تازہ ترین
سجاد میرا بھائی لیکن راستے الگ الگ، جلد ہی پارٹی کا نام تبدیل کروں گا : بلال لون
خبراردو:
مزاحمتی خیمے سے منسلک اور حریت (ع) سے وابستہ اکائی پیپلز کانفرنس (ب) کے چیرمین بلال غنی لون نے مین اسٹریم سیاست میں شامل ہوئے اپنے بھائی سجاد غنی لون کی ہرزہ سرائیوں پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے بتایا کہ ’میں جس طریق کار پر کاربند ہوں تو مبنی بر حقیقت ہے اور میں اپنے والد مرحوم خواجہ عبدالغنی لون کے نظریے اور سیاسی میراث کو ہی آگے بڑھانے میں پیش پیش رہوں گا‘۔ بلال لون نے بتایا کہ ہم ایک ہی ماں باپ کی اولاد ہے اور سجاد میرا بھائی ہے البتہ مجھے ذاتی طورپر اُس کی تنظیم میں شمولیت اختیار کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ پی سی (ب) کے سربراہ بلال غنی لون آنے والے دنوں میں اپنی پارٹی کا نام تبدیل کرنے جارہے ہیں۔ معلوم ہو اہے کہ سجاد لون کو عوامی سطح پر یہ محسوس ہورہا ہے کہ پی سی کے دو دھڑوں کی وجہ سے عوام میں پارٹی کے تئیں کنفیوژن پید اہورہا ہے جس کو دور کرنے کی خاطر وہ اب پارٹی کا نام تبدیل کریں گے۔ پی سی (ب) کے چیرمین بلال غنی لون نے میڈیا کو بتایا کہ وہ مستقبل میں بھی ریاست جموں وکشمیر کی مزاحمتی تحریک کا حصہ رہیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ ’میں پوری زندگی میں مزاحمتی تحریک کا حصہ رہوں گے کیوں کہ یہ راستہ سچائی پر مبنی ہے اور اس طرح میں اپنے والد مرحوم خواجہ عبدالغنی لون کی میراث کی حفاظت کرکے اسے آگے بڑھانے میں پیش پیش رہوں گا‘۔بلال لون نے بتایا کہ ’میں نے پارٹی کارکنان کی ایک میٹنگ طلب کی تھی تاکہ اس کنفیوژن کو ہمیشہ کے لیے دور کیا جاسکے۔ یہ پارٹی کارکنان پر ہے کہ وہ مزاحمتی خیمے کے ساتھ وابستہ رہنا چاہتے ہیں یا مین اسٹریم سیاست کا حصہ بننے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ میں صرف اپنا ذاتی نقطہ نگاہ سامنے رکھ سکتا ہوں اور کسی بھی فرد پر زور یا زبردستی کا قائل نہیں ہوں۔ عوامی سطح پر میرا ایک اپنا حلقہ اثر ہے جو میرا ساتھ کبھی بھی نہیں چھوڑیں گے‘۔بلال لون کے مطابق اُن کے بھائی سجادغنی لون نے اپنے انٹرویو میں واضح کیا ہے کہ’ وہ سیاسی طور پر بہت عرصہ قبل ہی ہم سے علیحدگی اختیار کرچکے ہیں۔ اس وقت پیپلز کانفرنس کے دو الگ الگ دھڑے ہیں جو اپنی علیحدہ شناخت رکھتے ہیں‘۔بلال غنی لون نے مزید بتایا کہ’ ان کے بھائی سجاد لون نے ایک مرتبہ مجھے مین اسٹریم سیاحت میں شامل ہونے کی دعوت دی تھی۔ سجاد نے مجھے کہا کہ میں انہیں جوائن کیوں نہیں کرتاتاکہ اہم اکھٹے ایک مضبوط اور مستحکم سیاسی جماعت تشکیل دیں‘۔ ’میں نے انہیں بتایا کہ کہ بہت بہت شکریہ میں اپنی پوزیشن پر مطمئن ہوں اور اس طرح سجاد نے دوبارہ اس قسم کی گفتگو میرے سامنے کبھی بھی نہیں کی‘۔بلال لون نے بتایا کہ میں وعدہ بند ہوں کہ میں اپنی پوری زندگی میں مزاحمتی تحریک کا حصہ رہوں گا۔ میں اپنے والد مرحوم کے سامنے کچھ بھی نہیں۔ وہ اپنے سیاسی اصول اور عقیدے کے ساتھ اس دنیا سے چلے گئے۔میں اپنی پوری زندگی میں اُن کی جدوجہد کو آگے بڑھانے کے لیے کام کرتا رہوں گا۔میں صحیح راستے پر ہوں، اُس راستے پر جو میرے والد مرحوم نے میرے اور پارٹی کارکنان کے لیے مقرر کیا ہے‘۔
