دنیا
ٹرمپ انتظامیہ نے ایچ-1 بی ویزا درخواستوں کی جانچ سخت کی، بعض ویزوں پر ایک لاکھ ڈالر فیس برقرار
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایسے آجروں کی جانب سے دائر ایچ-1 بی ویزا درخواستوں کی جانچ سخت کر دی ہے، جنہوں نے حال ہی میں یکساں نوعیت کی ملازمتوں پر کام کرنے والے امریکی کارکنوں کو ملازمت سے نکالا ہے یا انہیں نکالنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ اس کے ساتھ ہی بعض ایچ-1 بی درخواستوں کے لیے ایک لاکھ ڈالر فیس کی شرط بھی برقرار رکھی گئی ہے۔
صدر ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر اور صدارتی اعلامیہ جاری کیا ہے، جن کا مقصد ایچ-1 بی پروگرام کی نگرانی مضبوط کرنا، وفاقی اداروں کے درمیان بہتر تال میل قائم کرنا اور ان طریقوں سے نمٹنا ہے جنہیں انتظامیہ امریکی کارکنوں کی جگہ لینے کا باعث بننے والی بدعنوانیوں سے تعبیر کرتی ہے۔
ایگزیکٹو آرڈر کے تحت وزیر خارجہ، وزیر محنت اور وزیر داخلی سلامتی ایچ-1 بی ویزا درخواستوں کا جائزہ لیتے وقت آجروں کی جانب سے یکساں نوعیت کی ملازمتوں پر کام کرنے والے امریکی کارکنوں کی حالیہ یا مجوزہ برطرفیوں کو مدنظر رکھیں گے۔
وائٹ ہاؤس نے کہا کہ تینوں محکمے پروگرام کے انتظام کے لیے اضافی اعداد و شمار حاصل کرنے کی غرض سے محکمہ تجارت، محکمہ تعلیم اور سمال بزنس ایڈمنسٹریشن سے بھی مشاورت کریں گے، جن میں اجرت، صنعتی حالات اور ملازمتوں میں تخصص سے متعلق معلومات شامل ہوں گی۔
علیحدہ طور پر جاری کیے گئے صدارتی اعلامیے میں بعض ایچ-1 بی ویزا درخواستوں کے لیے ایک لاکھ ڈالر فیس کی شرط دوبارہ نافذ کی گئی ہے، جو پہلی بار 19 ستمبر 2025 کو عائد کی گئی تھی۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد ایسے طریقوں کو روکنا ہے جن سے امریکی کارکنوں کی جگہ لی جاتی ہے اور قومی سلامتی کو نقصان پہنچتا ہے۔
وائٹ ہاؤس نے کہا کہ 2025 کے اس اقدام کے نتیجے میں بعض بڑی آئی ٹی آؤٹ سورسنگ کمپنیوں کی جانب سے ایچ-1 بی رجسٹریشن میں نمایاں کمی آئی۔
اس نے کہا، ’’2025 کے اعلامیے کے نافذ ہونے کے بعد سب سے بڑی آئی ٹی آؤٹ سورسنگ کمپنیوں کی جانب سے دائر کی جانے والی ایچ-1 بی رجسٹریشن میں 92 فیصد کمی آئی ہے۔‘‘
انتظامیہ نے یہ بھی کہا کہ اس اقدام کے نتیجے میں قونصلر کارروائی کی درخواستوں میں تقریباً 97 فیصد کمی آئی اور کم اجرت والے غیر ملکی کارکنوں کی جگہ زیادہ مہارت اور زیادہ اجرت والے کارکنوں کی جانب رجحان پیدا ہوا۔
وائٹ ہاؤس نے بعض آجروں پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ امریکی ملازمین کی جگہ کم اجرت پر ایچ-1 بی کارکنوں کو تعینات کر رہے ہیں، جس سے اجرتوں پر دباؤ پڑتا ہے۔
امریکی بیان میں کہا گیا، ’’ایچ-1 بی ویزا پروگرام کا غلط استعمال ہنرمند امریکی کارکنوں کی اجرتوں میں کمی کا باعث بنتا ہے، کیونکہ سستی غیر ملکی افرادی قوت کی دستیابی سے ملکی اجرتوں پر دباؤ پڑتا ہے۔‘‘
