دنیا
امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ کو ڈاک کے ذریعے ووٹنگ پر پابندیوں کے منصوبے پر آگے بڑھنے کی اجازت دے دی
نیویارک، امریکی سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ڈاک کے ذریعے ووٹنگ کو محدود کرنے کے مقصد سے جاری کیے گئے ایگزیکٹو آرڈر کے بعض حصوں پر عمل درآمد شروع کر سکتے ہیں، تاہم مزید قانونی چیلنجز نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل اس منصوبے کے نفاذ میں تاخیر یا اسے روک سکتے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے کو محدود قرار دیا ہے، تاہم اس حکم سے وسط مدتی انتخابات کے لیے ووٹنگ کے قوانین کے حوالے سے نئی غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ فیصلے سے یہ امکان برقرار ہے کہ ٹرمپ مارچ میں جاری کیے گئے اپنے حکم میں شامل اقدامات کو بالآخر نافذ کر سکتے ہیں۔ اس حکم میں امریکی پوسٹل سروس اور محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کو انتخابات کے انتظام میں غیر معمولی اختیارات دینے کی کوشش کی گئی تھی، سی این این نے رپورٹ کیا۔
سپریم کورٹ نے 10 صفحات پر مشتمل غیر دستخط شدہ حکم میں، عدالت کے تین لبرل ججوں کے اختلافی موقف کے باوجود، ٹرمپ انتظامیہ کو ایک تجویز پر آگے بڑھنے کی اجازت دے دی۔ اس تجویز کے تحت ہوم لینڈ سکیورٹی محکمہ ان ریاستوں کے لیے ووٹ ڈالنے کے اہل سمجھے جانے والے افراد کی الگ الگ فہرستیں تیار کر سکتا ہے، جن کی قیادت ڈیموکریٹس کر رہے ہیں اور جنہوں نے عدالت میں اس منصوبے کو چیلنج کیا تھا۔
ٹرمپ کے ایگزیکٹو آرڈر کی ایک اور شق میں پوسٹل سروس کو ان ریاستوں کے لیے نئی شرائط عائد کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جو ڈاک کے ذریعے بیلٹ بھیجنا چاہتی ہیں۔ منصوبے کے تحت ریاستوں کو پوسٹل سروس کو اہل ووٹروں کی فہرستیں فراہم کرنا ہوں گی اور بیلٹ کے لفافوں پر ایسی معلومات درج کرنا ہوں گی جن سے ان کی ترسیل کا سراغ لگایا جا سکے۔
ججوں نے اس حصے پر بھی امریکی پوسٹل سروس کو آگے بڑھنے کی اجازت دی، تاہم ایک نچلی عدالت پہلے ہی ملک بھر میں اس کے نفاذ کو روک چکی ہے۔
نتیجتاً، پوسٹل سروس کے لیے اس اقدام پر عمل درآمد سے قبل مزید عدالتی کارروائی ضروری ہوگی۔ ان کارروائیوں کے نتیجے میں سپریم کورٹ میں نئی ہنگامی اپیلیں بھی دائر ہو سکتی ہیں، جو ممکنہ طور پر چند دنوں کے اندر سامنے آسکتی ہیں۔
اس لیے پیر کا فیصلہ ڈاک کے ذریعے ووٹنگ سے متعلق ٹرمپ کے ایگزیکٹو آرڈر پر آخری فیصلہ نہیں سمجھا جا رہا۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا، ’’اگر پوسٹل سروس کا حتمی ضابطہ ریاستوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے تو وہ اس ضابطے کو چیلنج کر سکتی ہیں۔‘‘
سپریم کورٹ نے اس سوال پر فیصلہ نہیں دیا کہ ٹرمپ کا ایگزیکٹو آرڈر قانونی طور پر درست ہے یا نہیں، بلکہ صرف ریاستوں کی جانب سے دائر چیلنج کے وقت سے متعلق فیصلہ کیا ہے۔
ٹرمپ بارہا بڑے پیمانے پر ووٹوں میں دھاندلی کے بے بنیاد دعوے کرتے رہے ہیں اور ڈاک کے ذریعے ووٹنگ پر عوام کے اعتماد کو کمزور کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔
عدالت نے کہا، ’’اس درخواست پر عدالت کا فیصلہ یہ معنی نہیں رکھتا کہ حکومت کی جانب سے حکم پر عمل درآمد کے لیے اٹھایا جانے والا ہر اقدام لازماً قانونی ہوگا۔ اس معاملے میں وقت ہی فیصلہ کرے گا۔‘‘
