دنیا
اے اللہ! فلسطین کے بھائیوں کی مدد فرما، عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے والوں کو برباد کردے: خطبہ حج
مکہ مکرمہ، مسجد الحرام کے امام شیخ صالح بن حمید نے خطبہ حج کے دوران فلسطین کے مظلوم مسلمانوں کے خصوصی دعا کراتے ہوئے کہا ہے کہ اے اللہ! فلسطین کے بھائیوں کی مدد فرما، عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے والوں کو برباد کردے، ان کے قدم اکھاڑ دے حج کے رکن اعظم وقوف عرفہ کے دوران میدان عرفات میں واقع مسجد نمرہ میں خطبہ حج دیتے ہوئے شیخ صالح بن حمید نے امت مسلمہ کو ہدایت کی کہ چھوٹی سےچھوٹی نیکی کو بھی حقیر نہ جانو، اللہ فخر، تکبرکرنےوالے کو پسند نہیں کرتا، اللہ کے رسول کے احکامات کی پاسداری کرو، جن چیزوں سے روکا گیا ہے ان سے دور رہو۔
امام حرم نے کہاکہ اللہ نے کہا ہے کہ خیرکاکام کرنےوالوں کےلیے آخرت میں جنت ہوگی، نیک اعمال کرنےوالوں کےلیےدنیا میں بھی خیر و برکت ہوگی، تقویٰ اختیار کرنا ایمان والوں کی شان ہے، تقویٰ دنیا و آخرت کی بھلائی کا سبب ہے۔انہوں نے کہاکہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا اے ایمان والو! اللہ کی عبادت ایسے کرو کہ جیسے تم اللہ کو دیکھ رہے ہو، یا پھر اللہ کی عبادت اس طرح سے کرو کہ جیسے اللہ تمھیں دیکھ رہا ہے، انہوں نے تقلین کی کہ آپس میں ایک دوسرے سے بڑھ کر نیکی کا کام کرو، اللہ سے ڈرتے رہو،تقوی اختیار کرو، اللہ کی پکڑ بہت سخت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ نبی نے فرمایا اللہ کی عبادت کرو،اسکےساتھ کسی کو شریک نہ کرو، نیکو کاروں، تقوی اختیار کرنے والوں کے لیے آخرت میں اچھاانجام ہے، چھوٹی سےچھوٹی نیکی کو بھی حقیر نہ جانو، اللہ فخر اور تکبرکرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔امام حرم نے مزید کہا کہ شیطان انسان کا دشمن ہے، شیطان سےبچو، اللہ تمہیں آزماتا ہے، اللہ نے ہر چیز کا وقت مقرر کررکھا ہے، نیک لوگ جنت میں جائیں گے اور ہمیشہ وہیں رہیں گے، اللہ نے زمین اور آسمان کو چھ دنوں میں پیدا کیا۔
شیخ صالح بن حمید نے امت مسلمہ کو بدعت اور غیبت سے دور رہنے کی تلقین کرتے ہوئے کہاکہ اللہ سےدعا مانگتے رہو ،اس کی عبادت کرتے رہو، اللہ کی توحید،اس کے رسولوں پر ایمان لانا ایمان کا حصہ ہے، نیکی اور برائی کبھی برابر نہیں ہوسکتی، قیامت،جہنم،جنت پر ایمان ہوناچاہیے،اللہ کی رضا جنت سے بھی بڑی ہے، دنیا میں ہمارے ساتھ جو ہو رہا ہے وہ لوح محفوظ میں ہے، انہوں نے کہاکہ انسان کی نیکیاں اسکی روح اور جسم کو پاک کردیتے ہیں۔
انہوں نے امت مسلمہ کو تاکید کی کہ شیطان تمھارا کھلا دشمن ہے اس سے دور رہو، اللہ نے نیکی کرنے اور برائی سے دور کا حکم دیا، دشمن کو معاف کرنا بھی نیکی ہے، نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں لہذا نیکیوں کی زیادہ سے زیادہ کوشش کرنی چاہیے، نماز قائم کرو، یہ اللہ اور بندے کے درمیان ایک بہترین رابطہ اور سب سے زیادہ درمیان کی نماز کی حفاظت کرو، اللہ تعالی نے فساد فی الارض سے سختی سے منع فرمایا ہے۔
ان کا کہنا تھا انسان کو باطنی امراض سے بچنا چاہیے کیونکہ باطنی امراض کی وجہ سے انسان اللہ کا تقرب حاصل نہیں کر پاتا، رمضان کے روزے تم پر فرض کیے گئے جیسے تم سے پچھلی امتوں پر فرض کیے گئے، روزے انسان کو باطنی امراض سے پاک کر دیتے ہیں۔
