تجزیہ
کشمیر میں امن و خوشحالی کی تعمیر میں خواتین کا کردار
از قلم :ایڈووکیٹ صفا
دائرے توڑتے ہوئے :مسلم تخلیق کار بھارت میں کثرت پسندی کا تصور از سر نو وضع کررہے ہیں
قارئین کشمیر کا سماج اپنی گہری روحانی اور ثقافتی جڑوں کے ساتھ ہمیشہ سے خواتین کے کردار کو محض خاندان کے دائرے تک محدود نہیں رکھتا، بلکہ انہیں معاشرتی تعمیر کے ایک لازمی ستون کے طور پر تسلیم کرتا آیا ہے۔ آج جب دنیا تیزی سے بدل رہی ہے، کشمیری خواتین بھی اپنی روایتی حدود سے آگے بڑھ کر تعلیم، حکومت، کاروبار، سماجی خدمات اور بین المذاہب ہم آہنگی جیسے شعبوں میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں۔ ان کی یہ شراکت محض عددی نہیں بلکہ معنوی اور فکری سطح پر بھی تبدیلی کی علامت ہے۔قارئین وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والی خواتین نے ہر دور میں اپنی ہمت اور حوصلے سے نئی نئی تاریخیں رقم کرلی ہیں ۔ قارئین کشمیری خواتین کے کردار کو سمجھنے کے لیے ہمیں ماضی کے ان ادوار کو یاد رکھنا ہوگا جہاں خواتین نے علمی و روحانی میدان میں راہبری کا فریضہ انجام دیا۔لل دید، حبہ خاتون جیسی صوفی شاعرہ سے لے کر جدید دور کی ماہرِ تعلیم ڈاکٹر شاہینہ بشیر تک، کشمیر کی تاریخ ایسی خواتین سے بھری پڑی ہے جنہوں نے نہ صرف معاشرے کی رہنمائی کی بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے مثالیں قائم کیں۔کشمیری خواتین نے ہر شعبے میں اپنی بہترین کارکردگی کا مظاہر ہ کیا ہے چاہئے وہ تعلیمی شعبہ ہو، کھیل کود ہوں ، تجارتی معاملات ہوں، کاروبار ہو، شعبہ طب ہو یا سیاسی میدان ہو کشمیری خواتین نے ہر میدان میں اپنا لوہا منوایا ہے ۔
وادی کشمیر میں مخدوش حالات کے دوران اگرکسی طبقے کو زیادہ مشکلات کا سامنا رہا ہے تو وہ صنف نازک ہی ہے ۔ خواتین ہر دور میں مشکلات کی شکار رہی ہیں۔ خاص طو رپرکشمیر سے متعلق بعض حلقوں کی طرف سے مذہبی آزادی پر قدغن کے جو دعوے کیے جاتے ہیں، ان کے برعکس یہاں مختلف مذاہب کے ماننے والے روایتی طور پر ایک پ±رامن بقائے باہمی کے ماحول میں رہتے آئے ہیں۔ خاص طور پر کشمیری صوفی روایت سے وابستہ خواتین نے امن، رحم دلی اور برداشت جیسے اسلامی اقدار کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ آج نہ صرف خواتین دینی تعلیم میں سرگرم ہیں بلکہ وہ زیارت گاہوں کی منتظم، مذہبی مجلسوں کی قائد اور روحانی رہنما کے طور پر بھی ابھر رہی ہیں۔ ان کی موجودگی انتہاپسندانہ نظریات کے سامنے ایک مضبوط فکری دیوار کا کام دیتی ہے اور مذہبی ہم آہنگی کو تقویت بخشتی ہے۔
قارئین وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والی خواتین نے نہ صرف مقامی سطح پر بلکہ ملکی اور بین الاقوامی سطح پر بھی نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے ۔ یہ حقیقت اب ناقابل انکار ہے کہ خواتین کی شمولیت کے بغیر کسی بھی سماج کی ترقی مکمل نہیں ہو سکتی۔ کشمیری خواتین آج امید، حوصلے اور غیرمعمولی استقامت کی علامت بن چکی ہیں۔ چاہے وہ قومی سطح کے امتحانات میں کامیابی حاصل کرنے والی طالبات ہوں یا کھیل، فنون اور کاروبار کے میدان میں غیر معمولی کامیابیاں سمیٹنے والی خواتین ، ہر ایک کی کہانی نئی نسل کو تعلیم اور خودمختاری کی طرف مائل کر رہی ہے۔ افشاں کی مثال لیجیے، جو فٹبالر سے کوچ کے سفر تک پہنچی، یا پروینا آہنگر، جنہیں انسانی حقوق کے شعبے میں غیرمعمولی خدمات پر نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کیا گیا۔ ان خواتین نے اپنے عمل سے ثابت کیا کہ علم، محنت اور امن کا راستہ نہ صرف انفرادی ترقی کا ذریعہ ہے بلکہ ایک بہتر سماج کی بنیاد بھی بن سکتا ہے۔
نوجوان نسل کے لیے یہ خواتین مشعلِ راہ ہیں۔ ان کی کامیابیاں یہ پیغام دیتی ہیں کہ بندوق یا نفرت کا راستہ کبھی پائیدار نہیں ہو سکتا، جبکہ تعلیم، امن اور سماجی مکالمہ ایک روشن مستقبل کی ضمانت ہیں۔ ایسے وقت میں جب دنیا دہشت گردی اور شدت پسندی سے نبرد آزما ہے، کشمیری خواتین نہایت مو¿ثر انداز میں نوجوانوں کو ان رجحانات سے دور رکھ کر معاشرے کو محفوظ بنا رہی ہیں۔
سیاحت کے شعبے میں بھی کشمیری خواتین کا بڑھتا ہوا کردار اس خطے میں پھیلتی ہوئی امن کی فضا اور معمولاتِ زندگی کی بحالی کا مظہر ہے۔ گھریلو قیام گاہوں سے لے کر دستکاری مراکز، رہنمائی اور میزبانی تک،خواتین کی شرکت نہ صرف انہیں معاشی طور پر بااختیار بناتی ہے بلکہ وادی کے متعلق دنیا کی رائے کو بہتر انداز میں تشکیل دیتی ہے۔
ان کی موجودگی کشمیر کی ایک ایسی تصویر دنیا کے سامنے رکھتی ہے جو خلوص، کشادگی اور مہمان نوازی سے بھرپور ہے۔خاص طور پر وادی کی نوجوان خواتین، جو مقامی ہوٹلوں، سیاحتی کیمپوں، اور روایتی قالین بافی سے لے کر جدید ای کامرس تک سرگرم ہیں، وہ نہ صرف اپنی شناخت خود تراش رہی ہیں بلکہ کشمیر کی معیشت میں بھی نئی جان ڈال رہی ہیں۔ ان کے ہاتھوں سے بنی مصنوعات اب بین الاقوامی سطح پر نمائشوں میں پیش کی جا رہی ہیں، جس سے ایک نیا سماجی اور معاشی افق ابھرتا ہے۔جہاں تک دستکاری کی بات ہے تو کشمیری خواتین کی جانب سے تیار کردہ دستکاریاں دنیا کے کونے کونے تک پہنچ رہی ہیں۔
اسی طرح اگر ہم سیاست کے شعبے میں خواتین کے کردار کی بات کریں تو حالیہ عام انتخابات میں خواتین کی بڑھ چڑھ کر شرکت چاہے بطور ووٹر ہو یا انتخابی عملے کا حصہ بن کر اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ نہ صرف سیاسی عمل کا حصہ بننا چاہتی ہیں بلکہ اپنے سماجی مستقبل کی معمار بھی ہیں۔ ان کی یہ شرکت جمہوری عمل پر اعتماد کو گہرا کرتی ہے اور خطے میں حکمرانی کے نظام کو مزید مضبوط بنانے میں مدد دیتی ہے۔ ایسی خواتین جو پنچایت سے لے کر قانون ساز اسمبلی تک، مختلف سطحوں پر انتخابی عمل کا حصہ بنی ہیں، وہ سماجی قیادت کا ایک نیا چہرہ ہیں۔سیاسی قیادت میں خواتین نے جو مقام حاصل کیا ہے یہ گزشتہ تیس برسوں میں پہلی بار دیکھا گیا ہے ۔
