تازہ ترین
ورلڈ کپ 2026: حیدرآبادی میاں بھائی محمد سراج کی ہندوستانی اسکواڈ میں واپسی،مداحوں میں خوشی کی لہر
حیدرآباد 7فروری(یواین آئی)حیدرآباد کے اسٹار فاسٹ گیند بازمحمد سراج کے مداحوں کے لئے بڑی خوشخبری سامنے آئی ہے کیونکہ انہیں آئی سی سی مینس ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 کے لئے ہندوستانی اسکواڈ میں شامل کر لیا گیا ہے۔ سراج کو نوجوان بولرہرشت رانا کی جگہ ٹیم میں شامل کیا گیا ہے جو گھٹنے کے زخمی ہونیکے باعث ٹورنمنٹ سے باہر ہو گئے ہیں۔
اطلاعاتکے مطابق، 4 فروری کو نوی ممبئی میں جنوبی افریقہ کے خلاف کھیلے گئے وارم اپ میچ کے دوران ہرشت رانا زخمی ہو گئے تھے۔ طبی معائنے اور اسکین کے بعد بی سی سی آئی کی میڈیکل ٹیم نے انہیں ان فٹ قرار دیا جس کے بعد سلکٹرس نے حیدرآبادی میاں بھائی یعنی محمد سراج کے تجربہ پر بھروسہ کرتے ہوئے انہیں ورلڈ کپ کے مشن پر روانہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
محمد سراج کی شمولیت سے ہندوستانی اٹیک کو مزید مضبوطی ملے گی خاص طور پر جسپریت بمراہ اور ارشدیپ سنگھ کے ساتھ ان کی جوڑی مخالف بلے بازوں کے لئے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
ڈی ایس پی محمد سراج نے محدود اوورس کی کرکٹ میں اپنی تیز رفتار گیندبازیاور درست لائن و لینتھ سے دنیا بھر میں اپنی شناخت بنائی ہے۔ ان کے ٹی 20 کیریئر کے اعداد و شمار اس طرح ہیں۔
میاچس۔40،وکٹیں 45۔بہترین بولنگ: 17/4 (نیوزی لینڈ کے خلاف)،اکانومی ریٹ: 8.50 (تقریباً)،خاصیت: پاور پلے میں سوئنگ اور ڈیتھ اوورس میں یارکرس مارنے کی صلاحیت۔
حیدرآباد کی گلیوں سے نکل کر عالمی کرکٹ کے افق پر چمکنے والے محمد سراج کی ورلڈ کپ اسکواڈ میں واپسی پر شہر میں نوجوانوں کرکٹ شائقین اوران کے مداحوں میں جشن کا ماحول ہے۔ حیدرآبادی کرکٹ شائقین اپنے لاڈلے میاں بھائی کو ایک بار پھر عالمی اسٹیج پر ایکشن میں دیکھنے کے لیے پرجوش ہیں۔ سراج نے ہمیشہ اپنی محنت اور لگن سے حیدرآباد کا نام روشن کیا ہے اور ان کی شمولیت سے نہ صرف ٹیم کے گیند بازی کے اٹیک کو تجربہ حاصل ہوا ہے بلکہ مقامی نوجوان کھلاڑیوں میں بھی خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ حیدرآباد کے کرکٹ حلقوں کا ماننا ہے کہ سراج کی جارحانہ گیند بازی ورلڈ کپ کے اہم میچوں میں ہندوستان کے لئے ترپ کا پتہ ثابت ہوگی۔
یواین آئی وخ
پاکستان
کیا پاکستان کے عاصم منیر ایرانی فوجی قیادت کو مذاکرات کی میز پر واپس لانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں
اسلام آباد، پاکستانی فیلڈ مارشل عاصم منیر نے پیر کے روز تہران میں طاقت کے اہم مراکز کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے صدر، پارلیمنٹ، سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل، وزارت خارجہ اور وزارت داخلہ کے حکام سے ملاقاتیں کیں۔
انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف سے بھی ملاقات کی، جو امریکہ کے ساتھ چھ ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات میں ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار ہیں۔تاہم امن مذاکرات میں تعطل کے درمیان تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ثالث کے طور پر منیر کی اصل آزمائش یہ ہوگی کہ آیا وہ ایک بااثر فوجی رہنما کی حیثیت سے اپنے ایرانی ہم منصبوں کو واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر آمادہ کر سکتے ہیں۔