امام حرم نے مزید کہا کہ دین اسلام کے 3 درجات ہیں جس کا اعلیٰ درجہ احسان ہے، دوسرا درجہ ایمان کا ہے جو زبان سے اقرار، دل سے یقین اور اعضا سے عمل کرنا ہے، ایمان کی شاخیں 70 سے زائد ہیں، لاالہ الااللہ کہنا اعلیٰ ہے اور راستے سے تکلیف دہ چیز کو دور کرنا سب سے نچلا ہے۔
شیخ ڈاکٹرصالح بن عبد اللہ نے کہا کہ اے ایمان والو! عہد اور وعدے کو پورا کرو، جب بھی بات کرو اچھی بات کرو، اللہ صبر کرنے والوں کو پورا ثواب عطا کرتا ہے، اللہ کا شکر گزار بندوں سے وعدہ ہے کہ جتنا شکر کریں گے انہیں زیادہ تعمتوں سے نواز دے گا۔
امام حرم نے حجاج کرام اور حرمین شریفین کی شاندار خدمات انجام دینے پر خادم حرمین شریف شاہ سلیمان اور ولی عہد محمد بن سلیمان کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا، انہوں نے حجاج کرام کو سمع و طاعت سے کام لینے کی تلقین کرتے ہوئے اسے شریعت کا تقاضہ قرار دیا، انہوں نے سمع و طاعت سے تعاون کی صورتحال پیدا ہوتی ہے تاکہ مناسک حج آسانی سے ادا ہوسکیں۔
امام حرم نے مزید کہا کہ اے بیت اللہ کے حاجیو! نبی کریم ﷺ عرفہ میں اسی مقام پر کھڑے ہوئے تھے اور جب آپﷺ نے خطبہ دے دیا تو 2 نمازیں پڑھیں اور دونوں قصر کیں، اور پھر مزدلفہ چلے گئے، اورپھر آپ ﷺ نے مغرب اور عشا جمع کرکے پڑھیں، (مغرب 3 رکعت اور عشا دو رکعت)، پھر تھوڑی دیر رکھے اور کنکریاں جمع کیں اور پھر فجر ہوگئی اور پھر آپ ﷺ منیٰ چلے گئے جہاں جمرات عقبہ پر کنکریاں ماریں اور پھر قربانی ادا کرکے سر منڈایا اور پھر احرام سے آزاد ہوکر کعبۃاللہ کا طواف کیا اور پھر 2،3 راتیں رکنے کے لیے منیٰ آئے اور 11 ذو الحج کو تینوں شیطانوں کو کنکریاں ماریں۔
امام حرم نے حجاج کرام کو اللہ کا زیادہ سے زیادہ ذکر حمد و ثنا بیان کرنے اور شکر بجالانے کی تقلین کرتے ہوئے کہاکہ شکر کرو کے اللہ نے یہ دن دکھایا، جس میں دعا قبول ہوگی، اللہ سے گناہوں کی معافی مانگو۔
خطبہ حج کے اختتام پر امام حرم نے امت مسلمہ کے لیے دعا کرتے ہوئے کہا کہ اے اللہ مسلمانوں کے احوال اچھے کردے، ہمارے دل جوڑ دے، ہمارے دلوں میں محبت ڈال دے۔
امام حرم نے فلسطین کے مظلوم مسلمانوں کے لیے خصوصی دعا کرتے ہوئے کہا کہ اے اللہ! فلسطین کے بھائیوں کی مدد فرما، ان کے شہدا کو معاف کردے، زخمیوں کو شفا دے دے۔
امام حرم نے رنجیدہ آواز میں دعا کی کہ اے اللہ! عرفات سے دعا کی جارہی ہے، اہل فسلطین کے دشمنوں کو تباہ و برباد کردے، اے اللہ! تو اپنے دشمنوں کو تباہ و برباد کردے، وہ عورتوں اور بچوں کے قاتلوں کو برباد کردے، ان کے قدم اکھاڑ دے، ان میں تفریق ڈال دے، اے اللہ! وہ بچوں کے قاتل ہیں، ان میں تفریق ڈال دے، اے اللہ! مسلمانوں کو ہدایت عطا فرما۔
امام حرم نے خادم حرمین شریفین شاہ سلیمان بن عبدالعزیز کی صحت اور ولی عہد محمد بن سلیمان کے لیے آسانی کی دعا فرمائی۔
خطبہ حج کے بعد حجاج کرام نے میدان عرفات میں امام شیخ صالح بن حمید کی امامت میں نماز ظہرین (حالت سفر میں ظہر اور عصر کی دو، دو رکعت جسے قصر کہا جاتا ہے) ادا کی۔
واضح رہے کہ حجاج کرام غروب آفتاب تک میدان عرفات میں قیام کریں گے اور نماز مغربین (مغرب کی 3 اور عشا 2 رکعت) کی ادائیگی کے بعد حجاج کرام میدان عرفات سے مزدلفہ روانہ ہوں گے، اور مزدلفہ میں مغرب اور عشا کی نمازیں ملا کر پڑھیں گے اور شیطان کو مارنے کے لیے کنکریاں جمع کریں گے۔
