تجزیہ
مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن نہیں تو مذہب کی بنیاد پر پابندی کیوں
(جب جاگو تبھی سویرا)
تحریر: جاوید اختر بھارتی
آجکل سوشل میڈیا پر اور اخباروں میں دلت مسلمان اور پسماندہ مسلمان کا لفظ خوب نظر آرہا ہے ایک وقت تھا کہ جب کوئی شخص پسماندہ مسلمانوں کی بات کرتا تھا تو مذاق اڑایا جارہا تھا لیکن کہنے والے نے کہا تھا کہ ایک دن پورے ملک میں لفظ پسماندہ گونجے گا اور آج وہ بات سچ ثابت ہوئی یعنی لفظ پسماندہ چل پڑا ہے اور اب رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے بلکہ اب تو دلت مسلمان کا لفظ بھی بڑے اچھے اچھے لوگوں کی زبان سے ادا ہورہاہے پارلیمنٹ سے لے کر اسمبلی تک اور شاہراہوں سے لے کر اسٹیج تک دلت مسلمان اور پسماندہ مسلمان کی بات ہورہی ہے اور ہونی بھی چاہئے بلکہ بہت پہلے ہی سے ہونی چاہئے تھی بہر حال جب سے جاگو تب سے سویرا ۔
یہ حقیقت ہے کہ ملک کے آئین کے تحت مذہبی بنیاد پر ریزرویشن نہیں ہے بلکہ سچائی پر مبنی ایک لکیر کھینچی گئی ہے اور اس لکیر اس دائرے میں ایسے لوگ ہیں جو سیاسی وسماجی اور تعلیمی اعتبار سے پیچھے رہ گئے ہیں اور یہ بھی سچائی ہے کہ ان کو پیچھے رکھا بھی گیا ہے اور اس سماج کی آبادی پچاسی فیصد ہے اور اسی کو پسماندہ ( بیک ورڈ) کہا جاتا ہے۔
مسلمانوں میں کچھ برادریاں ایسی ہیں جو دلت کے زمرے میں آتی ہیں اور ایسی بھی برادریاں ہیں جو پیشے کے اعتبار سے مذہبی بنیاد پر ایک جیسی ہیں بس کچھ کے نام الگ الگ ہیں اور کچھ کے نام بھی ایک جیسے ہیں مثلاََ دھوبی، نٹ، کھٹک، پاسی، حلال خور، موچی وغیرہ وغیرہ یہ دلت میں آتے ہیں اور جب آئین مرتب ہوا تو ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر نے ان برادریوں کو دلت کے زمرے میں رکھا اور انہیں مخصوص سہولت فراہم کی اس میں مذہبی پابندی نہیں رکھی اور یہ سہولت جس دفعہ کے تحت فراہم کی گئی وہ دفعہ 341 کہلائی لیکن 10 اگست 1950 کو کانگریس کے دور حکومت میں اس دفعہ 341 میں پیرا 3 کا اضافہ کرکے مسلمانوں کی ان برادریوں کو اس مخصوص سہولت یعنی دلت ریزرویشن سے محروم کردیا گیا ،، اب یہیں سے سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب مذہبی بنیاد پر ریزرویشن نہیں ہے تو مذہبی بنیاد پر ریزرویشن پر پابندی کیوں ہے اور آج کانگریس سینہ ٹھونک ٹھونک کر پسماندہ ہندو مسلم کی بات کرتی ہے لیکن اپنی اس کارستانی کا ذکر آج بھی نہیں کرتی ہے پھر کیسے مان لیا جائے کہ پسماندہ مسلمانوں کے تئیں کانگریس کی نیت صاف ہے اور پسماندہ مسلمانوں کی لڑائی لڑنے والے جو کانگریس میں شامل ہوئے ہیں وہ بھی بتائیں کہ کانگریس میں ان کی شمولیت کا مقصد کیا ہے کیا کانگریس نے اپنی 1950 کی غلطی کی معافی مانگ لی ہے؟ کیا کانگریس نے کہا ہے کہ ہماری حکومت بنی تو ہم اپنی اس غلطی کا ازالہ کریں گے اور دفعہ 341 پر لگی مذہبی پابندی کو ختم کریں گے اور ہندو دلتوں کی طرح مسلم دلتوں کو بھی ریزرویشن دیں گے
