دنیا
ہندوستان، چین کے درمیان سرحدی مذاکرات کا 25واں دور، سیاسی حل کی کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق
بیجنگ، ہندوستان اور چین نے بدھ کے روز طویل عرصے سے جاری سرحدی تنازعے کے سیاسی حل کی تلاش کے لیے کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا، جبکہ سرحد پر امن اور سکون برقرار رکھنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
یہ اتفاق رائے دونوں ممالک کے خصوصی نمائندوں، ہندوستانی قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈووال اور چینی وزیر خارجہ وانگ یی کے درمیان مذاکرات کے 25ویں دور میں ہوا۔ دونوں نے 24 اور 25 اگست کو بیجنگ میں مذاکرات کی مشترکہ صدارت کی۔
ڈووال نے وانگ یی کی دعوت پر چین کا دورہ کیا۔ وانگ یی کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی مرکزی کمیٹی کے پولیٹیکل بیورو کے رکن اور چین کے وزیر خارجہ بھی ہیں۔
ہندوستانی وزارت خارجہ (ایم ای اے) نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی اور صدر شی جن پنگ کی اسٹریٹجک رہنمائی میں دونوں خصوصی نمائندوں نے سرحدی مسئلے پر تعمیری اور مستقبل پر مبنی جذبے کے ساتھ کھلے اور گہرے تبادلۂ خیال کیا۔
وزارت نے کہا کہ دونوں فریقوں نے اپنے مجموعی اور طویل مدتی مفادات کے تناظر میں سرحدی مسئلے کے سیاسی حل کی تلاش کے لیے کام جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
ڈووال نے ہند-چین سرحدی علاقوں میں امن اور سکون برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا تاکہ دونوں ممالک کے دوطرفہ تعلقات کی مسلسل ترقی اور پیش رفت یقینی بنائی جاسکے۔
دونوں جانب سے باہمی دلچسپی کے دوطرفہ، علاقائی اور بین الاقوامی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
چینی وزارت خارجہ کے مطابق وانگ یی اور ڈوول نے سرحدی مسئلے اور دوطرفہ تعلقات پر جامع، گہرے، دوستانہ اور کھلے انداز میں بات چیت کی۔
چینی وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق دونوں فریقوں نے سرحدی حد بندی کے مذاکرات کو آگے بڑھانے، سرحدی انتظام کو مضبوط بنانے، متعلقہ نظام کو بہتر کرنے اور سرحد پار تعاون کو فروغ دینے پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔
دونوں نے 2005 میں طے پانے والے سیاسی رہنما اصولوں پر کاربند رہنے اور باہمی احترام و مفاہمت کے جذبے کے تحت خصوصی نمائندوں کے مذاکرات کے طریقۂ کار کو استعمال کرتے ہوئے سرحدی مسئلے کا ایک منصفانہ، معقول اور باہمی طور پر قابل قبول جامع حل تلاش کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
دونوں ممالک نے خصوصی نمائندوں کے مذاکرات کے 26ویں دور کا انعقاد 2027 میں ہندوستان میں کرنے پر بھی اتفاق کیا۔
وانگ یی نے کہا کہ چین اور ہندوستان کو اپنے تعلقات کو اسٹریٹجک اور طویل مدتی نقطۂ نظر سے دیکھنا، رابطوں کو مضبوط کرنا اور اختلافات کا بہتر انتظام کرنا چاہیے۔
انہوں نے دونوں ممالک کو اہم ہمسایہ اور بڑی ترقی پذیر معیشتیں قرار دیتے ہوئے کہا کہ مستحکم اور صحت مند دوطرفہ تعلقات دونوں ممالک کے عوام کے بنیادی مفادات میں ہیں۔
چین کے مطابق وانگ یی نے زور دیا کہ دونوں فریق سرحدی مسئلے کو وسیع تر دوطرفہ تعلقات میں اس کا مناسب مقام دیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ سرحدی امور میں مذاکرات، امن، مشاورت اور تعاون ہی بنیادی رجحان رہیں۔
