جموں و کشمیر
اگر ریاست ہوتی تو ہم اپنی مرضی سے افسران تعینات کرتے اور کام تیزی سے ہوتا:وزیراعلیٰ عمر عبداللہ
ریاستی درجہ کی بحالی میں تاخیرمایوس کن
کہانیشنل کانفرنس کا بی جے پی سے کوئی سمجھوتہ نہیں، یوٹی حکومت کے کاروباری قواعد مرکز کی منظوری کے منتظر
سری نگر:جے کے این ایس : اتوار کوایک انٹرویو کے دوران یہ کہتے ہوئے کہ” بغیرریاست میرے عہدے کے کوئی معنی نہیں اور دبے الفاظ میں مستعفی ہونے کاالٹی میٹم “دینے کے بعد جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پیرکے روزکہا کہ ریاستی درجہ کی بحالی میں مسلسل تاخیر سے جموں وکشمیرکے لوگوں میں مایوسی بڑے رہی ہے اوراُن کی امیدیں مدھم پڑتی جا رہی ہیں۔انہوںنے کہاکہ اگر ریاستی درجہ کی بحالی کاعمل مزید موخر ہوا تو مایوسی مزید گہری ہوگی۔جے کے این ایس کے مطابق قانون ساز اسمبلی کے جاری خزاں اجلاس کے دوران پیرکواسمبلی کمپلیکس کے احاطے میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے کہاکہ ریاستی درجے کی بحالی کے بارے میں میری اُمید پہلے دن سے قائم تھی، لیکن اب وہ کچھ کم ضرور ہوئی ہے۔ انہوںنے کہاکہ اگر ریاستی درجہ کی بحالی کاعمل مزید تاخیر کا شکار ہوا تو ہم میں نااُمیدی بڑھ جائے گی۔وزیراعلیٰ نے اس رپورٹ پر تبصرہ کرنے سے انکار کردیا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اگر ایک مقررہ وقت کے اندر جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ بحال نہیں کیا گیا تو وہ مستعفی ہوجائیں گے۔عمرعبداللہ نے کہاکہ میں اس بارے میں کچھ نہیں کہنے والا۔ میرے پاس اس پر مزید کچھ کہنے کو نہیں ہے۔
انہوںنے کہاکہ انٹرویو لینے والے نے مجھ سے اس بارے میں سوالات کرنے کی کوشش کی، اگر میں نے اسے جواب نہیں دیا تو آپ کیا سوچتے ہیں کہ میں آپ کو جواب دوں گا؟۔یونین ٹریٹری آف جموں وکشمیرکے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ اُنکی جماعت نیشنل کانفرنس کی حکومت کو اقتدار میں آئے صرف ایک برس ہوا ہے، اور وہ اب بھی پراُمید ہیں کہ اگر ریاستی درجہ ان کی حکومت کے دور میں بحال ہوا تو یہ ایک خوش آئند پیش رفت ہو گی۔
انہوںنے کہاکہ وہ پہلے دن سے ریاست کی بحالی کی اُمید کر رہے ہیں۔ تاہم، جوں جوں تاخیر جاری ہے، ہر گزرتے دن کے ساتھ امیدیں ختم ہوتی جا رہی ہیں۔وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے واضح کیا کہ یونین ٹیریٹری کے تحت حکومت چلانا آسان نہیں۔وزیر اعلیٰ نے کہاکہ اگر ریاست ہوتی تو ہم اپنی مرضی سے افسران تعینات کرتے اور کام تیزی سے ہوتا، لیکن یو نین ٹریٹری میں وزراءا ±ن افسران کے فیصلوں کے ذمہ دار ہیں جو ا ±نہیں اعتماد میں لیے بغیر فیصلے کر لیتے ہیں۔یاد رہے کہ5 اگست 2019کو جموں و کشمیر کی سابق ریاست کو دو حصوں میں تقسیم کر کے الگ الگ یونین ٹیریٹریز آف جموں و کشمیر اور لداخ میں منقسم کیا گیا تھا۔راجیہ سبھا انتخابات کے حوالے سے عمرعبداللہ نے ایک بار پھر واضح کیا کہ نیشنل کانفرنس کا بی جے پی سے کوئی خفیہ یا سیاسی سمجھوتہ نہیں۔ ان کے بقول ”یہ کہنا غلط ہے کہ ہم پس پردہ بی جے پی کےساتھ ہیں“۔انہوںنے کہاکہ اگر ایسا ہوتا تو ہم نے راجیہ سبھا کی چوتھی نشست پر اپنا امیدوار کیوں اتارا ہوتا؟۔یونین ٹریٹری آف جموں وکشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہنے مزید کہا کہ نیشنل کانفرنس وہ واحد جماعت ہے جو بی جے پی کا براہِ راست مقابلہ کر رہی ہے، جبکہ بقول موصوف دوسری جماعتیں ’ کانگریس اور پی ڈی پی‘ نے نگروٹہ کے ضمنی انتخابات میں اپنے امیدوار کھڑے نہیں کئے۔راجیہ سبھا انتخابات کے دوران بعض اراکین کے بی جے پی امیدوار کے حق میں ووٹ دینے پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ کچھ لوگوں نے اپنا ایمان بیچ دیا۔ انہوں نے ایسے اراکین کے نام منظر عام پر لائے جانے کا مطالبہ کیا۔عمرعبداللہ کے مطابق، بی جے پی کے امیدوار ستیہ پال شرما کو32 ووٹ ملے جب کہ ان کی پارٹی کے پاس صرف28 اراکین اسمبلی تھے۔یہ واضح ہے کہ کچھ اراکین کو راغب کرنے کی کوشش ہوئی، اب اس کا جواب بی جے پی کو دینا ہے۔
