جموں و کشمیر
اردو زبان و ادب کا مستقبل روشن ہے: ڈاکٹر شمس اقبال
سری نگر، کتابیں صرف علم کا ذریعہ نہیں بلکہ تہذیب و تمدن کے تسلسل کا آئینہ ہوتی ہیں اور خوشی کی بات یہ ہے کہ سری نگر میں جاری چنار بک فیسٹول میں نوجوانوں، بچوں اور طلبا کی غیر معمولی دلچسپی نے ثابت کر دیا ہے کہ اردو زبان و ادب نہ صرف زندہ ہے بلکہ ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔
یہ باتیں قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ڈائریکٹر ڈاکٹر شمس اقبال کی ہیں۔
انہوں نے یو این آئی کے ساتھ خصوصی گفتگو کے دوران کہا’چنار بک فیسٹول میں عوامی جوش و خروش قابلِ دید ہے اور اردو کتابوں کی فروخت نے گزشتہ تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’تین دنوں میں قومی اردو کونسل کے اسٹالز سے سوا لاکھ سے زائد کتابیں فروخت ہوئی ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ مطالعہ کا ذوق آج بھی زندہ ہے۔‘
ڈاکٹر شمس اقبال نے کہا کہ ’اس فیسٹول کا سب سے مثبت پہلو نوجوانوں کی بھرپور شرکت ہے، یہ فیسٹول نہ صرف کتابوں کا میلہ ہے بلکہ علم، تہذیب اور زبان سے جڑنے کا ذریعہ بھی ہے۔ طلبا، ریسرچ اسکالرز اور عام قارئین جس جذبے سے اردو کتابیں خرید رہے ہیں، وہ خوش کن ہے۔‘
انہوں نے کہا ’علم کا حصول صرف جدید ٹیکنالوجی سے نہیں بلکہ کتابوں کے مطالعے سے بھی ممکن ہے، ہماری نوجوان نسل کو یہ پیغام دینا ضروری ہے کہ جو پڑھے گا، وہی آگے بڑھے گا۔‘
کونسل نے امسال اردو زبان کے فروغ کے ساتھ ساتھ فیسٹول میں کشمیر کی معروف دستکاری کو متعارف کرانے اور فروغ دینے کے لئے ’پیپر ماشی‘ کے مختلف النوع چیزوں کے بھی سٹال قائم کئے ہیں۔
اس کے متعلق ڈاکٹر شمس اقبال کا کہنا ہے’ہمارا مقصد صرف زبان کی ترویج نہیں ہے بلکہ زبان سے جڑی ثقافت، ہنر، اور روایتوں کے تحفظ کو یقینی بنانا بھی ہمارا عزم ہے۔‘
انہوں نے کہا ’پیپر ماشی جیسی قدیم صنعتیں ہماری تہذیب کا حصہ ہیں۔ اگر ہم نے انہیں جدید تقاضوں سے ہم آہنگ نہ کیا تو یہ فنون ناپید ہوسکتے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ قومی اردو کونسل نے اب یہ بیڑا اٹھایا ہے کہ اردو زبان کے ساتھ ساتھ مقامی ہنر، صنعت و دستکاری کو بھی فروغ دیا جائے تاکہ نوجوان صرف کتابوں تک محدود نہ رہیں بلکہ ہنر کی دنیا میں بھی آگے آئیں۔
موصوف ڈائریکٹر نے امید ظاہر کی کہ چنار بک فیسٹول کا یہ تجربہ دوسرے شہروں میں بھی کیا جائے گا اور قومی اردو کونسل ملک بھر میں اردو زبان کے تئیں بیداری مہم کو مزید تیز کرے گی۔
کشمیر میں اردو زبان و ادب کے ساتھ لوگوں کے والہانہ لگائو کو سراہتے انہوں نے کہا’وادی کشمیر میں اردو زبان سے محبت کرنے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ یہاں کے لوگوں کی کتابوں میں دلچسپی نے یہ ثابت کیا ہے کہ اردو کا مستقبل روشن ہے۔‘
ان کا کہنا تھا ’ہم اردو کو محض ایک زبان نہیں بلکہ ایک تحریک سمجھتے ہیں، اور اسی نظریے کے تحت ہم اپنے پروگرامز کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔‘
ڈاکٹر شمس اقبال نے بتایا کہ اس فسیٹول کے دوران 7 تا 9 اگست تین روزہ ورکشاپ بعنوان ’تخلیقی تحریر اور ادبی صلاحیتوں کی ترقی برائے نوجوان نسل‘کا انعقاد کیا جائے گا، جس میں وادی کے مختلف اسکولوں کے طلبا کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا ’یہ ہماری پہلی کوشش ہے کہ ہم اسکولی بچوں کو یہ سمجھائیں کہ ایک اچھی کتاب کیسے لکھی جاتی ہے، ہم انہیں تحریری اظہار، تخیل، پلاٹ سازی اور زبان کی خوبصورتی سے روشناس کرائیں گے تاکہ مستقبل میں وہ اچھے مصنف بن سکیں۔‘
موصوف ڈائریکٹر نے مزید کہا کہ نئی نسل ہی ملک کا مستقبل ہے اور اگر ان کی تخلیقی رہنمائی صحیح سمت میں کی جائے تو وہ نہ صرف زبان و ادب کی خدمت کر سکتے ہیں بلکہ قومی تعمیر میں بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
انہوں نے گفتگو کے آخر میں کہا ’ہمیں کتاب سے رشتہ جوڑنا ہے، کیونکہ کتاب صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ قوموں کی رہنمائی کا چراغ ہوتی ہے۔‘
یو این آئی ایم افضل، ارشید بٹ۔
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
ہندوستان1 week agoراہل پیلیٹ گن متاثرہ کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کے حق میں ڈی سی پی دفتر کے باہر دھرنے پر بیٹھے