انتظامیہ نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ بعض آجروں نے ایچ-1 بی کارکنوں کی خدمات حاصل کرنے سے قبل انتہائی ہنرمند امریکی کارکنوں کو ملازمت سے نکال دیا، جبکہ بعض ایچ-1 بی اسپانسرز کے زیر استعمال آؤٹ سورسنگ ماڈل کے تحت ویزا رکھنے والے کارکنوں کی ملازمتیں بالآخر امریکہ سے باہر منتقل ہو جاتی ہیں۔
وائٹ ہاؤس نے 2025 کے اعلامیے سے قبل کمپیوٹر سائنس کے حالیہ گریجویٹس میں 6.1 فیصد اور کمپیوٹر انجینئرنگ کے حالیہ گریجویٹس میں 7.5 فیصد بے روزگاری کی شرح کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ شرح حیاتیات یا آرٹ ہسٹری کے حالیہ گریجویٹس کے مقابلے میں دو گنا سے بھی زیادہ تھی۔
اس نے یہ بھی کہا کہ امریکہ میں غیر ملکی اسٹیم کارکنوں کی تعداد 2000 سے 2019 کے درمیان دو گنا سے بھی زیادہ ہوگئی، جبکہ اسی عرصے میں مجموعی اسٹیم روزگار میں 44.5 فیصد اضافہ ہوا۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق، مالی سال 2003 میں آ ٹی کارکنوں میں ایچ-1 بی ویزا رکھنے والوں کا تناسب 32 فیصد تھا، جو 2025 کے اعلامیے سے قبل حالیہ برسوں میں بڑھ کر 65 فیصد سے زیادہ ہوگیا تھا۔
حالیہ اقدام دسمبر 2025 میں محکمہ داخلی سلامتی کے جاری کردہ ایک ضابطے کے بعد سامنے آیا ہے، جس کے تحت ایچ-1 بی ویزا کے لیے بے ترتیب قرعہ اندازی کے نظام کو اجرت کی سطح کی بنیاد پر وزنی انتخابی نظام سے تبدیل کر دیا گیا تھا۔
وائٹ ہاؤس نے کہا کہ مالی سال 2027 پہلا سال تھا جب ایچ-1 بی ویزا کے لیے انتخاب قرعہ اندازی کے بجائے اجرت کی بنیاد پر کیا گیا اور رجسٹریشن میں تقریباً 40 فیصد کمی آئی۔
انتظامیہ نے کہا کہ وہ ایچ-1 بی فراڈ اور دیگر ایسے طریقوں کی تحقیقات جاری رکھے گی جن کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ ان میں امریکی کارکنوں کے مقابلے میں ویزا رکھنے والوں کو غیر قانونی طور پر ترجیح دی جاتی ہے۔
ایچ-1 بی پروگرام امریکی آجروں کو ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور دیگر ہنرمند شعبوں سمیت خصوصی نوعیت کے پیشوں میں غیر ملکی کارکنوں کو ملازمت دینے کی اجازت دیتا ہے۔
حالیہ اقدامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ وفاقی اداروں کے درمیان قریبی تال میل، آجروں کی جانب سے کارکنوں کی برطرفیوں کو زیادہ اہمیت دینے اور بعض ایچ-1 بی درخواستوں پر مالی جرمانے برقرار رکھتے ہوئے پروگرام کی مزید سخت جانچ کی کوشش کر رہی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایرانی وزیر خارجہ عراقچی کا بین الاقوامی قانون کے بلاامتیاز نفاذ پر زور
تہران، ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بین الاقوامی قانون کے بلاامتیاز نفاذ پر زور دیتے ہوئے عالمی برادری سے عسکریت پسندی اور مداخلت پسندی سے پائیدار ترقی، قومی خودمختاری کے احترام اور دیرپا امن کی جانب بڑھنے کی اپیل کی ہے۔
ہفتہ کو ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر عراقچی نے کہا کہ دنیا کو ’’حقیقی، مؤثر اور منصفانہ کثیرالجہتی نظام‘‘ کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا، ’’اگر بڑی طاقتوں کے مفادات کے مطابق جب بھی ضرورت ہو بین الاقوامی قانون کو نظرانداز کیا جائے تو اسے قانون کی حکمرانی نہیں کہا جا سکتا۔ اگر انسانی حقوق کچھ قوموں کا پیدائشی حق اور دوسروں کے لیے مشروط رعایت بن جائیں تو انہیں عالمگیر حقوق نہیں کہا جا سکتا۔‘‘
