جموں و کشمیر
پہلگام حملے کے بعد ملک بدرکی گئی پاکستانی خاتون سے متعلق اہم عدالتی فیصلہ 10دنوں کے اندر واپس لانے کا حکم
انسانی حقوق انسانی زندگی کا سب سے مقدس جزﺅ ہیں: جموں و کشمیر ہائی کورٹ
سری نگر: جے کے این ایس : جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ نے حکومت ہند کو ہدایت دی ہے کہ پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد سخت حفاظتی کریک ڈاو ن کے درمیان پاکستان ڈی پورٹ کی گئی 63سالہ خاتون رخشندہ راشد کو واپس لایا جائے۔جے کے این ایس کے مطابق معاملے کی سماعت کے دوران عدالت عالیہ نے اہم تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ انسانی حقوق انسانی زندگی کا سب سے مقدس جزﺅ ہیں۔ اسی کے ساتھ ہائی کورٹ نے رخشندہ راشد کو واپس لا کر 10 دنوں کے اندر جموں میں ان شوہر کے حوالے کرنے کا حکم دیا۔رخشندہ ایک پاکستانی شہری ہیں لیکن ان کی شادی ہندوستانی شہری شیخ ظہور احمد سے ہوئی ہے۔ای ٹی وی بھارت کی ایک نیوز رپورٹ کے مطابق پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد مرکزی حکومت نے پاکستانی شہریوں کی ملک بدری کی مہم کے دوران طویل مدتی ویزا (LTV) اور خراب صحت کے باوجود رخشندہ راشد کو پاکستان بھیج دیا تھا۔جسٹس راہل بھارتی نے رٹ پٹیشن نمبرWP(C)1072/2025 کی سماعت کرتے ہوئے اس معاملے میں براہ راست مداخلت کرنے کا غیر معمولی قدم اٹھایا۔ انہوں نے اپنے حکم میں انسانی بنیادوں کا حوالہ دیا جو سرکاری طریقہ کار کی بھینٹ چڑھ گئے۔تین صفحات پر مشتمل حکم میںعدالت عالیہ کے جج جسٹس راہل بھارتی نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایسے مواقع آتے ہیں جب ایک آئینی عدالت کو کسی کیس کی خوبیوں اور خامیوں کو درکنار کر کے خصوصی حکم جیسی رعایت دینی پڑتی ہے۔جسٹس راہل بھارتی نے مزید کہا کہ انسانی حقوق انسانی زندگی کا سب سے مقدس جزو ہیں، یہ عدالت وزارت داخلہ، حکومت ہند کو ہدایت دیتی ہے کہ درخواست گزار کو اس کی ملک بدری سے واپس لایا جائے۔
رخشندہ نے یہ درخواست اپنے وکیل ہمانی کھجوریا کے توسط سے دائر کی تھی اور ان کے شوہر شیخ ظہور نے عدالت میں ان کی حمایت کی۔ شیخ ظہور احمدنے عدالت کو بتایاکہ میری بیوی کے پاس اس کی دیکھ بھال اور نگرانی کےلئے کوئی نہیں ہے۔ وہ متعدد بیماریوں میں مبتلا ہے، اور اس کی صحت اور زندگی کو ہر گزرتے دن کے ساتھ خطرہ لاحق ہے جب کہ اسے اپنے حال پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ہائی کورٹ کے بنچ نے اس بات پر زور دیا کہ رخشندہ کے طویل مدتی ویزہ کی وجہ سے اس کو ملک بدری نہیں کیا جانا چاہیے تھا اور اس کے منفرد کیس کی مناسب جانچ نہ ہونا ایک واضح غلطی تھی۔جسٹس بھارتی نے اپنے فیصلے میں لکھاکہ درخواست گزار کو متعلقہ وقت پر طویل مدتی قیام کی منظوری قیام کی منظوری حاصل تھی، پھر بھی اسے زبردستی نکال دیا گیا۔عدالت نے نوٹ کیا کہ ایسا لگتا ہے کہ رخشندہ کی ملک بدری کسی مخصوص اور باضابطہ حکم کے بغیر ہوئی تھی، جس سے ان کے نکالے جانے کی قانونی حیثیت پر شک پیدا ہوتا ہے۔ جج نے کیس کو غیر معمولی نوعیت کا قرار دیا اور واضح کیا کہ اس کا فوری ازالہ ضروری ہے۔
فیصلے میں مزید لکھا گیاہے کہ یہ عدالت سکریٹری، وزارت داخلہ، حکومت ہند کو ہدایت دینے پر مجبور ہے کہ وہ درخواست گزار کو جموں و کشمیر، بھارت واپس لایا جائے تاکہ اس کے شوہر کے ساتھ دوبارہ ملن کو آسان بنایا جا سکے۔ وزارت داخلہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ تعمیل کو یقینی بنائے اور یکم جولائی 2025 کو ہونے والی اگلی سماعت پر رپورٹ پیش کرے۔