منیر کے دورہ ایران سے چند روز قبل ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے تہران میں ڈاکٹروں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اب وقت آگیا ہے کہ جنگ ختم کی جائے، جبکہ ایران کو برتری حاصل ہے۔ ان کا یہ پیغام واشنگٹن کے ساتھ ساتھ تہران کے اپنے سکیورٹی اداروں کے لیے بھی تھا۔انہوں نے کہا، ’’بہتر ہے کہ ہم اب جنگ ختم کر دیں کیونکہ اس وقت ہم طاقت اور وقار کی پوزیشن میں ہیں۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’’پوری دنیا ہماری فتح کو تسلیم کرتی ہے۔‘‘
چند گھنٹے بعد، 21 اگست کو ایرانی مسلح افواج کے چیف آف جنرل اسٹاف میجر جنرل علی عبداللہی نے کسی بھی امریکی غلط اندازے کی صورت میں ’’انقلابی، تباہ کن، پشیمان کردینے والے اور ہلاکت خیز‘‘ ردعمل کا وعدہ کیا۔
یہ ایرانی صدر اور اب ملک کی فوجی قیادت سنبھالنے والے افراد کے درمیان موجود خلیج کی واضح مثال تھی، اور تجزیہ کاروں کے مطابق منیر کو اسی صورتحال سے بھی نمٹنا ہوگا۔
اسی لیے پیر کے روز منیر کی سب سے اہم ملاقات جنرل محسن رضائی سے قرار دی جا رہی ہے، جو ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے نمائندے اور سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے نئے سیکریٹری ہیں۔ رضائی بنیادی طور پر فوج اور خامنہ ای کے درمیان رابطے کا پل ہیں۔
منیر کا تہران کا دورہ ایسے وقت میں ہوا جب خطے اور دنیا بھر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف دھمکی آمیز ’’اقتصادی ڈی ڈے‘‘ پابندیوں کے اعلان کی توقع کی جا رہی تھی، جن کے تحت تہران کے ساتھ تجارت جاری رکھنے والے ممالک کو بھی سزا دینے کی دھمکی دی گئی تھی۔
بعد میں امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ’’آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ‘‘ کے نام سے وسیع پابندیوں کی مہم کا اعلان کیا، جس میں ایران کے ڈیجیٹل اثاثوں، سونے، ہوا بازی، ٹیکنالوجی اور جہاز رانی کے نیٹ ورکس کو نشانہ بنایا گیا ہے۔تاہم دیگر ممالک کو ایران سے تجارتی تعلقات ختم کرنے کی وارننگ دینے کے باوجود بیسنٹ نے ان ممالک کے خلاف فوری طور پر کسی سزا کا اعلان نہیں کیا اور اعتراف کیا کہ ایسا قدم ’’عالمی مالیاتی نظام کو تباہ کر سکتا ہے۔‘‘
دوسری جانب امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی ایران کے خلاف دوبارہ فوجی حملوں کا امکان برقرار رکھا۔
انہوں نے کہا، ’’اگر ہمیں فوجی حملوں کی ضرورت پڑی تو ہم کریں گے۔ اگر ایران اتنا بے وقوف ہوا کہ اپنی حد سے تجاوز کیا یا امریکی فوج کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی تو ہم وہ کریں گے جو ضروری ہوگا۔‘‘
یہ واضح نہیں کہ منیر کا دورہ ایران کے خلاف وسیع تر امریکی کارروائی کو روکنے میں مددگار ثابت ہوا یا نہیں۔تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق دورے کا وقت اہم تھا۔ منیر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فون پر گفتگو کے چند روز بعد تہران کا سفر کیا۔ اطلاعات کے مطابق ٹرمپ نے اسلام آباد سے کہا تھا کہ وہ اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے ایران کو مذاکرات کی میز پر واپس لائے۔
پاکستان کی انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے مطابق ایک روزہ دورے کے دوران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور جنگ ختم کرنے کے حوالے سے ’’جامع مذاکرات‘‘ ہوئے۔