اس کے باوجود یہ فیصلہ ڈیموکریٹس کی قیادت والی ریاستوں کے لیے ایک دھچکا ہے۔ ان ریاستوں نے خبردار کیا تھا کہ انہیں رواں سال کے انتخابات کی تیاریوں سے وقت اور وسائل ہٹا کر اس معاملے پر صرف کرنے پڑیں گے۔
وائٹ ہاؤس نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کیا۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان لارین بِس نے کہا، ’’یہ امریکی انتخابات کی سکیورٹی کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔ یہ عام فہم اقدامات ہیں جو ڈاک کے ذریعے بھیجے جانے والے بیلٹ کی سکیورٹی کو یقینی بناتے ہیں اور اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ صرف امریکی شہری ہی امریکی رہنماؤں کا انتخاب کریں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’یہ انتظامیہ صدر ٹرمپ کے اس ایجنڈے کو قانونی طریقے سے نافذ کرتی رہے گی جس کے لیے وہ منتخب ہوئے ہیں، جس میں ہمارے انتخابات کی حفاظت اور سکیورٹی بھی شامل ہے۔‘‘
اس سال سپریم کورٹ میں انتخابات سے متعلق مقدمات میں مسلسل تنازع بڑھا ہے، جس کے باعث عدالت کے قدامت پسند اور لبرل ججوں کے درمیان شدید اختلافات سامنے آئے ہیں۔
ایک اہم مقدمے میں عدالت کی 6-3 قدامت پسند اکثریت نے اپریل کے آخر میں ایک اہم فیصلہ سنایا تھا، جس میں لوزیانا کے کانگریسی حلقوں سے متعلق مقدمے میں ووٹنگ رائٹس ایکٹ کو کمزور کر دیا گیا تھا، سی این این نے رپورٹ کیا۔
پیر کے فیصلے پر عدالت کے تینوں لبرل ججوں نے اختلاف کیا۔ جسٹس سونیا سوتومایور نے، جسٹس ایلینا کیگن کی حمایت سے، مؤقف اختیار کیا کہ نچلی عدالتوں کو ڈیموکریٹس کی قیادت والی ریاستوں کے حق میں فیصلہ دینے کا اختیار حاصل تھا۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سپریم کورٹ کی اکثریت نے ٹرمپ کی ہدایات کی قانونی حیثیت کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں دیا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایندھن کی قیمتوں کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیش نظر امریکہ روس سے ڈیزل درآمد کرے گا: ٹرمپ
واشنگٹن، امریکہ میں ایندھن کی قیمتں کم کرنے کے دباؤ بڑھنے کی وجہ سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس سے ڈیزل درآمد کرنے کے ایک معاہدے کا اعلان کیا ہے۔
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ نے کہا ہے کہ پوتن “امریکی اور عالمی مارکیٹ” کے لیے فوری طور پر تین لاکھ ٹن ڈیزل فراہم کرنے پر رضا مند ہو گئے ہیں، جس کے بعد نومبر میں پانچ لاکھ ٹن اور اس کے بعد دس لاکھ ٹن ڈیزل فراہم کیا جائے گا۔ جمعہ کے روز اٹھائے گئے اس قدم سے یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی ناراض ہو گئے ہیں۔ انہوں نے اسے پوتن کے لیے ایک تحفہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ “ایک ایسی جنگ میں سرمایہ کاری ہے جسے ختم کیا جانا چاہیے، نہ کہ طویل کھینچا جانا چاہیے۔”
مبصرین کا ماننا ہے کہ اس معاہدے کے تحت امریکی ٹریژری 7 اپریل تک روسی ڈیزل کی برآمد پر عائد پابندیوں کو ہٹا رہی ہے، لیکن امریکی بینکوں میں موجود دیگر اثاثے ابھی بھی منجمد ہیں۔
اپنے ‘ٹروتھ سوشل’ اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں ٹرمپ نے کہا کہ روس کی جانب سے مزید تیس لاکھ ٹن ڈیزل “کم وقت میں” دستیاب کرایا جائے گا، جو وہاں کی ریفائنریز کی صورتحال پر منحصر ہوگا جن پر یوکرین نے حملے کیے ہیں۔
بعد میں پوتن نے کہا کہ روس-جس نے رواں سال کے آغاز میں ڈیزل کی برآمد پر پابندی عائد کی تھی-امریکہ اور عالمی منڈیوں کو تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی کے لیے تیار ہے، لیکن ان کے بیان میں مقدار کا کوئی ذکر نہیں تھا۔