یہ بھی سچائی ہے کہ 1950 میں جب دلت مسلمانوں کے ریزرویشن پر پابندی عائد کی گئی تو اس وقت کے بڑے بڑے مسلم سیاسی لیڈران نے اس کی مخالفت نہیں کی اور اس کے بعد بھی طویل عرصے تک مخالفت نہیں کی گئی اور آج بھی مسلمانوں کے نام پر بنی بڑی بڑی تنظیموں میں سے بہت سی تنظیمیں خاموش ہیں جبکہ ان تنظیموں کا وجود انہیں سماج کی بدولت برقرار ہے وہ تو جب خود پسماندہ و دلت مسلمانوں نے کمیٹیاں بنائی تو ان تنظیموں میں سے کچھ نے لب کشائی کرنا شروع کیا اور تنظیموں کے ذمہ داران بہت دنوں تک سبھی مسلمانوں کے لئے ریزرویشن کی مانگ کرتے رہے اور سارے مسلمانوں کی حالت دلتوں سے بدتر بتاتے رہے جبکہ انہیں بھی معلوم ہے کہ مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن نہیں ہے اس طرح ان کی بھی نیت شک کے دائرے میں تھی ۔
بہر حال اب تو لفظ پسماندہ چل پڑا ہے تو جو لوگ پہلے سے چلارہے تھے وہ تو آج بھی چلارہے ہیں لیکن جو مخالفت کررہے تھے اب وہ بھی لفظ پسماندہ چلانے کی کوشش کررہے ہیں ،، اس سال 10 اگست کو کسی نے یوم سیاہ منایا تو کسی نے بتی گل اندھیرا کرنے کی اپیل کی مختلف پارٹیوں اور سماجی شخصیات و تنظیموں نے جلوس نکالا اسٹیج لگایا اور مطالبہ کیا کہ دفعہ 341 سے مذہبی پابندی ہٹائی جائے۔
10 اگست 1950 کو اس وقت کی کانگریس حکومت کے ذریعے خصوصی آرڈیننس کی مدد سے آئین کی دفعہ 341 میں ترمیم کرکے مذہبی پابندیاں مسلم اور عیسائی مذہب کے دلت طبقات کے ریزرویشن ختم کرنے کے خلاف مختلف اضلاع کے ہیڈکوارٹر پر مظاہرہ ہوا اور ضلع انتظامیہ کے توسط سے وزیر اعظم کے نام میمورنڈم بھی دیا گیا۔
دلت مسلمانوں کے ریزرویشن کے لئے آوازیں تو اب اٹھ رہی ہیں لیکن آج بھی ان پلیٹ فارموں سے آواز بلند نہیں ہوتی جس پلیٹ فارم سے کبھی ملک و ملت بچاؤ کانفرنس کی جاتی ہے ، کبھی تحفظ جمہوریت کانفرنس کی جاتی ہے ، کبھی تحفظ مدارس کانفرنس کی جاتی ہے ، کبھی کل مذاہب کانفرنس کی جاتی ہے اور ایک اسٹیج پر سبھی مذاہب کے رہنماوں کو بلایا جاتا ہے اس پلیٹ فارم سے اور اس اسٹیج سے کبھی دلت مسلم ریزرویشن کی آواز نہیں اٹھائی جاتی ، کبھی پسماندہ و دلت مسلم تحفظ کانفرنس نہیں کرائی جاتی آخر کیوں
اور جب اس پلیٹ فارم سے دلت مسلمانوں کے لئے ریزرویشن کی آواز نہیں اٹھائی جاتی ہے اور دفعہ 341 پر عائد مذہبی پابندی ہٹانے کا مطالبہ نہیں کیا جاتا ہے تو پھر اسی پلیٹ فارم کے ذمہ دار انفرادی طور پر مختلف اسٹیج سے دلت مسلمانوں کے ریزرویشن کی بات کیوں کرتے ہیں؟ یہ سستی شہرت کا بھوکا پن نہیں تو اور کیا ہے یہ معاملہ اور یہ بات اور نام نہاد مسلم لیڈران کا طرز عمل دلت و پسماندہ مسلمانوں کو بھی سمجھنا ہوگا کہ جو بات انفرادی طور پر خطاب میں کہا جاتا ہے اسی بات کو اپنے پلیٹ فارم اور اس تنظیم کے بینر تلے اس اسٹیج سے کہنے سے پرہیز کیوں جاتا ہے اور شرم کیوں محسوس کیا جاتا ہے۔
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ آزادی کا بنیادی مقصد ملک کے تمام طبقات کو سیاسی ، سماجی ، اقتصادی اور تعلیمی بیداری و ترقی کے لئے یکساں مواقع فراہم کرنا تھا اور اسی وجہ سے مذہب ، ذات برادری ، طبقے ، نسل، جنس زبان کی تفریق کے بغیر تمام طبقات کی پسماندگی کو دور کرنے اور ان کا معیار زندگی بلند کرنے کے لئے صدیوں سے ناانصافی کا شکار رہنے والوں کو ریزرویشن جیسی سہولت فراہم کی گئی لیکن جواہر لعل نہرو کی قیادت میں آزاد ہندوستان کی پہلی کانگریس حکومت نے سماج کے مختلف دلت طبقات کے ساتھ امتیازی سلوک کیا اور ریزرویشن سے متعلق آئین کے آرٹیکل 341 میں ترمیم کرکے مذہبی پابندیاں لگا دیں۔
