پاکستان
سائفر کیس: سابق وزیر اعظم عمران خان اور شاہ محمود کو 10، 10 سال قیدِ بامشقت کی سزا
اسلام آباد، راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قائم خصوصی عدالت نے سائفر کیس میں بانیٔ پی ٹی آئی سابق وزیر اعظم عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو 10، 10 سال قیدِ بامشقت کی سزا سنا دی۔
سابق وزیر اعظم اور سابق وزیر خارجہ کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت کے جج ابو الحسنات محمد ذولقرنین نے ملزمان کی موجودگی میں سزا سنائی ہے۔
فیصلہ سنانے کے وقت بانیٔ پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کمرۂ عدالت میں موجود تھے۔
سابق وزیر اعظم اور سابق وزیر خارجہ کے خلاف سائفر کیس میں تمام 25 گواہان کے بیانات پر جرح مکمل لی گئی تھی، بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کو سوالنامہ دیاگیا جس میں 36 سوالوں کے جواب مانگے گئے تھے۔
خیال رہے کہ 23 جنوری کو خصوصی عدالت میں زیر سماعت سائفر کیس میں سابق وزیر اعظم عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے خلاف 25 گواہان کے بیانات قلمبند کرلیے گئے۔
سائفر کیس سفارتی دستاویز سے متعلق ہے جو مبینہ طور پر عمران خان کے قبضے سے غائب ہو گئی تھی، اسی کیس میں سابق وزیر اعظم اور وائس چیئرمین پی ٹی آئی شاہ محمود قریشی جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں تھے۔
پی ٹی آئی کا الزام ہے کہ اس سائفر میں عمران خان کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے امریکا کی جانب سے دھمکی دی گئی تھی۔
ڈان کی رپورٹ کے مطابق ایف آئی اے کی جانب سے درج فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی ار) میں شاہ محمود قریشی کو نامزد کیا گیا اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی دفعات 5 (معلومات کا غلط استعمال) اور 9 کے ساتھ تعزیرات پاکستان کی سیکشن 34 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔
ایف آئی آر میں 7 مارچ 2022 کو اس وقت کے سیکریٹری خارجہ کو واشنگٹن سے سفارتی سائفر موصول ہوا، 5 اکتوبر 2022 کو ایف آئی اے کے شعبہ انسداد دہشت گردی میں مقدمہ درج کیا گیا تھا جس میں سابق وزیر اعظم عمران خان، شاہ محمود قریشی اور اسد عمر اور ان کے معاونین کو سائفر میں موجود معلومات کے حقائق توڑ مروڑ کر پیش کرکے قومی سلامتی خطرے میں ڈالنے اور ذاتی مفاد کے حصول کی کوشش کا الزام عائد کرتے ہوئے انہیں نامزد کیا گیا تھا۔
مقدمے میں کہا گیا کہ سابق وزیراعظم عمران خان، سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور ان کے معاونین خفیہ کلاسیفائیڈ دستاویز کی معلومات غیر مجاز افراد کو فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
سائفر کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ ’انہوں نے بنی گالا (عمران خان کی رہائش گاہ) میں 28 مارچ 2022 کو خفیہ اجلاس منعقد کیا تاکہ اپنے مذموم مقصد کی تکمیل کے لیے سائفر کے جزیات کا غلط استعمال کرکے سازش تیار کی جائے‘۔
