ہندوستان
مودی کی 11 سال کی اصلاحات نے معیشت کو تقویت دی ہے، جی ایس ٹی اصلاحات نئی کڑی ہے
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی کے 11 سالہ دور حکومت میں گڈز اینڈ سروس ٹیکس (جی ایس ٹی) کے نفاذ، بینکنگ اصلاحات، جن دھن-آدھار-موبائل پر مبنی جن دھن اکاؤنٹس کھولنے کی مہم، انسولوینسی کوڈ اور آر ای آر اے جیسی اصلاحات نے معیشت کو زبردست تقویت دی ہے اور آج ملک دنیا کی چار بڑی معیشت بن گیا ہے جغرافیائی سیاسی حالات کی غیر یقینی صورتحال کے باوجود ہندوستان موجودہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں 7.8 فیصد کی اقتصادی ترقی کے ساتھ آج دنیا کی بڑی معیشتوں میں سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی معیشت ہے۔ وزیر اعظم مودی نے کہا ہے کہ ملک جلد ہی امریکہ اور چین کے بعد تیسری سب سے بڑی معیشت بن جائے گا۔ ہندوستان کی رینکنگ 2013-14 میں 11 ویں تھی۔
مسٹر مودی حکومت کے جن دھن کھاتوں کے ذریعے اسکیموں کے فوائد کی براہ راست منتقلی (ڈی بی ٹی) کے نظام نے عوامی بجٹ کے رساؤ کو روک دیا ہے اور اسکیموں کو چلانے کی لاگت کو کم کیا ہے۔ بینکوں کے این پی اے کی نشاندہی اور حل کرنے کے حکومت کے فیصلے سے پبلک سیکٹر کے بینکوں کو تقویت ملی ہے اور انہیں منافع بخش بنایا گیا ہے اور ان کی قرض دینے کی صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے۔ دیوالیہ پن کے ضابطہ نے لاکھوں کروڑوں روپے کے نان پرفارمنگ اثاثوں کو زندہ کر دیا ہے اور کمپنیوں اور بینکوں کی بیلنس شیٹ کی دوہری کمزوری کو دور کر دیا ہے۔
جی ایس ٹی نے پورے ملک کی مارکیٹ کو مربوط کر دیا ہے اور تجارت کی راہ میں ریاست کے سیلز ٹیکس چوکیوں اور کسٹم چوکیوں کی رکاوٹیں تاریخ بن چکی ہیں۔ جولائی 2017 میں جی ایس ٹی کو لاگو کرنے کی تاریخی اصلاحات کے بعد مودی حکومت کی قیادت میں جی ایس ٹی کونسل نے اس ماہ جی ایس ٹی میں دوسری نسل کے اصلاحات کا اعلان کیا ہے۔
اب حکومت کو جی ایس ٹی کی نئی شرحوں کا فائدہ عام لوگوں تک پہنچانے کے چیلنج کا سامنا ہے، جو اس مہینے کی 22 تاریخ سے لاگو ہو رہی ہیں۔ جی ایس ٹی اصلاحات کے دوسرے مرحلے سے عام لوگوں کو فائدہ پہنچنے کی امید ہے، حالانکہ اس سے مرکزی حکومت کی مالیاتی صورتحال کے لیے کچھ وقت کے لیے چیلنج بڑھ سکتا ہے۔ جی ایس ٹی 2.0 میں 99 فیصد اشیاء جو 12 فیصد کی شرح میں تھیں وہ 5 فیصد کی شرح کے تحت آ گئی ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کمپنیاں عوام کو کتنا فائدہ پہنچاتی ہیں۔
اگر مودی حکومت کی 11 سالہ تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو اس نے نہ صرف سیاسی تنقید کی قیمت پر نئے قوانین بنانے کی جرات کی ہے بلکہ ان پر عمل درآمد میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ اگرچہ کوئی بھی سیاسی پارٹی جی ایس ٹی اصلاحات کی مخالفت نہیں کر رہی ہے لیکن کچھ سیاسی ناقدین اسے بہار انتخابات کے نقطہ نظر سے ضرور دیکھ رہے ہیں۔
