ہندوستان
مودی کی 11 سال کی اصلاحات نے معیشت کو تقویت دی ہے، جی ایس ٹی اصلاحات نئی کڑی ہے
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی کے 11 سالہ دور حکومت میں گڈز اینڈ سروس ٹیکس (جی ایس ٹی) کے نفاذ، بینکنگ اصلاحات، جن دھن-آدھار-موبائل پر مبنی جن دھن اکاؤنٹس کھولنے کی مہم، انسولوینسی کوڈ اور آر ای آر اے جیسی اصلاحات نے معیشت کو زبردست تقویت دی ہے اور آج ملک دنیا کی چار بڑی معیشت بن گیا ہے جغرافیائی سیاسی حالات کی غیر یقینی صورتحال کے باوجود ہندوستان موجودہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں 7.8 فیصد کی اقتصادی ترقی کے ساتھ آج دنیا کی بڑی معیشتوں میں سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی معیشت ہے۔ وزیر اعظم مودی نے کہا ہے کہ ملک جلد ہی امریکہ اور چین کے بعد تیسری سب سے بڑی معیشت بن جائے گا۔ ہندوستان کی رینکنگ 2013-14 میں 11 ویں تھی۔
مسٹر مودی حکومت کے جن دھن کھاتوں کے ذریعے اسکیموں کے فوائد کی براہ راست منتقلی (ڈی بی ٹی) کے نظام نے عوامی بجٹ کے رساؤ کو روک دیا ہے اور اسکیموں کو چلانے کی لاگت کو کم کیا ہے۔ بینکوں کے این پی اے کی نشاندہی اور حل کرنے کے حکومت کے فیصلے سے پبلک سیکٹر کے بینکوں کو تقویت ملی ہے اور انہیں منافع بخش بنایا گیا ہے اور ان کی قرض دینے کی صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے۔ دیوالیہ پن کے ضابطہ نے لاکھوں کروڑوں روپے کے نان پرفارمنگ اثاثوں کو زندہ کر دیا ہے اور کمپنیوں اور بینکوں کی بیلنس شیٹ کی دوہری کمزوری کو دور کر دیا ہے۔
جی ایس ٹی نے پورے ملک کی مارکیٹ کو مربوط کر دیا ہے اور تجارت کی راہ میں ریاست کے سیلز ٹیکس چوکیوں اور کسٹم چوکیوں کی رکاوٹیں تاریخ بن چکی ہیں۔ جولائی 2017 میں جی ایس ٹی کو لاگو کرنے کی تاریخی اصلاحات کے بعد مودی حکومت کی قیادت میں جی ایس ٹی کونسل نے اس ماہ جی ایس ٹی میں دوسری نسل کے اصلاحات کا اعلان کیا ہے۔
اب حکومت کو جی ایس ٹی کی نئی شرحوں کا فائدہ عام لوگوں تک پہنچانے کے چیلنج کا سامنا ہے، جو اس مہینے کی 22 تاریخ سے لاگو ہو رہی ہیں۔ جی ایس ٹی اصلاحات کے دوسرے مرحلے سے عام لوگوں کو فائدہ پہنچنے کی امید ہے، حالانکہ اس سے مرکزی حکومت کی مالیاتی صورتحال کے لیے کچھ وقت کے لیے چیلنج بڑھ سکتا ہے۔ جی ایس ٹی 2.0 میں 99 فیصد اشیاء جو 12 فیصد کی شرح میں تھیں وہ 5 فیصد کی شرح کے تحت آ گئی ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کمپنیاں عوام کو کتنا فائدہ پہنچاتی ہیں۔
اگر مودی حکومت کی 11 سالہ تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو اس نے نہ صرف سیاسی تنقید کی قیمت پر نئے قوانین بنانے کی جرات کی ہے بلکہ ان پر عمل درآمد میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ اگرچہ کوئی بھی سیاسی پارٹی جی ایس ٹی اصلاحات کی مخالفت نہیں کر رہی ہے لیکن کچھ سیاسی ناقدین اسے بہار انتخابات کے نقطہ نظر سے ضرور دیکھ رہے ہیں۔
مودی حکومت کا اقتدار میں آتے ہی سب سے بڑا فیصلہ جن دھن یوجنا تھا۔ اس نے نہ صرف براہ راست فائدہ کی منتقلی اور سماجی تحفظ کی اسکیموں میں بے ضابطگیوں کو روکنے کے لیے زمین تیار کی بلکہ کروڑوں لوگوں کو بینکنگ نیٹ ورک سے بھی جوڑا۔ اس اسکیم کے تحت اب تک 56 کروڑ سے زیادہ بینک اکاؤنٹس کھولے جاچکے ہیں، جن میں کل جمع رقم تقریباً 2,64,910 کروڑ روپے ہے۔
