تازہ ترین
سجاد میرا بھائی لیکن راستے الگ الگ، جلد ہی پارٹی کا نام تبدیل کروں گا : بلال لون
خبراردو:
مزاحمتی خیمے سے منسلک اور حریت (ع) سے وابستہ اکائی پیپلز کانفرنس (ب) کے چیرمین بلال غنی لون نے مین اسٹریم سیاست میں شامل ہوئے اپنے بھائی سجاد غنی لون کی ہرزہ سرائیوں پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے بتایا کہ ’میں جس طریق کار پر کاربند ہوں تو مبنی بر حقیقت ہے اور میں اپنے والد مرحوم خواجہ عبدالغنی لون کے نظریے اور سیاسی میراث کو ہی آگے بڑھانے میں پیش پیش رہوں گا‘۔ بلال لون نے بتایا کہ ہم ایک ہی ماں باپ کی اولاد ہے اور سجاد میرا بھائی ہے البتہ مجھے ذاتی طورپر اُس کی تنظیم میں شمولیت اختیار کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ پی سی (ب) کے سربراہ بلال غنی لون آنے والے دنوں میں اپنی پارٹی کا نام تبدیل کرنے جارہے ہیں۔ معلوم ہو اہے کہ سجاد لون کو عوامی سطح پر یہ محسوس ہورہا ہے کہ پی سی کے دو دھڑوں کی وجہ سے عوام میں پارٹی کے تئیں کنفیوژن پید اہورہا ہے جس کو دور کرنے کی خاطر وہ اب پارٹی کا نام تبدیل کریں گے۔ پی سی (ب) کے چیرمین بلال غنی لون نے میڈیا کو بتایا کہ وہ مستقبل میں بھی ریاست جموں وکشمیر کی مزاحمتی تحریک کا حصہ رہیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ ’میں پوری زندگی میں مزاحمتی تحریک کا حصہ رہوں گے کیوں کہ یہ راستہ سچائی پر مبنی ہے اور اس طرح میں اپنے والد مرحوم خواجہ عبدالغنی لون کی میراث کی حفاظت کرکے اسے آگے بڑھانے میں پیش پیش رہوں گا‘۔بلال لون نے بتایا کہ ’میں نے پارٹی کارکنان کی ایک میٹنگ طلب کی تھی تاکہ اس کنفیوژن کو ہمیشہ کے لیے دور کیا جاسکے۔ یہ پارٹی کارکنان پر ہے کہ وہ مزاحمتی خیمے کے ساتھ وابستہ رہنا چاہتے ہیں یا مین اسٹریم سیاست کا حصہ بننے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ میں صرف اپنا ذاتی نقطہ نگاہ سامنے رکھ سکتا ہوں اور کسی بھی فرد پر زور یا زبردستی کا قائل نہیں ہوں۔ عوامی سطح پر میرا ایک اپنا حلقہ اثر ہے جو میرا ساتھ کبھی بھی نہیں چھوڑیں گے‘۔بلال لون کے مطابق اُن کے بھائی سجادغنی لون نے اپنے انٹرویو میں واضح کیا ہے کہ’ وہ سیاسی طور پر بہت عرصہ قبل ہی ہم سے علیحدگی اختیار کرچکے ہیں۔ اس وقت پیپلز کانفرنس کے دو الگ الگ دھڑے ہیں جو اپنی علیحدہ شناخت رکھتے ہیں‘۔بلال غنی لون نے مزید بتایا کہ’ ان کے بھائی سجاد لون نے ایک مرتبہ مجھے مین اسٹریم سیاحت میں شامل ہونے کی دعوت دی تھی۔ سجاد نے مجھے کہا کہ میں انہیں جوائن کیوں نہیں کرتاتاکہ اہم اکھٹے ایک مضبوط اور مستحکم سیاسی جماعت تشکیل دیں‘۔ ’میں نے انہیں بتایا کہ کہ بہت بہت شکریہ میں اپنی پوزیشن پر مطمئن ہوں اور اس طرح سجاد نے دوبارہ اس قسم کی گفتگو میرے سامنے کبھی بھی نہیں کی‘۔بلال لون نے بتایا کہ میں وعدہ بند ہوں کہ میں اپنی پوری زندگی میں مزاحمتی تحریک کا حصہ رہوں گا۔ میں اپنے والد مرحوم کے سامنے کچھ بھی نہیں۔ وہ اپنے سیاسی اصول اور عقیدے کے ساتھ اس دنیا سے چلے گئے۔میں اپنی پوری زندگی میں اُن کی جدوجہد کو آگے بڑھانے کے لیے کام کرتا رہوں گا۔میں صحیح راستے پر ہوں، اُس راستے پر جو میرے والد مرحوم نے میرے اور پارٹی کارکنان کے لیے مقرر کیا ہے‘۔