مقدمے میں کہا گیا کہ ’ملزم عمران خان نے غلط ارادے کے ساتھ اس کے وقت اپنے پرنسپل سیکریٹری محمد اعظم خان کو اس خفیہ اجلاس میں سائفر کا متن قومی سلامتی کی قیمت پر اپنے ذاتی مفاد کے لیے تبدیل کرتے ہوئے منٹس تیار کرنے کی ہدایت کی‘۔
ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا کہ وزیراعظم آفس کو بھیجی گئی سائفر کی کاپی اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان نے جان بوجھ کر غلط ارادے کے ساتھ اپنے پاس رکھی اور وزارت خارجہ امور کو کبھی واپس نہیں کی۔
مزید بتایا گیا کہ ’مذکورہ سائفر (کلاسیفائیڈ خفیہ دستاویز) تاحال غیر قانونی طور پر عمران خان کے قبضے میں ہے، نامزد شخص کی جانب سے سائفر ٹیلی گرام کا غیرمجاز حصول اور غلط استعمال سے ریاست کا پورا سائفر سیکیورٹی نظام اور بیرون ملک پاکستانی مشنز کے خفیہ پیغام رسانی کا طریقہ کار کمپرومائز ہوا ہے‘۔
ایف آئی آر میں کہا گیا کہ ’ملزم کے اقدامات سے بالواسطہ یا بلاواسطہ بیرونی طاقتوں کو فائدہ پہنچا اور اس سے ریاست پاکستان کو نقصان ہوا۔
ایف آئی اے میں درج مقدمے میں مزید کہا گیا کہ ’مجاز اتھارٹی نے مقدمے کے اندراج کی منظوری دے دی، اسی لیے ایف آئی اے انسداد دہشت گردی ونگ اسلام آباد پولیس اسٹیشن میں آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے سیکشنز 5 اور 9 کے تحت تعزیرات پاکستان کی سیکشن 34 ساتھ مقدمہ سابق وزیراعظم عمران خان اور سابق وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کے خلاف آفیشنل خفیہ معلومات کا غلط استعمال اور سائفر ٹیلی گرام (آفیشل خفیہ دستاویز)کا بدنیتی کے تحت غیرقانونی حصول پر درج کیا گیا ہے اور اعظم خان کا بطور پرنسپل سیکریٹری، سابق وفاقی وزیر اسد عمر اور دیگر ملوث معاونین کے کردار کا تعین تفتیش کے دوران کیا جائے گا‘۔
یواین آئی۔ م س
پاکستان
عمران خان کی رہائی کے مطالبے پر مظاہرے سے قبل اسلام آباد کی سڑکیں سیل
اسلام آباد، پاکستان میں انتظامیہ نے جیل میں بند سابق وزیر اعظم عمران خان کی رہائی کے مطالبے پر مجوزہ مظاہرے سے قبل دارالحکومت اسلام آباد میں داخل ہونے والی اہم سڑکوں کو بند کرنا شروع کر دیا ہے۔
اسلام آباد پولیس نے بدھ کو بتایا کہ اسلام آباد-پشاور موٹروے، اسلام آباد-ڈیرہ اسماعیل خان موٹروے اور گرینڈ ٹرنک روڈ کو بدھ کی شام سے متعدد مقامات پر بند کیا جائے گا۔ پولیس نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اسی کے مطابق اپنے سفر کا منصوبہ بنائیں۔
پاکستانی مقامی میڈیا کے مطابق، سڑکوں کی بندش غیر معینہ مدت کے لیے ہے اور اس کا مقصد عمران خان کی پارٹی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے حامیوں کو 27 ستمبر کو دارالحکومت کی جانب مارچ کرنے سے روکنا ہے۔
عمران خان اگست 2023 سے جیل میں ہیں۔ انہیں متعدد مقدمات میں قصوروار قرار دیا گیا تھا، تاہم ان کی پارٹی نے ان مقدمات کو سیاسی بنیادوں پر قائم قرار دیا ہے۔ ان میں سے زیادہ تر مقدمات میں بعد میں اپیل کے دوران سزائیں معطل یا فیصلے منسوخ کیے جا چکے ہیں۔
عمران خان کی صحت، بالخصوص ان کی دائیں آنکھ کی حالت پر بھی تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ان کی آنکھ کے علاج کے لیے کئی ماہ سے ماہر طبی نگہداشت کی ضرورت ہے۔ پی ٹی آئی نے ان کی رہائی کے لیے اپنی مہم تیز کر دی ہے۔
