تازہ ترین
ہم کالے ہیں تو کیا ہوا؟
ایک انصاف پسند شخص کیلئے فوجی سربراہ کا بیان بھی قابل سائش ہے اور ان سفید فام عوام کا اس مفہوم کے نعرے لکھے ہوئے پلے کارڈس لے کر مظاہروں میں شریک ہونا بھی کہ سفید فام عوام کا سکوت تشدد اور جبر کی حمایت یا تشدد کے مترادف ہے۔ اگر یہ جذبہ عام ہوجائے تو دنیا کے کسی بھی ملک میں اقلیتوں اور کمزور طبقوں پر مظالم نہ ڈھائے جائیں۔
ظلم کو ظلم اور غلط کو غلط کہہ کر اپنے ہی لوگوں کو کٹھرے میں کھڑا کرنا ایک ایسی سعادت ہے جو سب کو نصیب نہیں ہوتی اس لئے اپنوں ہی کے ہاتھوں نہ صرف اپنی حکومتیں تباہ ہوتی رہی ہیں بلکہ اداروں اور تحریکوں کے تباہ ہونے کیساتھ معاشرے بھی پن کا شکار ہوتے رہے ہیں۔ اپنے ہندوستانی معاشرے ہی کی مثال لیں تو یہ ثابت کرنے کی ضرورت نہیں رہتی کہ یہاں اس غلط کو صحیح کہا جاتا ہے جو اپنوں نے یا انہوں نے کیا ہو جن سے ہمارا مفاد وابستہ ہے۔
اسی طرح صحیح صرف ان کو تسلیم کیا جاتا ہے جو اپنے ہوں یا جن سے ہمارا مفاد وابستہ ہے۔ دھونس، دھمکی، اکثریت اور بدعنوانی سے غلط کام بھی کروالئے جاتے ہیں اور جو لوگ دھونس دھمکی کا سہارا نہیں لیتے وہ ہر طرح سے حق پر عمل پیرا ہونے کے باوجود معتوب ہوتے ہیں اور ان کو ملامت کرنے والوں میں وہ نورانی چہرے اور مقدس لباس والے بھی شامل ہوتے ہیں جنھیں حق گو اور حق بیں سمجھا جاتا ہے۔ مگر تاریکیوں سے روشنیوں کی نمود کرنے والا ہمارا رب ایسے مناظر بھی دکھاتا رہتا ہے جو ہمیں ہر حالت میں حق پر عمل پیرا ہونے کی تحریک عطا کرتے ہیں۔
چین، روس، ویتنام، ایران اور عرب ملکوں کے علاوہ خود یورپ کے عوام کی اکثریت کیلئے امریکہ ایک ناپسندیدہ ملک ہے مگر یہاں کے سیاہ فام عوام نے ڈونالڈ ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے برتی جانے والی تفریق اور کئے جانے والے مظالم کیخلاف تحریک شروع کرکے اور سفید فام عوام نے ان کی ہمنوائی کرکے ایک ایسی تاریخ مرتب کی ہے جس کی ستائش دنیا کے ہر انصاف پسند پر فرض ہے۔ جب ٹرمپ نے مظاہرین کو دھمکی دی تو امریکی فوج کے سربراہ نے ایک ایسا بیان دیا جس کا مطلب تھا کہ وہ امریکی صدر کو بچانے کیلئے امریکی عوام کو قتل نہیں کریں گے۔ یہ بیان بشمول ہندوستان دنیا کے تمام ملکوں کیلئے ایک مثال کی حیثیت رکھتا ہے۔
اس بیان میں جہاں یہ پیغام پوشیدہ ہے کہ فوج کا کام ملک کی حفاظت کرنا ہے کسی ایک فرد کے اقتدار کی حفاظت کرنا نہیں وہیں اس میں مظاہرین کیلئے بھی ایک پیغام ہے کہ وہ تمام سفید فام عوام اور ملک کے نظام کو اپنا دشمن نہ سمجھیں اور ایک سیاہ فام کے قتل یا ٹرمپ کے غیر دانشمندانہ بیان کے رد عمل میں کوئی ایسا اقدام نہ کریں جس سے امریکی معاشرے میں انتشار پیدا ہو۔ امریکہ نے چار پولیس والوں کو سزا دلانے کی کارروائی کا آغاز کرکے ثابت کردیا کہ وہاں قانون کی سالمیت کو قائم رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے قانون اہم ہے صدر کی خواہش نہیں۔ اس مثال میں ہم ہندوستانیوں کیلئے ایک سبق ہے جو روز یہ دیکھتے ہیں کہ پولیس اور حکمراں جماعت میں رسوخ رکھنے والا شخص قانون کا مذاق اڑاتا ہوا بہت کچھ کرلیتا ہے۔