قارئین جہاں تک وادی میں امن کے قیام میں خواتین کی بات ہے تو خواتین نے شدت پسندی کے خلاف ایک خاموش مگر مو¿ثر جدوجہد کا آغاز کر رکھا ہے۔ ماں، استانی، سماجی کارکن یا مذہبی اسکالر کے روپ میں وہ نئی نسل کو انتہا پسندی کے خطرات سے آگاہ کر رہی ہیں۔ مدارس، مکاتب اور گھریلو سطح پر جب علما، اساتذہ اور مائیں مل کر بین المذاہب ہم آہنگی، دین کی اصل تعلیمات اور پرامن معاشرے کی اہمیت پر بات کرتی ہیں تو اس کے مثبت اثرات نہایت گہرے ہوتے ہیں۔ایک ماں ، ایک بہن، ایک بیوی کی ذمہ داری ہے کہ وہ مردوں کو ایسے راستے پر چلنے کی ترغیب دیں جن میں ان کا مستقبل روشن ہواور قوم و ملک کی سلامتی کےلئے بہتر ہو۔
ثقافتی، موسیقی اور کھیلوں کی تقریبات میں ان کی سرگرم شرکت نہ صرف نوجوانوں کو جوڑنے کا ذریعہ بنتی ہے بلکہ ان کے لیے اظہارِ رائے اور تخلیقی سرگرمیوں کا ایک نیا اور مثبت پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے، جہاں سے وہ مستقبل کے امکانات کی طرف قدم بڑھا سکتے ہیں۔ وادی کے مختلف اضلاع میں حالیہ برسوں میں لڑکیوں کے لیے کھیلوں کے مقابلوں، تھیٹر ورکشاپس اور شاعری کی محفلوں کا انعقاد اسی رجحان کی علامت ہے۔
قارئین جہاں کشمیری خواتین کی جانب سے ہر مرحلے میں خدمات انجام دی جارہی ہیں وہیںشری امرناتھ یاترا 2025، جو 3 جولائی سے جاری ہے، اس میں بھی خواتین کی رضاکارانہ خدمات، صحت کے شعبے میں کام اور راہنمائی جیسے کردار نمایاں ہیں۔ ان کی موجودگی نہ صرف یاترا کو سہولت بخش بناتی ہے بلکہ ایک متحد اور ہم آہنگ سماج کا پیغام بھی دنیا تک پہنچاتی ہے۔ خواتین کا یہ کردار کشمیر کی اس مہمان نوازی اور مذہبی رواداری کو اجاگر کرتا ہے جو اس کی صدیوں پرانی پہچان ہے۔
مختصر یہ کہ کشمیری خواتین اب محض مشاہدہ کرنے والی خاموش ہستیاں نہیں رہیں، بلکہ وہ تبدیلی کی فعال معمار، امن کی سفیر اور خوشحالی کی ضامن بن چکی ہیں۔ ان کی فکری بلوغت، جذباتی پختگی اور عملی حکمت کشمیر کے مستقبل میں ایک ناگزیر عنصر بن چکی ہے۔ ان کے کردار کو تقویت دینا صرف اخلاقی فریضہ نہیں بلکہ ایک اجتماعی ضرورت ہے، اگر ہم ایک ایسا کشمیر چاہتے ہیں جو واقعی پ±رامن، جامع اور ترقی کی راہ پر گامزن ہو۔
تازہ ترین
یوم آزادی اور مسلمان
یوم آزادی ہر قوم کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ وہ دن ہوتا ہے جب ایک قوم غلامی کی زنجیروں کو توڑ کر آزادی کی نعمت حاصل کرتی ہے۔ ہندوستان کے لیے ۱۵ اگست کا دن اسی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ دن ہمیں اپنے اسلاف کی قربانیوں کی یاد دلاتا ہے اور ساتھ ہی یہ احساس بھی دلاتا ہے کہ آزادی کے بعد ہماری ذمہ داریاں کیا ہیں، خصوصاً مسلمانوں کی حیثیت سے ہم پر کیا فرائض عائد ہوتے ہیں۔
مسلمانان ہند نے آزادی کی جدوجہد میں نمایاں کردار ادا کیا اور بے شمار قربانیاں پیش کیں۔ لیکن آزادی کے بعد اصل امتحان شروع ہوتا ہے، کیونکہ آزادی کے ساتھ ذمہ داریاں بھی وابستہ ہوتی ہیں۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: “إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالإِحْسَانِ” (سورۃ النحل: ۹۰) یعنی اللہ تمہیں عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے۔ یہ آیت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ایک مسلمان کی بنیادی ذمہ داری انصاف اور بھلائی کو فروغ دینا ہے، خواہ وہ کسی بھی معاشرے میں رہتا ہو۔
