ہندوستان
ملک میں کورونا سے 9 مریضوں کی موت، 7400 سرگرم معاملے
نئی دہلی، ملک میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا انفیکشن سے مزید 9 مریضوں کی موت ہو ئی، جس کے بعد اس وائرس سے اموات کی کل تعداد 87 ہو گئی ہے اور 269 ایکٹیو کیسز کے اضافے کے ساتھ ہی فعال کیسوں کی کل تعداد 7400 تک پہنچ گئی ہے۔ اس سے قبل جمعہ کو کورونا فعال معاملوں کی کل تعداد 7131 تھی۔
مرکزی وزارت صحت اور خاندانی بہبود کی طرف سے آج جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مہاراشٹر میں کورونا انفیکشن سے چار، کیرالہ میں تین اور راجستھان اور تمل ناڈو میں ایک ایک مریض کی موت ہوئی ہے۔
قومی راجدھانی دلی، مہاراشٹر، گجرات، کیرالہ اور مغربی بنگال جیسی ریاستوں میں سب سے زیادہ معاملے سامنے آئے ہیں۔ 22 مئی کو ملک میں کورونا کے معاملے محض 257 تھے جو آج بڑھ کر 7400 ہو گئے ہیں۔ وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق اس دوران 11967 مریض کورونا انفیکشن سے صحت یاب ہوئے ہیں۔
گزشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا انفیکشن کے سب سے زیادہ فعال معاملے گجرات سے 79، کرناٹک سے 132، کیرالہ سے 54 اور مدھیہ پردیش سے 20 سامنے آئے ہیں جبکہ دہلی سے 42، آندھرا پردیش سے 15 اور مہاراشٹرا سے 16 معاملے سامنے آئے ہیں۔
محکمہ صحت کے افسران کے مطابق، انفیکشن نئے ابھرتے ہوئے ویریئنٹ، خاص طور پر ایل ایف.7، ایکس ایف جی، جے این.1 اور حال ہی میں شناخت کئے گئے این بی.1.8.1 سب ویریئنٹ کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ ان ویریئنٹ کی جانچ چل رہی ہے۔
وزارت کے اعداد و شمار کے مطابق ملک کی 28 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں کورونا کے ایکٹیو کیسز میں اضافہ ہوا ہے، جب کہ تین ریاستوں میزورم، ہماچل پردیش اور اروناچل پردیش میں کورونا انفیکشن کا ابھی کوئی ایکٹو کیس نہیں ہے۔
کیرالہ، دہلی، گجرات، کرناٹک، مہاراشٹر اور مغربی بنگال میں ایکٹو کیسز میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
کیرالہ انفیکشن کے لحاظ سے سب سے زیادہ متاثرہ ریاست ہے، جہاں آج صبح تک 54 ایکٹیو معاملے بڑھنےسے اس کی تعداد 2109 تک پہنچ گئی ہے اور قومی راجدھانی میں 42 کیسز کی کمی دیکھی گئی ہے، جس سے متاثرین کی کل تعداد 672 ہو گئی ہے۔ گجرات میں 79 ایکٹیو کیسز بڑھنے کے ساتھ، فعال کیسوں کی کل تعداد بڑھ کر 1437 ہو گئی ہے۔
اس کے علاوہ مغربی بنگال میں 747، مہاراشٹر میں 613، کرناٹک میں 527، تمل ناڈو میں 232، اتر پردیش میں 248، راجستھان میں 180، ہریانہ میں 97، آندھرا پردیش میں 102، مدھیہ پردیش میں 120، چھتیس گڑھ میں 50، بہار میں 41، اوڈیشہ میں 45، سکم میں 50، پنجاب میں 29، جموں و کشمیر میں 9، جھارکھنڈ میں 25، آسام میں 26، تلنگانہ میں 8، پڈوچیری میں 10، منی پور اور اتراکھنڈ میں 5، گوا میں 6، لداخ میں 3، چنڈی گڑھ اور تریپورہ میں دو ایکٹو کیسز ہیں۔
سرکاری افسران اور ماہرین صحت نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ماسک پہنیں، بار بار ہاتھ دھوئیں اور بھیڑ والی جگہوں سے گریز کریں، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں معاملوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ نیز، موسمی وائرل بخار کے پھیلنے کے ساتھ، صحت کے پیشہ ور افراد نے کووڈ19 کو دوسرے انفیکشن سے الگ کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