حجاج کرام کل مزدلفہ میں کھلے آسمان تلے رات گزاریں گے، وقوف مزدلفہ کے بعد رمی کے لیے روانہ ہوں گے، بڑے شیطان کو 7 کنکریاں ماریں گے اور قربانی کریں گے، حجاج کرام حلق کرانے کے بعد احرام کھول دیں گے۔
11 ذوالحج کو حجاج کرام چھوٹے، درمیانے اور بڑے شیطان کو 7،7 کنکریاں ماریں گے، رمی جمرات کے بعد حجاج کرام طواف زیارت کے لیے خانہ کعبہ روانہ ہوں گے، طواف زیارت کے بعد حجاج کرام صفا مروہ کی سعی کریں گے۔
12 ذوالحج کو زوال آفتاب کے بعد تینوں شیطانوں کو کنکریاں ماری جائیں گی، 13 ذوالحج کو حجاج کرام رمی جمرات کے بعد منیٰ سے اپنی رہائش گاہ روانہ ہوجائیں گے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
جنگ کے آغاز کے بعد ایران کا آبنائے ہرمز پر سابقہ کنٹرول بڑی حد تک کم ہوا: امریکہ کا دعویٰ
واشنگٹن/تہران، امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فوج نے جنگ کے آغاز کے بعد سے آبنائے ہرمز پر ایران کی گرفت کو بتدریج کمزور کر دیا ہے۔ واشنگٹن کے مطابق جو کارروائی ابتدا میں ایران کی میزائل اور جوہری صلاحیتوں کے خلاف مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، وہ اب دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں سے ایک پر کنٹرول حاصل کرنے کی طویل جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے، جو جنگ کے آغاز سے ہی تہران کا سب سے مؤثر دباؤ کا ذریعہ رہی ہے۔
امریکی حکام کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز کی بدلتی ہوئی صورتحال جنگ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، جس سے عالمی توانائی منڈیوں پر دباؤ کم ہوگا اور واشنگٹن کو تہران کے ساتھ مستقبل کے مذاکرات میں زیادہ اثر و رسوخ حاصل ہوگا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایک فون انٹرویو میں ’ایکسِیوس‘ سے کہا، ’’وہ جگہ کھلی ہوئی ہے۔ ایرانی ردعمل بہت معمولی ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ ہم دوبارہ ان پر حملہ کریں۔ یہی پوری بات ہے، باقی کسی چیز کی اہمیت نہیں۔‘‘
جنگ شروع ہونے کے وقت آبنائے ہرمز کھلی ہوئی تھی، عالمی سطح پر تیل کی ترسیل معمول کے مطابق جاری تھی اور برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 72 ڈالر فی بیرل تھی۔
دو اسرائیلی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا فیصلہ اس وقت پاسداران انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر جنرل علی رضا تنگسیری نے کیا تھا۔ جنگ کے پہلے 72 گھنٹوں کے اندر ایران نے آبی گزرگاہ کی بندش کا اعلان کیا اور خبردار کیا کہ گزرنے کی کوشش کرنے والے ٹینکروں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
اسرائیلی اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس کے بعد تنگسیری نے ایرانی افواج کو آبنائے ہرمز کے اندر ’ٹریفک سیپریشن اسکیم‘ یعنی بین الاقوامی جہاز رانی کے مرکزی راستے میں بحری سرنگیں بچھانے کا حکم دیا۔ تنگسیری تین ہفتے بعد بندر عباس میں اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے۔