چینی بیان کے مطابق ڈووال نے کہا کہ ہندوستان اور چین ’’شراکت دار ہیں، حریف نہیں‘‘ اور ایک مستحکم، قابل پیش گوئی اور مستقبل پر مبنی تعلقات دونوں ممالک کے مشترکہ مفاد میں ہیں، جو ایشیا اور وسیع تر دنیا کے لیے بھی اہم ہیں۔
مذاکرات میں اکتوبر 2024 میں قازان اور اگست 2025 میں تیانجن میں مودی اور شی جن پنگ کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں میں طے پانے والی مفاہمت پر عمل درآمد میں ہونے والی پیش رفت کا بھی ذکر کیا گیا۔
ہندوستانی وزارت خارجہ کے مطابق عوامی سطح پر روابط اور سرحد پار آمدورفت بھی بتدریج بحال ہو رہی ہے، جن میں کیلاش مان سروور یاترا اور تین مقررہ تجارتی راستوں کے ذریعے سرحدی تجارت شامل ہے۔
تازہ مذاکرات نئی دہلی اور بیجنگ کے درمیان جاری سفارتی رابطوں کا حصہ ہیں، کیونکہ دونوں ممالک 2020 کی ہلاکت خیز سرحدی جھڑپ کے بعد تعلقات کو مستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس جھڑپ نے دوطرفہ تعلقات کو شدید متاثر کیا تھا۔
اپنے دورۂ بیجنگ کے دوران ڈووال نے چین کے نائب صدر ہان ژینگ سے بھی ملاقات کی۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں خاص اہمیت رکھتے ہیں جب چینی صدر شی جن پنگ کے 12 اور 13 ستمبر کو نئی دہلی میں ہونے والی برکس سربراہ کانفرنس میں شرکت کے لیے ہندوستان آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔
ہندوستان اور چین کے درمیان سرحدی تنازعہ 3,488 کلومیٹر طویل سرحد سے متعلق ہے۔ خصوصی نمائندوں کے مذاکرات کا طریقۂ کار 2003 میں قائم کیا گیا تھا۔ مذاکرات کا 24واں دور گزشتہ سال اگست میں بیجنگ میں ہوا تھا، جس میں دونوں فریقوں نے بات چیت کو کھلا اور گہرا قرار دیتے ہوئے متعدد مشترکہ مفاہمتوں تک پہنچنے کی بات کہی تھی۔
یو این آئی
دنیا
امیگریشن کریک ڈاؤن میں تیزی:ٹرمپ انتظامیہ نے دنیا بھر میں امریکی امیگرنٹ ویزا اپائنٹمنٹس روک دیں
واشنگٹن، ٹرمپ انتظامیہ نے دنیا بھر میں امریکی سفارت خانوں اور قونصل خانوں میں امیگرنٹ ویزا اپائنٹمنٹس عارضی طور پر روک دی ہیں۔ محکمہ خارجہ نے قونصلر افسران کے لیے نئی ’’جامع تربیت‘‘ شروع کی ہے، جس سے انتظامیہ کی وسیع تر امیگریشن پابندیوں میں ایک اور اقدام کا اضافہ ہوگیا ہے۔
محکمہ خارجہ نے کہا کہ اس نے امریکی سفارتی مشنز میں عالمی سطح پر تربیتی پروگرام شروع کیا ہے اور اس پروگرام کے لیے ویزا اپائنٹمنٹس میں تبدیلی کی جائے گی۔ تاہم، اس نے یہ نہیں بتایا کہ تربیت کتنے عرصے تک جاری رہے گی یا متاثرہ درخواست گزاروں کو انٹرویو کی نئی تاریخیں کب دی جائیں گی۔
تربیت کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ قونصلر افسران ویزا درخواست گزاروں کا ’’جامع اور یکساں‘‘ طریقے سے جائزہ لیں، بالخصوص ایسے درخواست گزاروں کی شناخت پر توجہ دی جائے جو مستقبل میں امریکی حکومت کی عوامی فلاحی سہولیات پر انحصار کرسکتے ہیں۔
جن امیگرنٹ ویزا درخواست گزاروں کے انٹرویوز پہلے سے امریکی سفارت خانوں اور قونصل خانوں میں طے تھے، انہیں مبینہ طور پر ای میلز کے ذریعے بتایا گیا ہے کہ ان کی اپائنٹمنٹس دوبارہ مقرر کی جارہی ہیں۔ انہیں کہا گیا ہے کہ نئی تاریخ اور وقت کے بارے میں بعد میں اطلاع دی جائے گی۔
انتظامیہ ایسے درخواست گزاروں کی جانچ مزید سخت کرنا چاہتی ہے جن کے بارے میں خیال ہو کہ انہیں امریکی حکومت کی مالی یا دیگر امداد کی ضرورت پڑسکتی ہے۔ اس اقدام سے امیگریشن قانون کے نام نہاد ’’پبلک چارج‘‘ معیار پر مزید توجہ مرکوز ہوگئی ہے۔
