تازہ ترین
عیدمیلادالنبیٰ ﷺ :حدمتارکہ اورٹنل کے آرپارعظیم الشان تقاریب ا وررُوح پرورمجالس
خبراردو:
سری نگر: فخرموجودات،خاتم النبین ،رسول رحمت حضرت محمدمصطفےٰ احمدمجتبےٰ ﷺ کے یوم ولادت باسعادات کی مناسبت سے منائی جانے والی عیدمیلادالنبیﷺ کے موقعہ پرمنگل اوربدھ کی درمیانی رات تاریخی آثارشریف درگاہ حضرتبل سمیت وادی کے اطراف واکناف ،صوبہ جموں اورپاکستانی زیرانتظام کشمیرکے مختلف علاقوں میں واقع آستانوں ،زیارت گاہوں ،مساجد،دینی مدارس اوردیگرعبادتگاہوں میں شب خوانی کی بابرکت مجالس منعقد ہوئیں ،جن میں لاکھوں کی تعدادمیں فرزندان توحیدبشمول مردوزن اوربچوں وبزرگوں نے شامل ہوکرحضوراکرم ﷺ کے تئیں اپنی والہانہ عقیدت ومحبت کااظہارکیا۔بدھ کونمازفجرکے بعدسبھی آستانوں میں شب خوانی کیلئے جمع عقیدتمندموئے مقدس ﷺ کے دیدارسے فیضیاب ہوئے ۔اس دوران بدھ کے روزسری نگر،بارہمولہ اوردیگرکئی مقامات پرمیلادجلوس برآمدہوئے ،جن میں شامل مسلمان بشمول دینی مدارس میں زیرتعلیم وتربیت بچوں نے درودحضورﷺ کاوردکرکے فضاء کومعطر اورشرکاء جلوس کے ایمان کوزندہ کیا۔
منگل کو درگاہ شریف حضرت بل میں نماز عشاء لگ بھگ ساڑھے 10 بجے ادا کی گئی جس کے بعد نعت خوانی ، توبہ استغفار ، درود اذکاراور ختمات المعظمات کی رُوح پرور محفلوں کا اہتمام کیا گیا۔دماغوں کو روشن، دلوں کو منور اور طبعیتوں کو محصور کرنے والی ان مجالس میں ہزاروں فرزندان توحید اور عاشقانِ رسولﷺ کے پروانوں نے اللہ کے حبیب ﷺکے تئیں اپنی والہانہ عقیدت کا مظاہرہ کیا۔ کڑاکے کی ٹھنڈ نا کے باوجود آثار شریف حضرت بل میں بشمول مردوزن اور بچے صاف وپاک ملبوسات زیب تن کر کے توبہ استغفار اور درودو ازکار کی مجالس میں محو رہے۔ شب بیداروں کی کثیر تعداد نے ان مجالس میں شرکت کر کے اپنے کردہ اور ناکردہ گناہوں کی بخشش مانگی۔ شب خوانی کے موقعہ پرہر عقیدت مند کی آنکھ نم تھی اور وہ آہ زاری کے ساتھ ساتھ اپنے گناہوں کی بخشش کیلئے ہاتھ پھیلا پھیلا کردعائیں مانگ رہے تھے جس کے نتیجے میں رات بھر حضرتبل کے نزدیکی علاقوں کی فضائیں گونجتی رہیں۔درگاہ شریف میں علمائے کرام نے ریاست میں امن و آشتی اور ناگہانہ آفتوں سے نجات کیلئے خصوصی دعائیں مانگیں۔معلوم ہواکہ رات بھرشب خوانی کی مجلس میں شامل رہے عقیدتمندوں نے بدھ کوعلی الصبح نمازفجراداکی جبکہ اس دوران سخت ٹھنڈکے باوجودسری نگرکے مختلف علاقوں سے بڑی تعدادمیں فرزندان توحیددرگاہ حضرتبل میں نمازفجرکی ادائیگی کیلئے پہنچے۔نمازفجرکی ادائیگی کے اوردرودواذکارکے فوراًبعدآثارشریف درگاہ حضرتبل میں موئے مقدس ﷺ کے دیدارسے ہزاروں عقیدتمندفیضیاب ہوئے ،اوراس دوران یہاں کی فضاء درود حضور ﷺ سے گونج اُٹھی ۔
مقامی لوگوں نے بتایاکہ بدھ کوصبح سے ہی وادی کے اطراف واکناف ہزاروں عقیدت مند دوپہر کے بعد ہی وہاں پہنچنا شروع ہوگئے۔ ٹریفک پولیس نے حضرتبل پہنچنے والی اور وہاں سے واپس روانہ ہونے والی گاڑیوں کیلئے روٹ پلان پہلے ہی مرتب کیا جبکہ زائرین کو سہولیات بہم رکھنے کیلئے صوبائی وضلع انتظامیہ سی نگر انتظامیہ اور وقف بورڈ کیساتھ ساتھ کئی سرکاری محکموں اور نجی اداروں و تنظیموں نے بھی خصوصی انتظامات کئے تھے۔