مجوزہ مارچ میں شرکا کی پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی سے تقریباً 1,150 کلومیٹر اور لاہور سے تقریباً 270 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے اسلام آباد پہنچنے کی منصوبہ بندی تھی۔
مقامی میڈیا کے مطابق، حکام نے دارالحکومت اور شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخوا سے آنے والے اہم راستے اٹک پل پر تقریباً 2,000 مال بردار کنٹینر تعینات کیے ہیں۔ خیبر پختونخوا اور پنجاب کے درمیان ایک اور اہم راستے ہارون پل پر بھی کنٹینر اور ریت کی بوریاں رکھی گئی ہیں۔ ضلع اٹک میں تقریباً 30,000 سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے پیر کو پی ٹی آئی کو مظاہرے کے خلاف خبردار کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ایسے اقدامات سے کوئی مقصد حاصل نہیں کیا جا سکتا اور پارٹی کو مظاہرے سے قبل اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔
دریں اثنا، ایک اور اپوزیشن جماعت جماعت اسلامی نے ایندھن کی بلند قیمتوں کے خلاف اتوار کو کراچی سے اسلام آباد کے لیے اپنا مارچ شروع کیا تھا۔ پارٹی کے سربراہ حافظ نعیم الرحمن نے روانگی سے قبل کہا تھا کہ اگر حکومت پٹرولیم مصنوعات پر فی لیٹر 100 پاکستانی روپے سے زائد کا لیوی واپس نہیں لیتی تو یہ تحریک حکومت ہٹانے کی مہم میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
پنجاب کے شہر ملتان پہنچنے کے بعد نعیم الرحمن نے منگل کو کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی درخواست پر مارچ ملتوی کیا جائے گا۔ اس معاملے پر دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات بھی مجوزہ ہے۔
اسی دوران پولیس نے اتوار کو عمران خان کی بہن علیمہ خان کو لاہور میں واقع ان کی رہائش گاہ سے امن عامہ سے متعلق قانون کے تحت گرفتار کر لیا۔ ان کی دو دیگر بہنوں، عظمیٰ خان اور نورین نیازی سمیت کئی دیگر رشتہ داروں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
سنگین ایندھن قلت کی صورت میں پاکستان میں پٹرول کی قیمت 1000 پاکستانی روپے فی لیٹر تک پہنچنے کا اندیشہ
اسلام آباد، پاکستان میں پٹرول کی قیمت سنگین ایندھن قلت کی صورت میں 1000 پاکستانی روپے (3.61 امریکی ڈالر) فی لیٹر تک پہنچ سکتی ہے۔ پٹرولیم کے وزیر علی پرویز ملک نے اتوار کو یہ بات کہی۔ عالمی سطح پر خام تیل کی بڑھتی قیمتوں کے باعث ملکی مارکیٹ پر دباؤ برقرار ہے۔
ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قیمت حالیہ درمیانی مارکیٹ شرح تقریباً 277.2 پاکستانی روپے فی ایک ڈالر کی بنیاد پر یہ حساب کیا گیا ہے۔
وزیر کی جانب سے پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان میں اس وقت پٹرول تقریباً 389.14 پاکستانی روپے (1.40 ڈالر) فی لیٹر جبکہ ڈیزل تقریباً 424 پاکستانی روپے (1.53 ڈالر) فی لیٹر فروخت ہو رہا ہے۔
ملک نے کہا کہ پٹرول کی قیمت پہلے ہی تقریباً 50 فیصد بڑھ چکی ہے اور خبردار کیا کہ اگر سپلائی مزید محدود ہوئی تو قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