ہندوارہ کے رکنِ اسمبلی سجاد لون کی ووٹنگ سے غیرحاضری پر تنقید کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ ان کا ووٹ نہ دینا بی جے پی کے حق میں گیا۔انہوںنے کہاکہ اگر وہ واقعی کسی فکسنگ کے خلاف تھے تو انہیں ووٹ ڈالنا چاہیے تھا۔اس دوران وزیراعلیٰ نے کہا کہ مرکز کے زیر انتظام حکومت کے کاروباری قواعد مرکز کی منظوری کے منتظر ہیں۔
انہوںنے کہاکہ ہمارے افسران اور مرکز کے درمیان بات چیت کے 2 دور ہوئے ہیں۔ انہوں نے کچھ سوالات اٹھائے ہیں، لیکن ہم نے انہیں بتایا کہ ہم نے جو کاروباری قواعد بھیجے ہیں وہ جموں وکشمیر تنظیم نو ایکٹ کے تحت ہیں۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہم ایکٹ سے باہر نہیں گئے ہیں، ان قواعد کو منظور کیا جانا چاہیے ۔ممبراسمبلی ڈوڈہ معراج ملک پر پبلک سیفٹی ایکٹ کوعائدکرنے پر عبداللہ نے کہا کہ یہ بلاجواز ہے۔انہوںنے کہاکہ میں اب بھی یہ کہتا ہوں کہ مہراج ملک نے جو کچھ بھی کیا اس میں پی ایس اے کی ضمانت نہیں تھی۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہمارے پاس ایک مرکزی وزیر ہے جس نے پوری مسلم کمیونٹی کو بے وفا قرار دیا ہے۔
اگر وہ اس سے بچ گئے تو مہراج ملک نے کیا غلط کیا؟۔عمرعبداللہ نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ اسپیکر نے رائے دی ہے کہ اسمبلی میں کسی بھی زیر سماعت معاملے پر بات نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ اگر ہر ذیلی عدالتی معاملے پر اسمبلی میں بات نہیں ہو سکتی تو لوگ عدالتوں کا رخ کریں گے تاکہ ہم اسمبلی میں کسی معاملے پر بات نہ کر سکیں۔وزیراعلیٰ نے بی جے پی ایم ایل ایز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت جموں کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کو نظر انداز کر رہی ہے کیونکہ وہاں اکثریت ہندو مذہب کی ہے۔انہوںنے کہاکہ بی جے پی غلط تاثر میں ہے کہ ہم ان کی طرح حکومت کرتے ہیں۔ یہ بی جے پی ہی ہے جس نے15 فیصد آبادی کو مرکزی حکومت سے باہر رکھا ہے۔عمرعبداللہ نے کہاکہ بی جے پی کا آج لوک سبھا یا راجیہ سبھا میں ایک بھی مسلم ممبر نہیں ہے۔ انہیں ایک بھی مسلمان اس قابل نہیں لگتا ہے کہ وہ مرکزی حکومت میں وزیر بن سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم نقصانات کا اندازہ لگانے کے بعد فیصلہ کریں گے، نہ کہ علاقے یا مذہب کی بنیاد پر، ہم نقصانات کے مطابق پیکج لیں گے، اور جیسے ہی ہمیں رقم ملے گی، اسے تقسیم کر دیا جائے گا۔
جموں و کشمیر
انتخابی شکست کے خوف سے جموں و کشمیر میں پنچایت انتخابات ٹال رہی ہے نیشنل کانفرنس: سنیل شرما
سری نگر، جموں و کشمیر اسمبلی میں حزب اختلاف کے لیڈر اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنما سنیل شرما نے جمعرات کو نیشنل کانفرنس حکومت پر انتخابی شکست کے خوف سے پنچایت اور بلدیاتی انتخابات میں جان بوجھ کر تاخیر کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکمراں جماعت نہیں چاہتی کہ دوسری جماعتوں کو زمینی سطح پر نمائندگی ملے۔
بی جے پی کے سابق تنظیمی جنرل سکریٹری اشوک کول کے اعزاز میں پارٹی کی جموں و کشمیر شاخ کی جانب سے منعقدہ الوداعی تقریب کے موقع پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے مسٹر شرما نے کہا کہ مقامی بلدیاتی انتخابات عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت کے لیے ‘لٹمس ٹیسٹ’ ثابت ہوں گے۔ انہوں نے حکومت پر بجلی، ایل پی جی سلنڈر، ملازمتوں اور راشن کے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہنے کا الزام لگایا۔