یو این آئی۔ این یو۔
ہندوستان
ہندستانی دفاعی صنعتوں کو ملے گی ڈی آر ڈی او کے روایتی میزائل نظام کی ٹیکنالوجی
نئی دہلی، دفاعی شعبے میں خود انحصاری کے وژن کو شرمندۂ تعبیر کرنے اور ملک میں میزائل سازی کو فروغ دینے کی سمت میں ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے، وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ نے دفاعی تحقیق و ترقی کی تنظیم (ڈی آر ڈی او) کی جانب سے تیار کردہ تمام روایتی میزائل نظام کی ٹیکنالوجی ہندستانی دفاعی صنعت کو ملک میں ہی پیداوار کے لیے منتقل کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے سے اب ملک میں دفاعی شعبے کی نجی کمپنیاں بھی میزائل سازی کر سکیں گی اور میزائلوں کی در آمد پر انحصار میں کمی آئے گی۔
وزارتِ دفاع نے منگل کے روز بتایا کہ ٹیکنالوجی کی یہ منتقلی گھریلو صنعتوں کو مقررہ اہلیتوں، سرٹیفکیشن اور ضوابط کی ضروریات کے مطابق دیسی پیداوار کے قابل بنا کر دفاعی شعبے کے سازگار ماحول میں ان کی زیادہ سے زیادہ شراکت کو فروغ دینے کی سمت میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔
وزیرِ دفاع کے دفتر نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ میں کہا، “اس التزام سے میزائل نظام کی ترقی سے صنعتی پیداوار کی طرف کامیابی کے ساتھ آگے بڑھنے کے عمل میں مدد ملے گی۔ یہ جدید دفاعی نظام کی ترقی اور ساخت کے لیے ہندستانی صنعت کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کی ڈی آر ڈی او کی مسلسل کوششوں کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کا مقصد گھریلو پیداواری صلاحیتوں کو بڑھانا، دفاعی صنعتی بنیاد کو مضبوط کرنا نیز سپلائی چین میں ہندستانی ایم ایس ایم ای اور دیگر ٹیکنالوجی شراکت داروں کی شرکت کے لیے مواقع پیدا کرنا ہے۔”
اس اقدام کا مقصد عملی صلاحیت میں اضافہ کرنا، در آمدات پر انحصار گھٹانا نیز معیار اور افادیت کو بڑھانے کے لیے گھریلو سطح پر اصلاحات یا تبدیلیوں کو فروغ دینا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس سے ہندستان کے دفاعی مینوفیکچرنگ کے شعبے کی ترقی میں بھی تعاون حاصل ہوگا۔ ڈی آر ڈی او جدید دفاعی ٹیکنالوجیز کی منتقلی، انہیں اپنی ضروریات کے مطابق ڈھالنے اور دفاعی نظام میں شامل کرنے کے عمل کو آسان بنانے نیز ملک کی دیسی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط کرنے کے مقصد سے ہندستانی صنعت کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
لکھنؤ میں وکیلوں کے چیمبرز کومنہدم کرنے کے خلاف عرضی سپریم کورٹ سے خارج
نئی دہلی، سپریم کورٹ نے منگل کے روز لکھنؤ ڈسٹرکٹ کورٹ کے قریب سرکاری زمین پر مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر تعمیر کیے گئے وکیلوں کے چیمبرز کو منہدم کرنے کے نوٹس جاری کرنے کے الہ آباد ہائی کورٹ کے حکم کو چیلنج کرنے والی عرضی کو خارج کر دیا ہے جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا کی بنچ نے اس معاملے میں مداخلت کرنے سے انکار کرتے ہوئے تبصرہ کیا کہ صرف اس بنیاد پر غیر قانونی تعمیرات کو تحفظ نہیں دیا جا سکتا کہ ان پر وکیلوں کا قبضہ ہے۔ جسٹس ناتھ نے کہا کہ اگر عدالت کے احاطے پر ہی قبضہ کر لیا جائے گا تو ان کے تحفظ کی ذمہ داری کس کی ہوگی۔