ایک مسلمان کی حیثیت سے سب سے پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنے ملک کے آئین اور قوانین کی پاسداری کرے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “المسلمون على شروطهم” (سنن ابی داؤد) یعنی مسلمان اپنے معاہدوں کی پابندی کرتے ہیں۔ اس حدیث کی روشنی میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جس ملک میں ہم رہتے ہیں، اس کے قوانین اور اصولوں کا احترام کرنا ہماری دینی ذمہ داری ہے۔
یوم آزادی ہمیں اتحاد اور یکجہتی کا پیغام دیتا ہے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: “وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا” (سورۃ آل عمران: ۱۰۳) یعنی سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ نہ صرف آپس میں اتحاد برقرار رکھیں بلکہ دیگر برادریوں کے ساتھ بھی بھائی چارہ اور ہم آہنگی کو فروغ دیں۔
اسلام امن، محبت اور رواداری کا مذہب ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده” (صحیح بخاری) یعنی مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے لوگ محفوظ رہیں۔ اس حدیث کی روشنی میں ہمیں یہ سمجھ آتا ہے کہ ایک اچھا مسلمان وہی ہے جو معاشرے میں امن اور سکون کا ذریعہ بنے۔
تعلیم کی اہمیت پر بھی قرآن و حدیث میں بہت زور دیا گیا ہے۔ قرآن کی پہلی وحی ہی “اقْرَأْ” (پڑھو) کے حکم سے شروع ہوتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “طلب العلم فريضة على كل مسلم” (سنن ابن ماجہ) یعنی علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ اس لیے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ دینی اور عصری تعلیم دونوں پر توجہ دیں تاکہ وہ اپنے فرائض کو بہتر انداز میں ادا کر سکیں اور ملک کی ترقی میں حصہ لے سکیں۔
سماجی ذمہ داریوں کے حوالے سے قرآن میں ارشاد ہوتا ہے: “وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى” (سورۃ المائدہ: ۲) یعنی نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو۔ اس آیت کی روشنی میں مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے معاشرے کی اصلاح کے لیے کام کریں، غریبوں اور محتاجوں کی مدد کریں، اور انصاف کے قیام کے لیے جدوجہد کریں۔
سیاسی شعور بھی ایک اہم ذمہ داری ہے۔ اسلام ہمیں مشورے اور اجتماعی فیصلوں کی تعلیم دیتا ہے۔ قرآن میں ارشاد ہے: “وَأَمْرُهُمْ شُورَىٰ بَيْنَهُمْ” (سورۃ الشوریٰ: ۳۸) یعنی ان کے معاملات آپس کے مشورے سے طے ہوتے ہیں۔ اس اصول کی روشنی میں مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ جمہوری عمل میں حصہ لیں، اپنے ووٹ کا صحیح استعمال کریں اور ایسے نمائندوں کا انتخاب کریں جو انصاف اور دیانت کے ساتھ کام کریں۔