بلال لون نے بتایا کہ میں نے حریت کانفرنس کو سال 2002میں جوائن کیا جب میرے والد کو شہید کیا گیا اور میں نے اُسی وقت یہ فیصلہ کیا کہ میں حریت کانفرنس کے ساتھ زندگی بھر رہوں گااور اس حوالے سے میں اندر کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی۔ میں نے جو فیصلہ لیا جو حق بجانب تھا اور میں اس پر عمر بھر قائم رہوں گا۔اپنے بھائی سجاد غنی لون اور اُن کے سیاسی طریق کار پر بات کرتے ہوئے بلال غنی لون نے بتایا کہ میں اپنی رائے کسی پر تھوپ نہیں سکتا۔کشمیر ایک وسیع خطہ یہاں جہاں ہر کسی کو اپنی رائے رکھنے کا بھر پور حق ہے۔ ہمیں اس بات کا ادراک حاصل ہونا چاہیے کہ مشترکہ طور پر کس طرح رہنا چاہیے۔ میں اپنے فیصلے پر کاربند ہوں اور وہ (سجاد) اپنے فیصلے پر۔ میری خواہش بس یہ ہے کہ وہ (سجاد) مین اسٹریم سیاست میں رہ کر کشمیریوں کی اُمنگوں اور خواہشات کا بھر پور خیال رکھے۔بلال غنی لون نے انٹرویو کے دوران بتایا کہ ہم دو بھائیوں کے درمیان اس معاملے پر ماضی میں کافی تلخ کلامیاں ہوتی تھیں تاہم اب وہ مرحلہ گزر چکا ہے۔ اب ہمارے درمیان سیاسی طریق کار کو لے کر راستے علیحدہ ہیں۔ہم نے برسوں ایک دوسرے کے ساتھ بات بھی نہیں کی ، لگ بھگ پانچ سے چھ برس تک۔اس کے بعد ہم نے طے کیا کہ ہمیں ایک دوسرے کو اپنے اپنے طریق کار پر چھوڑدینا چاہیے اور اس طرح ہم نے آگے چلنے کا فیصلہ کیا‘۔ بلال لون نے بتایا کہ ’ان برسوں کے دوران رشتوں میں بدمزگی پیدا ہونے کے نتیجے میں ہم نے بہت کچھ سیکھا۔ سجاد میرا بھائی ہے اور میں اُس سے بہت پیار کرتا ہوں۔ طریق کار الگ الگ ہونے کے باوجود ہمارے پیار میں کوئی فرق نہیں آیا۔ لیکن جہاں تک سیاست کا تعلق ہے ہمارے راستے الگ الگ ہیں۔جب بچے جوان ہوجاتے ہیں تو وہ اپنی زندگی کے فیصلے لینے کے مجاز ہوتے ہیں، میں نے اپنے متعلق فیصلہ کیا اور سجاد نے اپنے متعلق۔ ہمارے راستے الگ الگ ہیں۔ ہمارا نظریہ اور ہماری رائے الگ الگ ہونے کے باجوود ہمارے رشتے پر کوئی ضرب نہیں آئی ہے‘۔
ایک سوال کے جواب میں بلال لون نے بتایا کہ ’میں انتخابی سیاست کا حصہ نہیں ہوں، میں یہاں پر ایک بڑے نصب العین کی آبیاری کے لیے ہوں، ایک ایسے کاز کے لیے جو اسمبلی یا حکومت سازی سے بھی بڑا ہے۔سجاد سیاسی طور پر عرصہ قبل علیحدگی اختیار کی ہوئی ہے اور وہ لوگ جو ہمارے والد مرحوم کے حامی و معاون تھے نے بھی بہت پہلے فیصلے کیا ہے کہ کس کو کہاں پر رہنا ہے‘ ۔ بلال لون کا کہنا تھا کہ حریت کانفرنس کو بھی میرے اور سجاد کے درمیان تعلقات سے کوئی معنی نہیں ہے اور اگر انہیں کبھی یہ ناگوار گزرے گا تو میں اسی روز سیاست سے کنارہ کشی اختیار کروں گا‘۔ انہوں نے بتایا کہ میں اپنے بھائی کی مخالفت نہیں کروں گا کیوں کہ انہوں نے الگ ہی راستہ خود کے لیے تجویز کیا ہے، میں حریت کانفرنس میں رہ کر ہی اپنے طریق کار کے صحیح ہونے اور غلط کاروں کی غلطی کو دلیل کے ساتھ واضح کرنے کی کوشش کروں گا۔بلال لون نے انٹرویو کے دوران کہا کہ مجھے سیاست میں آنے کا کوئی شوق نہیں تھا البتہ میرے والد مرحوم کی شہادت نے مجھے اس طرف لایا۔ میرے والد کے قاتل کہی یہ نہ سمجھ بیٹھے کہ ہم نے لون صاحب کے نظریے کو ختم کیا۔میں نے اپنے والد مرحوم کو نزدیک سے دیکھا ہے کہ انہوں نے کس طرح سخت محنت و مشقت کے بعد سیاسی منظر نامے پر ایک منفرد شناخت بنائی۔ بہت سارے لوگ ایسے بھی رہے ہیں جو اپنی زندگی میں اس طرح کا مقام حاصل کرنے میں ناکام ہوگئے۔ میرے والد نے مزاحمتی سیاست میں آنے کا فیصلہ زور یا زبردستی سے نہیں لیا، بلکہ وہ چاہتے تھے وہ مزاحمتی سیاست میں رہ کر لوگوں کی ترجمانی کا فریضہ انجام دے‘۔ انہوں نے بتایا کہ میرے خیال سے حریت کانفرنس میں عوام کے اندر گھل مل جانے کے لیے مزید کچھ اقدامات اُٹھانے کی ضرورت ہے۔ حریت کو عصری تقاضوں کے مطابق اپنے آپ کو زندہ رکھنا ہوگا، اسے لوگوں کی نمائندگی کے لیے آگے آنا ہوگا اور عوام کی فلاح و بہبود اور بہتری کے لیے صحیح فیصلے لینے ہوں گے۔
وادی میں جنگجویانہ کارروائیوں پر گفتگو کرتے ہوئے بلال لون نے بتایا کہ ریاست میں فی الوقت انتہائی ظلم و جبر بپا ہے اور اقوام عالم ہماری اس کسمپرسی پر خاموش تماشائی ہے۔البتہ ہم اس بات کی قطعی اجازت نہیں دیں گے کہ ہماری نوجوان نسل آئے روز ظلم و جبر کی بھٹی میں پسے جائیں۔ مزاحمتی تحریک کی قیادت کو اس بارے میں متحدہ طور پر سنجیدگی سے غو روفکر کرنا چاہیے۔ نوجوان طبقے نے ظلم وجبر کا مقابلہ کرنے کے لیے جو فیصلہ لیا ہے اُس میں وہ کامیاب بھی ہوں یا نہیں، ہم نہیں جانتے۔ انتہائی رنجیدہ لمحات ہوتے ہیں وہ جب آئے روز ہمارے نوجوان مختلف کارروائیوں میں مارے جاتے ہیں۔بلال لون کے مطابق جوں کی توں پوزیشن مسئلہ کشمیر کا مناسب حل نہیں ہے۔جوں کی توں پوزیشن یا تو بھارت کے لیے مفید ثابت ہوسکتی ہے یا تو پاکستان کے لیے ، البتہ جہاں تک کشمیریوں کا تعلق ہے، ہمارے لیے یہ کوئی اچھی بات نہیں ہے۔موجودہ پرتناؤ صورتحال میں کشمیریوں کے پاس اور کوئی چارہ کار نہیں ہے کہ وہ بھارت اور پاکستان کو مذاکرات کے لیے مجبور کریں۔
دنیا
اسرائیلی انتخابات سے قبل نیتن یاہو کی لیکوڈ اور آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ
یروشلم، اسرائیل میں منگل کو ہونے والے انتخابات سے قبل وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی حمایت کرنے والے اور ان کی مخالفت کرنے والے جماعتی اتحادوں کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔ تاہم، زمان اسرائیل کے ایک تازہ ترین سروے کے مطابق، کسی بھی اتحاد کو 120 رکنی کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمان) میں اکثریت حاصل ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔
14 اور 15 اکتوبر کو 500 یہودی اور عرب افراد کے درمیان کیے گئے اس سروے میں یہودی قیادت والے دونوں بڑے سیاسی اتحادوں کو 51، 51 نشستیں ملنے کا اندازہ ظاہر کیا گیا ہے، جو حکومت تشکیل دینے کے لیے درکار 61 نشستوں سے کافی کم ہے۔
عرب قیادت والی جماعتوں کو مجموعی طور پر 14 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ کسی اتحاد کا حصہ نہ بننے والی ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
دونوں میں سے کسی بھی اتحاد کے لیے بعض حریف جماعتوں کے ساتھ حکومت نہ بنانے سے متعلق انتخابی وعدوں سے پیچھے ہٹے بغیر اکثریت حاصل کرنا مشکل ہوگا۔
اگر کوئی اتحاد حکومت تشکیل دینے میں ناکام رہتا ہے تو 2027 کے اوائل میں دوبارہ انتخابات کرائے جا سکتے ہیں اور اس دوران نیتن یاہو نگراں وزیر اعظم برقرار رہیں گے۔