ایک انصاف پسند شخص کیلئے فوجی سربراہ کا بیان بھی قابل سائش ہے اور ان سفید فام عوام کا اس مفہوم کے نعرے لکھے ہوئے پلے کارڈس لے کر مظاہروں میں شریک ہونا بھی کہ سفید فام عوام کا سکوت تشدد اور جبر کی حمایت یا تشدد کے مترادف ہے۔ اگر یہ جذبہ عام ہوجائے تو دنیا کے کسی بھی ملک میں اقلیتوں اور کمزور طبقوں پر مظالم نہ ڈھائے جائیں۔ گھر ہو یا معاشرہ ہر جگہ یہ دیکھنا کہ کمزوروں کے انسانی اور دستوری حقوق محفوظ رہیں حکومت کے علاوہ اکثریتی طبقے کی بھی ذمہ داری ہے۔ اکثریتی طبقہ ہم مذہب بھی ہوسکتا ہے اور دوسرے کسی مذہب کا ماننے والا بھی۔
امریکہ میں جس کا قتل ہوا وہ عیسائی تھا، جس نے قتل کیا وہ بھی عیسائی تھا اور جو سفید و سیاہ عوام احتجاج کررہے ہیں وہ بھی عیسائی ہیں۔ اگر حکومت و انتظامیہ اور احتجاج کرنیوالے الگ الگ مذہب سے تعلق رکھتے تو شاید مظاہروں اور ان کیخلاف ہونے والے رد عمل کی نوعیت کچھ اور ہوتی۔
مگر امریکہ کے ایک سیاہ فام شہری جارج فلائیڈ کا ایک پولیس کے ذریعہ قتل کیا جانا صرف سیاہ فام عوام پر امریکی پولیس کا ظلم نہیں سمجھا جارہا ہے بلکہ اس کو سیاہ فام اور سفید فام عوام کے درمیان برتی جانے والی اس صدیوں پرانی تفریق سے تعبیر کیا جارہا ہے جو بارک اوبامہ کے صدر بننے کے بعد بھی ختم نہیں ہوئی ہے۔ اچھی بات صرف یہ ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ کے ناعاقبت اندیشانہ بیان کے باوجود افریقہ، یورپ اور خود امریکہ کے عوام کی ایک بہت بڑی تعداد سیاہ فام عوام سے ہمدردی کا اظہار کررہی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انصاف دلانے کے نام پر ساری دنیا میں پولیس کا کردار ادا کرنے والے امریکہ میں انتظامیہ کتنا ظالمانہ کردار ادا کررہی ہے۔
امریکہ کے سیاہ فام غلاموں کی اولاد ہیں جنہیں خرید کر یا قبضے میں لے کر امریکہ لایا گیا تھا وہ یہاں ایک عرصے تک غلام سمجھے جاتے رہے۔ ابراہیم لنکن نے غلامی کا خاتمہ کردیا تھا اس کے باوجود ساٹھ کے دہے کے درمیان تک سیاہ فام عوام کیخلاف تعصب و تفریق کو کسی حد تک قانونی حیثیت حاصل تھی۔ کئی تحریکیں چلیں حکومت نے کئی بار یقین دہانی کی مگر سیاہ فام عوام کیخلاف کسی نہ کسی شکل میں تفریق برتی جاتی رہی۔
یہ صحیح ہے کہ امریکہ میں سیاہ فام عوام کی حالت ہندوستان کے دلتوں سے بہتر ہے اس کے باوجود ان کیخلاف کی جانے والی نسلی تفریق سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ اس بنیاد پر یہاں فسادات بھی ہوتے رہے ہیں۔ دولت کے ذرائع اور معیشت پر تو سفید فام عوام کا ہی قبضہ ہے۔ بڑی بڑی کمپنیاں تسلسل سے یہ اعلان کرتی رہتی ہیں کہ انہوں نے اتنے سیاہ فام لوگوں کو ملازمت دی یا معاشی طور پر مستحکم ہونے میں مدد دی۔ مگر یہ سب شاید اس لئے ہوتا ہے کہ سیاہ فام اور کمزور طبقات سے تعلق رکھنے والے عوام آپے سے باہر نہ ہوں۔