امریکی امیگریشن قانون کے تحت قونصلر افسران یہ فیصلہ کرتے وقت درخواست گزار کی مالی حالت، عمر، صحت، تعلیم، مہارتوں اور خاندانی صورتحال سمیت مختلف عوامل کو مدنظر رکھ سکتے ہیں کہ آیا وہ بنیادی طور پر حکومتی امداد پر انحصار کرنے کا امکان رکھتا ہے۔
انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ امیگرنٹ ویزا کے خواہش مند افراد کو یہ ثابت کرنے کے قابل ہونا چاہیے کہ وہ اپنے اخراجات خود پورے کرسکتے ہیں اور بڑے پیمانے پر سرکاری امداد پر انحصار نہیں کریں گے۔
یہ اقدام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب چند روز قبل ایک وفاقی جج نے ٹرمپ انتظامیہ کی ایک اور پالیسی کو کالعدم قرار دیا تھا، جس کے تحت 75 ممالک کے شہریوں کے لیے امیگرنٹ ویزا جاری کرنے کا عمل معطل کیا گیا تھا۔
مین ہٹن کی امریکی ضلعی جج جینیٹ ورگاس نے جمعہ کو فیصلہ دیا کہ محکمہ خارجہ نے درخواست گزاروں کی قومیت کی بنیاد پر ویزا معطلی عائد کرکے اپنے قانونی اختیارات سے تجاوز کیا ہے۔
جنوری میں اعلان کی گئی اس پالیسی سے پاکستان، بنگلہ دیش، برازیل، کولمبیا اور یوراگوئے سمیت بلقان، افریقہ، مشرق وسطیٰ اور کیریبین کے متعدد ممالک کے درخواست گزار متاثر ہوئے تھے۔
ورگاس نے اس پالیسی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی امیگریشن قانون قونصلر افسران سے تقاضہ کرتا ہے کہ وہ قانونی طریقہ کار کے تحت امیگرنٹ ویزا درخواستوں کا انفرادی جائزہ لیں، نہ کہ صرف قومیت کی بنیاد پر مکمل پابندی عائد کریں۔
یہ فیصلہ ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ایک قانونی دھچکہ ہے، جو امیگریشن کے معاملے میں انتظامی اختیارات بڑھانے اور قانونی و غیر قانونی دونوں طرح کی امیگریشن پر مزید پابندیاں عائد کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایرانی حملوں سے امریکی جاسوسی نیٹ ورک کو اربوں ڈالر کا نقصان: رپورٹ
نیویارک، ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں کے نتیجے میں مغربی ایشیا میں امریکی خفیہ اداروں کے ٹھکانوں اور نگرانی کے آلات کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے، جبکہ ان کی مرمت پر اربوں ڈالر خرچ ہونے کا اندازہ ہے۔ این بی سی نیوز نے یہ اطلاع دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، ایرانی حملوں میں سی آئی اے سے منسلک ٹھکانوں، نگرانی کے آلات اور امریکی فوج کے ساتھ شیئر کیے جانے والے انٹیلی جنس آلات کو نشانہ بنایا گیا۔ اس کے نتیجے میں امریکی کانگریس کو متاثرہ ٹھکانوں کی مرمت کے لیے اضافی فنڈز کا انتظام کرنا پڑ رہا ہے۔
ان حملوں نے امریکی فوجی تیاریوں کی سنگین خامیوں کو بھی بے نقاب کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، امریکی ادارے ایران کے خلاف جنگ میں شامل تو ہوئے، لیکن انہوں نے ایران کے میزائل اور ڈرون ہتھیاروں سے اپنے فوجی اڈوں اور انٹیلی جنس ڈھانچے کے تحفظ کے لیے مناسب تیاری نہیں کی تھی۔
سینٹر فار اسٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز (سی ایس آئی ایس ) کے سیٹھ جونز نے این بی سی نیوز سے کہا، ’’امریکہ اس جنگ میں شامل ہوا اور اس نے کسی بھی طرح اپنے ٹھکانوں کے تحفظ پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی تھی۔‘‘