ٹائمز آف اسرائیل کے ایک الگ سروے کے مطابق، تقریباً 60 فیصد جواب دہندگان چاہتے ہیں کہ اگر نیتن یاہو حکومت بنانے میں ناکام رہتے ہیں تو وہ سیاست سے سبکدوش ہوجائیں۔
ٹائمز آف اسرائیل کے جماعت وار اندازوں کے مطابق، اپوزیشن رہنما گادی آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی 23 نشستوں کے ساتھ پہلے مقام پر ہے، اگرچہ گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں اس کی متوقع نشستوں میں تین کی کمی آئی ہے۔
دوسری جانب نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی 21 نشستوں کے ساتھ دوسرے مقام پر ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی حمایت کے چند روز بعد لیکوڈ کی متوقع نشستوں میں ایک کا اضافہ ہوا ہے۔
اسرائیل کے سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کی جماعت بی یاخاد کو 11 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ سخت گیر موقف رکھنے والی یسرائیل بیتینو کو نو نشستیں مل سکتی ہیں۔ عرب قیادت والے جوائنٹ لسٹ اتحاد کو بھی نو نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
انتہائی قدامت پسند مذہبی جماعتوں شاس اور یونائیٹڈ توراہ جوڈازم، بائیں بازو کی ڈیموکریٹس اور انتہائی دائیں بازو کی اوتسما یہودیت، ہر ایک کو آٹھ نشستیں ملنے کا اندازہ ہے۔ مذہبی صہیونیت پارٹی کو چھ، تاریخی طور پر اسلام پسند جماعت راعم کو پانچ اور ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
اوفیر ونٹر کی قیادت والی دائیں بازو کی پیپلز آف اسرائیل پارٹی کے بارے میں اندازہ ہے کہ وہ انتخابی حد عبور نہیں کر پائے گی۔ اس جماعت نے وعدہ کیا ہے کہ وہ
جاری ۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
سرائیلی فوج کے سربراہ نے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران پر حملے کی ضرورت مسترد کردی
یروشلم، اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر نے فی الحال ایران پر حملے کے لیے کسی عملی ضرورت سے انکار کیا ہے۔ چینل 13 نے جمعرات کو یہ اطلاع دی۔ ان کا یہ بیان اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع ہونے کے خدشات کے درمیان سامنے آیا ہے۔
چینل 13 کے مطابق، زامیر نے حالیہ ایک نجی اجلاس میں کہا، ”ہمیں ایسے کوئی اشارے نہیں ملے ہیں جن سے ظاہر ہو کہ انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ ضروری ہے۔ اگر ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ ایران پر حملہ ضروری ہے تو ہم ایسا کریں گے۔”
وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے اہم حریف اور یاشار پارٹی کے سربراہ گادی آئزنکوٹ نے بھی جمعرات کو اسی طرح کا موقف ظاہر کیا۔ انہوں نے چینل 13 سے کہا، ”ایران کی جانب سے کوئی ایسا براہ راست اور فوری خطرہ نہیں ہے جو انتخابات سے پہلے جنگ شروع کرنے کو ضروری بنائے۔”
نیتن یاہو کو ناقدین کی جانب سے ان الزامات کا سامنا ہے کہ وہ اسرائیلی انتخابات پر اثرانداز ہونے یا انہیں ملتوی کرانے کے لیے ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم، انہوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا7 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
ہندوستان6 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