مودی حکومت کا اقتدار میں آتے ہی سب سے بڑا فیصلہ جن دھن یوجنا تھا۔ اس نے نہ صرف براہ راست فائدہ کی منتقلی اور سماجی تحفظ کی اسکیموں میں بے ضابطگیوں کو روکنے کے لیے زمین تیار کی بلکہ کروڑوں لوگوں کو بینکنگ نیٹ ورک سے بھی جوڑا۔ اس اسکیم کے تحت اب تک 56 کروڑ سے زیادہ بینک اکاؤنٹس کھولے جاچکے ہیں، جن میں کل جمع رقم تقریباً 2,64,910 کروڑ روپے ہے۔
نوٹ بندی کا فیصلہ ایک ایسا فیصلہ تھا جس نے کئی تنازعات کو جنم دیا۔ 8 نومبر 2016 کو، صرف چار گھنٹے کے نوٹس کے ساتھ، حکومت نے رات 8 بجے 500 اور 1000 روپے کے نوٹوں کو ختم کرنے کا اعلان کیا۔ جس سے عام لوگوں کو کافی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ حکومت نے دعویٰ کیا کہ اس سے کالے دھن کا استعمال بند ہو جائے گا اور دہشت گردی کی مالی معاونت بند ہو جائے گی۔ لیکن، اگر ہم ریزرو بینک اور حکومت کے اعداد و شمار پر نظر ڈالیں، تو ان دونوں میں سے کوئی بھی ہدف حاصل نہیں ہوا۔
میک ان انڈیا مشن، جو ابھی جاری ہے، ملک میں مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے کے لیے شروع کیا گیا ہے۔ اس کا آغاز 25 مئی 2014 کو ہوا۔ اس کی وجہ سے بہت سی غیر ملکی کمپنیوں نے ہندوستان میں اپنے پلانٹ لگائے اور ہماری خود انحصاری کی طرف بڑھنے کی رفتار بڑھ گئی۔ بعد میں میک ان انڈیا کو ہر حکومتی پالیسی میں شامل کیا گیا۔
ڈیجیٹل انڈیا مشن کو جے اے ایم (جن دھن آدھار موبائل) کے ذریعے بغیر کسی رساؤ کے لوگوں کو سہولیات فراہم کرنے کی کوشش کی بنیاد کہا جا سکتا ہے۔ چاہے وہ یو پی آئی ہو یا آدھار پر مبنی لین دین کی سہولت، اس مشن نے ان سب کے لیے رابطے کو فروغ دینے کا کام کیا۔ پچھلی حکومتیں بھی اس سمت میں کام کر رہی تھیں لیکن اسے مشن موڈ میں شروع کیا گیا تھا۔ اس میں آن لائن انفراسٹرکچر کو بہتر بنانا، انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی میں اضافہ، دیہی علاقوں کو تیز رفتار انٹرنیٹ سے جوڑنا شامل ہے۔
پچھلی حکومتوں کی جانب سے بھی سرکاری اسکیموں کے فوائد حاصل کرنے کے لیے آدھار کو لازمی بنانے اور ملک کے ہر فرد کے لیے آدھار کارڈ بنانے کی کوششیں کی گئی تھیں، لیکن انھیں اس میں معمولی کامیابی حاصل ہوسکی۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی مضبوط سیاسی قوت ارادی نے اسے ممکن بنایا۔ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ بل راجیہ سبھا میں نہ جائے، آدھار ایکٹ کو فنانس بل کے طور پر پیش کیا گیا۔ سیاسی طور پر بھی اس پر تنقید کی گئی لیکن اس نے وہ کام کر دیا جسے لوگ ناممکن سمجھتے تھے۔
اجولا یوجنا کے ذریعے روایتی ایندھن کے بجائے کھانا پکانے والی گیس (ایل پی جی) کے استعمال کے لیے زمین تیار کی گئی تھی۔ اس کے تحت غریب خاندانوں کی خواتین کو ایل پی جی کنکشن کے لیے سیکیورٹی رقم جمع نہیں کرانی ہوگی۔ گیس کے چولہے کی رقم قسطوں میں کاٹی جاتی ہے اور حکومت سلنڈر پر سبسڈی دے رہی ہے۔ اس کے باوجود، اسکیم کے تحت سلنڈر کی اوسط بکنگ ایک سال میں تقریباً چار ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دیہاتوں میں لوگ روایتی ایندھن بھی استعمال کر رہے ہیں۔ یہ اسکیم مئی 2016 میں اتر پردیش کے بلیا سے شروع کی گئی تھی۔
