فن و ادب
کٹرینہ کیف 42 برس کی ہوئیں
ممبئی، بالی ووڈ کی مشہور اداکارہ کٹرینہ کیف آج 42 برس کی ہو گئیں۔16 جولائی 1983 کو ہانگ کانگ میں پیدا ہونے والی کٹرینہ کیف نے اپنے کیریئر کا آغاز 14 سال کی عمر میں ماڈلنگ سے کیا، وہ ماڈلنگ کے لیے ممبئی آئیں، تاہم اس دوران ان کی ملاقات کیزاد گستاد سے ہوئی۔ کیزاد گستاد ان دنوں بوم بنا رہے تھے۔ انہوں نے کٹرینہ کو بوم میں کام کرنے کی پیشکش کی جسے کٹرینہ نے بخوشی قبول کر لیا۔
سال 2003 میں ریلیز ہونے والی فلم بوم مجرمانہ پس منظر پر مبنی تھی۔ اس فلم میں امیتابھ بچن اور جیکی شراف نے مرکزی کردار ادا کیے تھے۔ کمزور اسکرپٹ کی وجہ سے بوم باکس آفس پر کوئی کمائی نہیں کر سکی۔ سال 2005 میں کٹرینہ کیف کو ایک بار پھر امیتابھ کے ساتھ فلم سرکار میں کام کرنے کا موقع ملا لیکن فلم کی کامیابی کے باوجود انہیں کوئی خاص فائدہ نہیں ہوا۔ سال 2005 میں ریلیز ہونے والی فلم میں نے پیار کیوں کیا کٹرینہ کیف کے فلمی کیریئر کی پہلی سپر ہٹ فلم ثابت ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ کٹرینہ کو یہ فلم سلمان خان کی وجہ سے ملی۔ اس فلم کی کامیابی کے بعد کٹرینہ کو فلم انڈسٹری میں اچھی فلموں کے آفرز ملنے لگے۔ کٹرینہ کیف کے فلمی کیریئر میں کھلاڑی کمار اکشے کمار کے ساتھ ان کی جوڑی کو بہت پسند کیا جاتا ہے۔
اکشے اور کٹرینہ کی جوڑی پہلی بار سال 2006 میں ریلیز ہونے والی فلم ‘ہم کو دیوانہ کر گئے’ میں ایک ساتھ نظر آئی تھی۔اگرچہ یہ فلم باکس آفس پر کامیاب نہیں ہوسکی لیکن دونوں کی جوڑی کو پسند کیا گیا۔ ہم کو دیوانہ کر گئے کے بعد اکشے اور کٹرینہ کی جوڑی سال 2007 میں ریلیز ہونے والی فلم ‘نمستے لندن’ میں نظر آئی تھی۔یہ فلم سپرہٹ ثابت ہوئی۔
اس کے بعد اس جوڑی نے ویلکم، سنگھ از کنگ، دے دانا دان اور تیس مار خان جیسی کئی فلموں میں ایک ساتھ کام کیا۔ میں نے پیار کیوں کیا، پارٹنر ایک تھا ٹائیگر، ٹائیگر زندہ ہے بھارت اور ٹائیگر 3 جیسی فلموں میں سلمان کے ساتھ کٹرینہ کی جوڑی کو پسند کیا گیا۔
کٹرینہ کیف کو فلم انڈسٹری میں آئے دو دہائیاں ہو چکی ہیں اور اس دوران انہوں نے شاہ رخ، سلمان، ہریتک روشن اور اکشے کمار جیسے بڑے اداکاروں کے ساتھ کام کیا ہے۔ سال 2021 میں کٹرینہ کیف نے وکی کوشل سے شادی کی۔ کٹرینہ کیف کے کیرئیر کی دیگر قابل ذکر فلموں میں ، ریس، نیویارک، بلیو، عجب پریم کی غضب کہانی، راج نیتی، زندگی نہ ملے گی دوبارہ، میرے برادر کی دلہن، جب تک ہے جان، دھوم 3، بینگ بینگ، فینٹم، فتور، سوریہ ورنشی اور میری کرسمس شامل ہیں۔
یو این آئی۔ ایم جے۔
فن و ادب
جموں فلم فیسٹیول کا پانچواں ایڈیشن 28-29 ستمبر کو ہوگا: منتظمین