’’عالمی سطح پر بنیادی سمت کی تبدیلی کا مطالبہ ، ترقی کو مرکز میں لانا، انسانیت کا مقام بحال کرنا اور ایک مزید جنونی دنیا میں انصاف بحال کرنا‘‘ کے عنوان سے منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عراقچی نے کہا کہ عالمی برادری کو بنیادی تبدیلی کی ضرورت ہے، کیونکہ جنگ، مداخلت، پابندیاں اور طاقت کا استعمال تیزی سے پالیسی کے معمول کے ذرائع بنتے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’ہمیں عسکریت پسندی اور مداخلت پسندی سے دور ہو کر پائیدار ترقی، قومی خودمختاری کے احترام، شہریوں کے تحفظ اور دیرپا امن کی جانب بڑھنا چاہیے۔‘‘
مغربی ایشیا کی صورتحال کے حوالے سے عراقچی نے کہا کہ پائیدار سکیورٹی خطے سے باہر سے مسلط نہیں کی جا سکتی اور خطے کے ممالک کو بات چیت اور تعاون کے ذریعے اپنے مسائل کا حل تلاش کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا، ’’پائیدار سکیورٹی خطے سے باہر سے مسلط نہیں کی جا سکتی۔ خطے کے ممالک کو غیر ملکی طاقتوں کی مداخلت کے بغیر اپنے حل خود تلاش کرنا ہوں گے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ایران خطے کے ممالک کے درمیان بات چیت، اعتماد سازی، تعاون اور باہمی احترام کو پائیدار سکیورٹی کی بنیاد سمجھتا ہے، نہ کہ غیر ملکی طاقتوں کی فوجی موجودگی کو۔
عراقچی نے کہا، ’’ہم جس دنیا میں رہتے ہیں اسے پہلے سے کہیں زیادہ بنیادی سمت کی تبدیلی کی ضرورت ہے، کیونکہ جنگ، مداخلت، پابندیاں اور طاقت کا استعمال استثنا کے بجائے معمول کی پالیسی کے ذرائع بن چکے ہیں۔‘‘
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ مشرق وسطیٰ میں کئی دہائیوں سے جاری غیر ملکی مداخلت، فوجی دباؤ اور طویل تنازعات نے، ایران کے نقطہ نظر سے، یہ ثابت کیا ہے کہ فوجی مداخلت دیرپا سکیورٹی قائم نہیں کر سکتی اور دباؤ و جبر کے ذریعے امن حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
عراقچی نے ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی فوجی جارحیت اور ایرانی حکام کو نشانہ بنا کر قتل کیے جانے کی مذمت کی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر عالمی برادری نے ایسے اقدامات کے خلاف مؤثر ردعمل ظاہر نہ کیا تو بین الاقوامی قانون کی جانب سے قائم کردہ حدود بتدریج کمزور ہوتی جائیں گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر اقوام متحدہ سمیت بین الاقوامی ادارے جارحیت کا جواب دینے اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو جواب دہ ٹھہرانے میں ناکام رہے تو ان کی ساکھ اور قانونی حیثیت کمزور ہوگی۔
عراقچی نے کہا، ’’آج کی دنیا کو پہلے سے کہیں زیادہ حقیقی کثیرالجہتی نظام کی ضرورت ہے۔‘‘ انہوں نے عسکریت پسندی سے پائیدار ترقی، مداخلت پسندی سے قومی خودمختاری کے احترام اور طویل تنازعات سے دیرپا امن کی جانب منتقلی کے مطالبے کو دہرایا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران: تہران اور واشنگٹن کے درمیان بین الاقوامی سطح پر سفارتی اور ثالثی کی کوششیں تا حال جاری