یوم آزادی کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے ماضی کی قربانیوں کو یاد رکھتے ہوئے حال میں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور مستقبل کے لیے بہتر منصوبہ بندی کریں۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے دین کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے ایک مثالی شہری بنیں، ملک کی ترقی میں حصہ لیں اور امن و امان کے قیام میں اپنا کردار ادا کریں۔
آزادی ایک عظیم نعمت ہے، اور اس کی حفاظت ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ اگر مسلمان قرآن و سنت کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے اپنی قومی اور سماجی ذمہ داریوں کو ادا کریں، تو نہ صرف وہ خود ترقی کریں گے بلکہ پورے ملک کی خوشحالی اور استحکام میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔ یہی یوم آزادی کا حقیقی پیغام ہے اور یہی ہماری کامیابی کا راستہ ہے۔
محمد حفیظ الدین
سکریٹری،گنجریا اتحادویلفیئر سوسائٹی
hafiznoori1987@gmail.com
تجزیہ
سوراج: تصاویر، کارٹونوں اور نوادرات کے ذریعے بیان کی گئی ہندوستان کی آزادی کی کہانی
جینت رائے چودھری
نئی دہلی، کوئی ہندوستان کی آزادی کا جشن کیسے مناتا ہے؟ پوسٹروں، تصویروں، کارٹونوں، کیلنڈروں اور یادگار اشیاء کی ایک نمائش، جو آزادی کی طرف اور آزادی کے بعد ہندوستان کے سفر کا جشن مناتی ہے، بشمول پچھلی دو صدیوں کے دوران رونما ہونے والے تمام ہنگامہ خیز واقعات کے بالکل یہی نیویل تولی کا وہ خیال ہے جو انڈیا ہیبیٹیٹ سینٹر میں سوچ سمجھ کر تیار کی گئی نمائش “سوراج” کے پیچھے ہے، جو پوسٹروں، تصویروں، دستاویزات اور یادگاری اشیاء کی ایک نمائش ہے جو آزادی کے لیے ہندوستان کے طویل سفر اور 1947 کے بعد اس کے شاندار، ہنگامہ خیز سفر کا احاطہ کرتی ہے۔
تولی نے 16 ویں صدی میں ہندوستان کے ساحل کے ساتھ فرانسیسی اور ڈچ بستیوں کی تانبے کی تختی کی نقش و نگاری سے لے کر تحریک آزادی کے پوسٹروں، سبھاش چندر جیسی فلموں کے اشتہارات اور فلمساز باسو چٹرجی کے بلٹز کے لیے بنائے گئے سیاسی کارٹونوں تک اپنی نمائش کا جائزہ لینے کے دوران یو این آئی سے بات کرتے ہوئے کہا، “میں نوجوانوں میں تخیل کو بیدار کرنے کے لیے بصری، مقبول ثقافتی تصورات کا استعمال کرتا رہا ہوں تاکہ ہماری جنگِ آزادی کو سمجھنے کی کوشش کی جائے… ہمارا تعلیمی نظام سیکھنے کو محدود کر دیتا ہے، اس طرح کی عوامی نمائش سوچ اور احساس کو ابھارنے کی کوشش کرتی ہے۔”
تاریخ کا ایک ایسا منظر جو سامنے آنے والی کہانی میں کسی کا فریق بنے بغیر سوالات کو جنم دیتا ہے اور ابھارتا ہے اور جوابات فراہم کرتا ہے۔ کانگریس، کمیونسٹ، اور عسکری انقلابی تحریکیں سبھی کی نمائندگی کی گئی ہے، جیسا کہ آر ایس ایس کی ہے۔
یہ نمائش آزادی کی جنگ کے روایتی مطبوعہ بیانیے سے آگے دیکھنے کی کوشش کرتی ہے۔ یہ پچھلی دو صدیوں کا سفر کرتی ہے، ان واقعات، شخصیات اور تحریکوں کو اکٹھا کرتی ہے جنہوں نے برصغیر کو نوآبادیاتی تسلط اور مزاحمت سے تبدیل کیا؛ 1857 کی بغاوت؛ قوم پرستی کا عروج؛ بنگال کی نشاۃ ثانیہ؛ سودیشی تحریک؛ گاندھی اور عوامی تحریکیں؛ انقلابی جدوجہد؛ دونوں عالمی جنگیں؛ تقسیم اور آزادی۔