آئی ایس پی آر نے کہا کہ ایرانی حکام نے ’’پاکستان کے تعمیری کردار اور مخلصانہ کوششوں‘‘ کو سراہا۔
پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی، جو منیر کے ہمراہ تہران گئے تھے، نے اس سے بھی آگے بڑھتے ہوئے مذاکرات کو ’’انتہائی مثبت اور نتیجہ خیز‘‘ قرار دیا اور کہا کہ ’’اہم پیش رفت‘‘ ہوئی ہے۔
یہ رواں سال منیر کا تہران کا چوتھا دورہ تھا، تاہم اس ماہ کے اوائل میں ایران کی فوجی قیادت میں تبدیلیوں کے بعد یہ ان کا پہلا دورہ تھا۔
10 اگست کو سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے عبداللہی کو چیف آف جنرل اسٹاف مقرر کیا جبکہ رضائی کو سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل میں منتقل کیا گیا۔ اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کے کمانڈر احمد وحیدی مارچ سے اپنے عہدے پر موجود ہیں، جب ان کے پیشرو جنگ کے ابتدائی حملوں میں مارے گئے تھے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اب یہی فوجی رہنما ایران کی جنگ سے متعلق حکمت عملی تشکیل دے رہے ہیں، جس سے کسی فوجی ہم منصب کے لیے روایتی سفارت کاروں کے مقابلے میں تہران کو مذاکرات پر آمادہ کرنا نسبتاً آسان ہو سکتا ہے۔
پاکستانی بحریہ کے سابق وائس ایڈمرل اور دفاعی تجزیہ کار احمد سعید نے الجزیرہ سے گفتگو میں کہا، ’’اس بحران کے دوران جنگ اور امن سے متعلق فیصلوں میں آئی آر جی سی اور وسیع تر سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کا کردار مسلسل بڑھ رہا ہے۔‘‘
وزیر داخلہ محسن نقوی اپریل سے اب تک آٹھ مرتبہ تہران کا دورہ کر چکے ہیں، لیکن ان دوروں سے کوئی بڑی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔تاہم منیر سیاست دان نہیں بلکہ ایک جنرل ہیں اور بظاہر انہیں ایرانی قیادت اور اہم طور پر امریکی صدر ٹرمپ، دونوں کا اعتماد حاصل ہے۔ ٹرمپ پاکستانی آرمی چیف کو اپنا ’’پسندیدہ فیلڈ مارشل‘‘ قرار دے چکے ہیں۔
احمد سعید نے کہا، ’’چند روز قبل منیر کو کی جانے والی فون کال خود ٹرمپ نے شروع کی تھی اور پاکستانی قیادت سے درخواست کی تھی کہ وہ اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرکے ایران کو مذاکرات کی میز پر واپس لائے۔‘‘
ایرانی حکام نے منیر کو جو کچھ بتایا، ایرانی سرکاری میڈیا میں شائع ہونے والی تفصیلات کے مطابق، وہ ان بیانات سے زیادہ مختلف نہیں تھا جو وہ گزشتہ پورے ہفتے سے اپنے ملک کے میڈیا کو دے رہے تھے۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق جنرل محسن رضائی نے منیر سے کہا، ’’ہم امریکہ پر اعتماد نہیں کرتے اور اسے اپنا رویہ تبدیل کرنا ہوگا۔‘‘
پارلیمنٹ کے اسپیکر قالیباف نے اس سے بھی زیادہ واضح موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم مفاہمتی یادداشت کی شرائط پر عمل درآمد کے لیے کام کر رہے ہیں اور امریکہ کو مفاہمتی یادداشت کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی ہوں گی۔‘‘
دوسری جانب پزشکیان نے منیر سے کہا کہ وہ واشنگٹن کو ’’اپنا لہجہ اور طریقہ کار درست کرنے‘‘ کا پیغام دیں۔ ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق انہوں نے خبردار کیا کہ ’’طاقت اور دھونس پر انحصار کرنا عمل کو مزید پیچیدہ بنا دے گا۔‘‘