تہران، ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق، تہران میں ایک پریس کانفرنس میں وزارتِ داخلہ کے ترجمان زینی وند نے امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی عمل کے ثالث، پاکستان کے وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی تہران آمد کے بارے میں سوال کا جواب دیا۔
زینی وند نے بتایا کہ پاکستان کا ثالثی کردار اور سفارتی کوششیں ‘بڑی کوشش’ کے ساتھ جاری ہیں اور کہا ‘مسائل حل کرنے اور اسلام آباد معاہدے کی طرف واپس جانے کے لیے بین الاقوامی سفارتی کوششیں اور ثالثی ابھی بھی جاری ہیں۔’امریکہ کو اسلام آباد معاہدے کی شقوں کی پابندی کرنی چاہیے
زینی وند نے کہا کہ ‘بہت سے ممالک مسئلے کو حل کرنے اور فریقین کو دوبارہ مفاہمت کی طرف لانے کی کوشش کر رہے ہیں’ اور 17 جون کو پاکستان کی ثالثی میں ایران اور امریکہ کے درمیان دستخط ہونے والے مگر نافذ نہ کیے جانے والے معاہدے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس کی جانب توجہ دلائی:
‘دوسرے فریق کو اپنے دستخط کی ساکھ کا احترام کرتے ہوئے معاہدے کی شقوں کی پابندی کرنی چاہیے۔ امریکہ کو اسلام آباد معاہدے کی شقوں کی پابندی کرنی چاہیے۔ یہ معاہدہ ایران کا ایک اعلیٰ سطحی فیصلہ ہے اور قیادت کی جانب سے منظور شدہ ہے۔ ہماری درخواست یہی ہے کہ مخالف فریق اس معاہدے کی طرف واپس آئے۔’
اطلاع دی گئی تھی کہ امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی عمل کے ثالث، پاکستان کے وزیرِ داخلہ محسن نقوی چند روز میں دوبارہ تہران کا دورہ کریں گے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
واپس آنے کی خواہش ہے، لیکن بنگلہ دیش حکومت رکاوٹیں پیدا کر رہی ہے: شیخ حسینہ
ڈھاکہ، بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ نے کہا ہے کہ وہ بنگلہ دیش واپس آنا چاہتی ہیں، تاہم ان کے بقول بی این پی حکومت ان کی واپسی کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کر رہی ہے۔
اپنی عوامی لیگ پارٹی کے آن لائن اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے شیخ حسینہ نے کہا، ’’میں ملک واپس آنے کے لیے بے تاب ہوں، لیکن حکومت رکاوٹیں پیدا کر رہی ہے۔‘‘ یہ بات پارٹی کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہی گئی۔
شیخ حسینہ نے کہا کہ ملک کی صورتحال مسلسل خراب ہوتی جا رہی ہے اور ہر شعبہ ’’تباہی کے دہانے پر‘‘ ہے۔ انہوں نے موجودہ صورتحال سے ملک کو محفوظ رکھنے کے لیے اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔
جمعہ کو اپنے خطاب میں شیخ حسینہ نے کہا کہ انہوں نے پارٹی کی 83 ضلعی شاخوں اور 160 انتخابی حلقوں کے رہنماؤں اور کارکنوں سے مشاورت کی ہے تاکہ زمینی صورتحال اور عوامی لیگ کی تنظیمی حالت کا جائزہ لیا جا سکے۔