امریکہ کے حالیہ واقعات بظاہر اس لئے رونما ہوئے ہیں کہ ایک سیاہ فام شخص کو پولیس نے قتل کیا تھا مگر اصل معاملہ یہ ہے کہ امریکی معاشرے میں سیاہ اور سفید عوام کی نفسیات اتنی مختلف ہے اور سفید فام طبقے میں سیاہ فام عوام کیلئے اس درجہ نفرت ہے کہ وہ اکثر چھلک جاتی ہے۔ سیاہ فام عوام یہ کہتے ہوئے سڑکوں پر اتر آتے ہیں کہ ’’ ہم کالے ہیں تو کیا ہوا انسان ہیں اور ہمارے بھی حقوق ہیں۔ ‘‘
ہندوستان میں خاص طور سے ہندوستانی مسلمانوں میں جو مظلوم ہیں ان کے ذہنوں پر ایسے لوگ چھائے ہوئے ہیں جو سیاہ فام تو نہیں ہیں مگر جن کے دل سیاہ ہیں۔ مسلمانوں کا کئی معاملات میں عدلیہ میں بھی پسپا ہونا اس لئے ممکن ہوا کہ ان کے درمیان موجود ایسے لوگوں نے بہت غلط کردار ادا کیا جن کے چہرے بہت روشن، گفتگو بہت مجاہدانہ مگر دل نفاق سے بھرے ہوئے تھے۔ یہ سیاہ دل ’’مجاہدین‘‘ قومی سطح پر ملی بقا کی لڑائی تو کیا لڑیں گے اپنے اداروں اور اداروں کے علمی ادبی اثاثوں کو بھی تباہ ہوتے دیکھ کر چپ ہیں۔ امریکہ میں سیاہ فام عوام کی تحریک دنیا بھر کے محرومین کے لئے مینارئہ نور ہے اس سے سبق لینے کی ضرورت ہے۔(انقلاب)
دنیا
یو ایس ایس ابراہم لنکن اسٹرائیک گروپ میں خودکشی کی آٹھ سے زائد کوششیں
واشنگٹن، امریکی بحریہ کے مطابق گزشتہ سال شروع ہونے والی کئی ماہ طویل تعیناتی کے دوران یو ایس ایس ابراہم لنکن کیریئر اسٹرائیک گروپ میں خودکشی کی آٹھ سے زائد کوششیں رپورٹ ہوئیں۔
قائم مقام نیوی سیکریٹری ہنگ کاؤ نے ڈیموکریٹ سینیٹر کرسٹن گلیبرینڈ کے سوالات کے جواب میں بتایا کہ ان واقعات میں طیارہ بردار جہاز، اس کے ایئر ونگ اور حفاظتی بیڑے میں شامل ڈسٹرائرز کے اہلکار شامل ہیں۔ تاہم جہاز پر خودکشی کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔
ایک سینئر دفاعی عہدیدار نے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ ان میں سے دو کوششیں اس وقت ہوئیں جب اسٹرائیک گروپ ایران کے ساتھ فعال جنگی کارروائیوں میں مصروف تھا۔
یو ایس ایس ابراہم لنکن اور اس کے ہزاروں اہلکار نو ماہ سے زیادہ عرصے تک تعینات رہے، جن میں رواں سال مسلسل 250 سے زائد دن سمندر میں گزارے گئے۔ اس دوران اسٹرائیک گروپ نے مغربی ایشیا میں ایران کے خلاف امریکی جنگ میں معاونت کی۔
طویل تعیناتی کے دوران جہاز پر خوراک اور رسد کی قلت، پانی کی نکاسی کے نظام میں خرابی اور اہلکاروں کی بگڑتی ذہنی صحت سے متعلق شکایات سامنے آئیں۔ امریکی محکمہ دفاع نے تاہم کہا ہے کہ خودکشی کی کوششوں میں اضافہ نہیں ہوا اور اہلکاروں کو مشیران، مذہبی معاونین اور دیگر سہولیات دستیاب ہیں۔
نیوی کے اعلیٰ سول عہدیدار ہنگ کاؤ نے ایک ویڈیو میں کہا، ’’ہمیں خدکشی کے بڑھتے ہوئے رجحان کا براہِ راست مقابلہ کرنا ہوگا۔‘‘