نوٹ بندی کا فیصلہ ایک ایسا فیصلہ تھا جس نے کئی تنازعات کو جنم دیا۔ 8 نومبر 2016 کو، صرف چار گھنٹے کے نوٹس کے ساتھ، حکومت نے رات 8 بجے 500 اور 1000 روپے کے نوٹوں کو ختم کرنے کا اعلان کیا۔ جس سے عام لوگوں کو کافی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ حکومت نے دعویٰ کیا کہ اس سے کالے دھن کا استعمال بند ہو جائے گا اور دہشت گردی کی مالی معاونت بند ہو جائے گی۔ لیکن، اگر ہم ریزرو بینک اور حکومت کے اعداد و شمار پر نظر ڈالیں، تو ان دونوں میں سے کوئی بھی ہدف حاصل نہیں ہوا۔
میک ان انڈیا مشن، جو ابھی جاری ہے، ملک میں مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے کے لیے شروع کیا گیا ہے۔ اس کا آغاز 25 مئی 2014 کو ہوا۔ اس کی وجہ سے بہت سی غیر ملکی کمپنیوں نے ہندوستان میں اپنے پلانٹ لگائے اور ہماری خود انحصاری کی طرف بڑھنے کی رفتار بڑھ گئی۔ بعد میں میک ان انڈیا کو ہر حکومتی پالیسی میں شامل کیا گیا۔
ڈیجیٹل انڈیا مشن کو جے اے ایم (جن دھن آدھار موبائل) کے ذریعے بغیر کسی رساؤ کے لوگوں کو سہولیات فراہم کرنے کی کوشش کی بنیاد کہا جا سکتا ہے۔ چاہے وہ یو پی آئی ہو یا آدھار پر مبنی لین دین کی سہولت، اس مشن نے ان سب کے لیے رابطے کو فروغ دینے کا کام کیا۔ پچھلی حکومتیں بھی اس سمت میں کام کر رہی تھیں لیکن اسے مشن موڈ میں شروع کیا گیا تھا۔ اس میں آن لائن انفراسٹرکچر کو بہتر بنانا، انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی میں اضافہ، دیہی علاقوں کو تیز رفتار انٹرنیٹ سے جوڑنا شامل ہے۔
پچھلی حکومتوں کی جانب سے بھی سرکاری اسکیموں کے فوائد حاصل کرنے کے لیے آدھار کو لازمی بنانے اور ملک کے ہر فرد کے لیے آدھار کارڈ بنانے کی کوششیں کی گئی تھیں، لیکن انھیں اس میں معمولی کامیابی حاصل ہوسکی۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی مضبوط سیاسی قوت ارادی نے اسے ممکن بنایا۔ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ بل راجیہ سبھا میں نہ جائے، آدھار ایکٹ کو فنانس بل کے طور پر پیش کیا گیا۔ سیاسی طور پر بھی اس پر تنقید کی گئی لیکن اس نے وہ کام کر دیا جسے لوگ ناممکن سمجھتے تھے۔
اجولا یوجنا کے ذریعے روایتی ایندھن کے بجائے کھانا پکانے والی گیس (ایل پی جی) کے استعمال کے لیے زمین تیار کی گئی تھی۔ اس کے تحت غریب خاندانوں کی خواتین کو ایل پی جی کنکشن کے لیے سیکیورٹی رقم جمع نہیں کرانی ہوگی۔ گیس کے چولہے کی رقم قسطوں میں کاٹی جاتی ہے اور حکومت سلنڈر پر سبسڈی دے رہی ہے۔ اس کے باوجود، اسکیم کے تحت سلنڈر کی اوسط بکنگ ایک سال میں تقریباً چار ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دیہاتوں میں لوگ روایتی ایندھن بھی استعمال کر رہے ہیں۔ یہ اسکیم مئی 2016 میں اتر پردیش کے بلیا سے شروع کی گئی تھی۔
سال 2017 میں یکم جولائی سے ملک میں ویٹ کی جگہ جی ایس ٹی لاگو کیا گیا تھا۔ یہ بھی ایک ایسا قدم تھا جس کے لیے پچھلی حکومت کوشش کر رہی تھی لیکن کامیاب نہ ہو سکی۔ مودی حکومت نے ریونیو معاوضہ کا انتظام کرکے ریاستوں کو اس کے لیے تیار کیا۔
آیوشمان بھارت یوجنا میں ہر مستحق خاندان کو سالانہ 5 لاکھ روپے تک مفت علاج کی سہولت دی جاتی ہے۔ اس اسکیم سے واقعی غریب لوگوں کو فائدہ ہوا ہے۔ سال 2024 میں اس اسکیم میں 70 سال سے زیادہ عمر کے لوگوں کو شامل کیا گیا تھا، جس سے بوڑھوں کو بڑھاپے میں علاج کی پریشانی سے نجات ملی ہے۔ ہاؤسنگ مارکیٹ میں کمپنیوں کی دھوکہ دہی کو روکنے کے لیے حکومت نے ایک ماڈل ریئل اسٹیٹ ریگولیشن ایکٹ (آر ای آر اے) بنایا جسے آج تمام ریاستوں میں نافذ کیا جا رہا ہے۔