سال 2017 میں یکم جولائی سے ملک میں ویٹ کی جگہ جی ایس ٹی لاگو کیا گیا تھا۔ یہ بھی ایک ایسا قدم تھا جس کے لیے پچھلی حکومت کوشش کر رہی تھی لیکن کامیاب نہ ہو سکی۔ مودی حکومت نے ریونیو معاوضہ کا انتظام کرکے ریاستوں کو اس کے لیے تیار کیا۔
آیوشمان بھارت یوجنا میں ہر مستحق خاندان کو سالانہ 5 لاکھ روپے تک مفت علاج کی سہولت دی جاتی ہے۔ اس اسکیم سے واقعی غریب لوگوں کو فائدہ ہوا ہے۔ سال 2024 میں اس اسکیم میں 70 سال سے زیادہ عمر کے لوگوں کو شامل کیا گیا تھا، جس سے بوڑھوں کو بڑھاپے میں علاج کی پریشانی سے نجات ملی ہے۔ ہاؤسنگ مارکیٹ میں کمپنیوں کی دھوکہ دہی کو روکنے کے لیے حکومت نے ایک ماڈل ریئل اسٹیٹ ریگولیشن ایکٹ (آر ای آر اے) بنایا جسے آج تمام ریاستوں میں نافذ کیا جا رہا ہے۔
نئے انکم ٹیکس ایکٹ کو بھی اس سال پارلیمنٹ نے منظوری دے دی ہے جو اگلے مالی سال سے نافذ العمل ہو گا۔ اس کا مقصد 64 سال پرانے انکم ٹیکس ایکٹ کو موجودہ ضروریات کے مطابق ایک نئے قانون سے تبدیل کرنا اور بہت سی ترامیم کی وجہ سے پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کو دور کرنا ہے۔
ان میں سے زیادہ تر فیصلوں کے لیے صرف سیاسی مرضی ہی کافی تھی۔ اس کے پیش نظر توقع کی جانی چاہئے کہ حکومت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عام لوگوں کو جی ایس ٹی 2.0 کا پورا فائدہ ملے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد 320 ہندوستانی شہری لاپتہ، 21 کو وطن واپس لایا گیا: وزارتِ خارجہ
نئی دہلی، نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد وہاں تقریباً 320 ہندوستانی شہری لاپتہ ہیں جبکہ 21 ہندوستانی شہریوں کو اب تک بحفاظت وطن واپس لایا گیا ہے وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے جمعہ کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ جمعرات کو ترشولی توانائی منصوبے میں پھنسے 63 افراد کو بچایا گیا تھا۔
کاٹھمنڈو میں ہندوستانی سفیر نے ان سے ملاقات کی ہے۔ اس کے علاوہ 96 ہندوستانی شہری چین کے علاقے سے زمینی راستے سے نیپال کی طرف بحفاظت پہنچ چکے ہیں۔ ان تمام کو وطن واپس لانے کے لیے حکومت انتظام کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین کے علاقے میں ابھی بھی تقریباً 400 ہندوستانی شہری ہیں لیکن وہ تمام محفوظ ہیں اور ان کے اہل خانہ نیز ہندوستانی سفارت خانے سے ان کی بات ہوئی ہے کیونکہ وہاں موبائل نیٹ ورک کام کر رہا ہے۔ اس علاقے میں بھی لینڈ سلائیڈنگ ہوئی ہے اور راستوں کی خرابی کی وجہ سے ان کی واپسی میں وقت لگ سکتا ہے۔ حکومت انہیں وطن واپس لانے کا انتظام کر رہی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ اس کے علاوہ ہند نژاد تقریبا 100 مزید افراد لاپتہ ہیں جو مختلف ممالک کے رہنے والے ہیں۔ ممکن ہے کہ یہ لوگ کیلاش مانسروور یاترا کے لیے گئے ہوں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ابھی تک صرف لاپتہ افراد کا اعداد و شمار ملا ہے اور کسی ہندوستانی شہری کی موت کی تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔
مسٹر جیسوال نے کہا کہ تمل ناڈو کے جن 21 افراد کو کل محفوظ بچایا گیا تھا آج وہ وطن واپس لوٹ آئے۔ وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے ہوائی اڈے پر ان لوگوں سے ملاقات کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جہاں تک انسانی امداد کا تعلق ہے تو اب تک دو طیاروں میں بالترتیب دس ٹن اور 37.5 ٹن امدادی سامان بھیجا جا چکا ہے اور تیسرا طیارہ آج جانے والا ہے جس میں 12 سے 13 ٹن امدادی سامان بھیجا جائے گا۔
ترجمان نے کہا کہ نیپال کی درخواست کے مطابق ایک سرنگ بچاؤ ٹیم بھیجنے کی تیاری کر رہے ہیں، جس کے لیے ضروری سامان وغیرہ کا جائزہ لینے کے لیے پہلے ایک ریکی ٹیم بھیجی جا رہی ہے۔ ایک طبی ٹیم بھی بھیجی جا رہی ہے۔ ہندوستان نے متعلقہ تکنیکی ٹیموں کے ساتھ بیلی برج کی بھی پیشکش کی ہے، تاکہ نیپال کے متاثرہ حصوں میں مواصلاتی نظام کو جلد بحال کیا جا سکے۔ ایک بیلی برج پہلے سے ہی نیپال میں موجود ہے اور اسے امدادی کوششوں کے لیے تعینات کیا جا سکتا ہے۔
مسٹر جیسوال نے کہا کہ ہندوستان نے نیپال کے حکام کو این ڈی آر ایف کی ٹیموں کو ان کے متعلقہ سامان کے ساتھ بھیجنے کی بھی خاص پیشکش کی ہے، جو تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں میں مدد کر سکتی ہیں اور سانحے سے متاثرہ لوگوں تک امداد پہنچا سکتی ہیں۔ اس سلسلے میں نیپال حکومت کے جواب کا انتظار ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان نیپال کی درخواست پر کوئی بھی دیگر امداد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
کوچنگ پر حکومت سے 2.5 گنا زیادہ خرچ کر رہے ہیں لوگ، مفت کوچنگ اسکیم ہدف سے 74 فیصد پیچھے: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے کہا ہے کہ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے 17 جون کو کوٹا میں ‘چھاتروں کی گونج’ پروگرام میں تعلیم کے شعبے کے اہم مسئلے کو اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ منافع کمانے والی کوچنگ انڈسٹری نے عوام کے تعلیمی نظام کی جگہ لے لی ہے اور ہندوستانی خاندان کوچنگ سینٹروں پر حکومت کی طرف سے تعلیم میں کی جانے والی سرمایہ کاری سے 2.5 گنا زیادہ خرچ کر رہے ہیں۔
کانگریس شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے جمعہ کے روز کہا کہ اسی انکشاف کے بعد وزیرِ اعظم نریندر مودی نے بڑھتے ہوئے عوامی دباؤ سے بچنے کی کوشش میں 15 اگست کو طلبہ کے لیے مفت آن لائن کوچنگ کا اعلان کیا ہے، تاہم حکومت کی مفت کوچنگ اسکیم کی کارکردگی لوگوں میں اعتماد پیدا نہیں کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سماجی انصاف اور تفویضِ اختیارات کی وزارت کو تین برسوں میں 10,500 امیدواروں کو مفت کوچنگ کے لیے نامزد کرنا تھا لیکن اب تک صرف 2,790 طلبہ کا ہی اندراج ہوا ہے، جو ہدف کا محض 26 فیصد ہے۔