انہوں نے کہا، ’’اور ہمیں بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔‘‘
رپورٹ کے مطابق، ایران کے خلاف امریکی جنگ نے تباہ شدہ فوجی اور خفیہ تنصیبات کی مرمت کے لیے بھاری مالی بوجھ کا اضافہ کر دیا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ کو ڈاک کے ذریعے ووٹنگ پر پابندیوں کے منصوبے پر آگے بڑھنے کی اجازت دے دی
نیویارک، امریکی سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ڈاک کے ذریعے ووٹنگ کو محدود کرنے کے مقصد سے جاری کیے گئے ایگزیکٹو آرڈر کے بعض حصوں پر عمل درآمد شروع کر سکتے ہیں، تاہم مزید قانونی چیلنجز نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل اس منصوبے کے نفاذ میں تاخیر یا اسے روک سکتے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے کو محدود قرار دیا ہے، تاہم اس حکم سے وسط مدتی انتخابات کے لیے ووٹنگ کے قوانین کے حوالے سے نئی غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ فیصلے سے یہ امکان برقرار ہے کہ ٹرمپ مارچ میں جاری کیے گئے اپنے حکم میں شامل اقدامات کو بالآخر نافذ کر سکتے ہیں۔ اس حکم میں امریکی پوسٹل سروس اور محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کو انتخابات کے انتظام میں غیر معمولی اختیارات دینے کی کوشش کی گئی تھی، سی این این نے رپورٹ کیا۔
سپریم کورٹ نے 10 صفحات پر مشتمل غیر دستخط شدہ حکم میں، عدالت کے تین لبرل ججوں کے اختلافی موقف کے باوجود، ٹرمپ انتظامیہ کو ایک تجویز پر آگے بڑھنے کی اجازت دے دی۔ اس تجویز کے تحت ہوم لینڈ سکیورٹی محکمہ ان ریاستوں کے لیے ووٹ ڈالنے کے اہل سمجھے جانے والے افراد کی الگ الگ فہرستیں تیار کر سکتا ہے، جن کی قیادت ڈیموکریٹس کر رہے ہیں اور جنہوں نے عدالت میں اس منصوبے کو چیلنج کیا تھا۔
ٹرمپ کے ایگزیکٹو آرڈر کی ایک اور شق میں پوسٹل سروس کو ان ریاستوں کے لیے نئی شرائط عائد کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جو ڈاک کے ذریعے بیلٹ بھیجنا چاہتی ہیں۔ منصوبے کے تحت ریاستوں کو پوسٹل سروس کو اہل ووٹروں کی فہرستیں فراہم کرنا ہوں گی اور بیلٹ کے لفافوں پر ایسی معلومات درج کرنا ہوں گی جن سے ان کی ترسیل کا سراغ لگایا جا سکے۔
ججوں نے اس حصے پر بھی امریکی پوسٹل سروس کو آگے بڑھنے کی اجازت دی، تاہم ایک نچلی عدالت پہلے ہی ملک بھر میں اس کے نفاذ کو روک چکی ہے۔
نتیجتاً، پوسٹل سروس کے لیے اس اقدام پر عمل درآمد سے قبل مزید عدالتی کارروائی ضروری ہوگی۔ ان کارروائیوں کے نتیجے میں سپریم کورٹ میں نئی ہنگامی اپیلیں بھی دائر ہو سکتی ہیں، جو ممکنہ طور پر چند دنوں کے اندر سامنے آسکتی ہیں۔
اس لیے پیر کا فیصلہ ڈاک کے ذریعے ووٹنگ سے متعلق ٹرمپ کے ایگزیکٹو آرڈر پر آخری فیصلہ نہیں سمجھا جا رہا۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا، ’’اگر پوسٹل سروس کا حتمی ضابطہ ریاستوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے تو وہ اس ضابطے کو چیلنج کر سکتی ہیں۔‘‘
سپریم کورٹ نے اس سوال پر فیصلہ نہیں دیا کہ ٹرمپ کا ایگزیکٹو آرڈر قانونی طور پر درست ہے یا نہیں، بلکہ صرف ریاستوں کی جانب سے دائر چیلنج کے وقت سے متعلق فیصلہ کیا ہے۔
ٹرمپ بارہا بڑے پیمانے پر ووٹوں میں دھاندلی کے بے بنیاد دعوے کرتے رہے ہیں اور ڈاک کے ذریعے ووٹنگ پر عوام کے اعتماد کو کمزور کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔
