اقدامات ہیں جو ڈاک کے ذریعے بھیجے جانے والے بیلٹ کی سکیورٹی کو یقینی بناتے ہیں اور اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ صرف امریکی شہری ہی امریکی رہنماؤں کا انتخاب کریں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’یہ انتظامیہ صدر ٹرمپ کے اس ایجنڈے کو قانونی طریقے سے نافذ کرتی رہے گی جس کے لیے وہ منتخب ہوئے ہیں، جس میں ہمارے انتخابات کی حفاظت اور سکیورٹی بھی شامل ہے۔‘‘
اس سال سپریم کورٹ میں انتخابات سے متعلق مقدمات میں مسلسل تنازع بڑھا ہے، جس کے باعث عدالت کے قدامت پسند اور لبرل ججوں کے درمیان شدید اختلافات سامنے آئے ہیں۔
ایک اہم مقدمے میں عدالت کی 6-3 قدامت پسند اکثریت نے اپریل کے آخر میں ایک اہم فیصلہ سنایا تھا، جس میں لوزیانا کے کانگریسی حلقوں سے متعلق مقدمے میں ووٹنگ رائٹس ایکٹ کو کمزور کر دیا گیا تھا، سی این این نے رپورٹ کیا۔
پیر کے فیصلے پر عدالت کے تینوں لبرل ججوں نے اختلاف کیا۔ جسٹس سونیا سوتومایور نے، جسٹس ایلینا کیگن کی حمایت سے، مؤقف اختیار کیا کہ نچلی عدالتوں کو ڈیموکریٹس کی قیادت والی ریاستوں کے حق میں فیصلہ دینے کا اختیار حاصل تھا۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سپریم کورٹ کی اکثریت نے ٹرمپ کی ہدایات کی قانونی حیثیت کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں دیا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
نئی امریکی پابندیوں کا سامنا کرنے کے لیے تیار، اثرات سے نمٹنے کا دو سالہ منصوبہ موجود:ایران
تہران، ایران نے منگل کو کہا کہ وہ امریکہ کی جانب سے عائد کی جانے والی نئی اور وسیع پابندیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ ایرانی وزیر اقتصادیات علی مدنی زادے نے کہا کہ تہران نے ان اقدامات کا پہلے ہی اندازہ لگا لیا تھا اور ان کے معاشی اثرات سے نمٹنے کے لیے دو سالہ منصوبہ تیار کر رکھا ہے یہ بیان واشنگٹن کی جانب سے ایسے اقدامات کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے جن کا مقصد تہران کو عالمی مالیاتی نیٹ ورکس سے کاٹنا، اس کی تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی کو محدود کرنا اور شپنگ، ہوا بازی، ٹیکنالوجی، سونے اور ڈیجیٹل اثاثوں سمیت اہم شعبوں کو نشانہ بنانا ہے۔
مدنی زادے نے سرکاری ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’حکومت تیار ہے اور پہلے سے تیار تھی، ہمارے پاس ان حالات سے نمٹنے کے لیے دو سالہ منصوبہ موجود ہے۔ ہمارے پاس اپنے ذرائع بھی ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ یہ کھیل کیسے کھیلنا ہے۔‘‘
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ’’آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ‘‘ کا اعلان کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ کاروبار جاری رکھنے والے ممالک اور کمپنیوں کو ڈالر پر مبنی مالیاتی نظام سے خارج کیے جانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
بیسنٹ نے اس مہم کو ’’اب تک کی سب سے بڑی مالیاتی کارروائی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ دنیا بھر میں ایران کے مالیاتی روابط کو نشانہ بنائے گا۔
بیسنٹ نے کہا، ’’ایران کو اب ایک بالکل واضح انتخاب کا سامنا ہے، اس کے سامنے صرف دو راستے ہیں: مکمل عالمی تنہائی۔۔۔ یا معمول کی صورتحال کی جانب واپسی اور عالمی معیشت میں دوبارہ شامل ہونے کا موقع۔‘‘