حملوں اور سمندری سرنگوں کے خطرے کے باعث آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی۔ اس کے نتیجے میں برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 126 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی اور عالمی توانائی منڈیوں پر شدید دباؤ پڑنے لگا۔
ٹرمپ نے 8 اپریل کو جنگ بندی پر اتفاق کیا، جس کی ایک وجہ امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں میں بڑے اضافے اور توانائی منڈیوں کے دباؤ کو بھی قرار دیا گیا۔ یہ بالکل اسی نوعیت کا معاشی خلل تھا جسے ایران پیدا کرنا چاہتا تھا۔
دو ماہ بعد امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا مرکزی معاملہ بن گیا۔ تاہم آبی گزرگاہ مکمل طور پر معمول پر نہ آسکی اور جلد ہی یہ معاہدہ بھی ناکام ہوگیا۔
مفاہمتی یادداشت کے خاتمے کے بعد امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کو اپنے طور پر دوبارہ کھولنے کی کوشش شروع کردی۔ امریکہ نے متحدہ عرب امارات کے تعاون سے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی، جس نے جنوبی راستے سے تجارتی جہازوں کی رہنمائی شروع کی، انہیں فضائی تحفظ فراہم کیا اور ایرانی ڈرونز اور کروز میزائلوں کو روکنے کی کارروائیاں کیں۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ٹرمپ نے اونٹاریو جھیل کا نام تبدیل کرکے ‘لیک امریکہ’ رکھ دیا
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ اور کینیڈا کے درمیان واقع اونٹاریو جھیل کا نام تبدیل کرکے ”لیک امریکہ” رکھنے کے لیے ایک انتظامی حکم نامے پر دستخط کیے ہیں۔
ٹرمپ نے حکم نامے پر دستخط کرنے سے قبل اوول آفس میں کہا، ”ہم اونٹاریو جھیل کا نام فوری طور پر تبدیل کرکے لیک امریکہ کرنے جا رہے ہیں۔ میں ابھی اس حکم نامے پر دستخط کر رہا ہوں۔” انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے ذریعے وہ کوئی خاص پیغام نہیں دے رہے، تاہم وہ طویل عرصے سے اس بارے میں سوچ رہے تھے۔
ایک روز قبل صدر ٹرمپ نے کینیڈا کے ساتھ جاری تجارتی تنازع کے دوران ایک ویڈیو پوسٹ کی تھی، جس میں انہوں نے نقشے پر علامتی طور پر اونٹاریو جھیل کا نام تبدیل کرکے ”لیک امریکہ” دکھایا تھا۔
تاہم کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے اس کا نام ”لیک امریکہ” رکھے جانے کے باوجود کینیڈا اس جھیل کو اونٹاریو جھیل ہی کہتا رہے گا۔
کارنی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا، ”ہم جانتے ہیں کہ امریکہ تجارتی تعلقات، خارجہ پالیسیاں، قومی یادگاروں اور آبی ذخائر کے نام بھی تبدیل کر رہا ہے، لیکن کینیڈین جانتے ہیں کہ حقیقت میں اس کا نام اونٹاریو جھیل ہی ہے—تب بھی، اب بھی اور ہمیشہ یہی رہے گا۔”
وزیر اعظم نے یاد دلایا کہ جھیل کا نام مقامی باشندوں کی زبان سے نکلا ہے اور اس کی تاریخ چار صدیوں سے بھی زیادہ پرانی ہے۔ یہ نام کینیڈین کنفیڈریشن اور امریکہ کے اعلانِ آزادی، دونوں سے بھی پہلے کا ہے۔
کارنی کے مطابق ”لیک اونٹاریو” کا نام وینڈاٹ زبان کے لفظ ”اونٹاریو” سے ماخوذ ہے، جس کا مطلب ”جھیل خوبصورت ہے، جھیل بڑی ہے” ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نام 400 سال سے زیادہ پرانا ہے۔
اونٹاریو جھیل گریٹ لیکس نظام کا حصہ ہے اور امریکہ اور کینیڈا کی سرحد پر واقع ہے۔ اس کے ساحل امریکی ریاست نیویارک اور کینیڈا کے صوبے اونٹاریو سے ملتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
