جموں و کشمیر
بی جے پی کی جیت ’ووٹ چوری‘ کے الزامات کو سچ ثابت کرتی ہے: نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری
جموں جموں و کشمیر کے نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری نے الزام عائد کیا ہے کہ راجیہ سبھا انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی کامیابی ’ووٹ چوری‘ کے الزامات کو درست ثابت کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس (این سی) کبھی بھی اقتدار کی خاطر بی جے پی کے ساتھ اتحاد نہیں کرے گی، بلکہ ضرورت پڑی تو اقتدار چھوڑ دے گی لیکن بی جے پی سے ہاتھ نہیں ملائے گی۔
موصوف نے ان باتوں کا اظہار ادھمپور میں نامہ نگاروں سے بات چیت کے دوران کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ہم اکثر سنتے تھے کہ بی جے پی ووٹ خریدتی ہے یا چراتی ہے، لیکن اس بار یہ ثابت ہو گیا کہ بی جے پی واقعی ووٹ چوری میں ملوث ہے۔
خیال رہے کہ جمعہ کو جموں و کشمیر میں 2019 میں یونین ٹیریٹری بننے کے بعد پہلی مرتبہ راجیہ سبھا انتخابات منعقد ہوئے، جن میں حکمراں نیشنل کانفرنس نے تین نشستیں جیتیں، جبکہ بی جے پی نے ایک نشست حاصل کی۔
چودھری نے کہا، ’بی جے پی کے پاس صرف 28 ممبران تھے، لیکن ان کے امیدوار کو 32 ووٹ کیسے ملےیہ واضح طور پر ووٹ چوری ہے۔‘ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ یہ لولی پاپ پارٹی ہمیں اخلاقیات اور اصولوں کا درس دیتی ہے، مگر خود ان سے کوسوں دور ہے۔
نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ این سی نے نہ ووٹوں کا لین دین کیا ہے اور نہ ہی کوئی مالی یا سیاسی وعدہ۔ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ پہلے ہی کہہ چکے تھے کہ بی جے پی ہارس ٹریڈنگ کرے گی، اور اب یہ بات سچ ثابت ہوچکی ہے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ نیشنل کانفرنس کے کسی رکن اسمبلی نے بی جے پی امیدوار کے حق میں کراس ووٹنگ نہیں کی۔ ہم حکومت چھوڑ سکتے ہیں، مگر بی جے پی کے ساتھ ہاتھ نہیں ملا سکتے۔ ہمیں چاروں نشستیں جیتنی تھیں، مگر کچھ غداروں نے ساتھ چھوڑ دیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ہم نے یہ چوتھی نشست دراصل کانگریس کے لیے چھوڑ رکھی تھی، لیکن جب کانگریس نے امیدوار نہیں اتارا تو ہمیں خود میدان میں اترنا پڑا۔
چودھری نے کہا کہ وہ بی جے پی کے خلاف سچ بولنے سے نہیں ڈرتے۔ اگر میرا بی جے پی سے کوئی مفاہمت ہوتی تو میری سکیورٹی کم نہ کی جاتی۔ میں عوام کی آواز بن کر بی جے پی کے خلاف بولتا رہوں گا۔
انہوں نے پیپلز کانفرنس کے سربراہ سجاد غنی لون پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ نیشنل کانفرنس پر الزام لگا رہے ہیں، وہ دراصل اپنی غلطیوں کو چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
غیرحاضر کا مطلب ہے بی جے پی کی مدد کرنا، یعنی یہ لوگ بی جے پی کے ساتھ ملے ہوئے ہیں۔
چودھری نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کے راجیہ سبھا میں منتخب اراکین وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ کے سامنے جموں و کشمیر کے عوام کی آواز بنیں گے۔ ہم نے سکھ برادری کو نمائندگی دے کر شمولیت کا پیغام دیا ہے۔
انہوں نے آخر میں کہا کہ نیشنل کانفرنس نگروٹہ کے ضمنی انتخابات میں پوری قوت کے ساتھ میدان میں اترے گی اور عوامی تائید سے یہ نشست بھی جیتے گی۔
یو این آئی، ارشید بٹ۔ایف اے
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان7 days agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