امریکی محکمہ خزانہ نے کہا ہے کہ اس نے ایران کی جانب سے پابندیوں سے بچنے اور تیل کی تجارت کے لیے استعمال کیے جانے والے نیٹ ورکس اور مالیاتی ذرائع کی نشاندہی کر لی ہے۔ اقدامات میں پانچ شعبوں، یعنی ڈیجیٹل اثاثوں، ٹیکنالوجی، سونے، ہوا بازی اور شپنگ کو نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ تقریباً 60 افراد، اداروں اور بحری جہازوں پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
بیسنٹ نے کہا کہ ان اقدامات کا مقصد ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور اور وسیع تر ایرانی حکومت کے لیے ’’آمدنی کے ہر ممکن ذریعے کو بند کرنا اور شکنجہ مزید کسنا‘‘ ہے۔
ایران نے کہا ہے کہ اس کے بڑے تجارتی شراکت دار امریکی دباؤ کے سامنے مزاحمت کریں گے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق مدنی زادے نے کہا کہ چین اور روس نے ان اقدامات کو قبول نہیں کیا ہے۔ بیجنگ نے بھی کہا ہے کہ پابندیاں اور دباؤ کی حکمت عملی تنازعات حل نہیں کر سکتی اور وہ اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے اقدامات کرے گا۔
تازہ امریکی اقدامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب تنازع نے توانائی کی منڈیوں کو متاثر کیا ہے اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر جنگ جاری رہی تو وہ خطے سے تیل کی برآمدات روک سکتا ہے۔ اس نے آبنائے ہرمز سے اجازت کے بغیر گزرنے والے بحری جہازوں کو بھی ایک بار پھر خبردار کیا ہے۔
یہ تنگ آبی گزرگاہ، جہاں سے معمول کے حالات میں دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل اور گیس کی سپلائی گزرتی ہے، تنازع شروع ہونے کے بعد سے عملاً بند ہے، جس سے عالمی توانائی کی قیمتوں پر دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔
امریکہ میں پٹرول کی قیمتیں 4 ڈالر فی گیلن سے تجاوز کر گئی ہیں، جس سے نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل گھریلو اخراجات اور عوام کی قوتِ خرید پر تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔ عالمی معیار کا برینٹ خام تیل پیر کو تقریباً 92 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہا تھا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
پاکستان1 week agoپاکستان کی سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا
-
ہندوستان1 week agoمحض 24 گھنٹوں میں ہی سامنے آ گیا کہ کس کے دماغ میں ’نکسل‘ ہے: بی جے پی
-
ہندوستان1 week agoٹرمپ کا ہندوستان کے انتخابی نظام کو ماڈل قرار دے کر۔ دو آخری واشنگٹن
-
دنیا1 week agoاردوغان کی ٹرمپ سے ایران کے ساتھ بات چیت جاری رکھنے کی اپیل
-
ہندوستان1 week agoملک میں ‘پیپر لیک نکسل’ کو ختم کرنے کی ضرورت: کانگریس
-
دنیا1 week agoامریکہ نے بات چیت میں رکاوٹ ڈالنے پر عمان کو دھمکی دی
-
دنیا1 week agoکشنر نیتن یاہو سے ملاقات کرکے ٹرمپ کے غزہ منصوبے کو آگے بڑھائیں گے
-
جموں و کشمیر1 week agoرجیجو کے تبصرے کے بعد محبوبہ مفتی نے خود کو کہا ’دماغی نکسل‘
-
جموں و کشمیر1 week agoای او ڈبلیو کشمیر نے تحقیقات کو متاثر کرنے کی کوشش کرنے والے بڈگام کے شہری کے خلاف چارج شیٹ داخل کی
-
ہندوستان7 days agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
جموں و کشمیر1 week agoکولگام میں ہوئے حادثے میں سی آر پی ایف کے چار جوان اور ٹرک ڈرائیور زخمی
-
جموں و کشمیر1 week agoسجاد لون نے یومِ آزادی کی تقریبات کے بائیکاٹ کی خبر کو ’’بالکل بے بنیاد‘‘ قرار دیا