عدالت نے ثالثی یا متبادل جگہ فراہم کرنے کی تجویز کو بھی مسترد کر دیا اور عدالتی احاطے کو تجاوزات سے پاک رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ یہ معاملہ تقریباً 72 لوگوں کے مبینہ قبضے سے متعلق ہے، جن میں زیادہ تر وکلاء شامل ہیں، جن کے چیمبرز لکھنؤ ڈسٹرکٹ کورٹ کے پاس عوامی راستوں یا یوٹیلٹی زمین پر تعمیر کیے گئے تھے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
ذات پرمبنی مردم شماری کے طریقۂ کار پر کھرگے اور راہل نے تشویش کا اظہار کیا، مودی کو لکھا مشترکہ خط
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے اور لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے وزیرِ اعظم نریندر مودی کو مشترکہ خط لکھ کر ذات پر مبنی مردم شماری کے موجودہ طریقۂ کار پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے مسٹر کھرگے نے کہا کہ کھلے سوالات کے ذریعے ذاتوں کی صحیح گنتی ممکن نہیں ہے۔ ایک ہی ذات کے مختلف ناموں اور ذیلی ذاتوں کے طور پر درج ہونے سے اعداد و شمار بکھر سکتے ہیں، جس کا سب سے زیادہ نقصان دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی)، انتہائی پسماندہ اور محروم طبقات کو ہوگا۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ کانگریس کا مطالبہ واضح ہے کہ موجودہ سوالنامے کو منسوخ کر کے تصدیق شدہ ذاتوں کی فہرست کی بنیاد پر نیا سوالنامہ تیار کیا جائے۔ اس کے لیے سیاسی جماعتوں، ماہرین اور عام لوگوں سے وسیع پیمانے پر مشاورت کی جانی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ تلنگانہ اور بہار میں کیے گئے ذات پر مبنی سروے کی طرز پر پہلے سے تیار اور تصدیق شدہ ذاتوں کی فہرست کی بنیاد پر گنتی کرنا اس کا عملی حل ہو سکتا ہے۔ مسٹر کھرگے نے زور دے کر کہا کہ ذات پر مبنی مردم شماری صرف کرائی ہی نہیں جانی چاہیے، بلکہ اس کے اعداد و شمار درست اور قابلِ اعتماد بھی ہونے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ ذات پر مبنی درست اعداد و شمار سماجی انصاف اور محروم طبقات کے حقوق سے متعلق پالیسی ساز فیصلوں کے لیے انتہائی اہم ہیں۔
یو این آئی ایف اے
-
پاکستان1 week agoپاکستان کی سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا
-
دنیا1 week agoپوپ لیو کا مطالبہ: مغربی کنارے میں تشدّد بند کیا جائے
-
ہندوستان1 week agoمحض 24 گھنٹوں میں ہی سامنے آ گیا کہ کس کے دماغ میں ’نکسل‘ ہے: بی جے پی
-
ہندوستان1 week agoیو جی سی – نیٹ کے تین مضامین کا امتحان دوبارہ کرانے پر جواب دیں مودی: راہل
-
ہندوستان1 week agoطلبہ کے مطالبات پر راہل گاندھی نے ہیمنت سورین سے مداخلت کی اپیل کی، مظاہرین سے ملنے کی خواہش ظاہر کی
-
ہندوستان1 week agoملک میں ‘پیپر لیک نکسل’ کو ختم کرنے کی ضرورت: کانگریس
-
ہندوستان1 week agoٹرمپ کا ہندوستان کے انتخابی نظام کو ماڈل قرار دے کر۔ دو آخری واشنگٹن
-
دنیا1 week agoاردوغان کی ٹرمپ سے ایران کے ساتھ بات چیت جاری رکھنے کی اپیل
-
دنیا1 week agoامریکہ نے بات چیت میں رکاوٹ ڈالنے پر عمان کو دھمکی دی
-
دنیا1 week agoکشنر نیتن یاہو سے ملاقات کرکے ٹرمپ کے غزہ منصوبے کو آگے بڑھائیں گے
-
جموں و کشمیر1 week agoرجیجو کے تبصرے کے بعد محبوبہ مفتی نے خود کو کہا ’دماغی نکسل‘
-
ہندوستان1 week agoہریانہ، پنجاب میں 17-18 اگست کو شدید بارش کی پیش گوئی، ہماچل اور جموں و کشمیر میں بہت شدید بارش کا خدشہ