زائرین کو درگاہ شریف حضرت بل تک لانے اورلے جانے کیلئے ٹرانسپورٹ کے معقول انتظامات کئے گئے تھے جبکہ کئی رضاکار تنظیموں نے زائرین کیلئے جگہ جگہ لنگر اور مشروبات کا انتظام کیاتھا اور یہ سہولیات دستیاب رکھنے میں مسلم وقف بورڈ ،پولیس، ایس آر ٹی سی، محکمہ صحت اور محکمہ پی ایچ ای نے اہم رول اداکیا۔درگاہ شریف حضرتبل میں دن بھرعقیدتمندوں کاتانتابندھارہاجبکہ نمازظہراورنمازعصرکے وقت یہاں فرزندان کااژدھام موجودرہا۔اس دوران ہزاروں عقیدتمنددیدارموئے مقدس سے فیضیاب ہوئے ۔نمازمغرب اورنمازعشاء کے بعدبھی یہاں لوگ موئے مقدس ﷺ کے دیدارسے فیضیاب ہوئے ۔
درگاہ حضرتبل کی انتظامیہ کے ذرائع نے بتایاکہ عیدمیلادالنبیﷺ کی مناسبت سے درگاہ شریف میں بابرکت مجالس کاسلسلہ پورے ایک ہفتے تک جاری رہے گا،اورروزانہ ہرنمازکے بعدفرزندان توحیدیہاں موئے مقدسﷺ کے دیدارسے فیضیاب ہونگے ۔اس دوران شہری کلاش پورہ ، زیارت مخدوم صاحب سرینگر، خانقاہ معلی، جناب صاحب صورہ ، زیارت دستگر صاحب سرائے بل وخانیار سرینگر، کھرم سرہامہ ، آثار شریف پنجورہ شوپیان ، احم شریف بانڈی پورہ ، زیارت خواجہ ہلال نسبل سمبل اور درگاہ عالیہ بارہمولہ کے علاوہ ، اننت ناگ ، پلوامہ ، گاندربل ، بڈگام ، کپوارہ ، ہندوارہ اوروادی میں دیگرکئی مقامات پربھی اس شب خوانی کی بابرکت مجالس کاانعقادکیاگیا،جن میں ہزاروں کی تعدادمیں عقیدتمندوں نے شرکت کی ۔اس دوران کئی آستانوں اورمساجدمیں علمائے دین اورمقررین نے عیدمیلادالنبیﷺ پرروشنی ڈالی ۔وادی بھرمیں عیدمیلادالنبی ﷺ کی مناسبت سے منعقدہ شب خوانی مجالس اوردیگرتقاریب سے خطاب کرتے ہوئے علمائے دین نے کہاکہ حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ تاریخ عالم کے سب سے بڑے منصف ،مدبراوررہنماء تھے،جنہوں نے تاریکیوں اورتوہمات میں گری انسانیت کواچھائی وسچائی کی روشنی دکھائی ۔
انہوں نے کہاکہ حضورپُرنور ﷺ کی نبوت ورسالت سے قبل ہی عادل ،امین و صادق کے طور پر مشہور تھے۔ انہوں نے کہاکہ معاشرہ اسلامی ہو یا غیر اسلامی عدل وانصاف کے بغیر اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکتا۔مقرین نے کہاکہ آج عالم اسلام نظام عدل کی کمزوریوں کی وجہ سے بحرانوں سے دو چار ہے،اوراُمت مسلمہ جن مصائب ومشکلات میں مبتلاء ہے ،وہ صرف دین اسلام سے دوری کانتیجہ ہے ،اسلئے بحیثیت اُمت محمدﷺ سبھی مسلمانوں کواپنااحتساب کرناچاہئے۔انہوں نے کہا کہ سیاسی، معاشی، سماجی عدم مساوات اور ناانصافی کی وجہ سے دنیابھرمیں امن تہ و بالا ہو چکا ہے۔علمائے دین کاکہناتھاکہ دین اسلام نے ہر قسم کے امتیازی اور استحصالی رویوں کا خاتمہ عدل کے بول بالا سے کیا، جہاں عدل ہوتا ہے وہاں ظلم پنپ نہیں سکتا۔ انہوں نے کہا کہ سرور دو عالم ﷺکو اللہ نے کائنات کیلئے کامل قابل تقلید نمونہ بنا کر مبعوث فرمایا اور اُنہیں عدل کی تلقین کی۔
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
پاکستان
کویت کے ساتھ معاہدے سے پاکستان کا مشرق وسطیٰ میں دفاعی حصار وسیع
اسلام آباد، پاکستان اور کویت نے جمعرات کو ایک نئے دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ پاکستان کی وزارت دفاع کے مطابق یہ معاہدہ 2023 سے موجود فوجی تعاون کے فریم ورک کو نمایاں طور پر وسعت دیتا ہے۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف اور کویت کے وزیر دفاع شیخ عبداللہ علی عبداللہ السالم الصباح نے راولپنڈی میں ’پروٹوکول ایگریمنٹ 2026‘ پر دستخط کیے۔