تاہم، سوراج 15 اگست 1947 پر ختم نہیں ہوتا۔ سفر جاری ہے — چین کے ساتھ 1962 کی جنگ، 1971 کی بنگلہ دیش کی آزادی، اور محترمہ اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی کے قتل اس دور کے اخبارات کے صفحات کے ذریعے اور پوسٹروں اور کارٹونوں کے ذریعے آپ کو گھورتے ہیں۔
ہندوستان کو ایک ایسے ملک کے طور پر دکھایا گیا ہے جیسا کہ وہ تھا، انتشار کا شکار، متنوع، اور پھر بھی ایک مشترکہ منزل کی طرف گامزن۔ ایک ایسی قوم جو تقسیم، مہاجروں، جنگوں، رجواڑہ ریاستوں کے انضمام، آئین کی تشکیل، ریاستوں کی لسانی تنظیم نو، سیاسی اتھل پتھل، اقتصادی تبدیلی، ایمرجنسی، لبرلائزیشن اور ان ڈرامائی تبدیلیوں کا سامنا کر رہی ہے جنہوں نے آزادی کے بعد کی دہائیوں میں ہندوستان کو نئی شکل دی ہے۔
بھولے ہوئے سیاسی کارٹون نگاروں اور ہندوستان کے معاشی مسائل، اندرونی کشمکش، اور برصغیر کو متاثر کرنے والی جغرافیائی سیاست پر ان کے شاندار طنز کو تاریخ پر روشنی ڈالنے کے لیے واپس لایا گیا ہے۔
پاپ کیلنڈر جو بوس کو بھارت ماتا کو حتمی قربانی پیش کرنے کے لیے اپنا سر کاٹتے ہوئے دکھاتے ہیں، ایک سوچ میں ڈوبے ہوئے جواہر لعل نہرو کی کیلنڈر آرٹ کے ساتھ رکھے گئے ہیں، اس کے ساتھ بڑی سیاہ و سفید تصاویر ہیں جو 1950 کی دہائی کے “جدید ہندوستان کے مندر” کہلانے والے اسٹیل ملز اور کارخانوں کے جوش و خروش کو زندہ کرتی ہیں، بھولی ہوئی یادوں کو واپس لاتی ہیں یا نئی یادوں کو بیدار کرتی ہیں۔
پس منظر میں موسیقی ہلکے سے پرانے گانے بجاتی ہے، اور ناظرین “چھوڑو کل کی باتیں… ہم ہندوستانی” اور “آؤ بچوں تمہیں دکھاؤں جھانکی ہندوستان کی” جیسے دل کو چھو لینے والے گانوں کے ساتھ سُر ملاتے ہیں، جو 1950 اور 1960 کی دہائی کے حب الوطنی کے پاپ نغموں میں سب سے بہترین ہیں۔
پوسٹر، نایاب تصاویر، اخبار کے صفحات، سیاسی کارٹون، خطوط، سرکاری دستاویزات، اشتہارات، ذاتی یادگاری اشیاء، اور دیگر تاریخی نوادرات، جنہیں تولی نے سوراج کو تیار کرنے کے لیے اکٹھا کیا ہے، ہر دور کے ماحول کو دوبارہ تخلیق کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ایک لحاظ سے، یہ جدید ہندوستان کی ایک غیر معمولی بصری تاریخ ہے، کسی ایک سیاسی نظریے یا ماضی کے کسی ایک ورژن کا جشن نہیں ہے، بلکہ ہندوستانی تجربے کے غیر معمولی دائرہ کار کو سمیٹنے کی ایک کوشش ہے۔
جیسے ہی بھیڑ نمائش کے درمیان گھومتی ہے، سیلفیاں بناتی ہے، تولی اپنے ماتھے کا پسینہ پونچھتے ہیں اور مسکراہٹ کے ساتھ کہتے ہیں، “لوگ اس لیے جڑتے ہیں کیونکہ نمائش، موسیقی، سبھی مل کر اس بات کا احساس دلاتے ہیں کہ ہندوستان نے کیا کچھ برداشت کیا۔”
نیویل تولی اور ان لوگوں کے لیے جو پاپ جدید تاریخ کی ان کی تیار کردہ سمجھ کو دیکھنے کے لیے جمع ہوئے ہیں، آزادی کا جشن منانے کا یہی مطلب ہے — یہ یاد رکھنا کہ ہم کہاں سے آئے ہیں، ان اتھل پتھل کو سمجھنا جنہوں نے ہمیں شکل دی، اور اس ہندوستان پر غور کرنا جسے ہم نے آزاد ہونے کے بعد سے تعمیر کیا ہے۔
یو این آئی ایف اے