یہ اضافہ مغربی ایشیا میں جاری تنازع کے درمیان ہوا ہے، جس کے باعث عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
28 فروری کو تنازع شروع ہونے کے وقت پاکستان میں پٹرول کی قیمت تقریباً 258.17 پاکستانی روپے (0.93 ڈالر) فی لیٹر تھی۔ اس کے بعد قیمت میں تقریباً 131 پاکستانی روپے، یعنی تقریباً 51 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔
ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کے پیش نظر حکومت نے موٹر سائیکل، رکشہ اور 800 سی سی تک کے انجن والی کاریں استعمال کرنے والوں کے لیے سبسڈی اسکیم شروع کی ہے۔
اس پروگرام کے تحت اہل صارفین کو فی لیٹر 100 پاکستانی روپے (0.36 ڈالر) تک کی سبسڈی دی جا سکتی ہے۔ ہر رجسٹرڈ مستحق کو ماہانہ چار ٹوکن دیے جانے ہیں اور ہر ٹوکن کے ساتھ 500 پاکستانی روپے (1.80 ڈالر) کی سبسڈی منسلک ہے۔
حکومت کے مطابق، اس اسکیم کے لیے 17.5 لاکھ سے زیادہ افراد رجسٹریشن کرا چکے ہیں۔
تقریباً 15 لاکھ ٹوکن جاری کیے جا چکے ہیں، جن میں سے 6.80 لاکھ سے زیادہ استعمال بھی کیے جا چکے ہیں۔
حکومت مقامی سطح پر تیل کی پیداوار بڑھانے کی بھی کوشش کر رہی ہے۔ ملک نے کہا کہ تیل کے کنوؤں پر کام شروع ہو چکا ہے اور مقامی طور پر پیدا ہونے والا خام تیل ممکنہ طور پر اکتوبر تک دستیاب ہو سکتا ہے۔
تنازع شروع ہونے کے فوراً بعد پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ شروع ہو گیا تھا۔ یکم مارچ کو پٹرول کی قیمت 266.17 پاکستانی روپے (0.96 ڈالر) فی لیٹر تھی، جو 7 مارچ تک بڑھ کر 321.17 پاکستانی روپے (1.16 ڈالر) ہو گئی۔
سب سے بڑا اضافہ اپریل کے اوائل میں ہوا۔ حکومت کی جانب سے قیمت میں 4 فیصد سے زیادہ اضافہ کیے جانے کے بعد 3 اپریل کو پٹرول کی قیمت 458.41 پاکستانی روپے (1.65 ڈالر) فی لیٹر تک پہنچ گئی۔بعد میں عالمی خام تیل کی قیمتوں میں کمی کے باعث پٹرول کی قیمت بھی کم ہوئی اور 20 جون کو یہ 299.50 پاکستانی روپے (1.08 ڈالر) فی لیٹر تک آ گئی۔ 19 ستمبر تک پٹرول کی موجودہ قیمت 389.14 پاکستانی روپے (1.40 ڈالر) فی لیٹر ہے۔
آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے کہا کہ قیمتوں میں تازہ ترین ردوبدل عالمی مارکیٹ کی قیمتوں، پریمیم اور قیمتوں کے تعین کے دیگر عوامل کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔
پاکستان عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ سے خاص طور پر متاثر ہوتا ہے کیونکہ وہ درآمد شدہ ریفائنڈ ایندھن پر انحصار کرتا ہے۔
مالی سال 2025-26 میں، جو جولائی 2025 سے جون 2026 تک جاری رہا، پاکستان نے موٹر اسپرٹ یعنی پٹرول کی 53.5 لاکھ ٹن مقدار درآمد کی۔
اسی مدت کے دوران ملکی ریفائنریوں نے تقریباً 26.3 لاکھ ٹن پٹرول فراہم کیا، جبکہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے تقریباً 76.8 لاکھ ٹن پٹرول فروخت کیا۔
درآمدات آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی پٹرول فروخت کا تقریباً 69.7 فیصد تھیں۔ تاہم، یہ اعداد و شمار سپلائی چین کے مختلف مراحل پر ناپے گئے ہیں اور انہیں مجموعی سپلائی کی 100 فیصد تقسیم تصور نہیں کیا جانا چاہیے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