بلال لون نے بتایا کہ میں نے حریت کانفرنس کو سال 2002میں جوائن کیا جب میرے والد کو شہید کیا گیا اور میں نے اُسی وقت یہ فیصلہ کیا کہ میں حریت کانفرنس کے ساتھ زندگی بھر رہوں گااور اس حوالے سے میں اندر کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی۔ میں نے جو فیصلہ لیا جو حق بجانب تھا اور میں اس پر عمر بھر قائم رہوں گا۔اپنے بھائی سجاد غنی لون اور اُن کے سیاسی طریق کار پر بات کرتے ہوئے بلال غنی لون نے بتایا کہ میں اپنی رائے کسی پر تھوپ نہیں سکتا۔کشمیر ایک وسیع خطہ یہاں جہاں ہر کسی کو اپنی رائے رکھنے کا بھر پور حق ہے۔ ہمیں اس بات کا ادراک حاصل ہونا چاہیے کہ مشترکہ طور پر کس طرح رہنا چاہیے۔ میں اپنے فیصلے پر کاربند ہوں اور وہ (سجاد) اپنے فیصلے پر۔ میری خواہش بس یہ ہے کہ وہ (سجاد) مین اسٹریم سیاست میں رہ کر کشمیریوں کی اُمنگوں اور خواہشات کا بھر پور خیال رکھے۔بلال غنی لون نے انٹرویو کے دوران بتایا کہ ہم دو بھائیوں کے درمیان اس معاملے پر ماضی میں کافی تلخ کلامیاں ہوتی تھیں تاہم اب وہ مرحلہ گزر چکا ہے۔ اب ہمارے درمیان سیاسی طریق کار کو لے کر راستے علیحدہ ہیں۔ہم نے برسوں ایک دوسرے کے ساتھ بات بھی نہیں کی ، لگ بھگ پانچ سے چھ برس تک۔اس کے بعد ہم نے طے کیا کہ ہمیں ایک دوسرے کو اپنے اپنے طریق کار پر چھوڑدینا چاہیے اور اس طرح ہم نے آگے چلنے کا فیصلہ کیا‘۔ بلال لون نے بتایا کہ ’ان برسوں کے دوران رشتوں میں بدمزگی پیدا ہونے کے نتیجے میں ہم نے بہت کچھ سیکھا۔ سجاد میرا بھائی ہے اور میں اُس سے بہت پیار کرتا ہوں۔ طریق کار الگ الگ ہونے کے باوجود ہمارے پیار میں کوئی فرق نہیں آیا۔ لیکن جہاں تک سیاست کا تعلق ہے ہمارے راستے الگ الگ ہیں۔جب بچے جوان ہوجاتے ہیں تو وہ اپنی زندگی کے فیصلے لینے کے مجاز ہوتے ہیں، میں نے اپنے متعلق فیصلہ کیا اور سجاد نے اپنے متعلق۔ ہمارے راستے الگ الگ ہیں۔ ہمارا نظریہ اور ہماری رائے الگ الگ ہونے کے باجوود ہمارے رشتے پر کوئی ضرب نہیں آئی ہے‘۔
ایک سوال کے جواب میں بلال لون نے بتایا کہ ’میں انتخابی سیاست کا حصہ نہیں ہوں، میں یہاں پر ایک بڑے نصب العین کی آبیاری کے لیے ہوں، ایک ایسے کاز کے لیے جو اسمبلی یا حکومت سازی سے بھی بڑا ہے۔سجاد سیاسی طور پر عرصہ قبل علیحدگی اختیار کی ہوئی ہے اور وہ لوگ جو ہمارے والد مرحوم کے حامی و معاون تھے نے بھی بہت پہلے فیصلے کیا ہے کہ کس کو کہاں پر رہنا ہے‘ ۔ بلال لون کا کہنا تھا کہ حریت کانفرنس کو بھی میرے اور سجاد کے درمیان تعلقات سے کوئی معنی نہیں ہے اور اگر انہیں کبھی یہ ناگوار گزرے گا تو میں اسی روز سیاست سے کنارہ کشی اختیار کروں گا‘۔ انہوں نے بتایا کہ میں اپنے بھائی کی مخالفت نہیں کروں گا کیوں کہ انہوں نے الگ ہی راستہ خود کے لیے تجویز کیا ہے، میں حریت کانفرنس میں رہ کر ہی اپنے طریق کار کے صحیح ہونے اور غلط کاروں کی غلطی کو دلیل کے ساتھ واضح کرنے کی کوشش کروں گا۔