نئے انکم ٹیکس ایکٹ کو بھی اس سال پارلیمنٹ نے منظوری دے دی ہے جو اگلے مالی سال سے نافذ العمل ہو گا۔ اس کا مقصد 64 سال پرانے انکم ٹیکس ایکٹ کو موجودہ ضروریات کے مطابق ایک نئے قانون سے تبدیل کرنا اور بہت سی ترامیم کی وجہ سے پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کو دور کرنا ہے۔
ان میں سے زیادہ تر فیصلوں کے لیے صرف سیاسی مرضی ہی کافی تھی۔ اس کے پیش نظر توقع کی جانی چاہئے کہ حکومت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عام لوگوں کو جی ایس ٹی 2.0 کا پورا فائدہ ملے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
اروناچل میں چین کے ساتھ تصادم پر حکومت سچ چھپا رہی ہے، ملک کو پوری معلومات دی جائیں: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے وزیر اعظم نریندر مودی پر اروناچل پردیش میں چینی فوج کے ساتھ ہندوستانی فوجیوں کے تصادم کی معلومات چھپانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں ملک کو گمراہ کرنے کے بجائے پارلیمنٹ اور عوام کو پوری حقیقت بتانی چاہیے۔
مسٹر کھرگے نے جمعہ کو یہاں جاری ایک بیان میں کہا کہ انڈو-تبت سرحدی پولیس (آئی ٹی بی پی) کے ڈائریکٹر جنرل نے اروناچل پردیش میں چینی پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) کے ساتھ مسلسل ہونے والے تصادم کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا ڈوکلام اور گلوان کے بعد یہ ایک اور سنگین تصادم ہے؟ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگست میں تکسنگ کے قریب چینی دراندازی کی خبریں آئی تھیں اور واچا-دمئی میں کور کمانڈر سطح کی بات چیت کے 47 دن بعد بھی تصادم جاری رہنے کی اطلاعات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اروناچل پردیش ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے اور اس معاملے میں ملک کو اندھیرے میں نہیں رکھا جانا چاہیے۔ حکومت کو بتانا چاہیے کہ کیا اس علاقے میں ہندوستان کی گشت کرنے کی رسائی متاثر ہوئی ہے۔
مسٹر کھرگے نے وزیر اعظم سے چین کو بار بار کلین چٹ دینا بند کرنے اور ملک کے سامنے صورتِ حال واضح کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ قومی سلامتی کے معاملے میں جواب دہی ضروری ہے، نہ کہ سفارتی ملاقاتیں اور گلے ملنا۔
چین پر اقتصادی انحصار کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ گلوان میں 20 ہندوستانی فوجیوں کی شہادت کے بعد مالی سال 2020-21 سے چین سے درآمدات میں 102 فیصد اضافہ ہوا ہے اور چین کے ساتھ ہندوستان کا تجارتی خسارہ بڑھ کر 112.16 ارب ڈالر ہو گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیر خزانہ نرملا سیتارمن تسلیم کر چکی ہیں کہ چین ہندوستانی برآمدات میں رکاوٹیں ڈالتا ہے۔ چین سے وابستہ سرمایہ کاری پر پابندیوں میں نرمی اور اہل چینی کمپنیوں کو پیداوار سے منسلک ترغیبات (پی ایل آئی) دینے پر غور کیے جانے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے سوال کیا کہ کیا اب ‘میک اِن انڈیا’، ‘امپورٹ فرام چائنا’ بن گیا ہے؟
مسٹر کھرگے نے کہا، ”وزیر اعظم نریندر مودی اور چین کے صدر شی جن پنگ کے درمیان کم از کم 23 ملاقاتیں اور بات چیت ہوئی ہیں۔ قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال کی شرکت کے ساتھ خصوصی نمائندوں کی سطح پر 25 دور کی بات چیت ہوئی ہے اور سرحدی معاملات پر مشاورت و تال میل کے لیے ورکنگ میکانزم (ڈبلیو ایم سی سی) کی 36 میٹنگیں ہو چکی ہیں۔ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) اور برکس کے سربراہ اجلاسوں میں بھی دونوں فریقوں کے درمیان رابطہ ہوا ہے۔ ان ملاقاتوں کے کیا ٹھوس نتائج برآمد ہوئے اور کیا مئی 2020 سے پہلے گشت کرنے کی رسائی مکمل طور پر بحال ہو گئی ہے؟ ہمیں مسلح افواج پر پورا بھروسہ ہے، لیکن قومی سلامتی کے معاملے میں جواب دہی بھی ضروری ہے۔ وزیر اعظم کو اپوزیشن پر حملے کرنے کے بجائے پارلیمنٹ اور ملک کے عوام کو پوری صورتِ حال سے آگاہ کرنا چاہیے۔”