سابق وزیر اعظم عمران خان کی تین بہنوں کو گرفتار کر لیا گیا
اسلام آباد، پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی تین بہنیں گرفتار کر لی گئیں۔
پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی کے ترجمان زلفی بخاری نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر کہا کہ پنجاب پولیس نے علیم خان کے گھر پر چھاپہ مارا اور عمران خان کی دو اور بہنوں کو بھی حراست میں لیا، نیز ان کے بھتیجوں اور ان کے بچوں کو بھی پکڑ لیا۔
پی ٹی آئی کے سیکرٹری اطلاعات کے شیخ وقاص اکرم نے اے ایف پی کو بتایا کہ خان صاحب کی بہنیں اور بچے حراست میں لیے گئے تھے تاہم بچوں کو بعد میں رہا کر دیا گیا۔
اکرم نے مزید کہا کہ تینوں خواتین کو لاہور کی کوٹ لکھپت جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔
اتوار کو لاہور کے ڈپٹی کمشنر نے تین بہنوں کو پنجاب کے عوامی نظم و نسق کے قوانین کے تحت 30 دن کے لیے حراست میں رکھنے کا حکم دیا تھا۔
تحریکِ انصاف نے 27 ستمبر کو ایک احتجاجی مظاہرہ کرنے کی اپیل کی تھی۔
وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے اتوار کو کہا کہ احتجاج کی کال غیر قانونی ہے اور انہوں نے وارننگ دی کہ ‘ہم انہیں راستے بند کرنے اور عوام کی زندگی متاثر کرنے کی اجازت نہیں دیں گے’۔
عمران خان، جو 2023 سے جیل میں ہیں، کو بدعنوانی کے الزامات کے سلسلے میں اپنی اہلیہ کےہمراہ 17 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی، جنہیں دونوں نے مسترد کیا ہے۔
73 سالہ سابق وزیرِ اعظم، جو ایک سابق کرکٹ اسٹار بھی ہیں، 2018 سے 2022 تک عہدے پر رہے اور انہیں حکومت اور ملک کی طاقتور فوج کے درمیان کشیدگی کے باعث بھڑکنے والے سیاسی بحران کے دوران کیے گئے عدم اعتماد کے ووٹ کے ذریعے عہدے سے ہٹایا گیا تھا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoکھرگے اور راہل نے یومِ پیدائش پر مودی کو مبارکباد دی
-
جموں و کشمیر6 days agoگوریز میں مجوزہ ’تنتر سائلنس‘ ریٹریٹ پر تنازع
-
دنیا1 week agoجنوبی کوریا کا آبنائے ہرمز میں جنگی کردار سنبھالنے سے انکار ، جنگی مقاصد کی تعنیاتی نہیں ہو گی
-
جموں و کشمیر6 days agoاپوزیشن لیڈر سنیل شرما کا جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ
-
دنیا1 week agoامریکی ویزا سے انکار کے بعد اقوام متحدہ نے فلسطینی صدر عباس کو ویڈیو خطاب کی اجازت دی
-
دنیا1 week agoایران میں جنگ چھڑنے کے بعد حکومت کے حق میں بڑی ترین ریلی، لاکھوں ایرانی شہری یکجا ہوئے
-
دنیا1 week agoامریکہ کی سعودی عرب کو 48 ایف-35 طیارے فروخت کرنے کی ممکنہ منظوری
-
دنیا1 week agoباب المندب سے بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے اٹلی جنگی بحری جہاز تعینات کرے گا
-
دنیا6 days agoایرانی وزیر خارجہ عراقچی کا بین الاقوامی قانون کے بلاامتیاز نفاذ پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoہائی کورٹ نے معزول حضرت بل امام کی عرضی پر نوٹس جاری کیا، 2024 کی عرضداشت پر غور کی ہدایت
-
دنیا4 days agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں میں سالگرہ کی تقریب کے دوران 35 سالہ شخص قتل، 2 گرفتار