مسٹر شرما نے کہاکہ ”عبداللہ خاندان کے تکبر اور ‘دبنگئی’ کی وجہ سے جموں و کشمیر میں پنچایت انتخابات نہیں ہونے دیے جا رہے ہیں۔ یہاں تک کہ وزیر اعلیٰ نے اسمبلی میں کہا کہ وہ انتخابات نہیں کرائیں گے۔ ان کے والد فاروق عبداللہ صاحب بھی 2 سے 3 بار کہہ چکے ہیں کہ پنچایت انتخابات نہیں ہوں گے۔ نیشنل کانفرنس نہیں چاہتی کہ کوئی اور یہاں کے عوام کی نمائندگی کرے۔ وہ جانتے ہیں کہ انہیں منہ کی کھانی پڑے گی اور انہیں ڈر ہے کہ عوام ان سے ان کے دھوکے کا حساب مانگیں گے۔”
لداخ میں پنچایت انتخابات کے اعلان کا حوالہ دیتے ہوئے مسٹر شرما نے سوال کیا کہ جموں و کشمیر میں ایسے انتخابات کیوں نہیں کرائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ”یہ اس حکومت کے لیے ایک سخت امتحان ہوگا۔ جس حکومت نے بجلی، سلنڈر، ملازمت اور راشن کے نام پر لوگوں کو دھوکہ دیا ہے، اس کا امتحان پنچایتی راج اور بلدیاتی انتخابات کے ذریعے لیا جانا چاہیے۔”
مرکزی وزیر داخلہ کے اس بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے، جس میں کہا گیا تھا کہ کشمیر میں دہشت گردی ختم ہو گئی ہے، مسٹر شرما نے کہا کہ گزشتہ 5 سال میں دہشت گردی میں زبردست کمی آئی ہے۔ انہوں نے اس کا سہرا مرکزی حکومت اور خاص طور پر وزارت داخلہ کے سر باندھا۔ مسٹر شرما نے کہا کہ ”گزشتہ 2 سال میں ایک بھی کشمیری نوجوان کسی دہشت گرد تنظیم میں شامل نہیں ہوا ہے، جو دہشت گردی کے خاتمے کی ایک بڑی علامت ہے۔”
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا لداخ کی طرح کشمیر میں بھی مظاہرین کے خلاف درج مقدمات واپس لیے جا سکتے ہیں، مسٹر شرما نے دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے ملزم افراد کا لداخ کے مظاہرین سے موازنہ کرنے کی کوشش کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جو لوگ اس وقت جیل میں ہیں، ان کے خلاف سابقہ پی ڈی پی اور نیشنل کانفرنس حکومتوں کے دور میں عوامی تحفظ قانون کے تحت مقدمات درج کیے گئے تھے۔
مسٹر شرما نے واضح کیا کہ بی جے پی بے گناہوں کو انصاف دلانے کی حمایت کرے گی، لیکن ملک کے خلاف تشدد کرنے والوں کو بے قصور نہیں کہا جا سکتا۔
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر
بارہمولہ میں 2 مشتبہ اوور گراؤنڈ کارکن گرفتار، آئی ای ڈی اور پستول برآمد
سری نگر، شمالی کشمیر کے بارہمولہ ضلع میں سکیورٹی کارروائی کے دوران 2 مشتبہ اوور گراؤنڈ کارکنوں (او جی ڈبلیوز) کو گرفتار کیا گیا ہے۔ سرکاری ذرائع نے جمعرات کو بتایا کہ ان کے قبضے سے 2 دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات (آئی ای ڈی) اور گولہ بارود برآمد کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یہ برآمدگیاں گزشتہ شام بارہمولہ کے ڈیلینا علاقے میں کی گئیں۔ گرفتار کیے گئے دونوں افراد کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ شمالی کشمیر کے سوپور کے چنکی پورہ علاقے کے رہنے والے ہیں۔
سرکاری ذرائع نے بتایاکہ ”ان کے قبضے سے 2 آئی ای ڈی، ایک پستول، گولہ بارود کے 10 کارتوس اور 6500 روپے برآمد کیے گئے ہیں۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ ان کے مبینہ روابط کا پتہ لگانے اور معاملے کی دیگر تفصیلات معلوم کرنے کے لیے مزید تفتیش جاری ہے۔
گرفتاریوں اور برآمدگی کے سلسلے میں پولیس کی جانب سے ابھی تک کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔.