جواہر لعل نہرو حکومت نے 10 اگست 1950 کو خصوصی آرڈیننس پاس کیا، آرٹیکل 341 میں یہ شرط لگادیا کہ ہندو مذہب کے علاوہ کسی دوسرے مذہب کے ماننے والے درج فہرست ذات کے لوگ ریزرویشن کے اہل نہیں ہوں گے جبکہ نہرو حکومت کا یہ فیصلہ پوری طرح آئین کی خلاف ورزی تھا اب یہاں پھر وہی سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب مذہبی بنیاد پر ریزرویشن نہیں تو مذہبی بنیاد پر پابندی کیوں ؟ اور دوسرا سوال یہ بھی ہوتاہے کہ اس وقت کے مسلم سیاستداں خاموش کیوں
ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کے سینے میں اپنی قوم کا درد تھا جس کے لئے انہوں نے سہولت دی مگر دائرہ اتنا وسیع رکھا کہ مذہبی پابندی نہیں رکھی بلکہ جو بھی اس زمرے میں آئے سب کا بھلا ہوسکے لیکن مسلم سیاستدانوں کے سینے میں اپنی قوم کا درد نہیں تھا اگر ہوتا تو زبان بند نہیں رہتی ،، یہاں تک کہ 1956 میں سکھوں اور 1990 میں بدھ مذہب کے ماننے والوں کو نئی ترامیم کے ذریعے اس فہرست میں شامل کرلیا گیا لیکن پھر بھی مسلم اور عیسائی دلتوں کو اس فہرست سے باہر رکھا گیا پھر بھی مسلم رہنمائے سیاست خاموش رہے نتیجہ یہ ہوا کہ یہ دونوں دلت طبقہ ہندو ہم پیشہ ہوکر بھی ریزرویشن سے محروم ہے۔
ہاں یہ بھی ایک المیہ ہے کہ مسلمانوں کے دبے کچلے لوگوں کی کوئی تنظیم بھی بنتی ہے تو کچھ ہی دنوں میں اسی نام کی درجنوں تنظیمیں بن جاتی ہیں جیسے بہت پہلے ایک مومن کانفرنس تھی لیکن 1990 کے بعد درجنوں مومن کانفرنس بن گئی اور درجنوں قومی صدر ہوگئے ،، انڈین بیک ورڈ مسلم کانفرنس بنی ، آل انڈیا بیک ورڈ مسلم موچہ بنا، 2000 کے آس پاس میں آل انڈیا پسماندہ مسلم محاذ بنا اور آج درجنوں آل انڈیا پسماندہ مسلم محاذ ہے ، درجنوں قومی صدر ہیں اور نتیجہ یہ ہے کہ پسماندہ و دلت مسلمان آج بھی سیاسی شعور و سیاسی بیداری سے محروم ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ پسماندہ مسلمان تنظیم کو فعال بنانے اور اس کا دائرہ وسیع کرنے کے بجائے اپنا قد وسیع کرنے میں لگ جاتا ہے ،، سرکاری وسائل ملنے کے بعد بھی تنظیم کو فعال اور وسیع نہیں کیا جاتا اس سے تو یہی ظاہر ہوتا ہے کہ ہم بھی یہی چاہتے ہیں کہ ہماری جتنی پہنچ ہے اس پہنچ تک دوسرا نہ پہنچے نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کچھ راہ ہموار ہونے کے بعد بھی سارا کھیل بگڑ جاتا ہے پھر عوام کا اعتماد حاصل کرنا مشکل ہوجاتاہے اور راقم نے ایسا ماحول ، ایسا منظر اور ایسا طرز عمل خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے ۔
javedbharti508@gmail.com
جاوید اختر بھارتی (سابق سکریٹری یو پی بنکر یونین) محمدآباد گوہنہ ضلع مئو یو پی
تازہ ترین
یوم آزادی اور مسلمان
یوم آزادی ہر قوم کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ وہ دن ہوتا ہے جب ایک قوم غلامی کی زنجیروں کو توڑ کر آزادی کی نعمت حاصل کرتی ہے۔ ہندوستان کے لیے ۱۵ اگست کا دن اسی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ دن ہمیں اپنے اسلاف کی قربانیوں کی یاد دلاتا ہے اور ساتھ ہی یہ احساس بھی دلاتا ہے کہ آزادی کے بعد ہماری ذمہ داریاں کیا ہیں، خصوصاً مسلمانوں کی حیثیت سے ہم پر کیا فرائض عائد ہوتے ہیں۔