جموں، وومیدھ کی جانب سے دی اوانتی فاؤنڈیشن کے اشتراک سے پیش کیا جانے والا جموں فلم فیسٹیول (جے ایف ایف) کا پانچواں ایڈیشن 28 اور 29 ستمبر کو یہاں منعقد ہوگا۔
پیر کے روز اس کے پانچویں ایڈیشن کا باضابطہ اعلان کیا گیا، جو خطے کے ثقافتی اور سنیما کے سفر میں ایک اہم سنگ میل ہے۔
پریس کانفرنس میں آئندہ ایڈیشن کا اعلان کرتے ہوئے فیسٹیول ڈائریکٹر راکیش روشن بھٹ نے تمام شراکت داروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ “یہ سفر یقین، ثابت قدمی اور بے شمار افراد و تنظیموں کی حمایت سے ممکن ہوا ہے۔ ہم ان سب کے شکر گزار ہیں جنہوں نے جے ایف ایف کو ایک بامعنی پلیٹ فارم بنانے میں تعاون دیا۔ یہ سنگ میل پوری تخلیقی برادری کا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ اس ایڈیشن کی ایک خاص جھلک بہترین مقامی پروڈکشن کے لیے ایک لاکھ روپے کا انعام ہوگا، جس کا مقصد علاقائی ٹیلنٹ کو فروغ دینا اور بین الاقوامی معیار کو برقرار رکھنا ہے۔
فیسٹیول ڈائریکٹر روہت بھٹ نے بتایاکہ“پانچویں ایڈیشن کے ساتھ ہم علاقائی کہانیوں کو فروغ دینے کی سمت ایک اہم قدم اٹھا رہے ہیں۔ بہترین مقامی پروڈکشن کے لیے ایک لاکھ روپے کا انعام رکھا گیا ہے تاکہ جموں و کشمیر کے فلم سازوں کو مضبوط پلیٹ فارم مل سکے۔”
فیسٹیول کے مشیر ڈاکٹر امیت وانچو نے کہا کہ جموں فلم فیسٹیول ایک معتبر پلیٹ فارم بن چکا ہے جو بامعنی سنیما کو فروغ دیتا ہے اور اس کی مسلسل ترقی منتظمین کی محنت اور معیاری کہانیوں میں بڑھتی دلچسپی کو ظاہر کرتی ہے۔
شریک پیش کنندہ کی جانب سے سنجیو کاک نے کہاکہ“ہمیں خوشی ہے کہ ہم وومیدھ کے ذریعے جموں و کشمیر میں جے ایف ایف اور ٹی آئی ایف ایف ایس جیسے بین الاقوامی فلمی میلوں سے وابستہ ہیں۔ یہ پلیٹ فارم عالمی سنیما کو یہاں کے ناظرین تک پہنچانے اور مقامی ٹیلنٹ کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔”
وومیدھ کی مشیر بھاونا پنڈیتا نے کہا کہ تنظیم فن و ثقافت کے فروغ کے لیے پُرعزم ہے اور جے ایف ایف جیسے اقدامات کے ذریعے فنکاروں اور فلم سازوں کے لیے نئے مواقع پیدا کیے جا رہے ہیں۔
سینئر اداکارہ کسم ٹیکو نے کہا کہ ابتدا سے اس سفر کا حصہ ہونا خوش آئند ہے اور یہ دیکھ کر اطمینان ہوتا ہے کہ یہ پلیٹ فارم وقت کے ساتھ ایک اہم ثقافتی سنگ میل بن چکا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
فن و ادب
رنویر سنگھ کی فلم دھوندھر: دی ریوینج 1000 کروڑ کلب میں شامل