مسٹر رمیش نے کہا، “اس اسکیم کا بجٹ ہر سال کم ہوا ہے اور گزشتہ سال اس پر کیا گیا خرچ مقررہ بجٹ کے آدھے سے بھی کم تھا۔ یہ حقائق سماجی انصاف اور تفویضِ اختیارات کی وزارت کی پارلیمانی قائمہ کمیٹی کی تازہ ترین رپورٹ میں سامنے آئے ہیں، جسے 10 اگست 2026 کو پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا۔”
کانگریس لیڈر نے الزام لگایا کہ ملک کے ابتر تعلیمی نظام کو بنیادی طور پر ٹھیک کرنے اور عوامی تعلیم میں دوبارہ سرمایہ کاری کرنے کے بجائے مودی حکومت نے عوامی وسائل کو آن لائن کوچنگ میں لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے اسے جواب دہی سے بچنے کا ایک ڈراما قرار دیا اور کہا کہ حکومت پہلے ہی دکھا چکی ہے کہ اس اسکیم کو کامیابی سے نافذ کرنے کی اس کی صلاحیت انتہائی کم ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
مالی شمولیت میں جن دھن یوجنا کے یکسرتبدیلی لانے والے رول کی وزیرِ اعظم مودی نے کی ستائش
نئی دہلی، وزیرِ اعظم نریندر مودی نے جمعہ کے روز پردھان منتری جن دھن یوجنا کی ستائش کرتے ہوئے اس کے سفر کو ” غیرمعمولی وسعت اورانقلابی نتائج” سے تعبیر کیا اور ملک بھر میں مالی شمولیت پر اس کے دور رس اثرات کو اجاگر کیا سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں وزیرِ اعظم نے کہا، ” غیرمعمولی وسعت اورانقلابی نتائج! جن دھن یوجنا کا ایک بے مثال اثر رہا ہے۔”
ان کے یہ تبصرے مالی شمولیت کی اس اہم اسکیم کے 28 اگست 2014 کو اپنے آغاز سے 12 سال مکمل ہونے پر سامنے آئے۔ پردھان منتری جن دھن یوجنا کو بینکنگ خدمات تک ہمہ گیر رسائی فراہم کرنے اور رسمی مالیاتی نظام سے باہر رہنے والے لاکھوں لوگوں کو بینکنگ نیٹ ورک میں لانے کے لیے شروع کیا گیا تھا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، 19 اگست 2026 تک 59 کروڑ سے زیادہ جن دھن کھاتے کھولے جا چکے تھے، جن میں کل جمع رقم 3.16 لاکھ کروڑ روپے سے تجاوز کر گئی ہے۔ مستفیدین میں خواتین کا تناسب 55 فیصد سے زیادہ ہے، جبکہ تقریباً 78 فیصد کھاتے دیہی اور نیم شہری علاقوں میں ہیں۔ اس اسکیم کے تحت 41 کروڑ سے زیادہ روپے۔کارڈ بھی جاری کیے گئے ہیں۔
گزشتہ 12 برسوں میں، جن دھن یوجنا حکومت کی مالی شمولیت کی کوششوں کا ایک مرکزی ستون بن گئی ہے، جس نے مستفیدین کو بینکنگ، بچت، کریڈٹ، انشورنس، پینشن کی سہولیات اور ڈیجیٹل ادائیگی کی خدمات تک رسائی حاصل کرنے میں مدد کی ہے۔
اس اسکیم نے جن دھن-آدھار-موبائل، یا جے اے ایم، فریم ورک میں بھی ایک اہم کردار ادا کیا ہے، جس نے مستفیدین کے بینک کھاتوں میں سرکاری فوائد کی براہِ راست منتقلی کو ممکن بنایا ہے اور فلاحی امداد کی فراہمی میں خامیوں کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔
اب جب کہ یہ پروگرام اپنے 13 ویں سال میں داخل ہو رہا ہے، حکومت کا کہنا ہے کہ جن دھن یوجنا رسمی مالیاتی خدمات تک رسائی کو وسعت دے رہی ہے اور ان لوگوں کی معاشی شراکت کو مضبوط کر رہی ہے جو پہلے مین اسٹریم بینکنگ نظام سے باہر تھے۔
یو این آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