یو ایس ایس ابراہم لنکن گزشتہ ماہ کے آخر میں مغربی ایشیا سے روانہ ہوا، ستمبر کے اوائل میں تھائی لینڈ پہنچا اور رواں ہفتے گوام پہنچا۔ بحریہ کے مطابق اسے مغربی ایشیا میں ذمہ داریوں سے فارغ کردیا گیا ہے اور وہ اپنے آبائی اڈے سان ڈیاگو کی جانب رواں دواں ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
جموں میں 3 روزہ ہڑتال سے قبل بینک ملازمین کا مظاہرہ
جموں، 28 ستمبر سے اعلان کردہ 3 روزہ ہڑتال سے قبل یونائیٹڈ فورم آف بینک یونینز (یو ایف بی یو) کے بینر تلے بینک ملازمین اور افسران نے جمعرات کی شام یہاں مظاہرہ کیا، جس میں بڑی تعداد میں بینک افسران اور ملازمین نے شرکت کی۔
یونائیٹڈ فورم آف بینک یونینز میں بینک ملازمین اور افسران کی 7 یونینیں شامل ہیں، جن میں آل انڈیا بینک ایمپلائز ایسوسی ایشن (اے آئی بی ای اے)، آل انڈیا بینک آفیسرز کنفیڈریشن (اے آئی بی او سی)، نیشنل کنفیڈریشن آف بینک ایمپلائز (این سی بی ای)، آل انڈیا بینک آفیسرز ایسوسی ایشن (اے آئی بی او اے)، بینک ایمپلائز فیڈریشن آف انڈیا (بی ای ایف آئی)، انڈین نیشنل بینک ایمپلائز فیڈریشن (آئی این بی ای ایف) اور انڈین نیشنل بینک آفیسرز کانگریس (آئی این بی او سی) شامل ہیں۔ یہ فورم 28، 29 اور 30 ستمبر کو ملک گیر 3 روزہ بینک ہڑتال کرے گا، جس میں سرکاری شعبے کے بینکوں، نجی شعبے کے بینکوں، غیر ملکی بینکوں، علاقائی دیہی بینکوں اور کوآپریٹو بینکوں میں کام کرنے والے 8 لاکھ بینک ملازمین اور افسران شرکت کریں گے۔
اس موقع پر آل انڈیا بینک آفیسرز کنفیڈریشن (اے آئی بی او سی) جموں و کشمیر اور لداخ مرکز کے زیر انتظام علاقے کے سکریٹری راجیش مہتا نے کہا کہ ان کا مطالبہ ہے کہ حکومت بینکنگ صنعت میں ہفتے میں 5 دن کام کرنے کے نظام کو نافذ کرنے اور باقی ہفتہ کے دنوں کو تعطیل قرار دینے کی منظوری دے۔ فی الحال بینکوں میں دوسرے اور چوتھے ہفتہ کو پہلے ہی تعطیل ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ انڈین بینکس ایسوسی ایشن کی جانب سے 7 دسمبر 2023 کو آئی بی اے اور یو ایف بی یو کے درمیان طے شدہ مفاہمت نامے اور 8 مارچ 2024 کو کیے گئے تصفیے اور مشترکہ نوٹ میں طے پانے والی باتوں کی بنیاد پر باقی ہفتہ کے دنوں کو بھی تعطیل قرار دینے کی سفارش کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس معاملے کی حکومت کو باقاعدہ سفارش کی جا چکی ہے، لیکن بدقسمتی سے گزشتہ 2 سال سے حکومت کی منظوری کے لیے زیر التوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے کوئی جواب نہ ملنے کے بعد یو ایف بی یو نے 24 اور 25 مارچ 2025 کو 2 روزہ ہڑتال کی اپیل کی تھی۔ اس وقت حکومت نے انہیں بتایا تھا کہ معاملہ فعال طور پر زیر غور ہے، جس کے بعد ہڑتال ملتوی کر دی گئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ اس کے بعد یونائیٹڈ فورم آف بینک یونینز نے مختلف احتجاجی پروگراموں کے ذریعے حکومت کی توجہ اس مسئلے کی جانب مبذول کرانے کے بعد 28، 29 اور 30 ستمبر کو 3 روزہ ہڑتال کی اپیل کی ہے اور بالآخر 26 اکتوبر 2026 سے غیر معینہ مدت کی ہڑتال کی اپیل بھی کی گئی ہے۔