اس دوران کانگریس کے شعبۂ مواصلات کے سربراہ پون کھیڑا نے یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت جون-جولائی سے اروناچل پردیش میں چین کی سرگرمیوں سے متعلق خبروں کو دبانے کی کوشش کر رہی تھی، لیکن آئی ٹی بی پی کے ڈائریکٹر جنرل شتروجیت کپور نے اب تصدیق کی ہے کہ ہندوستانی فوجیوں اور چینی فوج کے درمیان تصادم جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ کانگریس آئی ٹی بی پی سمیت تمام بہادر فوجیوں کو سلام کرتی ہے، جو نامساعد حالات میں بھی ڈٹ کر مقابلہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ملک میں ایسی حکومت ہے جو نہ تو فوجیوں کی قربانی کو سلام کرتی ہے اور نہ ہی ان کی بہادری کی ستائش کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 2020 میں وادیٔ گلوان میں 20 ہندوستانی فوجیوں کی شہادت کے بعد مسٹر مودی نے چین کو کلین چٹ دے دی تھی، جس کے نتیجے میں لداخ سے اروناچل پردیش تک چین کے حوصلے بڑھ گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آئی ٹی بی پی کے ڈائریکٹر جنرل کے بیان کے فوراً بعد ذرائع کے حوالے سے خبریں آنے لگیں کہ فورس اس معاملے پر جلد ہی باضابطہ بیان جاری کرے گی، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اس لیے سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا حکومت سچائی کو سامنے آنے سے روکنے کی کوشش کر رہی ہے؟ انہوں نے پوچھا کہ کیا ہندوستان آج بھی اروناچل پردیش میں شیرا-5 گشت چوکی تک پہنچ پا رہا ہے اور کیا چین نے اسافلا، ماجا اور تکسنگ میں سات کلومیٹر اندر تک خیمے لگا رکھے ہیں؟
انہوں نے مشرقی لداخ میں 2020 سے پہلے کی صورتِ حال بحال ہونے کے بارے میں بھی سوال اٹھایا اور پوچھا کہ اگر ایسا نہیں ہوا ہے تو کب ہوگا؟ انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ بار بار ملاقاتوں کے باوجود ملک کو معلوم ہونا چاہیے کہ ہندوستان کو ان سے کیا حاصل ہوا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے چین پر اقتصادی انحصار بڑھایا ہے اور چینی سرمایہ کاری نیز پی ایل اے سے وابستہ کمپنیوں کے لیے راستے آسان کیے ہیں۔
مسٹر کھیڑا نے کہا کہ ہندوستان چین کی شرائط مانتا رہا ہے اور اس کے حملوں کا سامنا بھی کرتا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چین کے ساتھ تجارتی خسارہ 99 ارب ڈالر سے بڑھ کر 112 ارب ڈالر ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے چینی شہریوں کے لیے سفری پابندیاں ہٹائیں، ویزوں کی تعداد بڑھائی اور پریس نوٹ-3 میں ترمیم کرکے چین پر سرمایہ کاری سے متعلق پابندیوں میں نرمی کی، لیکن اس کے بدلے ہندوستان کو کچھ حاصل نہیں ہوا۔
انہوں نے سوال کیا کہ کیا ہندوستانی فوجی آج بھی ان گشت چوکیوں تک پہنچ پا رہے ہیں جہاں وہ 20 اپریل 2020 سے پہلے گشت کیا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم بین الاقوامی فورموں پر چین کے سامنے سخت موقف اختیار کرنے کے بجائے اپوزیشن کو برا بھلا کہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کو چین سے کس بات کا خوف ہے؟ چینی صدر کے ساتھ ملاقاتوں کے باوجود انہوں نے لداخ اور اروناچل پردیش جیسے حساس معاملات کیوں نہیں اٹھائے؟
مسٹر کھیڑا نے طنز کرتے ہوئے کہا، ”ملک میں 56 انچ کا ایک چینی کھلونا ہے، جس کی چابی کئی ممالک کے پاس ہے۔”