معاہدے کے تحت پاکستانی مسلح افواج کویت کی فوج کی تربیت، دفاعی صلاحیتوں میں اضافے اور سرحدی انتظام میں معاونت کریں گی۔یہ معاہدہ جون 2023 میں طے پانے والے ایک بنیادی معاہدے کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جس کی کویت نے گزشتہ ماہ باضابطہ طور پر توثیق کی تھی۔
یہ پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے بڑھتے ہوئے سلسلے میں تازہ ترین پیش رفت ہے۔
حالیہ برسوں میں پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدہ کیا، سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ ’مکہ پیکٹ‘ کے نام سے سہ فریقی اجتماعی سلامتی کے معاہدے میں شمولیت اختیار کی، سعودی عرب میں ہزاروں فوجی اور ایک جنگی طیاروں کا اسکواڈرن تعینات کیا اور قطر کے ساتھ فوجی تربیتی تعاون کو بھی وسعت دی ہے۔
پاکستان کئی دہائیوں سے خلیجی ممالک کی افواج کو تربیت اور افرادی قوت فراہم کرتا آیا ہے۔ تاہم اب فرق اس تعاون کی رفتار اور نمایاں حیثیت میں آیا ہے اور خلیجی دارالحکومت خاموش تعاون کے بجائے باضابطہ معاہدوں کے ذریعے اسے ادارہ جاتی شکل دینے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔
معاہدوں کے اس سلسلے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر خلیجی ممالک مسلسل پاکستان کا رخ کیوں کر رہے ہیں اور پاکستان ان معاہدوں کے ذریعے کیا حاصل کر رہا ہے؟
کویت اسلام آباد کے ساتھ دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے والا تازہ ترین خلیجی ملک ہے۔
کویت کے ساتھ پاکستان کا دفاعی تعاون 1960 کی دہائی کے اواخر سے جاری ہے۔ 1990-91 کی خلیجی جنگ کے دوران بھی پاکستان نے سعودی عرب میں ایک بڑا فوجی دستہ بھیجا تھا، جو 1990 میں عراق کی جانب سے کویت پر حملے کے بعد مکہ اور مدینہ کے اطراف دفاعی پوزیشنوں پر تعینات کیا گیا تھا۔
پاکستان کے سابق دو ستارہ جنرل اور اب دفاعی تجزیہ کار زاہد محمود نے کہا کہ یہی تاریخ جمعرات کو ہونے والے معاہدے کا پس منظر ہے۔انہوں نے کہا، ’’پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کوئی نئی بات نہیں ہے۔‘‘
محمود کے مطابق کویت کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا موازنہ گزشتہ ستمبر میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دستخط کردہ ’اسٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ‘ (ایس ایم ڈی اے) سے نہیں کیا جاسکتا۔ کویت معاہدے میں مکہ پیکٹ یا ایس ایم ڈی اے جیسی کوئی شق شامل نہیں، جن کے تحت کسی ایک فریق پر جارحیت کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
جنگ کے آغاز کے بعد ایران کا آبنائے ہرمز پر سابقہ کنٹرول بڑی حد تک کم ہوا: امریکہ کا دعویٰ
واشنگٹن/تہران، امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فوج نے جنگ کے آغاز کے بعد سے آبنائے ہرمز پر ایران کی گرفت کو بتدریج کمزور کر دیا ہے۔ واشنگٹن کے مطابق جو کارروائی ابتدا میں ایران کی میزائل اور جوہری صلاحیتوں کے خلاف مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، وہ اب دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں سے ایک پر کنٹرول حاصل کرنے کی طویل جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے، جو جنگ کے آغاز سے ہی تہران کا سب سے مؤثر دباؤ کا ذریعہ رہی ہے۔