یہ بھی بتایا گیا کہ مالیاتی شعبے میں ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی)، ایل آئی سی اور جی آئی سی میں پہلے ہی ہفتے میں 5 دن کام کرنے کا نظام نافذ ہے۔
مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے تمام دفاتر پیر سے جمعہ تک ہی کام کرتے ہیں۔
اسٹاک ایکسچینج بھی پیر سے جمعہ تک کام کرتے ہیں۔ زرِمبادلہ کی منڈی اور غیر ملکی زرمبادلہ کے لین دین سمیت دیگر مالیاتی منڈیاں ہفتہ اور اتوار کو بند رہتی ہیں۔ بینکوں میں پہلے ہی دوسرے اور چوتھے ہفتہ کو تعطیل ہوتی ہے۔
لہٰذا موجودہ حالات میں جب بینکنگ خدمات تک رسائی کے لیے مختلف متبادل ذرائع دستیاب ہیں، پیر سے جمعہ تک کام کے اوقات میں اضافہ کرتے ہوئے باقی ہفتہ کے دنوں کو تعطیل قرار دینے سے بینک صارفین کو کسی بڑے مسئلے کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔
یو ایف بی یو کے دیگر رہنماؤں نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ وہ بینکنگ شعبے میں ہفتے میں 5 دن کام کرنے کا نظام نافذ کرنے کا مطالبہ کرتے آ رہے ہیں۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
جموں و کشمیر
کشمیر کے خواب دیکھنا بند کریں، پاکستان کو اپنے مسائل حل کرنے پر توجہ دینی چاہئے: جموں و کشمیر بی جے پی
جموں، جموں و کشمیر بی جے پی کے ترجمان اور بین الاقوامی امور کے کنوینر گورو گپتا نے جمعرات کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ہندوستان کی جانب سے پاکستان کو دیے گئے سخت جواب کے بعد پاکستان پر شدید حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کو دوسرے ممالک کے علاقوں پر نظریں رکھنے اور ’’دہشت گردی برآمد کرنے‘‘ کی بجائے اپنے قرضے چکانے، اپنی معیشت کو ترقی دینے اور اپنے عوام کے مسائل حل کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔
گپتا نے اقوام متحدہ میں ہندوستان کے سخت جواب کا خیرمقدم کیا، جہاں ہندوستانی سفارت کار کشتیج تیاگی نے پاکستان سے کہا کہ وہ علاقائی عزائم اور دہشت گردی کے بجائے ترقی پر توجہ دے۔
انہوں نے یہاں ایک بیان میں کہا، ’’ہندوستان نے جموں و کشمیر کے بارے میں پاکستان کے حوالوں پر بھی تنقید کی اور پاکستان کے زیر انتظام علاقوں سے متعلق خدشات کو اجاگر کیا۔‘‘
گپتا نے کہا، ’’ہندوستان نے اقوام متحدہ میں پاکستان کو وہ پیغام دیا ہے جو اسے سننے کی ضرورت تھی—ہندوستان کی طرف دیکھنا بند کرو اور اپنے ملک کی طرف توجہ دو۔ اپنے قرضے چکاؤ، اپنی معیشت کو دوبارہ مضبوط کرو اور اپنے عوام کو مستقبل فراہم کرو، بجائے اس کے کہ ہندوستانی علاقے کے خواب دیکھو۔‘‘
اسلام آباد پر سخت تنقید کرتے ہوئے گپتا نے کہا کہ پاکستان عالمی فورموں پر کشمیر کا مسئلہ اٹھاتے رہتے ہوئے بین الاقوامی ہمدردی کی توقع نہیں کر سکتا۔