جموں و کشمیر
اننت ناگ میں دھوکہ دہی اور فراڈ کے الزام میں بی جے پی لیڈر کے خلاف مقدمہ درج
سری نگر، بی جے پی کے اننت ناگ ضلع جنرل سکریٹری عابد ننگرو کے خلاف جموں و کشمیر پولیس نے سرکاری ملازمت دلانے اور امرناتھ یاترا کے دوران پہلگام میں خیمے لگانے کی اجازت دلانے کے نام پر مبینہ طور پر دھوکہ دہی اور فراڈ کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کیا ہے۔
پولیس اسٹیشن اننت ناگ میں دھوکہ دہی اور فراڈ کی شکایت پر تحریری شکایت موصول ہونے کے بعد مقدمہ درج کیا گیا۔
پولیس نے بتایا کہ اسے وحید احمد ایتو، عیشمقام، جو فی الحال جی ڈی سی بوائز ہاسٹل، خانہ بل میں مقیم ہیں، کی جانب سے تحریری شکایت موصول ہوئی، جس میں الزام لگایا گیا کہ کرندی گام، بیج بہارا کے عابد ننگرو نے ان کے ساتھ دھوکہ کیا۔
پولیس کے مطابق شکایت میں کہا گیا ہے کہ ملزم نے شکایت کنندہ کو یہ یقین دلا کر اپنے جال میں پھنسایا کہ وہ محکمہ پولیس میں ایس پی او (اسپیشل پولیس آفیسر) کی حیثیت سے اسے سرکاری ملازمت دلوا سکتا ہے اور اپنے سیاسی اثر و رسوخ کی مدد سے شری امرناتھ جی یاتریوں کے لیے پہلگام میں خیمے لگانے کی اجازت بھی دلوا سکتا ہے۔
شکایت کنندہ نے مزید الزام لگایا کہ ان یقین دہانیوں اور دعووں کی بنیاد پر اس سے مجموعی طور پر 8,25,000 روپے لے لیے گئے۔
شکایت کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس اسٹیشن اننت ناگ میں بی این ایس کی دفعات 318(4) اور 351(3) کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے اور تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔
اننت ناگ پولیس نے ایک بار پھر کہا ہے کہ دھوکہ دہی، فراڈ یا سرکاری ملازمت یا دیگر سرکاری فوائد دلانے کے جھوٹے وعدوں کے ذریعے لوگوں کا استحصال کرنے میں ملوث پائے جانے والے افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
یو این آئی، ایم جے
جموں و کشمیر
جموں کی سرحدوں پر رکشا بندھن سے قبل اسکولی طالبات نے بی ایس ایف اہلکاروں کی کلائی پر راکھی باندھی
جموں، ملک بھر میں 28 اگست کو رکشا بندھن کا تہوار منایا جائے گا۔ اس موقع سے قبل اسکولی طالبات نے جموں کی بین الاقوامی سرحد پر تعینات بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کے اہلکاروں کی کلائی پر راکھی باندھ کر تہوار منایا۔
رکشا بندھن بھائی اور بہن کے درمیان محبت کے رشتے کی علامت کے طور پر منایا جاتا ہے۔
جموں میں ہند-پاکستان بین الاقوامی سرحد پر بھی اس تہوار کی خوشیاں دیکھنے کو ملیں، جہاں اسکولی طالبات نے سرحد پر تعینات بی ایس ایف اہلکاروں کی کلائی پر راکھی باندھی۔
ایک عہدیدار نے کہاکہ ’’سرحدوں کی حفاظت کی ذمہ داری اور اپنی ڈیوٹی کی وجہ سے یہ بہادر اہلکار اس دن اپنے گھروں کو واپس نہیں جا پاتے اور تہوار نہیں منا سکتے۔‘‘
انہوں نے بتایا کہ جموں میں بھارت-پاکستان بین الاقوامی سرحد پر تعینات بی ایس ایف اہلکاروں نے مختلف اسکولوں کی طالبات کے ساتھ یہ مقدس تہوار منایا۔
طالبات صبح مٹھائیاں اور راکھیاں لے کر سرحدی چوکیوں پر پہنچیں اور وہاں تعینات اہلکاروں کی کلائی پر راکھی باندھی۔
اپنے گھروں سے دور رہنے والے جوانوں نے جب ان کم عمر اسکولی طالبات سے راکھیاں وصول کیں تو ان کے چہروں پر خوشی اور اطمینان کے جذبات نمایاں تھے۔
طلبہ نے کہا کہ بی ایس ایف اہلکار اپنے خاندانوں سے دور رہ کر ملک کی سلامتی کے لیے سرحد پر اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔
طالبات نے کہاکہ ’’جس دن ہر بھائی اپنی بہن کے ساتھ رکشا بندھن مناتا ہے، اس دن یہ بہادر اہلکار ملک کی حفاظت کے لیے سرحد پر تعینات رہتے ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ بہادر جوانوں کو اپنی بہنوں کی کمی محسوس نہ ہونے دیں، اسی لیے وہ سرحد پر پہنچیں اور ان کے ساتھ رکشا بندھن کا تہوار منایا۔
یواین آئی۔ط ا
جموں و کشمیر
حکومت ’’سرکاری نوکری‘‘ کی ذہنیت بدلنے اور متبادل ذرائع معاش فراہم کرنے کی شعوری کوشش کر رہی ہے: جتیندر
جموں، مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے جمعرات کو کہا کہ مودی حکومت کی سب سے بڑی خدمات میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے ملک کے نوجوانوں کو روایتی ’’سرکاری نوکری‘‘ کی ذہنیت سے آگے بڑھانے کے لیے شعوری کوشش کی ہے اور اس مقصد کے لیے کاروبار، اختراع، خود روزگاری اور روزگار پیدا کرنے کے مختلف مواقع فراہم کیے ہیں۔
جموں میں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ (آئی آئی ایم) میں قومی یومِ کھیل 2026 کی تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران حکومت کی نوجوانوں پر مرکوز اسکیموں نے ہندوستانی نوجوانوں کی امنگوں اور ان کے لیے دستیاب مواقع کو تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے لال قلعے کی فصیل سے ’’اسٹارٹ اَپ انڈیا، اسٹینڈ اَپ انڈیا‘‘ کا ذکر کیا اور ایسے وقت میں اسٹارٹ اَپ انڈیا پالیسی شروع کی جب ملک میں اسٹارٹ اَپ کا تصور ابھی ابتدائی مرحلے میں تھا۔ آج ہندوستان دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے اور ملک میں 2.30 لاکھ سے زیادہ رجسٹرڈ اسٹارٹ اَپس موجود ہیں۔
آئی آئی ایم جموں میں وزارتِ نوجوان امور و کھیل کے تحت میرا یوا بھارت کی جانب سے منعقدہ ’’کھیلو انڈیا سمواد – کھیل کی بات، پی ایم کے ساتھ‘‘ پروگرام میں نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ گزشتہ 12 برسوں کے دوران مدرا یوجنا، سوانِدھی یوجنا اور وشوکرما یوجنا جیسی نوجوانوں پر مرکوز کئی اسکیمیں شروع کی گئی ہیں، تاکہ نوجوان دوسروں پر انحصار کیے بغیر اپنا ذریعہ معاش پیدا کرسکیں۔
وزیراعظم نریندر مودی نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے اس پروگرام سے خطاب کیا اور ملک کے مختلف حصوں سے شریک نوجوانوں سے بات چیت کی۔ ملک گیر سطح کا یہ پروگرام نوجوانوں کی قیادت، فٹنس اور ملک کی تعمیر جیسے موضوعات پر مرکوز تھا۔
ڈاکٹر سنگھ نے یاد دلایا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے لال قلعے کی فصیل سے ’’اسٹارٹ اَپ انڈیا، اسٹینڈ اَپ انڈیا‘‘ کا اعلان کرکے کاروباری سرگرمیوں کو زبردست فروغ دیا اور اس کے بعد اسٹارٹ اَپ انڈیا مہم شروع کی، اس وقت ہندوستان میں اسٹارٹ اَپ کلچر ابھی ابتدائی دور میں تھا۔
ڈاکٹر سنگھ نے گزشتہ ایک دہائی میں ہندوستان میں آنے والی تبدیلیوں، خاص طور پر نوجوانوں کے لیے پیدا ہونے والے مواقع کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج ہندوستان کے نوجوان عالمی سطح پر اپنی شناخت قائم کر رہے ہیں۔
انہوں نے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ طالب علمی کے دور میں ہمہ جہت اور متوازن ترقی ایک صحت مند، نظم و ضبط کے پابند اور پراعتماد نوجوان نسل کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
جاری۔یواین آئی۔ ظ ا
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان7 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا7 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان7 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