کانگریس کے شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے کہا کہ مسٹر مودی چین کو مسلسل رعایتیں دے رہے ہیں، جبکہ آئی ٹی بی پی کے ڈائریکٹر جنرل نے اروناچل پردیش میں چینی پی ایل اے کے ساتھ حالیہ تصادم کے دوران فورس کی کارکردگی کی تعریف کی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم اور ان کا پورا نظام اس سنگین معاملے پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔
انہوں نے کہا کہ تکسنگ میں تصادم کے بعد گزشتہ ماہ واچا اور دمئی میں کور کمانڈر سطح کی بات چیت ہوئی تھی۔ مقامی لوگوں کے حوالے سے انہوں نے دعویٰ کیا کہ لداخ کی طرح اروناچل پردیش میں بھی ہندوستان کے کچھ گشت کے مقامات اس کے ہاتھ سے نکل گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین اروناچل پردیش کے شہروں کے نام تبدیل کر رہا ہے اور 60 ہزار میگاواٹ کی صلاحیت والا ڈیم تعمیر کر رہا ہے، جو ہندوستان کے ماحولیاتی نظام اور آبی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر میں نوجوانوں کا کردار اہم: مودی
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ نوجوانوں کو ملک کی ترقی سے جوڑنا، سماج کو تقسیم کرنے والی طاقتوں کے خلاف متحد کرنا اور خود انحصاری کے تئیں بیداری پیدا کرنا ضروری ہے۔
مسٹر مودی آج یہاں چنمیہ امرت مہوتسو عالمی کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے چنمیہ مشن سے وکست بھارت کے عزم کو آگے بڑھانے میں فعال کردار ادا کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ سوامی چنمیانند جی کا بنیادی نظریہ نوجوانوں کی طاقت کو فروغ دے کر ایک مضبوط ہندوستان کی تعمیر کرنا تھا۔ چنمیہ مشن کے نوجوان کارکنوں نے تقریباً 300 دنوں میں 40 ہزار کلومیٹر کا سفر کرکے ایک لاکھ سے زیادہ نوجوانوں سے رابطہ قائم کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 2047 میں ملک کی آزادی کے 100 سال مکمل ہوں گے اور اسی عرصے میں چنمیہ مشن بھی اپنی صد سالہ تقریبات منائے گا۔ ایسے میں وکست بھارت اور چنمیہ مشن کے سفر کو ساتھ ساتھ آگے بڑھانا ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ مشن کے سنت، آچاریہ، سادھک اور کارکن وکست بھارت کی تعمیر میں اہم کردار ادا کریں گے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ سوامی چنمیانند جی نے ہندوستانی علم، ثقافت اور ورثے کو عوام تک پہنچانے کا کام کیا۔
چنمیہ مشن کے 100 سے زیادہ تعلیمی ادارے بچوں اور نوجوانوں کو جدید تعلیم کے ساتھ ہندوستانی اقدار بھی سکھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سوامی جی روحانی ترقی کو انفرادی نشوونما اور انفرادی نشوونما کو ملک کی ترقی سے جوڑنے کی تعلیم دیتے تھے۔
مسٹر مودی نے نئی قومی تعلیمی پالیسی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس میں ہندوستانی علمی روایت، مادری زبان میں تعلیم، جدید سائنس اور نئی ٹیکنالوجی کو اہمیت دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے ثقافتی ورثے کا تحفظ اور اس کے تئیں فخر کے احساس کو مضبوط کرنا ضروری ہے۔ کاشی وشوناتھ دھام، ایودھیا میں رام مندر اور اجین کے مہاکال مہالوک جیسے مراکز کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے ثقافتی مراکز کا احیا ہو رہا ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ گزشتہ 12 برسوں میں بیرونِ ملک چوری کرکے لے جائی گئی 650 سے زیادہ قدیم مورتیاں واپس لائی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مختلف اداروں کے مقاصد الگ الگ ہو سکتے ہیں، لیکن ملک کی ترقی اور وقار سب کا مشترکہ ہدف ہے۔ وکست بھارت کے عزم کو پورا کرنے کے لیے سب کو مل کر آگے بڑھنا ہوگا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