بلال لون نے انٹرویو کے دوران کہا کہ مجھے سیاست میں آنے کا کوئی شوق نہیں تھا البتہ میرے والد مرحوم کی شہادت نے مجھے اس طرف لایا۔ میرے والد کے قاتل کہی یہ نہ سمجھ بیٹھے کہ ہم نے لون صاحب کے نظریے کو ختم کیا۔میں نے اپنے والد مرحوم کو نزدیک سے دیکھا ہے کہ انہوں نے کس طرح سخت محنت و مشقت کے بعد سیاسی منظر نامے پر ایک منفرد شناخت بنائی۔ بہت سارے لوگ ایسے بھی رہے ہیں جو اپنی زندگی میں اس طرح کا مقام حاصل کرنے میں ناکام ہوگئے۔ میرے والد نے مزاحمتی سیاست میں آنے کا فیصلہ زور یا زبردستی سے نہیں لیا، بلکہ وہ چاہتے تھے وہ مزاحمتی سیاست میں رہ کر لوگوں کی ترجمانی کا فریضہ انجام دے‘۔ انہوں نے بتایا کہ میرے خیال سے حریت کانفرنس میں عوام کے اندر گھل مل جانے کے لیے مزید کچھ اقدامات اُٹھانے کی ضرورت ہے۔ حریت کو عصری تقاضوں کے مطابق اپنے آپ کو زندہ رکھنا ہوگا، اسے لوگوں کی نمائندگی کے لیے آگے آنا ہوگا اور عوام کی فلاح و بہبود اور بہتری کے لیے صحیح فیصلے لینے ہوں گے۔
وادی میں جنگجویانہ کارروائیوں پر گفتگو کرتے ہوئے بلال لون نے بتایا کہ ریاست میں فی الوقت انتہائی ظلم و جبر بپا ہے اور اقوام عالم ہماری اس کسمپرسی پر خاموش تماشائی ہے۔البتہ ہم اس بات کی قطعی اجازت نہیں دیں گے کہ ہماری نوجوان نسل آئے روز ظلم و جبر کی بھٹی میں پسے جائیں۔ مزاحمتی تحریک کی قیادت کو اس بارے میں متحدہ طور پر سنجیدگی سے غو روفکر کرنا چاہیے۔ نوجوان طبقے نے ظلم وجبر کا مقابلہ کرنے کے لیے جو فیصلہ لیا ہے اُس میں وہ کامیاب بھی ہوں یا نہیں، ہم نہیں جانتے۔ انتہائی رنجیدہ لمحات ہوتے ہیں وہ جب آئے روز ہمارے نوجوان مختلف کارروائیوں میں مارے جاتے ہیں۔بلال لون کے مطابق جوں کی توں پوزیشن مسئلہ کشمیر کا مناسب حل نہیں ہے۔جوں کی توں پوزیشن یا تو بھارت کے لیے مفید ثابت ہوسکتی ہے یا تو پاکستان کے لیے ، البتہ جہاں تک کشمیریوں کا تعلق ہے، ہمارے لیے یہ کوئی اچھی بات نہیں ہے۔موجودہ پرتناؤ صورتحال میں کشمیریوں کے پاس اور کوئی چارہ کار نہیں ہے کہ وہ بھارت اور پاکستان کو مذاکرات کے لیے مجبور کریں۔
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
پاکستان
کویت کے ساتھ معاہدے سے پاکستان کا مشرق وسطیٰ میں دفاعی حصار وسیع
اسلام آباد، پاکستان اور کویت نے جمعرات کو ایک نئے دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ پاکستان کی وزارت دفاع کے مطابق یہ معاہدہ 2023 سے موجود فوجی تعاون کے فریم ورک کو نمایاں طور پر وسعت دیتا ہے۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف اور کویت کے وزیر دفاع شیخ عبداللہ علی عبداللہ السالم الصباح نے راولپنڈی میں ’پروٹوکول ایگریمنٹ 2026‘ پر دستخط کیے۔
معاہدے کے تحت پاکستانی مسلح افواج کویت کی فوج کی تربیت، دفاعی صلاحیتوں میں اضافے اور سرحدی انتظام میں معاونت کریں گی۔یہ معاہدہ جون 2023 میں طے پانے والے ایک بنیادی معاہدے کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جس کی کویت نے گزشتہ ماہ باضابطہ طور پر توثیق کی تھی۔
