تازہ ترین
اٹل بہاری واجپائی اور نریندر مودی کے سیاسی اپروج میں زمین و آسمان کا فرق: میر واعظ
خبراردو:
حریت کانفرنس (ع) چیرمین میر واعظ عمر فاروق نے نئی دہلی کے ایک اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے کشمیر تصفیہ کے پرامن حل، سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی اور نریندرمودی کے طریق کار میں غیر یکسانیت اور موجودہ صورتحال میں حریت کے رول پر تبادلہ خیال کیا۔انہوں نے بتایا کہ نئی دہلی کی کشمیر پالیسی میں کافی تبدیلی واقع ہوچکی ہیں ۔بی جے پی کی موجودہ قیادت اپنے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کے اپروچ سے مکمل طورپر انحراف کرچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ واجپائی کی قیادت والی حکومت میں کشمیر کو ایک انسانی مسئلہ تصور کیا جاتا تھایہی وجہ ہے واجپائی نے بار بار اس بات کو دہرایا کہ وہ مسئلہ کشمیر کا حل انسانیت کے دائرے میں تلاش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کے اپروچ نے حریت کانفرنس کے لیے راہیں کھول دیں تھی تاکہ ہم نئی دہلی کے ساتھ ساتھ پاکستان کے ساتھ بھی بات چیت شروع کریں۔میر واعظ کے مطابق اس قسم کا اپروچ تکونی تھا کیوں کہ اس میں ہر کوئی فریق ایک دوسرے کے ساتھ ملوث تھا تاہم موجودہ صورتحال میں اس قسم کا اپروج زمینی سطح پر بالکل غائب ہے۔ اس وقت کشمیر کے چپے چپے میں ظلم اور جبر کا سلسلہ جاری ہے۔
واجپائی کے اپروچ کی جگہ اب ڈوول ڈاکٹرائن نے سنبھال لی ہے۔فی الوقت ریاستی عوام کو آئے روز محاصروں اور تلاشی آپریشنوں کا سامنا رہتا ہے۔میر واعظ نے کہا کہ اٹل بہاری واجپائی امن کی باشا پر یقین رکھتے تھے تاہم نریندر مودی پر جنگی جنون سوار ہے اور جنگ اور تباہی کی باتیں اُن کا تکیہ کلام ہے۔ایک سوال کے جواب میں میر واعظ نے بتایا کہ پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے بارہا اس بات کو سامنے لایا کہ اگر ہندوستان ایک قدم آگے بڑھنے کے لیے تیار ہے تو پاکستان دو قدم آگے بڑھے گا۔عمران خان چاہتے ہیں کہ مسئلہ کے تصفیہ کی خاطر بات چیت کا آغاز کیا جائے تاہم یہ عمل تب تک بے معنی ہے جب تک نہ دونوں فریق بات چیت کو شروع کرنے پر رضا مند ہوجائے۔انہوں نے بتایا کہ پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے بار بارہندوستان کو مذاکرات کی اپیل کی تاہم ہندوستان نے ہر وقت ان کی باتوں کو ان سنی کردیا۔ اصل میں نئی دہلی موجودہ صورتحال میں نہ پاکستان سے اور نہ ہی کشمیریوں کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہے۔ممکن ہے کہ ہندوستان میں آنے والے انتخابات تک صورتحال جوں کی توں رہے گی کیوں کہ بی جے پی کا ایجنڈا ہندوتوا پر مبنی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ وہ فی الوقت اپنے ایجنڈا کو آگے لیجانے میں ہی مصروف عمل ہیں۔بات چیت اور تشدد کے ایک ساتھ جاری رہنے پر میر واعظ نے بتایا کہ بہت سے لوگوں کا ماننا ہے کہ اگر بھارتیہ جنتا پارٹی کے اندر کمزوری پائی جاتی ہے تو اس کو دور کرنے کے لیے وہ کشمیر اور پاکستان کا کارڈ استعمال کرسکتی ہے۔ پاکستان ، دہشت گردی اور کشمیر ایسے معاملات ہیں جنہیں بی جے پی قومی سطح پر اچھال کر بڑے پیمانے پر ووٹ بنک بناسکتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ہندوستان کی طرف سے پاکستان پر بار بار دہشت گردی اور تشدد کا الزام عائد کرنا بالکل بے بنیاد ہے کیوں کہ کشمیر میں جاری تحریک کشمیریوں کی اپنی شروع کی ہوئی تحریک ہیں جس میں کشمیر کی اپنی نئی نسل قربان ہورہی ہے۔ مسئلہ کشمیر کے پرامن حل اور حریت کے رول سے متعلق ایک سوال کے جواب میں میر واعظ نے بتایا کہ آپ بھلا اُس صورت میں کیا کرسکتے ہیں جب دوسرا فریق مسئلہ کو متنازعہ ماننے کو تیار ہی نہیں ! ہندوستان صرف فوجی طاقت کا سہارا لے رہا ہے۔ آپ اس طرح کی صورتحال میں اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں کرسکتے ہیں کہ آپ اپنے مؤقف پر چٹان کی طرح ڈٹے رہیں۔حریت اپنے مؤقف پر ڈٹی ہوئی ہے اور کشمیری عوام پر اس حوالے سے وعدہ بند ہے۔ حریت خاموش تماشائی بن کر نہیں بیٹھی ہے بلکہ ہمیں ہر روز کسی نہ کسی معاملے سے سابقہ درپیش رہتا ہے۔ کبھی غیر ریاستی آبادیوں کو یہاں بسانے کے منصوبے ترتیب دئے جاتے ہیں ، کبھی یہاں کے اداروں کی خودمختاری پر ضرب لگائی جاتی ہے وغیرہ وغیرہ لیکن حریت کو اس طرح کے مسائل سے بھی نمٹنا پڑتا ہے۔
کشمیر میں دولت اسلامیہ اور القاعدہ کی موجودگی سے متعلق ایک سوال کے جواب میں میر واعظ عمر فاروق نے بتایا کہ جہاں تک کشمیریوں کی جدوجہد کا تعلق ہے آپ اس کو دولت اسلامیہ یا القاعدہ کے ساتھ نہیں جو ڑ سکتے۔ کشمیر میں دولت اسلامیہ یا القاعدہ کا کوئی نام و نشان موجود نہیں ہے۔یہاں تک حزب المجاہدین اور دیگر کشمیر نژاد عسکری جماعتوں نے ببانگ دھل یہ بات واضح کی ہے کہ اُن کا نصب العین کیا ہے؟ کشمیر کی تحریک آزادی میں رول ادا کرنے والی عسکری جماعتوں کا دائرہ کار صرف کشمیر تک محدود ہے۔ ممکن ہے کہیں پر کمزور ی موجود ہو، چند نوجوان اس میں ملوث ہوں، جب آپ نوجوانوں پر ظلم و جبر کے پہاڑ توڑدیں گے تو لازمی بات ہے کہ وہ دوسرے آپشنز کی طرف بھی سوچ سکتے ہیں۔ جہاں تک میرا ذاتی تعلق ہے ہم نے یہ بات کئی بار واضح کی ہے کہ مسئلہ کشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے، ہم نے کبھی بھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ یہ ہندوستان میں رہ رہے ہندوؤں اور کشمیری مسلمانوں کے درمیان کوئی جنگ ہے۔وادی میں جاری نوجوانوں کے قتل عام پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے حریت (ع) چیر مین نے بتایا کہ نئی دہلی نے ہمیشہ کشمیر پر اپنا دعویٰ جتاتے ہوئے اسے اپنا اٹوٹ انگ قرار دیا ہے۔ ہندوستان نے کبھی بھی کشمیریوں کو اپنا نہیں مانا اور نہ ہی ان کو کبھی کشمیریوں کی فکر لاحق ہوئی۔وہ صرف کشمیر کی بات کررہے ہیں نہ کہ کشمیریوں کی جس سے صاف ظاہر ہورہا ہے کہ وہ مسئلہ کے تئیں فوجی قوت کے ساتھ ڈیل کررہے ہیں۔
ناروے کے سابق وزیر اعظم کے ساتھ حال ہی میں ہوئی میٹنگ پر بات کرتے ہوئے حریت (ع) چیرمین نے بتایا کہ اس طرح کا عمل قریبا 6برس بعد واقع ہوا جب کسی غیر ملکی سیاسی لیڈر شپ نے کشمیر کا دورہ کرکے حریت کے ساتھ بات چیت کی۔انہوں نے بتایا کہ وفد میں شامل لوگوں نے نہ صرف حریت کے ساتھ بات چیت کی بلکہ انہوں نے نئی دلی اور پاکستان جاکر وہاں پر بھی لوگوں کے ساتھ تبادلہ خیال کیا کیوں متازعہ خطوں میں اُن کو ایک وسیع تجربہ رہا ہے۔میر واعظ نے بتایا کہ وفد نے یہ بات دہرائی کہ مسائل کے حل کی خاطر کشمیریوں کی شمولیت ناگزیر ہے اور کشمیر کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ وفد نے آمد ایک نیک شگون ہے جو چند قوتوں کی کوششوں کے بعد ہی ممکن ہوپائی۔کشمیر حل میں ناروے وفد کے رول پر میر واعظ نے بتایا کہ بین الاقوامی سطح پر کشمیر کے حوالے سے حالات تبدیل ہورہے ہیں۔ حالیہ یو این رپورٹ کے بعد اس طرح کے امکانات موجود ہیں۔ ہم امید رکھتے ہیں کہ اس طرح کی مشق جاری و ساری رہے تاکہ مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کی راہیں مستقبل قریب میں کھل جائیں۔حالیہ بلدیاتی انتخابات سے متعلق بائیکاٹ کال پر بولتے ہوئے حریت (ع) چیرمین نے بتایا کہ جہاں تک ہندنواز سیاسی پارٹیوں بشمول این سی، پی ڈی پی ، بی جے پی وغیرہ کا تعلق ہے تو اس سے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کشمیرمیں اگر نئی دہلی کی پالیسیوں کو نافذ کرنے والا ادارہ موجود ہے تو وہ فوج اور فورسز ہے۔ ہمیں نہیں لگتا ہے کہ بی جے پی سے ہمیں کوئی مسئلہ ہوگا کیوں وہ صرف مال اور طاقت کے ذریعے یہاں پر موجود ہیں۔میر واعظ نے بتایا کہ حال ہی میں این سی اور پی ڈی پی کو نئی دہلی نے پاکستانی ایجنٹ قرار دیا جنہوں نے آج تک یہاں پر ہندوستان کے لیے کیا کچھ نہیں کیا۔لہٰذا انہیں اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے کہ اُن کے لیے کیا ٹھیک ہے اور کیا نہیں۔