عمان کے وزیر خارجہ بدر بن حمد البوسعیدی بھی منگل کو تہران پہنچنے والے ہیں، جہاں وہ خصوصی طور پر آبنائے ہرمز سے متعلق مذاکرات کے ایک الگ دور میں شرکت کریں گے۔ یہ سفارتی کوشش کئی ماہ سے پاکستان کی ثالثی کے ساتھ ساتھ جاری ہے۔
عمان کا کردار نیا نہیں ہے۔ البوسعیدی آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے قوانین کے حوالے سے ایران کے ساتھ مسلسل مذاکرات کرتے رہے ہیں۔
لاہور میں مقیم دفاعی تجزیہ کار اعجاز حیدر کے مطابق عمان اور پاکستان کے سفارتی راستے ایک دوسرے کے لیے معاون ہیں۔انہوں نے الجزیرہ سے کہا کہ ’’عمان اور اسلام آباد کے راستے ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں کیونکہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی شق 5 میں آبنائے کے حوالے سے عمان اور ایران کے درمیان دوطرفہ مفاہمت پر زور دیا گیا ہے۔‘‘
آبنائے ہرمز ایران اور عمان کے علاقائی پانیوں سے گزرتی ہے۔
حیدر نے کہا کہ ایران اور عمان کے درمیان آبنائے کے مشترکہ انتظام سے متعلق معاہدہ امریکہ کے مفاد میں نہیں، اسی لیے ٹرمپ نے عمان پر بمباری کی دھمکی دی ہے۔
دوسری جانب سابق پاکستانی بحری عہدیدار احمد سعید کے مطابق ثالث کے طور پر اسلام آباد کا فائدہ یہ ہے کہ اسے ’’وحیدی، عبداللہی اور رضائی تک براہ راست رسائی حاصل ہے، جو ایران کے فیصلہ سازی کے اصل معمار ہیں۔‘‘
مذاکرات کے قریب ایک ایرانی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ البوسعیدی تہران میں ’’بنیادی طور پر یہ سننے کے لیے ہوں گے کہ ایران نے کیا فیصلہ کیا ہے اور اپنے پاکستانی ثالث کے ساتھ کیا بات چیت کی ہے۔‘‘
کنگز کالج لندن میں دفاعی مطالعات کے ایسوسی ایٹ پروفیسر اینڈریاس کریگ کے مطابق ایرانی فوجی اور سویلین قیادت کے درمیان سامنے آنے والے اختلافات اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ دونوں فریق جنگ کی موجودہ صورتحال کو مختلف انداز میں دیکھتے ہیں۔
ان کے مطابق پزشکیان اور قالیباف ’’بنیادی طور پر یہ خبردار کر رہے ہیں کہ ایران اس صورتحال میں غیر معینہ مدت تک نہیں رہ سکتا‘‘، جبکہ ’’آئی آر جی سی کے بعض حلقوں کا خیال ہے کہ اس کے برعکس وقت واشنگٹن کے خلاف جا رہا ہے۔‘‘
تاہم انہوں نے کہا کہ ’’محسن رضائی، احمد وحیدی اور آئی آر جی سی اس بات کے تعین میں مرکزی حیثیت رکھتے ہیں کہ جنگ ختم کرنے کے لیے کسی بھی سیاسی مفاہمت پر عمل درآمد ہو سکتا ہے یا نہیں۔‘‘
ان کے مطابق، ’’ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کسی معاہدے پر مذاکرات کر سکتے ہیں اور قطر ثالثی کر سکتا ہے، لیکن اگر سکیورٹی ادارہ اس کے عملی نتائج کو قبول نہیں کرتا تو ان سب کی کوئی اہمیت نہیں۔‘‘
فی الحال منیر کو ان ثالثوں میں سب سے زیادہ موزوں امیدوار سمجھا جا رہا ہے جو ایرانی جرنیلوں کو جنگی کمرے سے مذاکرات کی میز تک لانے کی بہترین صلاحیت رکھتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
نئی امریکی پابندیوں کا سامنا کرنے کے لیے تیار، اثرات سے نمٹنے کا دو سالہ منصوبہ موجود:ایران
تہران، ایران نے منگل کو کہا کہ وہ امریکہ کی جانب سے عائد کی جانے والی نئی اور وسیع پابندیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ ایرانی وزیر اقتصادیات علی مدنی زادے نے کہا کہ تہران نے ان اقدامات کا پہلے ہی اندازہ لگا لیا تھا اور ان کے معاشی اثرات سے نمٹنے کے لیے دو سالہ منصوبہ تیار کر رکھا ہے یہ بیان واشنگٹن کی جانب سے ایسے اقدامات کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے جن کا مقصد تہران کو عالمی مالیاتی نیٹ ورکس سے کاٹنا، اس کی تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی کو محدود کرنا اور شپنگ، ہوا بازی، ٹیکنالوجی، سونے اور ڈیجیٹل اثاثوں سمیت اہم شعبوں کو نشانہ بنانا ہے۔