تجزیہ
کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج، بڑھتی ہوئی جی ڈی پی اور روزگار کے مواقع میں کمی
از: جینت رائے چودھری
نئی دہلی، دوپہر ڈھل چکی ہے، دہلی کی دھندلی دھوپ میں ہزاروں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں جمع ہیں، وہ ایک ایسے احتجاج میں شریک ہیں، جو کئی دنوں سے جاری ہے، لیکن جمعہ کو کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی جانب سے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے پر ملک گیر تحریک کے اعلان کے بعد اس میں نئی جان آ گئی ہے،جن پتھ پر واقع عالیشان امپیریل ہوٹل سے جے پور کے سوائی مان سنگھ کی تعمیر کردہ اٹھارویں صدی کے اوائل کی رصد گاہ جنتر منتر کی جانب جانے والی تنگ سڑک کو پولیس نے بیریکیڈ لگا کر بند کر دیا ہے۔
فسادات پر قابو پانے والی پولیس کی تین قطاریں تعینات ہیں، لیکن اس کے باوجود دہلی اور اس کے آس پاس کی یونیورسٹیوں کے طلبہ بلکہ گوہاٹی سے پونے تک مختلف شہروں سے آئے نوجوان، پولیس کی ناکہ بندی سے بچتے ہوئے احتجاج میں شامل ہو رہے ہیں۔ اس احتجاج نے اب عالمی توجہ حاصل کر لی ہے۔
غازی آباد کے 21 سالہ انجینئرنگ کے طالب علم کوستوو دت نے کہا، “میں اس لیے آیا ہوں کیوں کہ پیر کے روز طلبہ کو بلاوجہ بری طرح پیٹا گیا۔ ہمارا تعلیمی نظام ٹوٹ چکا ہے۔ طلبہ صرف امتحانات میں شفافیت کا مطالبہ کر رہے تھے، پھر ان کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کیوں کیا گیا؟”
چند ہفتے قبل سی جے پی نے مئی میں منعقد ہونے والے نیشنل ایلیجبلٹی کم انٹرنس ٹیسٹ (نیٹ) میں مبینہ پرچہ لیک ہونے اور دیگر بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج شروع کیا تھا۔ پیر کو پولیس کی کارروائی، جس میں متعدد طلبہ کو دوڑا کر مارا گیا اور درجنوں زخمی ہوئے، جن میں کئی کی آنکھوں اور سر پر چوٹیں آئیں، کے بعد یہ احتجاج مزید شدت اختیار کر گیا۔
لیکن ہندوستان کے نوجوانوں کے لیے ناقص امتحانی نظام اور پولیس سے تصادم دراصل برسوں سے بڑھتی ہوئی بے چینی کا آخری سبب ثابت ہوا۔ 1990 کی دہائی سے ملک کی نوجوان آبادی، تعلیم کی شرح اور مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں مسلسل اضافہ ہوا، مگر روزگار کے مواقع اسی رفتار سے پیدا نہیں ہو سکے، جس کے نتیجے میں نوجوانوں میں شدید مایوسی جنم لیتی رہی۔
ہندوستان میں 15 سے 29 برس کی عمر کے تقریباً 36 کروڑ 70 لاکھ نوجوان ہیں، جو دنیا کی سب سے بڑی نوجوان آبادیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ایک وقت میں اسے ملک کا “یوتھ ڈیوڈنڈ” قرار دیا جاتا تھا، لیکن اس صلاحیت کو معاشی ترقی میں تبدیل کرنا اتنا آسان ثابت نہیں ہوا۔
اگرچہ ہندوستان کی جی ڈی پی کئی برسوں تک سات فی صد سے زیادہ کی رفتار سے بڑھتی رہی، لیکن سینٹر فار مانیٹرنگ انڈین اکانومی کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق رواں سال جون میں بے روزگاری کی شرح تقریباً 6.64 فی صد رہی۔
اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں میں یہ شرح اس سے بھی زیادہ ہے۔ عظیم پریم جی یونیورسٹی کی رواں سال جاری کردہ رپورٹ کے مطابق 25 سے 29 برس کی عمر کے گریجویٹس میں بے روزگاری کی شرح تقریباً 20 فیصد ہے۔
جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے سابق پروفیسر معاشیات ڈاکٹر بسواجیت دھر نے یو این آئی سے کہا، “یہ احتجاج اس بات کی علامت ہے کہ ہم اپنی نوجوان آبادی کو وہ معاشی مواقع فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں جن کا وعدہ ایک زیادہ تعلیم یافتہ نسل سے کیا گیا تھا۔”
‘اسٹیٹ آف ورکنگ انڈیا 2026’ رپورٹ کے مطابق 05-2004سے 2023 تک ہر سال تقریباً 50 لاکھ نئے گریجویٹس سامنے آئے، لیکن ان میں سے صرف 28 لاکھ کو روزگار مل سکا۔ ان میں بھی مستقل تنخواہ والی ملازمت حاصل کرنے والوں کی تعداد بہت کم رہی، جس کے نتیجے میں گریجویٹ بے روزگاری میں اضافہ اور آمدنی کی رفتار میں کمی دیکھی گئی۔
کانپور سے تعلق رکھنے والی پوسٹ گریجویٹ طالبہ پریتی مشرا، جو جنوبی مشرقی دہلی میں ایک پیئنگ گیسٹ رہائش گاہ میں رہتی ہیں اور مختلف سرکاری و یونیورسٹی ملازمتوں کے امتحانات دے رہی ہیں، کہتی ہیں، “جہاں ملازمتیں موجود بھی ہیں وہاں ابتدائی تنخواہ اتنی کم ہے کہ والدین کو ہماری مالی مدد جاری رکھنی پڑتی ہے۔”
ہیومن ریسورس کمپنیوں کے مطابق ملک کے کئی حصوں میں انجینئروں کی ابتدائی تنخواہ آج بھی تقریباً 30 ہزار روپے ماہانہ ہے، اور گزشتہ آٹھ سے دس برس میں اس میں کوئی خاص اضافہ نہیں ہوا۔ پریتی مشرا کہتی ہیں، “معیاری ملازمتیں بہت کم ہیں، اسی لیے مسابقتی امتحانات کی دوڑ لگی ہوئی ہے اور اب نوجوانوں کو یہ خوف بھی ہے کہ ان امتحانات میں بھی ان کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے۔”
اس کے باوجود ہندوستان میں اعلیٰ تعلیم میں داخلے کی شرح سن 2000 کے تقریباً 10 فی صد سے بڑھ کر 2026 میں 30 فی صد تک پہنچ گئی ہے، جس کا مطلب ہے کہ ملک میں پہلے سے کہیں زیادہ تعلیم یافتہ نوجوان موجود ہیں۔
کوستوو دت کہتے ہیں، “یہ تمام باتیں ہمیں پریشان کرتی ہیں۔ میرے والد کسان ہیں اور انہوں نے قرض لے کر ہم بہن بھائیوں کو پڑھایا ہے۔ کیا ہمیں ایسی ملازمت ملے گی جس سے ہمارے خاندان کی حالت بہتر ہو سکے؟ یا پھر ہمیں ملازمتوں میں امتیاز اور امتحانات میں دھوکے کا سامنا کرنا پڑے گا؟”
اسی دوران ہجوم میں زور دار نعرے گونجنے لگتے ہیں۔ سی جے پی کے رہنما ابھیجیت دیپکے اعلان کرتے ہیں کہ اب سب لوگ کھڑے ہو کر قومی ترانہ گائیں۔
پسینے اور شاید فخر سے چمکتے ہوئے چہرے روشن ہو اٹھتے ہیں جب وہاں موجود مجمع قومی ترانہ ‘جن گن من ‘ گاتا ہے۔
طلباء کو ضرورت پڑنے پر قابو میں رکھنے کے لیے لاٹھیوں کے ساتھ گھومنے والے پولیس اہلکار بھی مودب انداز میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔ دہلی کے ابر آلود آسمان سے سورج بھی چند لمحوں کے لیے جھانکنے لگتا ہے۔
یواین آئی۔ م س ۔ م الف
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان6 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