یہ پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے بڑھتے ہوئے سلسلے میں تازہ ترین پیش رفت ہے۔
حالیہ برسوں میں پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدہ کیا، سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ ’مکہ پیکٹ‘ کے نام سے سہ فریقی اجتماعی سلامتی کے معاہدے میں شمولیت اختیار کی، سعودی عرب میں ہزاروں فوجی اور ایک جنگی طیاروں کا اسکواڈرن تعینات کیا اور قطر کے ساتھ فوجی تربیتی تعاون کو بھی وسعت دی ہے۔
پاکستان کئی دہائیوں سے خلیجی ممالک کی افواج کو تربیت اور افرادی قوت فراہم کرتا آیا ہے۔ تاہم اب فرق اس تعاون کی رفتار اور نمایاں حیثیت میں آیا ہے اور خلیجی دارالحکومت خاموش تعاون کے بجائے باضابطہ معاہدوں کے ذریعے اسے ادارہ جاتی شکل دینے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔
معاہدوں کے اس سلسلے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر خلیجی ممالک مسلسل پاکستان کا رخ کیوں کر رہے ہیں اور پاکستان ان معاہدوں کے ذریعے کیا حاصل کر رہا ہے؟
کویت اسلام آباد کے ساتھ دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے والا تازہ ترین خلیجی ملک ہے۔
کویت کے ساتھ پاکستان کا دفاعی تعاون 1960 کی دہائی کے اواخر سے جاری ہے۔ 1990-91 کی خلیجی جنگ کے دوران بھی پاکستان نے سعودی عرب میں ایک بڑا فوجی دستہ بھیجا تھا، جو 1990 میں عراق کی جانب سے کویت پر حملے کے بعد مکہ اور مدینہ کے اطراف دفاعی پوزیشنوں پر تعینات کیا گیا تھا۔
پاکستان کے سابق دو ستارہ جنرل اور اب دفاعی تجزیہ کار زاہد محمود نے کہا کہ یہی تاریخ جمعرات کو ہونے والے معاہدے کا پس منظر ہے۔انہوں نے کہا، ’’پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کوئی نئی بات نہیں ہے۔‘‘
محمود کے مطابق کویت کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا موازنہ گزشتہ ستمبر میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دستخط کردہ ’اسٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ‘ (ایس ایم ڈی اے) سے نہیں کیا جاسکتا۔ کویت معاہدے میں مکہ پیکٹ یا ایس ایم ڈی اے جیسی کوئی شق شامل نہیں، جن کے تحت کسی ایک فریق پر جارحیت کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
جنگ کے آغاز کے بعد ایران کا آبنائے ہرمز پر سابقہ کنٹرول بڑی حد تک کم ہوا: امریکہ کا دعویٰ
واشنگٹن/تہران، امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فوج نے جنگ کے آغاز کے بعد سے آبنائے ہرمز پر ایران کی گرفت کو بتدریج کمزور کر دیا ہے۔ واشنگٹن کے مطابق جو کارروائی ابتدا میں ایران کی میزائل اور جوہری صلاحیتوں کے خلاف مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، وہ اب دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں سے ایک پر کنٹرول حاصل کرنے کی طویل جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے، جو جنگ کے آغاز سے ہی تہران کا سب سے مؤثر دباؤ کا ذریعہ رہی ہے۔