انہوں نے کہا، ’’دہشت گردی پاکستان کے قرضے ادا نہیں کرے گی۔ ہندوستان مخالف پروپیگنڈا روزگار پیدا نہیں کرے گا۔ اقوام متحدہ میں ڈرامائی بیان بازی سے اس کے عوام کا پیٹ نہیں بھرے گا۔ اور بار بار کشمیر کا ذکر کرنے سے یہ زمینی حقیقت تبدیل نہیں ہوگی کہ جموں و کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے۔‘‘
گپتا نے کہا کہ جموں و کشمیر پر پاکستان کی مسلسل توجہ اس کے اپنے اقتصادی اور انتظامی مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔
انہوں نے کہا، ’’دنیا کئی دہائیوں سے پاکستان کی بیان بازی سن رہی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اس بیان بازی سے پاکستانی عوام کو کیا حاصل ہوا؟ ترقی، روزگار اور خوشحالی کے بجائے اسلام آباد اپنی سیاسی توانائی علاقائی عزائم اور ہندوستان مخالف پروپیگنڈے پر خرچ کرتا جا رہا ہے۔‘‘
پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر کا حوالہ دیتے ہوئے گپتا نے کہا کہ اسلام آباد کو پہلے اپنے زیر انتظام علاقوں کے مسائل حل کرنے چاہئیں۔
مسٹرگپتا نے کہا، ’’کشمیر پر ہندوستان کو نصیحت دینے سے پہلے پاکستان کو اپنے زیر انتظام علاقوں میں رہنے والے لوگوں کے حالات سے متعلق سوالات کا جواب دینا چاہیے۔ آپ کشمیر کی نمائندگی کرنے کا دعویٰ نہیں کر سکتے جبکہ اپنے انتظام والے علاقوں کے لوگوں کی شکایات کو نظر انداز کرتے ہیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’ہندوستان کا پیغام سادہ ہے: دہشت گردی برآمد کرنا بند کرو، ہندوستانی علاقے پر نظریں رکھنا بند کرو اور اپنے عوام کے لیے کام کرنا شروع کرو۔ جموں و کشمیر ہندوستان کا حصہ ہے۔ پاکستان کی تقریریں تاریخ، جغرافیہ یا حقیقت کو تبدیل نہیں کر سکتیں۔‘‘
یو این آئی۔ م س۔ م الف
-
ہندوستان1 week agoکھرگے اور راہل نے یومِ پیدائش پر مودی کو مبارکباد دی
-
جموں و کشمیر6 days agoگوریز میں مجوزہ ’تنتر سائلنس‘ ریٹریٹ پر تنازع
-
جموں و کشمیر5 days agoاپوزیشن لیڈر سنیل شرما کا جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ
-
دنیا6 days agoجنوبی کوریا کا آبنائے ہرمز میں جنگی کردار سنبھالنے سے انکار ، جنگی مقاصد کی تعنیاتی نہیں ہو گی
-
دنیا1 week agoہم نے جزیرہ قشم کے اوپر ایک امریکی ڈراون کو گرایا:ایران
-
دنیا1 week agoاو آئی سی جنرل سیکرٹریٹ کی مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت
-
دنیا7 days agoامریکی ویزا سے انکار کے بعد اقوام متحدہ نے فلسطینی صدر عباس کو ویڈیو خطاب کی اجازت دی
-
دنیا7 days agoباب المندب سے بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے اٹلی جنگی بحری جہاز تعینات کرے گا
-
دنیا6 days agoایران میں جنگ چھڑنے کے بعد حکومت کے حق میں بڑی ترین ریلی، لاکھوں ایرانی شہری یکجا ہوئے
-
دنیا5 days agoایرانی وزیر خارجہ عراقچی کا بین الاقوامی قانون کے بلاامتیاز نفاذ پر زور
-
دنیا7 days agoامریکہ کی سعودی عرب کو 48 ایف-35 طیارے فروخت کرنے کی ممکنہ منظوری
-
جموں و کشمیر6 days agoنو قائم شدہ جے کے فور سی متاثرین پر مرکوز طریقہ کار اختیار کرے گا