امریکی حکام کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز کی بدلتی ہوئی صورتحال جنگ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، جس سے عالمی توانائی منڈیوں پر دباؤ کم ہوگا اور واشنگٹن کو تہران کے ساتھ مستقبل کے مذاکرات میں زیادہ اثر و رسوخ حاصل ہوگا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایک فون انٹرویو میں ’ایکسِیوس‘ سے کہا، ’’وہ جگہ کھلی ہوئی ہے۔ ایرانی ردعمل بہت معمولی ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ ہم دوبارہ ان پر حملہ کریں۔ یہی پوری بات ہے، باقی کسی چیز کی اہمیت نہیں۔‘‘
جنگ شروع ہونے کے وقت آبنائے ہرمز کھلی ہوئی تھی، عالمی سطح پر تیل کی ترسیل معمول کے مطابق جاری تھی اور برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 72 ڈالر فی بیرل تھی۔
دو اسرائیلی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا فیصلہ اس وقت پاسداران انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر جنرل علی رضا تنگسیری نے کیا تھا۔ جنگ کے پہلے 72 گھنٹوں کے اندر ایران نے آبی گزرگاہ کی بندش کا اعلان کیا اور خبردار کیا کہ گزرنے کی کوشش کرنے والے ٹینکروں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
اسرائیلی اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس کے بعد تنگسیری نے ایرانی افواج کو آبنائے ہرمز کے اندر ’ٹریفک سیپریشن اسکیم‘ یعنی بین الاقوامی جہاز رانی کے مرکزی راستے میں بحری سرنگیں بچھانے کا حکم دیا۔ تنگسیری تین ہفتے بعد بندر عباس میں اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے۔
حملوں اور سمندری سرنگوں کے خطرے کے باعث آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی۔ اس کے نتیجے میں برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 126 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی اور عالمی توانائی منڈیوں پر شدید دباؤ پڑنے لگا۔
ٹرمپ نے 8 اپریل کو جنگ بندی پر اتفاق کیا، جس کی ایک وجہ امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں میں بڑے اضافے اور توانائی منڈیوں کے دباؤ کو بھی قرار دیا گیا۔ یہ بالکل اسی نوعیت کا معاشی خلل تھا جسے ایران پیدا کرنا چاہتا تھا۔
دو ماہ بعد امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا مرکزی معاملہ بن گیا۔ تاہم آبی گزرگاہ مکمل طور پر معمول پر نہ آسکی اور جلد ہی یہ معاہدہ بھی ناکام ہوگیا۔
مفاہمتی یادداشت کے خاتمے کے بعد امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کو اپنے طور پر دوبارہ کھولنے کی کوشش شروع کردی۔ امریکہ نے متحدہ عرب امارات کے تعاون سے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی، جس نے جنوبی راستے سے تجارتی جہازوں کی رہنمائی شروع کی، انہیں فضائی تحفظ فراہم کیا اور ایرانی ڈرونز اور کروز میزائلوں کو روکنے کی کارروائیاں کیں۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا7 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا7 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا7 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