مدنی زادے نے سرکاری ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’حکومت تیار ہے اور پہلے سے تیار تھی، ہمارے پاس ان حالات سے نمٹنے کے لیے دو سالہ منصوبہ موجود ہے۔ ہمارے پاس اپنے ذرائع بھی ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ یہ کھیل کیسے کھیلنا ہے۔‘‘
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ’’آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ‘‘ کا اعلان کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ کاروبار جاری رکھنے والے ممالک اور کمپنیوں کو ڈالر پر مبنی مالیاتی نظام سے خارج کیے جانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
بیسنٹ نے اس مہم کو ’’اب تک کی سب سے بڑی مالیاتی کارروائی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ دنیا بھر میں ایران کے مالیاتی روابط کو نشانہ بنائے گا۔
بیسنٹ نے کہا، ’’ایران کو اب ایک بالکل واضح انتخاب کا سامنا ہے، اس کے سامنے صرف دو راستے ہیں: مکمل عالمی تنہائی۔۔۔ یا معمول کی صورتحال کی جانب واپسی اور عالمی معیشت میں دوبارہ شامل ہونے کا موقع۔‘‘
امریکی محکمہ خزانہ نے کہا ہے کہ اس نے ایران کی جانب سے پابندیوں سے بچنے اور تیل کی تجارت کے لیے استعمال کیے جانے والے نیٹ ورکس اور مالیاتی ذرائع کی نشاندہی کر لی ہے۔ اقدامات میں پانچ شعبوں، یعنی ڈیجیٹل اثاثوں، ٹیکنالوجی، سونے، ہوا بازی اور شپنگ کو نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ تقریباً 60 افراد، اداروں اور بحری جہازوں پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
بیسنٹ نے کہا کہ ان اقدامات کا مقصد ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور اور وسیع تر ایرانی حکومت کے لیے ’’آمدنی کے ہر ممکن ذریعے کو بند کرنا اور شکنجہ مزید کسنا‘‘ ہے۔
ایران نے کہا ہے کہ اس کے بڑے تجارتی شراکت دار امریکی دباؤ کے سامنے مزاحمت کریں گے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق مدنی زادے نے کہا کہ چین اور روس نے ان اقدامات کو قبول نہیں کیا ہے۔ بیجنگ نے بھی کہا ہے کہ پابندیاں اور دباؤ کی حکمت عملی تنازعات حل نہیں کر سکتی اور وہ اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے اقدامات کرے گا۔
تازہ امریکی اقدامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب تنازع نے توانائی کی منڈیوں کو متاثر کیا ہے اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر جنگ جاری رہی تو وہ خطے سے تیل کی برآمدات روک سکتا ہے۔ اس نے آبنائے ہرمز سے اجازت کے بغیر گزرنے والے بحری جہازوں کو بھی ایک بار پھر خبردار کیا ہے۔
یہ تنگ آبی گزرگاہ، جہاں سے معمول کے حالات میں دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل اور گیس کی سپلائی گزرتی ہے، تنازع شروع ہونے کے بعد سے عملاً بند ہے، جس سے عالمی توانائی کی قیمتوں پر دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔
امریکہ میں پٹرول کی قیمتیں 4 ڈالر فی گیلن سے تجاوز کر گئی ہیں، جس سے نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل گھریلو اخراجات اور عوام کی قوتِ خرید پر تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔ عالمی معیار کا برینٹ خام تیل پیر کو تقریباً 92 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہا تھا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
اقوام متحدہ کے سربراہ کا بحری جہازوں پر حملے ختم کرنے پر زور، آبنائے ہرمز سے آمدورفت کے لیے طریقہ کار کی تجویز
نیویارک، اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے تجارتی بحری جہازوں اور شہری بنیادی ڈھانچے پر حملے فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اہم بحری راستوں میں خلل سے خوراک، توانائی اور کھاد کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور عالمی سطح پر بھوک کا مسئلہ مزید سنگین ہو رہا ہے۔
گوتریس نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کے تنازعات اور یوکرین کی جنگ اہم بحری راستوں میں خلل ڈال رہی ہیں اور ’’عالمی تجارت کی شریانوں کو مفلوج‘‘ کر رہی ہیں۔
انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’صرف آبنائے ہرمز میں ہی بحری آمدورفت تقریباً مکمل طور پر رک گئی ہے۔‘‘
گوتریس کے مطابق تنازع شروع ہونے کے بعد سے تیل کی قیمتوں میں تقریباً 33 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ عالمی کنٹینر شپنگ کے نرخ ایک سال پہلے کے مقابلے میں 84 فیصد بڑھ چکے ہیں۔ کھاد اور دیگر ضروری زرعی اشیا کی قیمتوں میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
اقوام متحدہ کے سربراہ نے کہا کہ جہاز رانی کے حقوق اور آزادی محض سیاسی اصول نہیں بلکہ بین الاقوامی قانون کے تحت عائد ذمہ داریاں ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’ہمیں بین الاقوامی قانون، بشمول سمندری قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کا مکمل احترام، شہری بحری جہازوں، بنیادی ڈھانچے اور شہری ملاحوں کا تحفظ اور جہاز رانی کے حقوق و آزادیوں کو برقرار رکھنا ہوگا۔‘‘
انہوں نے بحیرہ اسود میں تجارتی بحری جہازوں اور شہری بنیادی ڈھانچے پر ’’فوری طور پر حملے بند کرنے‘‘، آبنائے ہرمز میں ’’جہاز رانی کے حقوق بحال کرنے‘‘ اور بحیرہ احمر اور باب المندب کے اطراف بحری جہازوں پر حملے ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔
گوتریس نے کہا، ’’سمندری گزرگاہیں کبھی بھی دباؤ ڈالنے کا ذریعہ نہیں بننی چاہئیں۔ اور دنیا کی خوراک کی فراہمی کو کبھی بھی تنازعات کا ضمنی نقصان نہیں بننا چاہیے۔‘‘
انہوں نے بتایا کہ اقوام متحدہ نے ایک مجوزہ طریقہ کار تیار کیا ہے، جس کا ابتدائی مقصد آبنائے ہرمز کے ذریعے کھاد اور اس سے متعلق خام مال کی نقل و حرکت میں سہولت فراہم کرنا ہے۔
گوتریس کے مطابق یہ طریقہ کار اقوام متحدہ کے ایک ٹاسک فورس نے تیار کیا ہے، جو مارچ میں قائم کی گئی تھی اور جس کی سربراہی اقوام متحدہ کے دفتر برائے پروجیکٹ سروسز کر رہا ہے۔ اس میں اقوام متحدہ کی تجارت و ترقی کانفرنس (انکٹاڈ)، بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن اور بین الاقوامی چیمبر آف کامرس شامل ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس طریقہ کار کے تحت بحری جہازوں کی رجسٹریشن اور تصدیق کے ساتھ ساتھ عمان میں ایک ’’ڈی کنفلکشن‘‘ یعنی فریقین کے درمیان ممکنہ تصادم سے بچنے کے لیے رابطہ کاری کا نظام قائم کیا جائے گا۔