کے این ایس
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
پاکستان
کویت کے ساتھ معاہدے سے پاکستان کا مشرق وسطیٰ میں دفاعی حصار وسیع
اسلام آباد، پاکستان اور کویت نے جمعرات کو ایک نئے دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ پاکستان کی وزارت دفاع کے مطابق یہ معاہدہ 2023 سے موجود فوجی تعاون کے فریم ورک کو نمایاں طور پر وسعت دیتا ہے۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف اور کویت کے وزیر دفاع شیخ عبداللہ علی عبداللہ السالم الصباح نے راولپنڈی میں ’پروٹوکول ایگریمنٹ 2026‘ پر دستخط کیے۔
معاہدے کے تحت پاکستانی مسلح افواج کویت کی فوج کی تربیت، دفاعی صلاحیتوں میں اضافے اور سرحدی انتظام میں معاونت کریں گی۔یہ معاہدہ جون 2023 میں طے پانے والے ایک بنیادی معاہدے کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جس کی کویت نے گزشتہ ماہ باضابطہ طور پر توثیق کی تھی۔
یہ پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے بڑھتے ہوئے سلسلے میں تازہ ترین پیش رفت ہے۔
حالیہ برسوں میں پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدہ کیا، سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ ’مکہ پیکٹ‘ کے نام سے سہ فریقی اجتماعی سلامتی کے معاہدے میں شمولیت اختیار کی، سعودی عرب میں ہزاروں فوجی اور ایک جنگی طیاروں کا اسکواڈرن تعینات کیا اور قطر کے ساتھ فوجی تربیتی تعاون کو بھی وسعت دی ہے۔
پاکستان کئی دہائیوں سے خلیجی ممالک کی افواج کو تربیت اور افرادی قوت فراہم کرتا آیا ہے۔ تاہم اب فرق اس تعاون کی رفتار اور نمایاں حیثیت میں آیا ہے اور خلیجی دارالحکومت خاموش تعاون کے بجائے باضابطہ معاہدوں کے ذریعے اسے ادارہ جاتی شکل دینے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔
معاہدوں کے اس سلسلے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر خلیجی ممالک مسلسل پاکستان کا رخ کیوں کر رہے ہیں اور پاکستان ان معاہدوں کے ذریعے کیا حاصل کر رہا ہے؟
کویت اسلام آباد کے ساتھ دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے والا تازہ ترین خلیجی ملک ہے۔
کویت کے ساتھ پاکستان کا دفاعی تعاون 1960 کی دہائی کے اواخر سے جاری ہے۔ 1990-91 کی خلیجی جنگ کے دوران بھی پاکستان نے سعودی عرب میں ایک بڑا فوجی دستہ بھیجا تھا، جو 1990 میں عراق کی جانب سے کویت پر حملے کے بعد مکہ اور مدینہ کے اطراف دفاعی پوزیشنوں پر تعینات کیا گیا تھا۔
پاکستان کے سابق دو ستارہ جنرل اور اب دفاعی تجزیہ کار زاہد محمود نے کہا کہ یہی تاریخ جمعرات کو ہونے والے معاہدے کا پس منظر ہے۔انہوں نے کہا، ’’پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کوئی نئی بات نہیں ہے۔‘‘
محمود کے مطابق کویت کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا موازنہ گزشتہ ستمبر میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دستخط کردہ ’اسٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ‘ (ایس ایم ڈی اے) سے نہیں کیا جاسکتا۔ کویت معاہدے میں مکہ پیکٹ یا ایس ایم ڈی اے جیسی کوئی شق شامل نہیں، جن کے تحت کسی ایک فریق پر جارحیت کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
