جموں و کشمیر
سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے بعد جموں و کشمیر میں آبی نیوی گیشن منصوبے کا آغاز
سری نگر،حکومتِ ہند کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو عارضی طور پر معطل رکھنے کے پس منظر میں انلینڈ واٹر ویز اتھارٹی آف انڈیا (آئی ڈبیلو اے آئی) نے جموں و کشمیر میں آبی گزرگاہوں کی ترقی اور بحری نیویگیشن انفراسٹرکچر کو فروغ دینے کے لیے عملی اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔
اس سلسلے میں ’ آئی ڈبیلو اے آئی‘ اور جموں و کشمیر حکومت کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط بھی کیے گئے ہیں، جس کے تحت ریاست میں دریائی راستوں کو قومی آبی گذرگاہوں کے طور پر ترقی دی جائے گی۔
حکام کے مطابق، یونین ٹریٹری میں جن تین قومی آبی گزرگاہوں پر یہ بنیادی ڈھانچہ تیار کیا جائے گا، ان میں قومی آبی گزرگاہ26 (دریائے چناب) ، قومی آبی گزار گاہ 49(دریائے جہلم) اور قومی آبی گزر گاہ 84(دریائے روای) شامل ہیں۔
سرکاری ذرائع نے بتایا کہ ابتدائی مرحلے میں 150 کروڑ روپے کی منظوری دی جا چکی ہے تاکہ ان گزرگاہوں پر ترقیاتی کام فوری طور پر شروع کیا جا سکے۔
پہلگام دہشت گرد حملے کے بعد بھارت نے اعلان کیا تھا کہ وہ 1960 کے سندھ طاس معاہدے کو اس وقت تک کے لیے “تعطل” میں ڈال رہا ہے جب تک پاکستان سرحد پار دہشت گردی کی حمایت بند نہیں کرتا۔
اس کے بعد ’آئی ڈبیلو اے آئی‘ کو دریاؤں پر کام کرنے کے لیے وسیع اختیارات حاصل ہو گئے ہیں، کیونکہ اب سندھ طاس معاہدے کی بندش کی کوئی قانونی رکاوٹ درپیش نہیں رہی۔
’آئی ڈبیلو اے آئی‘ نے جموں و کشمیر حکومت کے ساتھ ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت ریاست میں دریاؤں کے ذریعے نیویگیشن نظام کو فروغ دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا:’ اس یادداشت کے تحت ’آئی ڈبیلو اے آئی‘ جموں و کشمیر میں دس مقامات پر فلوٹنگ جیٹیوں کی تنصیب، نیویگیشن فیئر وے کی ترقی (جہاں ضرورت ہو وہاں ڈریجنگ کے ذریعے)، رات کے وقت نیویگیشن کی سہولیات اور باقاعدہ ہائیڈروگرافک سروے جیسے اہم ترقیاتی کام کرے گا۔
حکام نے مزید بتایا:’ان آبی گزرگاہوں کی ترقی ماحولیاتی سیاحت (ایکو ٹورازم) کو فروغ دے گی اور مقامی معیشت میں نئی جان ڈالے گی۔‘
علاوہ ازیں، اتھارٹی ڈل جھیل اور وُلر جھیل میں بھی نیویگیشن انفراسٹرکچر کے منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔ حکام کے مطابق، وُلر جھیل پر ایک کروز ہوٹل قائم کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
’آئی ڈبیلو اے آئی‘ نے سرینگر میں اپنا علاقائی دفتر قائم کر لیا ہے، جس کے لیے جگہ جموں و کشمیر حکومت نے فراہم کی ہے۔یہ دفتر خطے میں اتھارٹی کی طرف سے کیے جانے والے تمام ترقیاتی کاموں کے لیے کمانڈ سینٹر کے طور پر کام کرے گا۔
’آئی ڈبیلو اے آئی‘، جو کہ وزارت جہاز رانی و بندرگاہ کے تحت کام کرتا ہے، ملک بھر میں آبی گزرگاہوں کو ترقی کا ایک مضبوط انجن بنانے کے لیے کئی اہم اقدامات کر رہا ہے، جن میں آئی ڈبیلو ٹی ٹرمینل، فریٹ کوریڈورز اور جدید نیویگیشن انفراسٹرکچر شامل ہیں۔
یو این آئی-ارشید بٹ
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا7 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا7 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا7 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