چین کے معاملے پر مودی ملک اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیں: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس کے صدر ملکارجن کھرگے نے چین کی سرحد پر کشیدگی اور چین کے ساتھ بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے کے معاملے پر وزیر اعظم نریندر مودی کو براہِ راست نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ قومی سلامتی کے معاملے پر گمراہ کرنے کے بجائے انہیں پارلیمنٹ اور ملک کو اعتماد میں لینا چاہیے۔
مسٹر کھرگے نے جمعہ کو کہا کہ اروناچل پردیش میں ہندوستانی اور چینی فوجیوں کے درمیان مسلسل آمنے سامنے کی صورتِ حال برقرار رہنے کی خبریں ہیں، جو انتہائی تشویش ناک ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا ڈوکلام اور گلوان کے بعد ایک اور سنگین تصادم کی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے؟
انہوں نے کہا کہ اگست میں توانگ علاقے کے قریب تاکسنگ میں چینی دراندازی کی خبریں سامنے آئی تھیں۔ بڑا سوال یہ ہے کہ واچا-دمئی میں کور کمانڈر سطح کی بات چیت کے 47 دن بعد بھی تصادم کی صورتِ حال کیوں برقرار ہے؟ اروناچل پردیش کو ہندوستان کا اٹوٹ حصہ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس علاقے میں ہندوستان کی گشت کرنے کی رسائی متاثر ہونے کی خبریں ہیں اور حکومت کو اس معاملے میں صورتِ حال واضح کرنی چاہیے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ گلوان میں 20 ہندوستانی فوجیوں کی قربانی کے بعد مالی سال 2020-21 سے چین سے ہندوستان کی درآمدات میں 102 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ چین کے ساتھ تجارتی خسارہ بڑھ کر 112.16 ارب ڈالر ہو گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر خزانہ نرملا سیتارمن بھی یہ تسلیم کر چکی ہیں کہ چین ہندوستانی برآمدات میں رکاوٹیں ڈالتا ہے۔ اس کے باوجود حکومت چینی سرمایہ کاری پر پابندیوں میں نرمی کر رہی ہے اور چین سے وابستہ اہل کمپنیوں کو پیداوار سے منسلک ترغیبات (پی ایل آئی) دینے پر غور کر رہی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا اب ‘میک اِن انڈیا’ کا مطلب ‘چین سے درآمدات’ رہ گیا ہے؟
مسٹر مودی اور چین کے صدر شی جن پنگ کے درمیان کم از کم 23 ملاقاتوں اور بات چیت، قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال کی شرکت والے خصوصی نمائندوں کے 25 ادوار اور ورکنگ میکانزم (ڈبلیو ایم سی سی) کی 36 میٹنگوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے سوال کیا کہ ان ملاقاتوں اور شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) اور برکس سربراہ اجلاسوں میں شرکت سے ہندوستان کو کیا ٹھوس نتائج حاصل ہوئے ہیں؟ انہوں نے یہ بھی پوچھا کہ کیا مئی 2020 سے پہلے ہندوستانی فوج کی گشت کرنے کی رسائی مکمل طور پر بحال ہو گئی ہے؟
کانگریس صدر نے کہا کہ ملک کو مسلح افواج پر پورا بھروسہ ہے، لیکن قومی سلامتی کے معاملے میں جواب دہی ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسٹر مودی کو اپوزیشن پر حملے کرنے کے بجائے پارلیمنٹ اور ملک کے سامنے صورتِ حال واضح کرنی چاہیے۔
یواین آئی ۔ ایف اے
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا6 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
