جموں و کشمیر
وزیر اعظم مودی کے غریبوں، نوجوانوں، کسانوں اور خواتین کی خدمت کے پختہ عزم کا ثبوت
GST کٹوتیاں تاریخی ، عام آدمی کیلئے بچت کی گارنٹی
390 سے زیادہ اشیاءپر ٹیکس میں تاریخی کمی،غریب ومتوسط طبقوں کو ملے گافائدہ :امت شاہ
سری نگر :جے کے این ایس : پیر کی صبح شاردیہ نوراتری کے9روزہ مذہبی تہوار کے آغاز کےساتھ ہی، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ سامان اور خدمات ٹیکس (جی ایس ٹی) میں اصلاحات آج سے پورے ملک میں نافذ ہوں گی اور عام لوگوں کی بچت میں حصہ ڈالیں گی۔انہوںنے کہاکہ یہ اصلاحات وزیر اعظم مودی کے غریبوں، نوجوانوں، کسانوں اور خواتین کی خدمت کے پختہ عزم کا ثبوت ہے۔ جے کے این ایس مانٹرینگ ڈیسک کے مطابق مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے سماجی رابطہ گاہ ایکس پر پوسٹ کیا کہ جی ایس ٹی کٹوتیوں کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ جی ایس ٹی کی شرح میں کٹوتی 390 سے زیادہ مصنوعات پر لاگو کی گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مودی حکومت کا نوراتری کے مبارک موقع پر ملک کی تمام ماو ¿ں اور بہنوں کو نیکسٹ جنرل جی ایس ٹی اصلاحات کا تحفہ! جی ایس ٹی اصلاحات کے سلسلے میں ہم وطنوں سے مودی کا وعدہ آج سے پورے ملک میں نافذ ہو گیا ہے۔ اس جی ایس ٹی میں390 سے زیادہ اشیاءیا مصنوعات پر ٹیکس میں تاریخی کمی کی گئی ہے۔امت شاہ نے مزید بتایا کہ طبی اور صحت کے شعبے میں جی ایس ٹی میں کمی سے ملک میں لوگوں کی بچت میں اضافہ ہوگا۔مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ کھانے اور گھریلو اشیاء، گھر کی تعمیر اور سامان، آٹوموبائل، زراعت، خدمات، کھلونے، کھیل اور دستکاری، تعلیم، طبی اور صحت، انشورنس وغیرہ جیسے شعبوں میں جی ایس ٹی میں بے مثال راحت سے ہم وطنوں کی زندگیوں میں خوشی آئے گی اور ان کی بچت میں بھی اضافہ ہوگا۔ امت شاہ نے یہ بھی کہا کہ نئی اصلاحات ہندوستان کی ترقی کے پہیے کو دنیا کا سب سے خوشحال ملک بننے کی راہ پر اور بھی تیز تر کریں گی۔مرکز ی وزیر داخلہ نے کہا کہ مودی حکومت متوسط طبقے کی آمدنی میں اضافہ کر رہی ہے اور ان کے لیے بہت سارے مواقع کھول رہی ہے اور اس بات کو یقینی بنا رہی ہے کہ اگلی نسل کی جی ایس ٹی اصلاحات کے ذریعے ان کی بچت میں مسلسل اضافہ ہو۔انہوں نے کہا کہ روزمرہ کی ضروری اشیاء، صحت کی دیکھ بھال کی مصنوعات، الیکٹرانک آلات اور تعلیمی اشیاءکے جی ایس ٹی کی شرح میں زبردست کمی سے ان کی ڈسپوزایبل آمدنی میں اضافہ ہوگا اور انہیں مزید بچت کرنے کی ترغیب ملے گی۔انہوں نے کہا کہ بہت سی ڈیری مصنوعات پر جی ایس ٹی صفر کرنا، یا صابن، ٹوتھ برش، ٹوتھ پیسٹ، ہیئر آئل، شیمپو جیسی روزمرہ کی اشیاءپر غیر معمولی کمی، نیکسٹ جنر جی ایس ٹی اصلاحات نے ہر گھر میں خوشی کا تحفہ لایا ہے۔وزیر داخلہ نے کہا کہ اگلی نسل کی جی ایس ٹی اصلاحات پیر سے شروع ہونے والے نوراتری کے مبارک موقع پر ملک کی تمام ماو ¿ں اور بہنوں کو مودی حکومت کا تحفہ ہے۔امت شاہ نے کہا کہ لائف انشورنس، ہیلتھ انشورنس، سینئر سٹیزن پالیسی، 33 زندگی بچانے والی ادویات اور تشخیصی کٹس پر جی ایس ٹی سے لے کر آکسیجن، جراحی کے آلات، میڈیکل، ڈینٹل اور ویٹرنری آلات پر کم سے کم جی ایس ٹی تک، جی ایس ٹی میں اصلاحات سے ملک کے لوگوں کی بچت میں تاریخی اضافہ ہوگا۔مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ کسان زرعی آلات اور کھاد کے شعبے پر جی ایس ٹی میں کمی سے پرجوش ہیں، اور اب شہریوں کو گاڑیوں کی خریداری کے لیے بھی زیادہ سوچنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔انہوںنے کہاکہ یہ جی ایس ٹی اصلاحات خود انحصاری کو بھی فروغ دے گی۔ آپ بھی روزمرہ کے استعمال کی اشیاءمیں دیسی مصنوعات کو اپنائیں۔ (ایجنسیاں)
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
ہندوستان1 week agoراہل پیلیٹ گن متاثرہ کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کے حق میں ڈی سی پی دفتر کے باہر دھرنے پر بیٹھے