ممبئی، بالی ووڈ اسٹار رنویر سنگھ کی فلم دھوندھر: دی ریوینج نے ہندوستانی مارکیٹ میں 1013 کروڑ روپے سے زیادہ کی کمائی کی ہے۔ آدتیہ دھر کی ہدایت کاری میں بننے والی بلاک بسٹر دھوندھر کا سیکوئل، دھوندھر: دی ریونج روزانہ لاکھوں روپے کی آمد کے ساتھ کامیابی جاری ہےرنویر سنگھ نے مرکزی کردار میں اداکاری کی، یہ فلم ریلیز کے بعد سے ہی شائقین کے درمیان زبردست ہٹ رہی ہے۔ فلم کی مقبولیت اپنے عروج پر ہے۔ رنویر سنگھ، آر مادھاون، ارجن رامپال، سنجے دت، راکیش بیدی، اور سارہ علی خان نے اہم کردار ادا کیے ہیں۔
سکنلک کے حاصل کردہ اعداد و شمار کے مطابق، “دھورندھر: دی ریوینج” نے 18 مارچ تک تقریباً 43 کروڑ کی کمائی کی۔ فلم نے ریلیز کے پہلے ہفتے میں ہندوستانی مارکیٹ میں 674.17 کروڑ روپے کمائے۔ اس نے دوسرے ہفتے میں 263.65 کروڑ روپے کمائے۔ فلم نے 16ویں دن 21.55 کروڑ روپے، 17ویں دن 25.65 کروڑ اور 18ویں دن 28.75 کروڑ کی کمائی کی۔ فلم نے 18 دنوں میں ہندوستانی مارکیٹ میں 1013.77 کروڑ روپے کمائے ہیں۔
یو این آئی۔ ایم جے
فن و ادب
نوتن فلموں میں کام کرنے والی پہلی مس انڈیا تھیں
21 فروری برسی کے موقع پر
خصوصی تحریر: نسیم الدین
بالی ووڈ میں ایسی شخصیتوں کی ایک طویل فہرست ہے جِن کے کارناموں کو ہم کبھی فراموش نہیں کرسکتے اور جِنھوں نے فلمی دنیا میں اپنے انمٹ نقش چھوڑے ہیں اِس طویل عرصے میں کیسے کیسے نامور فن کاروں نے، جِن میں ایکٹرز، ڈائریکٹرز، گلوکار، رائٹرز، شاعر اور موسیقار اور فلمی اسکرین پر اور اس کے پس پردہ کام کرنے والی سینکڑوں شخصیتیں شامل ہیں، اپنی لگن اور فنی جوہر سے بالی ووڈ کو وہ بلند مقام دیا جہاں اُسے ہم آج دیکھتے ہیں۔اِنہی میں ایک عظیم اداکارہ نوتن بھی شامل ہیں۔
نوتن نے اپنی فطری اداکاری، سادگی اور مکالموں کی ادائیگی سے فلم شائقین کو جِس طرح متاثر کیا وہ اپنی مثال آپ ہے۔
آج کے دور میں جہاں مس انڈیا کا خطاب جیتنے والی حسیناؤں کو فلموں میں کام کرنے کا موقع آسانی سے مل جاتا ہے، وہیں نوتن کو فلموں میں کام حاصل کرنے کے لئے کافی جدوجہد کرنی پڑی تھی۔
چار جون 1936 کو ممبئی میں پیدا ہوئیں نوتن کا اصلی نام نوتن سمرتھ تھا۔ ان کو اداکاری کا فن وراثت میں ملا۔ ان کی ماں شوبھنا سمرتھ اس زمانے کی معروف فلم اداکارہ تھیں۔ گھر میں فلمی ماحول ہونے کی وجہ سے نوتن اکثر اپنی ماں کے ساتھ شوٹنگ دیکھنے جایا کرتی تھیں۔
اس وجہ سے ان کا رجحان بھی فلموں کی جانب مائل ہو گیا اور وہ بھی اداکارہ بننے کے خواب دیکھنے لگیں۔نوتن نے بطور چائلڈا سٹار فلم ’نل دمينتی‘ سے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز کیا۔ اس درمیان نوتن نے آل انڈیا بیوٹی مقابلہ میں حصہ لیا جس میں وہ سرفہرست رہیں لیکن بالی ووڈ کے کسی فلمساز کی توجہ ان کی طرف نہیں گئی۔ انہیں 1950 کی فلم ہماری بیٹی میں اداکاری کرنے کا موقع ملا جس کی ہدایت کار ان کی ماں شوبھنا سمرتھ تھیں۔
جاری۔یو این آئی۔ این یو۔