مسلمانان ہند نے آزادی کی جدوجہد میں نمایاں کردار ادا کیا اور بے شمار قربانیاں پیش کیں۔ لیکن آزادی کے بعد اصل امتحان شروع ہوتا ہے، کیونکہ آزادی کے ساتھ ذمہ داریاں بھی وابستہ ہوتی ہیں۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: “إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالإِحْسَانِ” (سورۃ النحل: ۹۰) یعنی اللہ تمہیں عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے۔ یہ آیت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ایک مسلمان کی بنیادی ذمہ داری انصاف اور بھلائی کو فروغ دینا ہے، خواہ وہ کسی بھی معاشرے میں رہتا ہو۔
ایک مسلمان کی حیثیت سے سب سے پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنے ملک کے آئین اور قوانین کی پاسداری کرے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “المسلمون على شروطهم” (سنن ابی داؤد) یعنی مسلمان اپنے معاہدوں کی پابندی کرتے ہیں۔ اس حدیث کی روشنی میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جس ملک میں ہم رہتے ہیں، اس کے قوانین اور اصولوں کا احترام کرنا ہماری دینی ذمہ داری ہے۔
یوم آزادی ہمیں اتحاد اور یکجہتی کا پیغام دیتا ہے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: “وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا” (سورۃ آل عمران: ۱۰۳) یعنی سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ نہ صرف آپس میں اتحاد برقرار رکھیں بلکہ دیگر برادریوں کے ساتھ بھی بھائی چارہ اور ہم آہنگی کو فروغ دیں۔
اسلام امن، محبت اور رواداری کا مذہب ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده” (صحیح بخاری) یعنی مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے لوگ محفوظ رہیں۔ اس حدیث کی روشنی میں ہمیں یہ سمجھ آتا ہے کہ ایک اچھا مسلمان وہی ہے جو معاشرے میں امن اور سکون کا ذریعہ بنے۔
تعلیم کی اہمیت پر بھی قرآن و حدیث میں بہت زور دیا گیا ہے۔ قرآن کی پہلی وحی ہی “اقْرَأْ” (پڑھو) کے حکم سے شروع ہوتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “طلب العلم فريضة على كل مسلم” (سنن ابن ماجہ) یعنی علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ اس لیے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ دینی اور عصری تعلیم دونوں پر توجہ دیں تاکہ وہ اپنے فرائض کو بہتر انداز میں ادا کر سکیں اور ملک کی ترقی میں حصہ لے سکیں۔
سماجی ذمہ داریوں کے حوالے سے قرآن میں ارشاد ہوتا ہے: “وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى” (سورۃ المائدہ: ۲) یعنی نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو۔ اس آیت کی روشنی میں مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے معاشرے کی اصلاح کے لیے کام کریں، غریبوں اور محتاجوں کی مدد کریں، اور انصاف کے قیام کے لیے جدوجہد کریں۔
سیاسی شعور بھی ایک اہم ذمہ داری ہے۔ اسلام ہمیں مشورے اور اجتماعی فیصلوں کی تعلیم دیتا ہے۔ قرآن میں ارشاد ہے: “وَأَمْرُهُمْ شُورَىٰ بَيْنَهُمْ” (سورۃ الشوریٰ: ۳۸) یعنی ان کے معاملات آپس کے مشورے سے طے ہوتے ہیں۔ اس اصول کی روشنی میں مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ جمہوری عمل میں حصہ لیں، اپنے ووٹ کا صحیح استعمال کریں اور ایسے نمائندوں کا انتخاب کریں جو انصاف اور دیانت کے ساتھ کام کریں۔
یوم آزادی کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے ماضی کی قربانیوں کو یاد رکھتے ہوئے حال میں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور مستقبل کے لیے بہتر منصوبہ بندی کریں۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے دین کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے ایک مثالی شہری بنیں، ملک کی ترقی میں حصہ لیں اور امن و امان کے قیام میں اپنا کردار ادا کریں۔
آزادی ایک عظیم نعمت ہے، اور اس کی حفاظت ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ اگر مسلمان قرآن و سنت کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے اپنی قومی اور سماجی ذمہ داریوں کو ادا کریں، تو نہ صرف وہ خود ترقی کریں گے بلکہ پورے ملک کی خوشحالی اور استحکام میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔ یہی یوم آزادی کا حقیقی پیغام ہے اور یہی ہماری کامیابی کا راستہ ہے۔
محمد حفیظ الدین
سکریٹری،گنجریا اتحادویلفیئر سوسائٹی
hafiznoori1987@gmail.com
تجزیہ
سوراج: تصاویر، کارٹونوں اور نوادرات کے ذریعے بیان کی گئی ہندوستان کی آزادی کی کہانی
جینت رائے چودھری
نئی دہلی، کوئی ہندوستان کی آزادی کا جشن کیسے مناتا ہے؟ پوسٹروں، تصویروں، کارٹونوں، کیلنڈروں اور یادگار اشیاء کی ایک نمائش، جو آزادی کی طرف اور آزادی کے بعد ہندوستان کے سفر کا جشن مناتی ہے، بشمول پچھلی دو صدیوں کے دوران رونما ہونے والے تمام ہنگامہ خیز واقعات کے بالکل یہی نیویل تولی کا وہ خیال ہے جو انڈیا ہیبیٹیٹ سینٹر میں سوچ سمجھ کر تیار کی گئی نمائش “سوراج” کے پیچھے ہے، جو پوسٹروں، تصویروں، دستاویزات اور یادگاری اشیاء کی ایک نمائش ہے جو آزادی کے لیے ہندوستان کے طویل سفر اور 1947 کے بعد اس کے شاندار، ہنگامہ خیز سفر کا احاطہ کرتی ہے۔
تولی نے 16 ویں صدی میں ہندوستان کے ساحل کے ساتھ فرانسیسی اور ڈچ بستیوں کی تانبے کی تختی کی نقش و نگاری سے لے کر تحریک آزادی کے پوسٹروں، سبھاش چندر جیسی فلموں کے اشتہارات اور فلمساز باسو چٹرجی کے بلٹز کے لیے بنائے گئے سیاسی کارٹونوں تک اپنی نمائش کا جائزہ لینے کے دوران یو این آئی سے بات کرتے ہوئے کہا، “میں نوجوانوں میں تخیل کو بیدار کرنے کے لیے بصری، مقبول ثقافتی تصورات کا استعمال کرتا رہا ہوں تاکہ ہماری جنگِ آزادی کو سمجھنے کی کوشش کی جائے… ہمارا تعلیمی نظام سیکھنے کو محدود کر دیتا ہے، اس طرح کی عوامی نمائش سوچ اور احساس کو ابھارنے کی کوشش کرتی ہے۔”
تاریخ کا ایک ایسا منظر جو سامنے آنے والی کہانی میں کسی کا فریق بنے بغیر سوالات کو جنم دیتا ہے اور ابھارتا ہے اور جوابات فراہم کرتا ہے۔ کانگریس، کمیونسٹ، اور عسکری انقلابی تحریکیں سبھی کی نمائندگی کی گئی ہے، جیسا کہ آر ایس ایس کی ہے۔
یہ نمائش آزادی کی جنگ کے روایتی مطبوعہ بیانیے سے آگے دیکھنے کی کوشش کرتی ہے۔ یہ پچھلی دو صدیوں کا سفر کرتی ہے، ان واقعات، شخصیات اور تحریکوں کو اکٹھا کرتی ہے جنہوں نے برصغیر کو نوآبادیاتی تسلط اور مزاحمت سے تبدیل کیا؛ 1857 کی بغاوت؛ قوم پرستی کا عروج؛ بنگال کی نشاۃ ثانیہ؛ سودیشی تحریک؛ گاندھی اور عوامی تحریکیں؛ انقلابی جدوجہد؛ دونوں عالمی جنگیں؛ تقسیم اور آزادی۔
تاہم، سوراج 15 اگست 1947 پر ختم نہیں ہوتا۔ سفر جاری ہے — چین کے ساتھ 1962 کی جنگ، 1971 کی بنگلہ دیش کی آزادی، اور محترمہ اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی کے قتل اس دور کے اخبارات کے صفحات کے ذریعے اور پوسٹروں اور کارٹونوں کے ذریعے آپ کو گھورتے ہیں۔
ہندوستان کو ایک ایسے ملک کے طور پر دکھایا گیا ہے جیسا کہ وہ تھا، انتشار کا شکار، متنوع، اور پھر بھی ایک مشترکہ منزل کی طرف گامزن۔ ایک ایسی قوم جو تقسیم، مہاجروں، جنگوں، رجواڑہ ریاستوں کے انضمام، آئین کی تشکیل، ریاستوں کی لسانی تنظیم نو، سیاسی اتھل پتھل، اقتصادی تبدیلی، ایمرجنسی، لبرلائزیشن اور ان ڈرامائی تبدیلیوں کا سامنا کر رہی ہے جنہوں نے آزادی کے بعد کی دہائیوں میں ہندوستان کو نئی شکل دی ہے۔
بھولے ہوئے سیاسی کارٹون نگاروں اور ہندوستان کے معاشی مسائل، اندرونی کشمکش، اور برصغیر کو متاثر کرنے والی جغرافیائی سیاست پر ان کے شاندار طنز کو تاریخ پر روشنی ڈالنے کے لیے واپس لایا گیا ہے۔
پاپ کیلنڈر جو بوس کو بھارت ماتا کو حتمی قربانی پیش کرنے کے لیے اپنا سر کاٹتے ہوئے دکھاتے ہیں، ایک سوچ میں ڈوبے ہوئے جواہر لعل نہرو کی کیلنڈر آرٹ کے ساتھ رکھے گئے ہیں، اس کے ساتھ بڑی سیاہ و سفید تصاویر ہیں جو 1950 کی دہائی کے “جدید ہندوستان کے مندر” کہلانے والے اسٹیل ملز اور کارخانوں کے جوش و خروش کو زندہ کرتی ہیں، بھولی ہوئی یادوں کو واپس لاتی ہیں یا نئی یادوں کو بیدار کرتی ہیں۔
پس منظر میں موسیقی ہلکے سے پرانے گانے بجاتی ہے، اور ناظرین “چھوڑو کل کی باتیں… ہم ہندوستانی” اور “آؤ بچوں تمہیں دکھاؤں جھانکی ہندوستان کی” جیسے دل کو چھو لینے والے گانوں کے ساتھ سُر ملاتے ہیں، جو 1950 اور 1960 کی دہائی کے حب الوطنی کے پاپ نغموں میں سب سے بہترین ہیں۔
پوسٹر، نایاب تصاویر، اخبار کے صفحات، سیاسی کارٹون، خطوط، سرکاری دستاویزات، اشتہارات، ذاتی یادگاری اشیاء، اور دیگر تاریخی نوادرات، جنہیں تولی نے سوراج کو تیار کرنے کے لیے اکٹھا کیا ہے، ہر دور کے ماحول کو دوبارہ تخلیق کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ایک لحاظ سے، یہ جدید ہندوستان کی ایک غیر معمولی بصری تاریخ ہے، کسی ایک سیاسی نظریے یا ماضی کے کسی ایک ورژن کا جشن نہیں ہے، بلکہ ہندوستانی تجربے کے غیر معمولی دائرہ کار کو سمیٹنے کی ایک کوشش ہے۔
جیسے ہی بھیڑ نمائش کے درمیان گھومتی ہے، سیلفیاں بناتی ہے، تولی اپنے ماتھے کا پسینہ پونچھتے ہیں اور مسکراہٹ کے ساتھ کہتے ہیں، “لوگ اس لیے جڑتے ہیں کیونکہ نمائش، موسیقی، سبھی مل کر اس بات کا احساس دلاتے ہیں کہ ہندوستان نے کیا کچھ برداشت کیا۔”
نیویل تولی اور ان لوگوں کے لیے جو پاپ جدید تاریخ کی ان کی تیار کردہ سمجھ کو دیکھنے کے لیے جمع ہوئے ہیں، آزادی کا جشن منانے کا یہی مطلب ہے — یہ یاد رکھنا کہ ہم کہاں سے آئے ہیں، ان اتھل پتھل کو سمجھنا جنہوں نے ہمیں شکل دی، اور اس ہندوستان پر غور کرنا جسے ہم نے آزاد ہونے کے بعد سے تعمیر کیا ہے۔
یو این آئی ایف اے
تجزیہ
کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج، بڑھتی ہوئی جی ڈی پی اور روزگار کے مواقع میں کمی
از: جینت رائے چودھری
نئی دہلی، دوپہر ڈھل چکی ہے، دہلی کی دھندلی دھوپ میں ہزاروں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں جمع ہیں، وہ ایک ایسے احتجاج میں شریک ہیں، جو کئی دنوں سے جاری ہے، لیکن جمعہ کو کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی جانب سے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے پر ملک گیر تحریک کے اعلان کے بعد اس میں نئی جان آ گئی ہے،جن پتھ پر واقع عالیشان امپیریل ہوٹل سے جے پور کے سوائی مان سنگھ کی تعمیر کردہ اٹھارویں صدی کے اوائل کی رصد گاہ جنتر منتر کی جانب جانے والی تنگ سڑک کو پولیس نے بیریکیڈ لگا کر بند کر دیا ہے۔
فسادات پر قابو پانے والی پولیس کی تین قطاریں تعینات ہیں، لیکن اس کے باوجود دہلی اور اس کے آس پاس کی یونیورسٹیوں کے طلبہ بلکہ گوہاٹی سے پونے تک مختلف شہروں سے آئے نوجوان، پولیس کی ناکہ بندی سے بچتے ہوئے احتجاج میں شامل ہو رہے ہیں۔ اس احتجاج نے اب عالمی توجہ حاصل کر لی ہے۔
غازی آباد کے 21 سالہ انجینئرنگ کے طالب علم کوستوو دت نے کہا، “میں اس لیے آیا ہوں کیوں کہ پیر کے روز طلبہ کو بلاوجہ بری طرح پیٹا گیا۔ ہمارا تعلیمی نظام ٹوٹ چکا ہے۔ طلبہ صرف امتحانات میں شفافیت کا مطالبہ کر رہے تھے، پھر ان کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کیوں کیا گیا؟”
چند ہفتے قبل سی جے پی نے مئی میں منعقد ہونے والے نیشنل ایلیجبلٹی کم انٹرنس ٹیسٹ (نیٹ) میں مبینہ پرچہ لیک ہونے اور دیگر بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج شروع کیا تھا۔ پیر کو پولیس کی کارروائی، جس میں متعدد طلبہ کو دوڑا کر مارا گیا اور درجنوں زخمی ہوئے، جن میں کئی کی آنکھوں اور سر پر چوٹیں آئیں، کے بعد یہ احتجاج مزید شدت اختیار کر گیا۔
لیکن ہندوستان کے نوجوانوں کے لیے ناقص امتحانی نظام اور پولیس سے تصادم دراصل برسوں سے بڑھتی ہوئی بے چینی کا آخری سبب ثابت ہوا۔ 1990 کی دہائی سے ملک کی نوجوان آبادی، تعلیم کی شرح اور مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں مسلسل اضافہ ہوا، مگر روزگار کے مواقع اسی رفتار سے پیدا نہیں ہو سکے، جس کے نتیجے میں نوجوانوں میں شدید مایوسی جنم لیتی رہی۔
ہندوستان میں 15 سے 29 برس کی عمر کے تقریباً 36 کروڑ 70 لاکھ نوجوان ہیں، جو دنیا کی سب سے بڑی نوجوان آبادیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ایک وقت میں اسے ملک کا “یوتھ ڈیوڈنڈ” قرار دیا جاتا تھا، لیکن اس صلاحیت کو معاشی ترقی میں تبدیل کرنا اتنا آسان ثابت نہیں ہوا۔
اگرچہ ہندوستان کی جی ڈی پی کئی برسوں تک سات فی صد سے زیادہ کی رفتار سے بڑھتی رہی، لیکن سینٹر فار مانیٹرنگ انڈین اکانومی کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق رواں سال جون میں بے روزگاری کی شرح تقریباً 6.64 فی صد رہی۔
اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں میں یہ شرح اس سے بھی زیادہ ہے۔ عظیم پریم جی یونیورسٹی کی رواں سال جاری کردہ رپورٹ کے مطابق 25 سے 29 برس کی عمر کے گریجویٹس میں بے روزگاری کی شرح تقریباً 20 فیصد ہے۔
جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے سابق پروفیسر معاشیات ڈاکٹر بسواجیت دھر نے یو این آئی سے کہا، “یہ احتجاج اس بات کی علامت ہے کہ ہم اپنی نوجوان آبادی کو وہ معاشی مواقع فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں جن کا وعدہ ایک زیادہ تعلیم یافتہ نسل سے کیا گیا تھا۔”
‘اسٹیٹ آف ورکنگ انڈیا 2026’ رپورٹ کے مطابق 05-2004سے 2023 تک ہر سال تقریباً 50 لاکھ نئے گریجویٹس سامنے آئے، لیکن ان میں سے صرف 28 لاکھ کو روزگار مل سکا۔ ان میں بھی مستقل تنخواہ والی ملازمت حاصل کرنے والوں کی تعداد بہت کم رہی، جس کے نتیجے میں گریجویٹ بے روزگاری میں اضافہ اور آمدنی کی رفتار میں کمی دیکھی گئی۔
کانپور سے تعلق رکھنے والی پوسٹ گریجویٹ طالبہ پریتی مشرا، جو جنوبی مشرقی دہلی میں ایک پیئنگ گیسٹ رہائش گاہ میں رہتی ہیں اور مختلف سرکاری و یونیورسٹی ملازمتوں کے امتحانات دے رہی ہیں، کہتی ہیں، “جہاں ملازمتیں موجود بھی ہیں وہاں ابتدائی تنخواہ اتنی کم ہے کہ والدین کو ہماری مالی مدد جاری رکھنی پڑتی ہے۔”
ہیومن ریسورس کمپنیوں کے مطابق ملک کے کئی حصوں میں انجینئروں کی ابتدائی تنخواہ آج بھی تقریباً 30 ہزار روپے ماہانہ ہے، اور گزشتہ آٹھ سے دس برس میں اس میں کوئی خاص اضافہ نہیں ہوا۔ پریتی مشرا کہتی ہیں، “معیاری ملازمتیں بہت کم ہیں، اسی لیے مسابقتی امتحانات کی دوڑ لگی ہوئی ہے اور اب نوجوانوں کو یہ خوف بھی ہے کہ ان امتحانات میں بھی ان کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے۔”
اس کے باوجود ہندوستان میں اعلیٰ تعلیم میں داخلے کی شرح سن 2000 کے تقریباً 10 فی صد سے بڑھ کر 2026 میں 30 فی صد تک پہنچ گئی ہے، جس کا مطلب ہے کہ ملک میں پہلے سے کہیں زیادہ تعلیم یافتہ نوجوان موجود ہیں۔
کوستوو دت کہتے ہیں، “یہ تمام باتیں ہمیں پریشان کرتی ہیں۔ میرے والد کسان ہیں اور انہوں نے قرض لے کر ہم بہن بھائیوں کو پڑھایا ہے۔ کیا ہمیں ایسی ملازمت ملے گی جس سے ہمارے خاندان کی حالت بہتر ہو سکے؟ یا پھر ہمیں ملازمتوں میں امتیاز اور امتحانات میں دھوکے کا سامنا کرنا پڑے گا؟”
اسی دوران ہجوم میں زور دار نعرے گونجنے لگتے ہیں۔ سی جے پی کے رہنما ابھیجیت دیپکے اعلان کرتے ہیں کہ اب سب لوگ کھڑے ہو کر قومی ترانہ گائیں۔
پسینے اور شاید فخر سے چمکتے ہوئے چہرے روشن ہو اٹھتے ہیں جب وہاں موجود مجمع قومی ترانہ ‘جن گن من ‘ گاتا ہے۔
طلباء کو ضرورت پڑنے پر قابو میں رکھنے کے لیے لاٹھیوں کے ساتھ گھومنے والے پولیس اہلکار بھی مودب انداز میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔ دہلی کے ابر آلود آسمان سے سورج بھی چند لمحوں کے لیے جھانکنے لگتا ہے۔
یواین آئی۔ م س ۔ م الف
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
ہندوستان6 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا6 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