امریکی حکام کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز کی بدلتی ہوئی صورتحال جنگ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، جس سے عالمی توانائی منڈیوں پر دباؤ کم ہوگا اور واشنگٹن کو تہران کے ساتھ مستقبل کے مذاکرات میں زیادہ اثر و رسوخ حاصل ہوگا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایک فون انٹرویو میں ’ایکسِیوس‘ سے کہا، ’’وہ جگہ کھلی ہوئی ہے۔ ایرانی ردعمل بہت معمولی ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ ہم دوبارہ ان پر حملہ کریں۔ یہی پوری بات ہے، باقی کسی چیز کی اہمیت نہیں۔‘‘
جنگ شروع ہونے کے وقت آبنائے ہرمز کھلی ہوئی تھی، عالمی سطح پر تیل کی ترسیل معمول کے مطابق جاری تھی اور برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 72 ڈالر فی بیرل تھی۔
دو اسرائیلی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا فیصلہ اس وقت پاسداران انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر جنرل علی رضا تنگسیری نے کیا تھا۔ جنگ کے پہلے 72 گھنٹوں کے اندر ایران نے آبی گزرگاہ کی بندش کا اعلان کیا اور خبردار کیا کہ گزرنے کی کوشش کرنے والے ٹینکروں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
اسرائیلی اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس کے بعد تنگسیری نے ایرانی افواج کو آبنائے ہرمز کے اندر ’ٹریفک سیپریشن اسکیم‘ یعنی بین الاقوامی جہاز رانی کے مرکزی راستے میں بحری سرنگیں بچھانے کا حکم دیا۔ تنگسیری تین ہفتے بعد بندر عباس میں اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے۔
حملوں اور سمندری سرنگوں کے خطرے کے باعث آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی۔ اس کے نتیجے میں برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 126 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی اور عالمی توانائی منڈیوں پر شدید دباؤ پڑنے لگا۔
ٹرمپ نے 8 اپریل کو جنگ بندی پر اتفاق کیا، جس کی ایک وجہ امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں میں بڑے اضافے اور توانائی منڈیوں کے دباؤ کو بھی قرار دیا گیا۔ یہ بالکل اسی نوعیت کا معاشی خلل تھا جسے ایران پیدا کرنا چاہتا تھا۔
دو ماہ بعد امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا مرکزی معاملہ بن گیا۔ تاہم آبی گزرگاہ مکمل طور پر معمول پر نہ آسکی اور جلد ہی یہ معاہدہ بھی ناکام ہوگیا۔
مفاہمتی یادداشت کے خاتمے کے بعد امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کو اپنے طور پر دوبارہ کھولنے کی کوشش شروع کردی۔ امریکہ نے متحدہ عرب امارات کے تعاون سے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی، جس نے جنوبی راستے سے تجارتی جہازوں کی رہنمائی شروع کی، انہیں فضائی تحفظ فراہم کیا اور ایرانی ڈرونز اور کروز میزائلوں کو روکنے کی کارروائیاں کیں۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا7 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا7 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا7 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