تاہم، تجزیہ کاروں نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ آیا روس اتنی بڑی مقدار میں ڈیزل فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں، اور ایسا کرنے سے امریکی صارفین کے لیے قیمتوں میں کس حد تک کمی آئے گی۔
دریں اثنا، برطانوی حکومت کے ایک ترجمان نے کہا کہ ان کا مؤقف “بالکل واضح” ہے اور وہ یوکرین کی حمایت جاری رکھنے اور پائیدار امن قائم کرنے کے لیے عالمی اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کرتے رہیں گے۔
“ہم برطانیہ کی جانب سے اب تک عائد کردہ سخت ترین پابندیوں کے ذریعے روس پر دباؤ برقرار رکھیں گے، پوتن کی جارحیت کی قیمت بڑھائیں گے اور ایک منصفانہ اور پائیدار امن کو یقینی بنانے کی کوششوں کی حمایت کریں گے۔”
جمعہ کا یہ اعلان امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں کو کم کرنے کی سمت میں ٹرمپ کی تازہ ترین کوشش ہے، کیونکہ وہ ایران کے ساتھ جاری جنگ کے سیاسی نتائج اور عالمی توانائی کی قیمتوں پر اس کے اثرات سے نمٹنے میں کئی مہینوں سے مصروف ہیں، جس کا آغاز فروری میں ہوا تھا۔ اس تنازع کی وجہ سے حالیہ مہینوں میں امریکہ میں پیٹرول اور بالخصوص ڈیزل کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں، جس سے عوام میں ان کی مقبولیت کو دھکا لگا ہے؛ لوگ پمپوں پر بلند قیمتوں اور مہنگائی کے اثرات سے شدید پریشان ہیں۔
اے اے اے کے مطابق، امریکہ میں ڈیزل کی اوسط قیمت فی الحال 6.28 ڈالر فی گیلن ہے، جو کہ ستمبر کے آخر میں درج کیے گئے 6.53 ڈالر کی ریکارڈ بلند سطح سے کچھ کم ہے۔
ٹرمپ کے اس اعلان کے فوراََ بعد امریکی وزارتِ خزانہ نے باضابطہ طور پر ایک عارضی لائسنس جاری کر دیا، جس سے روسی ڈیزل کی مارکیٹ میں آمد کی راہ ہموار ہو گئی۔
یواین آئی۔الف الف
دنیا
ہزیشکیان نے پوتن کو ایران اور امریکہ کے مابین نئی مذاکراتی تجاویز سے آگاہی کرائی
تہران، صدرِ ایران مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ نے جنگ ختم کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے نئی تجاویز کا تبادلہ کیا ہے۔
ایرانی صدر نے ترکمانستان میں اپنے روسی ہم منصب ولادیمیر پوتن سے دوطرفہ اقتصادی اور اسٹریٹجک تعاون کو بڑھانے پر بات چیت کے لیے ملاقات کی۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ایرنا کے مطابق یہ ملاقات کامن ویلتھ آف انڈیپنڈنٹ سٹیٹس (سی آئی ایس) سربراہی اجلاس اور بحیرہ کیسپین کے ماحولیاتی اجلاس کے اجلاس کے موقع پر ہوئی۔
دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات میں پیش رفت کا جائزہ لیا اور توانائی، زراعت، نقل و حمل اور تجارت سمیت اہم شعبوں میں تعاون کو مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے مشترکہ منصوبوں کی تکمیل اور حتمی منظوری میں تیزی لانے کی ضرورت پر زور دیا اور دونوں ممالک کے قومی مفادات اور علاقائی استحکام کے مطابق جامع تعاون کو وسیع کرنے کے عزم کی تکرار کی۔
ایرانی طلبا کی خبر رساں ایجنسی اسنا کے مطابق پزشکیان نے کہا کہ جنگ کے باوجود ایران امریکہ کے ساتھ مذاکرات سے کنارہ کش نہیں ہوگا۔
“ہم بات چیت کر رہے ہیں، مگر جب بھی ہم امریکہ سے بات کرتے ہیں، وہ دوبارہ حملہ کر دیتے ہیں۔ تاہم ہم مذاکراتی میز اور گفت و شنید سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔”
پزشکیان نے کہا کہ تہران اور واشنگٹن نے دو طرفہ طور پر نئی تجاویز پیش کی ہیں۔