جنگ کے آغاز کے بعد ایران کا آبنائے ہرمز پر سابقہ کنٹرول بڑی حد تک کم ہوا: امریکہ کا دعویٰ
واشنگٹن/تہران، امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فوج نے جنگ کے آغاز کے بعد سے آبنائے ہرمز پر ایران کی گرفت کو بتدریج کمزور کر دیا ہے۔ واشنگٹن کے مطابق جو کارروائی ابتدا میں ایران کی میزائل اور جوہری صلاحیتوں کے خلاف مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، وہ اب دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں سے ایک پر کنٹرول حاصل کرنے کی طویل جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے، جو جنگ کے آغاز سے ہی تہران کا سب سے مؤثر دباؤ کا ذریعہ رہی ہے۔
امریکی حکام کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز کی بدلتی ہوئی صورتحال جنگ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، جس سے عالمی توانائی منڈیوں پر دباؤ کم ہوگا اور واشنگٹن کو تہران کے ساتھ مستقبل کے مذاکرات میں زیادہ اثر و رسوخ حاصل ہوگا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایک فون انٹرویو میں ’ایکسِیوس‘ سے کہا، ’’وہ جگہ کھلی ہوئی ہے۔ ایرانی ردعمل بہت معمولی ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ ہم دوبارہ ان پر حملہ کریں۔ یہی پوری بات ہے، باقی کسی چیز کی اہمیت نہیں۔‘‘
جنگ شروع ہونے کے وقت آبنائے ہرمز کھلی ہوئی تھی، عالمی سطح پر تیل کی ترسیل معمول کے مطابق جاری تھی اور برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 72 ڈالر فی بیرل تھی۔
دو اسرائیلی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا فیصلہ اس وقت پاسداران انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر جنرل علی رضا تنگسیری نے کیا تھا۔ جنگ کے پہلے 72 گھنٹوں کے اندر ایران نے آبی گزرگاہ کی بندش کا اعلان کیا اور خبردار کیا کہ گزرنے کی کوشش کرنے والے ٹینکروں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
اسرائیلی اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس کے بعد تنگسیری نے ایرانی افواج کو آبنائے ہرمز کے اندر ’ٹریفک سیپریشن اسکیم‘ یعنی بین الاقوامی جہاز رانی کے مرکزی راستے میں بحری سرنگیں بچھانے کا حکم دیا۔ تنگسیری تین ہفتے بعد بندر عباس میں اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے۔
حملوں اور سمندری سرنگوں کے خطرے کے باعث آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی۔ اس کے نتیجے میں برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 126 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی اور عالمی توانائی منڈیوں پر شدید دباؤ پڑنے لگا۔
ٹرمپ نے 8 اپریل کو جنگ بندی پر اتفاق کیا، جس کی ایک وجہ امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں میں بڑے اضافے اور توانائی منڈیوں کے دباؤ کو بھی قرار دیا گیا۔ یہ بالکل اسی نوعیت کا معاشی خلل تھا جسے ایران پیدا کرنا چاہتا تھا۔
دو ماہ بعد امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا مرکزی معاملہ بن گیا۔ تاہم آبی گزرگاہ مکمل طور پر معمول پر نہ آسکی اور جلد ہی یہ معاہدہ بھی ناکام ہوگیا۔
مفاہمتی یادداشت کے خاتمے کے بعد امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کو اپنے طور پر دوبارہ کھولنے کی کوشش شروع کردی۔ امریکہ نے متحدہ عرب امارات کے تعاون سے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی، جس نے جنوبی راستے سے تجارتی جہازوں کی رہنمائی شروع کی، انہیں فضائی تحفظ فراہم کیا اور ایرانی ڈرونز اور کروز میزائلوں کو روکنے کی کارروائیاں کیں۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