سیتا رمن نے کینیڈین مالیاتی اداروں کو ہندستان میں بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کی دعوت دی
ٹورنٹو، مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے جمعرات کو کینیڈا کے مالیاتی اداروں سے ہندستان کے تیزی سے ترقی کرتے بنیادی ڈھانچے کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنے کی اپیل کی محترمہ سیتا رمن نے یہاں اعلیٰ سطحی ہندستان-کینیڈا بزنس گول میز کانفرنس سے خطاب کیا اس موقع پر کینیڈا کے وزیر خزانہ و محصولات فرانسوا-فلپ شامپین بھی موجود تھے۔
وزیر خزانہ نے کینیڈا کے مالیاتی اداروں کو گفٹ آئی ایف ایس سی میں دستیاب مواقع سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دی۔ گفٹ آئی ایف ایس سی ہندستان میں سرحد پار مالیاتی سرگرمیوں کے لیے ایک اہم دروازہ ہے۔ انہوں نے بینکنگ، فنڈ مینجمنٹ، ازسرنو بیمہ، پائیدار مالیات، عالمی صلاحیتی مراکز اور طیاروں و بحری جہازوں کی لیزنگ جیسے شعبوں میں بھی مواقع پر زور دیا۔
اجلاس میں کینیڈا اور ہندستان کے پالیسی سازوں، مالیاتی اداروں، بینکنگ شعبے کے اعلیٰ عہدیداروں اور نجی شعبے کے نمائندوں نے شرکت کی۔
انہوں نے ہندستان کے مالیاتی نظام میں جاری تبدیلیوں پر بھی روشنی ڈالی۔ سرمایہ بازاروں کی توسیع، بیمہ شعبے کی بڑھتی رسائی، فن ٹیک میں جدت اور یو پی آئی جیسے ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے عالمی سرمایہ کاروں اور اداروں کے لیے نئے مواقع پیدا کر رہے ہیں۔
مرکزی وزیر خزانہ نے کہا کہ ہندستان میں بنیادی ڈھانچے کی تیزی سے توسیع ہو رہی ہے۔ نقل و حمل، توانائی، شہری اور ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے میں طویل مدتی ادارہ جاتی سرمایہ کاری کے لیے بڑے پیمانے پر مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔
وزیر خزانہ نے قومی سرمایہ کاری و بنیادی ڈھانچہ فنڈ (این آئی آئی ایف) کو ایک تجارتی نقطۂ نظر سے چلنے والا پلیٹ فارم قرار دیا، جو عالمی ادارہ جاتی سرمائے کو ہندستان کے بنیادی ڈھانچے اور ترقی کے مواقع سے جوڑتا ہے۔ اس میں بنیادی ڈھانچہ فنڈ 2 اور نجی بازار فنڈ 2 کے ذریعے سرمایہ کاری کے مواقع بھی شامل ہیں۔
محترمہ سیتا رمن نے گزشتہ ایک دہائی کے دوران ہندستان میں ہونے والی اصلاحات پر مبنی تبدیلیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اثاثوں کے معیار کا جائزہ، دیوالیہ پن اور دیوالیہ پن سے متعلق ضابطہ، 4 آر حکمت عملی اور دیگر اصلاحات نے بینکنگ نظام کو مضبوط کیا ہے۔ درج شدہ تجارتی بینکوں کا مجموعی این پی اے تناسب مارچ 2018 کے 11.18 فیصد سے کم ہوکر مارچ 2025 میں 2.31 فیصد رہ گیا ہے، جو گزشتہ 2 دہائیوں کی کم ترین سطح ہے۔
انہوں نے دونوں معیشتوں کی باہمی تکمیل پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندستان بڑے پیمانے، اقتصادی ترقی اور مواقع فراہم کرتا ہے، جبکہ کینیڈا طویل مدتی سرمایہ، ادارہ جاتی صلاحیت اور مہارت لے کر آتا ہے۔
یو این آئی، ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا7 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا7 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا7 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