عدالت نے کہا، ’’اس درخواست پر عدالت کا فیصلہ یہ معنی نہیں رکھتا کہ حکومت کی جانب سے حکم پر عمل درآمد کے لیے اٹھایا جانے والا ہر اقدام لازماً قانونی ہوگا۔ اس معاملے میں وقت ہی فیصلہ کرے گا۔‘‘
اس کے باوجود یہ فیصلہ ڈیموکریٹس کی قیادت والی ریاستوں کے لیے ایک دھچکا ہے۔ ان ریاستوں نے خبردار کیا تھا کہ انہیں رواں سال کے انتخابات کی تیاریوں سے وقت اور وسائل ہٹا کر اس معاملے پر صرف کرنے پڑیں گے۔
وائٹ ہاؤس نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کیا۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان لارین بِس نے کہا، ’’یہ امریکی انتخابات کی سکیورٹی کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔ یہ عام فہم اقدامات ہیں جو ڈاک کے ذریعے بھیجے جانے والے بیلٹ کی سکیورٹی کو یقینی بناتے ہیں اور اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ صرف امریکی شہری ہی امریکی رہنماؤں کا انتخاب کریں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’یہ انتظامیہ صدر ٹرمپ کے اس ایجنڈے کو قانونی طریقے سے نافذ کرتی رہے گی جس کے لیے وہ منتخب ہوئے ہیں، جس میں ہمارے انتخابات کی حفاظت اور سکیورٹی بھی شامل ہے۔‘‘
اس سال سپریم کورٹ میں انتخابات سے متعلق مقدمات میں مسلسل تنازع بڑھا ہے، جس کے باعث عدالت کے قدامت پسند اور لبرل ججوں کے درمیان شدید اختلافات سامنے آئے ہیں۔
ایک اہم مقدمے میں عدالت کی 6-3 قدامت پسند اکثریت نے اپریل کے آخر میں ایک اہم فیصلہ سنایا تھا، جس میں لوزیانا کے کانگریسی حلقوں سے متعلق مقدمے میں ووٹنگ رائٹس ایکٹ کو کمزور کر دیا گیا تھا، سی این این نے رپورٹ کیا۔
پیر کے فیصلے پر عدالت کے تینوں لبرل ججوں نے اختلاف کیا۔ جسٹس سونیا سوتومایور نے، جسٹس ایلینا کیگن کی حمایت سے، مؤقف اختیار کیا کہ نچلی عدالتوں کو ڈیموکریٹس کی قیادت والی ریاستوں کے حق میں فیصلہ دینے کا اختیار حاصل تھا۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سپریم کورٹ کی اکثریت نے ٹرمپ کی ہدایات کی قانونی حیثیت کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں دیا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
پاکستان1 week agoپاکستان کی سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا
-
ہندوستان1 week agoٹرمپ کا ہندوستان کے انتخابی نظام کو ماڈل قرار دے کر۔ دو آخری واشنگٹن
-
ہندوستان1 week agoمحض 24 گھنٹوں میں ہی سامنے آ گیا کہ کس کے دماغ میں ’نکسل‘ ہے: بی جے پی
-
دنیا1 week agoاردوغان کی ٹرمپ سے ایران کے ساتھ بات چیت جاری رکھنے کی اپیل
-
ہندوستان1 week agoملک میں ‘پیپر لیک نکسل’ کو ختم کرنے کی ضرورت: کانگریس
-
دنیا1 week agoامریکہ نے بات چیت میں رکاوٹ ڈالنے پر عمان کو دھمکی دی
-
جموں و کشمیر1 week agoرجیجو کے تبصرے کے بعد محبوبہ مفتی نے خود کو کہا ’دماغی نکسل‘
-
دنیا1 week agoکشنر نیتن یاہو سے ملاقات کرکے ٹرمپ کے غزہ منصوبے کو آگے بڑھائیں گے
-
جموں و کشمیر1 week agoای او ڈبلیو کشمیر نے تحقیقات کو متاثر کرنے کی کوشش کرنے والے بڈگام کے شہری کے خلاف چارج شیٹ داخل کی
-
جموں و کشمیر1 week agoسجاد لون نے یومِ آزادی کی تقریبات کے بائیکاٹ کی خبر کو ’’بالکل بے بنیاد‘‘ قرار دیا
-
ہندوستان7 days agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
جموں و کشمیر1 week agoکولگام میں ہوئے حادثے میں سی آر پی ایف کے چار جوان اور ٹرک ڈرائیور زخمی