“ہم نے ان تجاویز میں اپنی ترامیم کی ہیں۔ جب یہ حتمی ہو جائیں گی تو ہمیں موجودہ ثالثوں کے ذریعے بیٹھ کر انہیں یکجا کرنا ہوگا۔”
پزشکیان نے علاقائی امور اور اقوامِ متحدہ میں روس کے موقف کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ماسکو نے یکطرفہ پالیسیوں کے خلاف مدد کی۔انہوں نے یہ بھی امید ظاہر کی کہ تہران اور ماسکو کے درمیان بڑھتی ہوئی ہم آہنگی “تیزی اورمظبوطی کے ساتھ” آگے بڑھے گی، اور کہا کہ موجودہ حالات تعاون کو گہرا کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تہران جنگ کے خاتمے کا خواہاں ہے، بشرطیکہ ایرانی عوام کے حقوق بین الاقوامی قانون کے تحت محفوظ رہیں۔
دونوں رہنماؤں کی آخری ذاتی ملاقات یکم ستمبر کو کرغزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر ہوئی تھی، جہاں انہوں نے دوطرفہ تعلقات اور امریکہ-ایران جنگ پر بات کی تھی۔
اس ملاقات کے دوران پوتن نے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کو “غیر مستحکم اور بہت نازک” قرار دیا اور تہران کی حمایت جاری رکھنے کا عندیہ دیا۔
مزید یہ کہ پزشکیان اور پوتن نے تاکہ ایران-امریکہ مذاکرات پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے بدھ کو فون پر بات کی تھی، جس میں روسی صدر نے تنازع کے حل کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت میں ماسکو کی آمادگی ظاہر کی۔
پوتن سی آئی ایس سربراہی اجلاس اور بحیرہ کیسپین کے ماحولیاتی اجلاس میں شرکت کرنے کے لیے جمعرات کو دو روزہ دورے پر ترکمانستان پہنچے تھے۔
توقع ہے کہ سی آئی ایس اجلاس رکن ممالک کے درمیان تعاون کے ساتھ ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت کا جائزہ لے گا۔
بحیرہ کیسپین ماحولیاتی اجلاس میں پانچ ساحلی ممالک – آذربائیجان، ایران، قازقستان، روس اور ترکمانستان – کے رہنما یکجا ہوئے ہیں ، اجلاس کے ایجنڈے میں خطے میں ماحولیاتی تعاون شامل ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ریاض ہوائی اڈے پر دو حملوں میں تین سعودی شہری ہلاک، متعدد زخمی
ریاض، سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں واقع کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر جمعرات کو دو الگ الگ حملوں میں تین سعودی شہریوں کی موت ہو گئی، جبکہ مختلف ممالک کے متعدد شہری زخمی ہو گئے۔
سعودی عرب کی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن (جی اے سی اے) نے یہ اطلاع دی۔
اتھارٹی کے مطابق، زخمیوں کو معمولی سے لے کر شدید نوعیت کی چوٹیں آئی ہیں۔ انہیں فوری طبی امداد فراہم کرنے کے لیے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔
سعودی فضائی نقل و حمل اتھارٹی کے مطابق، پہلا حملہ ہوائی اڈے کے احاطے اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر کیا گیا، جبکہ دوسرا حملہ سعودی ایئرلائنز کے ایک طیارے پر ہوا۔
اتھارٹی نے بتایا کہ واقعے کے بعد ہوائی اڈے پر پروازوں کی آمد و رفت عارضی طور پر معطل کر دی گئی تھی، تاہم فضائی ٹریفک کو جلد معمول پر لانے کے لیے اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
دنیا1 week agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
دنیا1 week agoفلائی دبئی طیارے کے کاک پٹ حملے میں ایران کا تعلق ثابت ہوا تو ’بہت سخت‘ کارروائی ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoیمن میں تعز کی لڑائی تیز، حوثی ٹھکانوں پر تین گھنٹے میں 20 فضائی حملے