گوتریس نے کہا، ’’ہم اسے عملی شکل دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔‘‘ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ یہ طریقہ کار اسی وقت کام کر سکتا ہے جب تنازع میں شامل تمام فریق اس پر رضامند ہوں۔
اقوام متحدہ غیر جانب دار سہولت کار کا کردار ادا کرے گا، جبکہ یہ طریقہ کار آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں دے گا اور نہ ہی بین الاقوامی قانون کے تحت کسی ریاست کے حقوق و ذمہ داریوں میں کوئی تبدیلی کرے گا۔
گوتریس نے کہا، ’’خودمختار فیصلے مکمل طور پر شریک رکن ممالک کے پاس ہی رہیں گے۔‘‘
مجوزہ طریقہ کار کا مقصد فوری خطرات کو کم کرنا، بحری آمدورفت کو زیادہ قابلِ پیش گوئی بنانا اور سفارت کاری و کشیدگی میں کمی کے لیے درکار اعتماد بحال کرنا ہے۔
گوتریس نے کہا کہ متعلقہ فریق پہلے ہی مجوزہ طریقہ کار کے عملی طریقہ کار سے تفصیلی طور پر آگاہ ہیں اور انہوں نے ان پر تعاون کرنے پر زور دیا۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا اس طریقہ کار کو چلانے کے لیے اقوام متحدہ کو ایران یا اس کی اسلامی انقلابی گارڈ کور سے اجازت درکار ہوگی تو گوتریس نے اقوام متحدہ کے اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ جہاز رانی کی آزادی کا احترام کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا، ’’اگر کسی مرحلے پر یہ ممکن نہ ہو تو ہم فریقین کی رضامندی سے ایسا طریقہ کار قائم کرنے کے لیے تیار ہوں گے جو یقیناً ریاستوں کے خودمختار حقوق استعمال نہیں کرے گا۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’اس کے لیے متعلقہ ریاستوں کی خودمختار رضامندی ضروری ہوگی۔‘‘
گوتریس نے زور دیا کہ مجوزہ انتظام جہاز رانی کی آزادی بحال کرنے یا ان تنازعات کے حل کا متبادل نہیں ہے جو موجودہ خلل کا باعث بن رہے ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’جہاز رانی کے حقوق اور آزادیوں کا بلا رکاوٹ استعمال امن، سلامتی اور مشترکہ خوشحالی کی بنیاد ہے اور اس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ اس کا تحفظ قانونی ذمہ داری اور انسانی ضرورت ہے۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا1 week agoپوپ لیو کا مطالبہ: مغربی کنارے میں تشدّد بند کیا جائے
-
پاکستان1 week agoپاکستان کی سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا
-
ہندوستان1 week agoیو جی سی – نیٹ کے تین مضامین کا امتحان دوبارہ کرانے پر جواب دیں مودی: راہل
-
ہندوستان1 week agoمحض 24 گھنٹوں میں ہی سامنے آ گیا کہ کس کے دماغ میں ’نکسل‘ ہے: بی جے پی
-
ہندوستان1 week agoطلبہ کے مطالبات پر راہل گاندھی نے ہیمنت سورین سے مداخلت کی اپیل کی، مظاہرین سے ملنے کی خواہش ظاہر کی
-
دنیا1 week agoامریکہ نے بات چیت میں رکاوٹ ڈالنے پر عمان کو دھمکی دی
-
دنیا1 week agoاردوغان کی ٹرمپ سے ایران کے ساتھ بات چیت جاری رکھنے کی اپیل
-
ہندوستان1 week agoملک میں ‘پیپر لیک نکسل’ کو ختم کرنے کی ضرورت: کانگریس
-
ہندوستان1 week agoٹرمپ کا ہندوستان کے انتخابی نظام کو ماڈل قرار دے کر۔ دو آخری واشنگٹن
-
دنیا1 week agoکشنر نیتن یاہو سے ملاقات کرکے ٹرمپ کے غزہ منصوبے کو آگے بڑھائیں گے
-
جموں و کشمیر1 week agoرجیجو کے تبصرے کے بعد محبوبہ مفتی نے خود کو کہا ’دماغی نکسل‘
-
ہندوستان1 week agoہریانہ، پنجاب میں 17-18 اگست کو شدید بارش کی پیش گوئی، ہماچل اور جموں و کشمیر میں بہت شدید بارش کا خدشہ