بنگلہ دیش عوامی لیگ کی مرکزی ایگزیکٹو کمیٹی کا ورچوئل اجلاس پریزیڈیم رکن شیخ فضل الکریم سلیم کی صدارت میں ہوا، جس میں پارٹی صدر شیخ حسینہ نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کیا۔
پارٹی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق شیخ حسینہ نے تنظیمی امور کے ذمہ دار پارٹی رہنماؤں کو ہدایت دی کہ قیادت کی خالی آسامیوں کو پُر کرتے وقت ان لوگوں کو ترجیح دی جائے جنہیں مبینہ طور پر ظلم و ستم کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی لیگ کی طاقت عوام اور اس کے نچلی سطح کے کارکنوں اور رہنماؤں میں ہے۔
انہوں نے گزشتہ دو برس کے دوران مبینہ طور پر ظلم و جبر کا سامنا کرنے والے افراد کے بارے میں، ان کی سیاسی وابستگی سے قطع نظر، معلومات جمع کرنے اور مبینہ طور پر ذمہ دار افراد کی شناخت اور ان کے اقدامات کو منظر عام پر لانے کا بھی مطالبہ کیا۔
شیخ حسینہ نے ان فوجی اور سول حکام کی رہائی کا بھی مطالبہ کیا جنہیں ان کے بقول جھوٹے مقدمات میں گرفتار کیا گیا ہے۔
جولائی اور اگست 2024 کی عوامی تحریک کے دوران ہونے والے تشدد کا حوالہ دیتے ہوئے شیخ حسینہ نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں نے جان و مال کے تحفظ کی کوشش کی تھی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ متعدد پولیس اہلکار مارے گئے، ان کی لاشیں جلائی گئیں اور پولیس اسٹیشنوں کو لوٹا گیا اور نذر آتش کیا گیا۔ انہوں نے ان ہلاکتوں کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ ملک اس وقت اندھا دھند قتل، عصمت دری، لوٹ مار، بھتہ خوری اور مقدمات کے اندراج جیسے واقعات کا سامنا کر رہا ہے اور حکومت پر ان سرگرمیوں کی اجازت دینے کا الزام لگایا۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoسرحد پار دہشت گردی کی سازش کے معاملے میں این آئی اے نے کشمیر کے کئی مقامات پر تازہ تلاشی لی
-
جموں و کشمیر1 week agoاین آئی اے نے حافظ سعید کے خلاف دوسرا غیر ضمانتی وارنٹ حاصل کیا
-
دنیا1 week agoسعودی عرب کی حوثیوں کے خلاف جنگ میں مداخلت کی درخواست امریکہ نے مسترد کردی
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: ایس آئی اے کی ٹیم نے پونچھ، اودھم پور کے کئی علاقوں میں چھاپے مارے
-
دنیا1 week agoلبنان سے انخلاء تک اسرائیل کے ساتھ کوئی نئی مذاکرات نہیں: عون
-
ہندوستان1 week agoپوتن نے استعماری سوچ والے ممالک پر کثیر قطبی دنیا کے ابھار کو متاثر کرنے کا الزام لگایا
-
دنیا1 week agoسعودی تیل پائپ لائن پر ڈرون حملوں کے بعد عراق نے متعدد سرحدی گزرگاہیں بند کردیں
-
کھیل1 week agoفٹنس ٹیسٹ نہ دینے پر امام اور رضوان ڈومیسٹک کرکٹ سے باہر
-
ہندوستان1 week agoگوئل نے برکس ممالک کے درمیان مارکیٹ تک رسائی بڑھانے پر زور دیا
-
دنیا5 days agoہم حوثی حملوں کا ‘سخت’ جواب دیں گے:سعودی عرب
-
دنیا1 week agoامریکہ کے پاس چین کے خلاف اے آئی تحفظات ہیں: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoیمنی فضائیہ نے ذوباب کے علاقے موخا میں حوثیوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے
