ہندوستان
سیکیورٹی، رابطہ اور تعاون کے مواقع ترقی کی کلید ہیں: ایس سی او میں پی ایم مودی کا بیان
تیانجن/نئی دہلی وزیر اعظم نریندر مودی نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے اجلاس میں رکن ممالک کے درمیان سیکورٹی، رابطے اور باہمی تعاون کے مواقع پر زور دیتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ طور پر لڑنےاور اقوام متحدہ میں اصلاحات اورعالمی خطۂ جنوب کی آوازکو پرزور طریقے سے اٹھایا۔
انہوں نے رکن ممالک سے ہندوستان کی ترقی کے سفر میں شامل ہونے کی اپیل کی اور ہندوستان میں مختلف سطحوں پر اصلاحات کے لئے کئے جا رہے کاموں کا ذکر کیا۔
مسٹر مودی نے رکن ممالک کے لوگوں کے درمیان رابطے کو فروغ دینے کے لیے ایس سی او کے تحت ایک ’ثقافتی ڈائیلاگ فورم‘ کے قیام کی تجویز بھی دی۔
مسٹر مودی، جو سات سال بعد چین کے اپنے پہلے دورے پر ہیں، پیر کے روز یہاں ایس سی او کے سربراہان مملکت کے 25ویں سربراہی اجلاس سے خطاب کیا۔ اپنے خطاب کے آغاز میں انہوں نے ازبکستان کی یوم آزادی اور کرغزستان کے قومی دن پر دونوں ممالک کے رہنماؤں کو مبارکباد دی۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ چوبیس برسوں میں ایس سی او نے پورے یوریشین خطے کے ’توسیع شدہ کنبے‘ کو جوڑنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے ایک فعال رکن کے طور پر تنظیم میں ہمیشہ تعمیری اور مثبت کردار ادا کیا ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ سیکورٹی، رابطہ اور ایس سی او کے ساتھ تعاون کے مواقع ہندوستان کی سوچ اور پالیسی کے تین اہم ستون ہیں۔
سلامتی کے پہلے ستون کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سلامتی، امن اور استحکام کسی بھی ملک کی ترقی کی بنیاد ہوتے ہیں لیکن اس راستے میں دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی بڑے چیلنجز ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی صرف ایک ملک کی سلامتی کے لیے چیلنج نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے مشترکہ چیلنج ہے۔ اسی لیے ہندوستان نے ہمیشہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اتحاد پر زور دیا ہے۔
مسٹر مودی نے کہا کہ ہندوستان گزشتہ چار دہائیوں سے دہشت گردی کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا ’حال ہی میں ہم نے پہلگام میں دہشت گردی کی سب سے گھناؤنی شکل دیکھی۔ یہ حملہ نہ صرف ہندوستان کی روح پرکاری ضرب تھی، بلکہ یہ ہر ملک، ہر اس شخص کے لیے کھلا چیلنج تھا جو انسانیت پر یقین رکھتا ہے۔‘
انہوں نے دہشت گردی کی حمایت کرنے والے ممالک کا نام لیے بغیر ان ممالک کو کٹہرے میں کھڑا کرتے ہوئے کہا کہ ایسی صورتحال میں یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ کیا کچھ ممالک کی جانب سے دہشت گردی کی کھلی حمایت ہمارے لیے قابل قبول ہوسکتی ہے
اس موقع پر مسٹر مودی نے ان ممالک کو بھی نشانہ بنایا جو دہشت گردی کے معاملے پر دوہرا معیار اپنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا دہشت گردی کی مخالفت کرنا سب کی ذمہ داری ہے اور اس معاملے پر دوہرا معیار برداشت نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں واضح طور پر اور ایک آواز میں کہنا ہے کہ دہشت گردی پر کوئی دوہرا معیار قبول نہیں کیا جائے گا، ہمیں دہشت گردی کے ہر رنگ و روپ کی مل کر مخالفت کرنی ہے، یہ انسانیت کے تئیں ہماری ذمہ داری ہے۔
دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف ہندوستان کی مہم کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا، ’ہندوستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اتحاد پر زور دیا ہے۔ ہندوستان نے ایک مشترکہ معلوماتی مہم کی قیادت کرتے ہوئے القاعدہ اور اس سے وابستہ دہشت گرد تنظیموں سے لڑنے کے لیے پہل کی۔ ہم نے ہم آہنگی بڑھانے اور بنیاد پرستی کے خلاف مشترکہ اقدامات کرنے کی تجویز بھی رکھی ۔ ہم نے دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف آواز اٹھائی۔‘
کنیکٹیویٹی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ مضبوط رابطہ نہ صرف تجارت بلکہ اعتماد اور ترقی کے دروازے بھی کھولتا ہے۔ انہوں نے کہا، ’اس سوچ کے ساتھ، ہم چابہار پورٹ اور انٹرنیشنل نارتھ ساؤتھ ٹرانسپورٹ کوریڈور جیسے اقدامات پر کام کر رہے ہیں۔ ان کے ذریعے ہم افغانستان اور وسطی ایشیا کے ساتھ روابط بڑھا سکتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ رابطے کی ہر کوشش میں خود مختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کیا جانا چاہیے۔ یہ ایس سی او چارٹر کے بنیادی اصولوں میں بھی شامل ہے۔‘
وزیر اعظم نے کہا کہ خودمختاری کی خلاف ورزی کرنے والا رابطہ اعتماد اور اہمیت کو ختم کرتا ہے۔
تعاون کے تیسرے ستون اور بہتری کے مواقع کے بارے میں انہوں نے کہا، ’2023 میں ہندوستان کی صدارت کے دوران، نئی توانائی اور خیالات کی آمیزش تھی، ہمارے تعاون میں نئے موضوعات جیسے اسٹارٹ اپس اور اختراع، روایتی ادویات، نوجوانوں کو بااختیار بنانا، ڈیجیٹل شمولیت اور مشترکہ بدھ وراثت شامل کیے گئے تھے۔‘
انہوں نے کہا کہ ہندوستان ،حکومتوں سے بڑھ کر عام لوگوں، نوجوان سائنسدانوں، اسکالرس اور اسٹارٹ اپس کو شامل کرنا چاہتا ہے۔
مسٹر مودی نے لوگوں کے درمیان رابطے بڑھانے کے لیے ایس سی او کے تحت ایک ’ثقافتی ڈائیلاگ پلیٹ فارم‘ بنانے کا بھی مشورہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے ذریعے ہم اپنی قدیم تہذیبوں، فن، ادب اور روایات کو عالمی پلیٹ فارم پر شیئر کر سکتے ہیں۔
ملک میں مختلف سطحوں پر کی جا رہی اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ملک نے ہر چیلنج کو مواقع میں تبدیل کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس سے ملک میں ترقی کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی تعاون کے نئے مواقع بھی کھل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ سبھی کو ہندوستان کی ترقی کے سفر میں شامل ہونے کی دعوت دیتے ہیں۔
انہوں نے منظم جرائم، منشیات کی اسمگلنگ اور سائبر سیکورٹی جیسے عصری چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے چار نئے مراکز کے قیام کا خیر مقدم کیا۔ اقوام متحدہ جیسے اداروں میں اصلاحات کا مطالبہ کرتے ہوئے مسٹر مودی نے کہا، ’ایس سی او کے رکن عالمی اداروں کی اصلاح کے لیے باہمی تعاون کو بڑھا سکتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی 80ویں سالگرہ کے موقع پر ہم متفقہ طور پر اقوام متحدہ میں اصلاحات کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔‘
مسٹر مودی نے ترقی پذیر ممالک کی آواز سننے پر زور دیتے ہوئے کہا، ’عالمی خطۂ جنوب کی امنگوں کو پرانے فریم ورک میں قید رکھنا آنے والی نسلوں کے ساتھ بہت بڑی ناانصافی ہے۔ ہم نئی نسل کے کئی رنگوں کے خواب پرانے زمانے کی بلیک اینڈ وائٹ اسکرین پر نہیں دکھا سکتے۔ اسکرین کو تبدیل کرنا ہوگا۔‘
انہوں نے اس سمت میں ایس سی او کی اہمیت کا ذکر کیا اور کہا، ایس سی او کثیرجہتی اور جامع عالمی نظام کے لیے رہنما بن سکتا ہے۔
اس موقع پر انہوں نے ایس سی او کے اگلے صدر، کرغزستان کے صدر جپارو کے لیے نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا۔
یو این آئی۔ اے ایم۔ایس وائی۔
ہندوستان
نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد 320 ہندوستانی شہری لاپتہ، 21 کو وطن واپس لایا گیا: وزارتِ خارجہ
نئی دہلی، نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد وہاں تقریباً 320 ہندوستانی شہری لاپتہ ہیں جبکہ 21 ہندوستانی شہریوں کو اب تک بحفاظت وطن واپس لایا گیا ہے وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے جمعہ کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ جمعرات کو ترشولی توانائی منصوبے میں پھنسے 63 افراد کو بچایا گیا تھا۔
کاٹھمنڈو میں ہندوستانی سفیر نے ان سے ملاقات کی ہے۔ اس کے علاوہ 96 ہندوستانی شہری چین کے علاقے سے زمینی راستے سے نیپال کی طرف بحفاظت پہنچ چکے ہیں۔ ان تمام کو وطن واپس لانے کے لیے حکومت انتظام کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین کے علاقے میں ابھی بھی تقریباً 400 ہندوستانی شہری ہیں لیکن وہ تمام محفوظ ہیں اور ان کے اہل خانہ نیز ہندوستانی سفارت خانے سے ان کی بات ہوئی ہے کیونکہ وہاں موبائل نیٹ ورک کام کر رہا ہے۔ اس علاقے میں بھی لینڈ سلائیڈنگ ہوئی ہے اور راستوں کی خرابی کی وجہ سے ان کی واپسی میں وقت لگ سکتا ہے۔ حکومت انہیں وطن واپس لانے کا انتظام کر رہی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ اس کے علاوہ ہند نژاد تقریبا 100 مزید افراد لاپتہ ہیں جو مختلف ممالک کے رہنے والے ہیں۔ ممکن ہے کہ یہ لوگ کیلاش مانسروور یاترا کے لیے گئے ہوں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ابھی تک صرف لاپتہ افراد کا اعداد و شمار ملا ہے اور کسی ہندوستانی شہری کی موت کی تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔
مسٹر جیسوال نے کہا کہ تمل ناڈو کے جن 21 افراد کو کل محفوظ بچایا گیا تھا آج وہ وطن واپس لوٹ آئے۔ وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے ہوائی اڈے پر ان لوگوں سے ملاقات کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جہاں تک انسانی امداد کا تعلق ہے تو اب تک دو طیاروں میں بالترتیب دس ٹن اور 37.5 ٹن امدادی سامان بھیجا جا چکا ہے اور تیسرا طیارہ آج جانے والا ہے جس میں 12 سے 13 ٹن امدادی سامان بھیجا جائے گا۔
ترجمان نے کہا کہ نیپال کی درخواست کے مطابق ایک سرنگ بچاؤ ٹیم بھیجنے کی تیاری کر رہے ہیں، جس کے لیے ضروری سامان وغیرہ کا جائزہ لینے کے لیے پہلے ایک ریکی ٹیم بھیجی جا رہی ہے۔ ایک طبی ٹیم بھی بھیجی جا رہی ہے۔ ہندوستان نے متعلقہ تکنیکی ٹیموں کے ساتھ بیلی برج کی بھی پیشکش کی ہے، تاکہ نیپال کے متاثرہ حصوں میں مواصلاتی نظام کو جلد بحال کیا جا سکے۔ ایک بیلی برج پہلے سے ہی نیپال میں موجود ہے اور اسے امدادی کوششوں کے لیے تعینات کیا جا سکتا ہے۔
مسٹر جیسوال نے کہا کہ ہندوستان نے نیپال کے حکام کو این ڈی آر ایف کی ٹیموں کو ان کے متعلقہ سامان کے ساتھ بھیجنے کی بھی خاص پیشکش کی ہے، جو تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں میں مدد کر سکتی ہیں اور سانحے سے متاثرہ لوگوں تک امداد پہنچا سکتی ہیں۔ اس سلسلے میں نیپال حکومت کے جواب کا انتظار ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان نیپال کی درخواست پر کوئی بھی دیگر امداد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
کوچنگ پر حکومت سے 2.5 گنا زیادہ خرچ کر رہے ہیں لوگ، مفت کوچنگ اسکیم ہدف سے 74 فیصد پیچھے: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے کہا ہے کہ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے 17 جون کو کوٹا میں ‘چھاتروں کی گونج’ پروگرام میں تعلیم کے شعبے کے اہم مسئلے کو اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ منافع کمانے والی کوچنگ انڈسٹری نے عوام کے تعلیمی نظام کی جگہ لے لی ہے اور ہندوستانی خاندان کوچنگ سینٹروں پر حکومت کی طرف سے تعلیم میں کی جانے والی سرمایہ کاری سے 2.5 گنا زیادہ خرچ کر رہے ہیں۔