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر ہائی کورٹ نے ‘میکانکی’ طریقے سے کی گئی احتیاطی حراست پر سوال اٹھائے، سری نگر کے ڈپٹی کمشنر کو طلب کیا
سری نگر، جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ نے عوامی تحفظ قانون (پی ایس اے) کے تحت ‘میکانکی’ (بغیر سوچے سمجھے) اور لاپروائی سے جاری کیے گئے احتیاطی حراست کے حکم پر سخت ناراضگی ظاہر کی ہے۔ جسٹس وسیم صادق نرگل کی بنچ نے سری نگر کے ڈپٹی کمشنر کو ذاتی طور پر عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت دی ہے۔ گزشتہ ہفتے ہیبیئس کارپس کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے جسٹس نرگل نے کہا کہ سری نگر کے زبیر امین بنگرو کے خلاف حراست کی وجوہات میں ٹھوس معلومات موجود نہیں ہیں۔ عدالت نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا حراست کا حکم جاری کرنے والے افسر نے پولیس کی جانب سے فراہم کردہ مواد کا آزادانہ طور پر جائزہ لیا تھا یا نہیں۔
عدالت نے ڈپٹی کمشنر کو ہدایت دی ہے کہ وہ پولیس ڈوزیئر، حراست کا حکم جاری کرنے والے افسر کے سامنے پیش کیے گئے مواد اور متعلقہ ریکارڈ کے ساتھ ذاتی طور پر پیش ہوں، تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ حراست کا حکم دیتے وقت کن بنیادوں پر غور کیا گیا اور افسر کس طرح مطمئن ہوا۔
عدالت نے سخت الفاظ میں افسر سے سوال کیا کہ ”انہوں نے مناسب غور و فکر کیے بغیر، اتنی لاپروائی اور میکانکی انداز میں حراست کا یہ حکم کیوں جاری کیا؟”
عدالت نے ایک اہم تشویش یہ بھی ظاہر کی کہ حراست کی وجوہات کے دوسرے پیراگراف میں ”مذکورہ دہشت گرد” کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے، حالانکہ اس سے پہلے کسی دہشت گرد کی شناخت یا اس کا ذکر نہیں کیا گیا تھا۔
عدالت نے پایا کہ پہلے پیراگراف میں صرف رسمی طور پر یہ کہا گیا ہے کہ حراست کا حکم جاری کرنے والے افسر نے معاملے پر غور کیا ہے، لیکن اس میں کسی بھی دہشت گرد کی شناخت نہیں بتائی گئی ہے۔
اس تضاد کی جانب توجہ دلاتے ہوئے جسٹس نرگل نے تبصرہ کیا کہ الفاظ کی ترتیب سے ”واضح طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ حراست کی وجوہات تیار کرتے وقت پولیس ڈوزیئر (دستاویزات) میں دی گئی معلومات کو مناسب غور و فکر کے بغیر جوں کا توں نقل کر لیا گیا ہے۔” عدالت نے کہا کہ یہ بات ”اس شبے کو مضبوط کرتی ہے کہ آیا حراست کا حکم جاری کرنے والے افسر نے معاملے کی آزادانہ جانچ کرکے حراست کی وجوہات طے کیں یا محض پولیس ڈوزیئر میں درج باتوں کو دہرا دیا۔”
حراست کی وجوہات میں بنگرو پر الزام لگایا گیا تھا کہ ان کے دہشت گردوں کے ساتھ قریبی تعلقات تھے، وہ دہشت گردوں کو لاجسٹک اور اخلاقی مدد فراہم کرتے تھے، انہوں نے اپنے گھر اور دیگر مقامات کو دہشت گردوں کے چھپنے کے ٹھکانوں کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت دی تھی اور وہ ایک دہشت گرد نیٹ ورک کے ساتھیوں کے رابطے میں تھے۔ تاہم، عرضی گزار کی وکیل ندا نذیر نے دلیل دی کہ یہ الزامات مبہم ہیں اور ان میں ضروری تفصیلات کی کمی ہے۔ ان میں دہشت گردوں کی شناخت، نیٹ ورک کے ساتھیوں کے نام، چھپنے کے ٹھکانوں کے طور پر استعمال ہونے والی جگہوں کی تفصیلات اور ان مخصوص واقعات کا ذکر نہیں ہے جن میں مبینہ طور پر مدد فراہم کی گئی تھی۔
وکیل نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا کہ ان افراد کی شناخت کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئی ہیں، جنہیں مبینہ طور پر بنگرو نے غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے لیے ترغیب دی تھی یا اکسایا تھا۔ اس کے ساتھ ہی اس بات کی بھی کوئی واضح تفصیل موجود نہیں ہے کہ ان مبینہ کارروائیوں سے ریاست کی سلامتی پر کیا منفی اثر پڑا۔
عدالت نے اپنی ابتدائی جانچ میں اس دلیل میں ”خاصا وزن” پایا کہ ان وجوہات میں اس وضاحت اور تفصیل کا فقدان ہے، جس کی توقع کسی شخص کی شخصی آزادی سلب کرنے والے حکم میں کی جاتی ہے۔
عدالت نے تبصرہ کیا کہ ”محض الزام کی سنگینی متعلقہ مواد اور آزادانہ غور و فکر کی ضرورت کی جگہ نہیں لے سکتی۔” عدالت نے احتیاطی حراست کے احکامات کے حوالے سے ایک وسیع تر تشویش بھی ظاہر کی۔
عدالت نے اس معاملے سے عین پہلے فہرست میں شامل ایک اور ہیبیئس کارپس کی عرضی کا بھی ذکر کیا۔ اس معاملے میں بھی حراست کا ایسا حکم سامنے آیا تھا جو بادی النظر میں ایسا معلوم ہوتا تھا کہ حراست کا حکم جاری کرنے والے افسر نے خود کوئی آزادانہ جائزہ لینے کے بجائے صرف پولیس رپورٹ (ڈوزیئر) کو جوں کا توں نقل کر دیا ہو۔
عدالت نے کہا کہ اس مماثلت نے ”ایک تشویش ناک سوال” پیدا کر دیا ہے: کیا احتیاطی حراست کے اختیارات کا استعمال مواد کے آزادانہ اور غیر جانب دارانہ جائزے کے ذریعے کیا جا رہا ہے، یا محض پولیس کے دعوؤں کو بغیر سوچے سمجھے دہرایا جا رہا ہے؟
تاہم، عدالت نے تسلیم کیا کہ پولیس رپورٹ (ڈوزیئر) پر غور کیا جا سکتا ہے، لیکن اس کے ساتھ اس بات پر زور دیا کہ یہ حراست کا حکم جاری کرنے والے افسر کی اس ذمہ داری کا متبادل نہیں ہو سکتی کہ وہ مواد کی آزادانہ جانچ کرے، اس کی مطابقت کا جائزہ لے اور قانون کے مطابق خود مطمئن ہو۔
احتیاطی حراست سے متعلق آئینی تحفظات کو دہراتے ہوئے عدالت نے کہا کہ کسی شخص کو باقاعدہ فوجداری مقدمے کے بغیر حراست میں رکھنے کے غیر معمولی اختیار کے استعمال کے لیے اعلیٰ ترین درجے کی آئینی ذمہ داری اور طریقۂ کار سے متعلق احتیاط برتنا ضروری ہے۔ حکم نامے میں کہا گیا کہ ”ہندوستانی آئین کے آرٹیکل 21 اور 22 میں شامل تحفظات محض دکھاوے کی رسمی کارروائیاں نہیں ہیں۔” عدالت نے واضح کیا کہ محض فوجداری مقدمہ نہ ہونے سے احتیاطی حراست کی قانونی حیثیت کا فیصلہ نہیں ہو جاتا۔ تاہم، متعلقہ اتھارٹی کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ قانونی تقاضے آزادانہ طور پر اور قانون کے مطابق پورے کیے گئے ہیں۔
یو این آئی۔ این یو۔
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا6 days agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoروس سے ٹرمپ کی رعایتوں پر ریپبلکنز دفاعی پوزیشن میں، وسط مدتی انتخابات سے قبل دباؤ بڑھ گیا
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
ہندوستان1 week agoویشالی میں کشتی الٹنے سے جاں بحق افراد کے لواحقین کو 2-2 لاکھ روپے کی ایکس گریشیا