کانگریس شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے جمعہ کے روز کہا کہ اسی انکشاف کے بعد وزیرِ اعظم نریندر مودی نے بڑھتے ہوئے عوامی دباؤ سے بچنے کی کوشش میں 15 اگست کو طلبہ کے لیے مفت آن لائن کوچنگ کا اعلان کیا ہے، تاہم حکومت کی مفت کوچنگ اسکیم کی کارکردگی لوگوں میں اعتماد پیدا نہیں کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سماجی انصاف اور تفویضِ اختیارات کی وزارت کو تین برسوں میں 10,500 امیدواروں کو مفت کوچنگ کے لیے نامزد کرنا تھا لیکن اب تک صرف 2,790 طلبہ کا ہی اندراج ہوا ہے، جو ہدف کا محض 26 فیصد ہے۔
مسٹر رمیش نے کہا، “اس اسکیم کا بجٹ ہر سال کم ہوا ہے اور گزشتہ سال اس پر کیا گیا خرچ مقررہ بجٹ کے آدھے سے بھی کم تھا۔ یہ حقائق سماجی انصاف اور تفویضِ اختیارات کی وزارت کی پارلیمانی قائمہ کمیٹی کی تازہ ترین رپورٹ میں سامنے آئے ہیں، جسے 10 اگست 2026 کو پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا۔”
کانگریس لیڈر نے الزام لگایا کہ ملک کے ابتر تعلیمی نظام کو بنیادی طور پر ٹھیک کرنے اور عوامی تعلیم میں دوبارہ سرمایہ کاری کرنے کے بجائے مودی حکومت نے عوامی وسائل کو آن لائن کوچنگ میں لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے اسے جواب دہی سے بچنے کا ایک ڈراما قرار دیا اور کہا کہ حکومت پہلے ہی دکھا چکی ہے کہ اس اسکیم کو کامیابی سے نافذ کرنے کی اس کی صلاحیت انتہائی کم ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
مالی شمولیت میں جن دھن یوجنا کے یکسرتبدیلی لانے والے رول کی وزیرِ اعظم مودی نے کی ستائش
نئی دہلی، وزیرِ اعظم نریندر مودی نے جمعہ کے روز پردھان منتری جن دھن یوجنا کی ستائش کرتے ہوئے اس کے سفر کو ” غیرمعمولی وسعت اورانقلابی نتائج” سے تعبیر کیا اور ملک بھر میں مالی شمولیت پر اس کے دور رس اثرات کو اجاگر کیا سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں وزیرِ اعظم نے کہا، ” غیرمعمولی وسعت اورانقلابی نتائج! جن دھن یوجنا کا ایک بے مثال اثر رہا ہے۔”
ان کے یہ تبصرے مالی شمولیت کی اس اہم اسکیم کے 28 اگست 2014 کو اپنے آغاز سے 12 سال مکمل ہونے پر سامنے آئے۔ پردھان منتری جن دھن یوجنا کو بینکنگ خدمات تک ہمہ گیر رسائی فراہم کرنے اور رسمی مالیاتی نظام سے باہر رہنے والے لاکھوں لوگوں کو بینکنگ نیٹ ورک میں لانے کے لیے شروع کیا گیا تھا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، 19 اگست 2026 تک 59 کروڑ سے زیادہ جن دھن کھاتے کھولے جا چکے تھے، جن میں کل جمع رقم 3.16 لاکھ کروڑ روپے سے تجاوز کر گئی ہے۔ مستفیدین میں خواتین کا تناسب 55 فیصد سے زیادہ ہے، جبکہ تقریباً 78 فیصد کھاتے دیہی اور نیم شہری علاقوں میں ہیں۔ اس اسکیم کے تحت 41 کروڑ سے زیادہ روپے۔کارڈ بھی جاری کیے گئے ہیں۔
گزشتہ 12 برسوں میں، جن دھن یوجنا حکومت کی مالی شمولیت کی کوششوں کا ایک مرکزی ستون بن گئی ہے، جس نے مستفیدین کو بینکنگ، بچت، کریڈٹ، انشورنس، پینشن کی سہولیات اور ڈیجیٹل ادائیگی کی خدمات تک رسائی حاصل کرنے میں مدد کی ہے۔
اس اسکیم نے جن دھن-آدھار-موبائل، یا جے اے ایم، فریم ورک میں بھی ایک اہم کردار ادا کیا ہے، جس نے مستفیدین کے بینک کھاتوں میں سرکاری فوائد کی براہِ راست منتقلی کو ممکن بنایا ہے اور فلاحی امداد کی فراہمی میں خامیوں کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔
اب جب کہ یہ پروگرام اپنے 13 ویں سال میں داخل ہو رہا ہے، حکومت کا کہنا ہے کہ جن دھن یوجنا رسمی مالیاتی خدمات تک رسائی کو وسعت دے رہی ہے اور ان لوگوں کی معاشی شراکت کو مضبوط کر رہی ہے جو پہلے مین اسٹریم بینکنگ نظام سے باہر تھے۔
یو این آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا7 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا7 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا7 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
