تازہ ترین
شاہ فیصل نے کشمیر میں بے تحاشہ قتل عام کی وجہ سے بیوروکریسی کو کیا خیرباد ، میرواعظ عمر نے کیا خیر مقدم
خبراردو:
سال2009میں ملکی سطح کے اعلیٰ ترین سیول سروسزامتحان ’آئی اے ایس‘میں پورے بھارت میں امتیازی پوزیشن(نمبروَن) پررہ کرقابلیت وذہانت کے معاملے میں کشمیرکانام روشن کرنے والے نوجوان بیوروکریٹ ڈاکٹر شاہ فیصل نے محض 8سال بعدہی بیوروکریسی کوخیرباد کہہ دیا۔انہوں نے اس غیرمعمولی اقدام کی خودتصدیق کرتے ہوئے بتایاکہ وہ کشمیرمیں بے تحاشہ قتل عام کیخلاف احتجاجاًمستعفی ہوئے ہیں ۔ڈاکٹرشاہ فیصل نے مرکزی سرکارکی کشمیرپالیسی کواخلاص سے عاری قراردیتے ہوئے کہاکہ نئی دہلی نے کبھی کشمیریوں تک پہنچنے کی کوئی مخلصانہ کوشش نہیں کی ۔ریکارڈسازنوجوان آئی اے ایس آفیسرکے نیشنل کانفرنس میں شمولیت اختیارکئے جانے کی قیاس آرائیوں کے بیچ سابق وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے کہاکہ ڈاکٹرشاہ فیصل کااستعفیٰ،بیوروکریسی کونقصان اورسیاست کوفائدہ ہے۔
گزشتہ کئی مہینوں سے چلی آرہی قیاس آرائیوں کے عین مطابق کشمیرکے نوجوان تاریخ ساز آئی اے ایس آفیسر35سالہ ڈاکٹرشاہ فیصل نے بالآخر بیوروکریسی کوخیربادکہہ دیا۔سال2009کے آئی اے ایس امتحان میں پورے بھارت میں اول نمبرپررہ کرایک تاریخ رقم کرنے والے ضلع کپوارہ سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹرشاہ فیصل نے سماجی رابطہ گاہ ’فیس بُک ‘پرلکھاکہ بھارت میں رہنے والے20کروڑمسلمانوں کی زندگیوں کوہندؤبنیادپرست گروپوں نے اجیرن بناکررکھدیاہے ۔انہوں نے کہاکہ اب بھارت میں مسلمانوں کودوسرے درجے کاشہری ماناجاتاہے ۔ڈاکٹرشاہ فیصل کافیس بُک پرمزیدکہناتھاکہ بھارت میں بڑھتے عدم برداشت اورنفرت انگیزی کے بعدجموں وکشمیرکوحاصل خصوصی آئینی پوزیشن پربھی حملے جاری ہیں جبکہ کشمیرمیں قتل عام کابازارگرم ہے ۔
ڈاکٹر شاہ فیصل نے کہاکہ مرکزی سرکارکے پاس کشمیرکے حوالے سے کوئی سیاسی پالیسی نہیں ہے ،ماسوائے یہاں قتل عام کاسلسلہ جاری رکھاجائے ۔انہوں نے کہاکہ میں کشمیرمیں جاری بے تحاشہ قتل عام کیخلاف احتجاجاًبیوروکریسی کوخیربادکہنے پرمجبورہوگیا۔شاہ فیصل نے مزیدلکھاکہ مرکزی سرکارکی کشمیرپالیسی میں اخلاص نہیں۔ڈاکٹرشاہ فیصل نے لکھا’میں نے انڈین ایڈمنسٹریٹوسروس سے استعفیٰ دینے کافیصلہ کافی وقت پہلے لیاتھا،اوراب میرااستعفیٰ منظورہوگیاہے‘۔محض 8سال بعدبیوروکریسی کوخیربادکہنے والے نوجوان کشمیری آئی اے ایس آفیسرنے مرکزی سرکارپرمختلف مرکزی اداروں کوغلط طورپراستعمال کرنے کاالزام عائدکرتے ہوئے کہاکہ آربی آئی ،این آئی اے اورسی بی آئی جیسے اداروں کی آئینی خودمختاری کوقائم رہنے دیاجائے ۔
انہوں نے اس اُمیدکااظہارکیاکہ بھارت میں حق گوئی کرنے والی آوازیں خاموش نہیں رہیں گی بلکہ وہ غلط کے خلاف بولتی رہیں گی۔ڈاکٹرشاہ فیصل نے آئی اے ایس افسربننے تک کے سفرمیں ساتھ دینے پراپنے اہل خانہ ،دوستوں اورخیرخواہوں کاشکریہ اداکرتے ہوئے کہاکہ اب اُنکی اولین ترجیحات میں یہ بات ہوگی کہ میں کشمیری نوجوانوں کی سیول سروسزکے امتحانات میں شامل ہونے کیلئے رہنمائی کرؤں تاکہ وہ اپنے خوابوں کوشرمندہ تعبیرکرسکیں ۔ڈاکٹرشاہ فیصل نے نیشنل کانفرنس میں شامل ہوکرآنے والے پارلیمانی انتخابات میں این سی کی ٹکٹ پربارہمولہ لوک سبھانشست سے الیکشن لڑنے کی افواہوں کے بیچ کہا’میں جمعہ کے روزایک پریس کانفرنس میں اپنے آئندہ کے لائحہ عمل کاخلاصہ کرؤنگا‘۔
اس دوران معلوم ہواکہ ڈاکٹرشاہ فیصل 2جنوری کوبیرون ملک سے سری نگرپہنچے،اوریہاں پہنچنے کے بعدانہوں نے رضاکارانہ طورپر بیوروکریسی چھوڑنے کافیصلہ لیا،جسکے بعدموصوف نے دوروزقبل اپنااستعفیٰ مرکزی سرکارکے محکمہ برائے پرسنل وٹریننگس کوروانہ کیا،اورگزشتہ روزہی اُن کااستعفیٰ منظورکیاگیا۔
Welcome the stand to resign by @ShahFaesal to protest unabated killing of Kashmiris by GOI. Hope his outrage over killings and his sentiment that #KashmiriLivesMatter guide his choice of politics…
— Mirwaiz Umar Farooq (@MirwaizKashmir) January 9, 2019
ادھر میر واعظ عمر فاروق نے شاہ فیصل کی طر ف سے کشمیر میں رہے قتل عام کی وجہ سے استعفیٰ دینے پر ان کا ایک ٹوئٹ کے ذریعے خیر مقدم کیا ہے اور لکھا ہے کہ ” امید ہے کہ ان کی ہلاکتوں پر مذمت انہیں انکے پسند کی سیاست کا راستہ چننے میں راہنمائی کرے گی “.
ادھرسابق وزیراعلیٰ اورنیشنل کانفرنس کے نائب صدرعمرعبداللہ نے ڈاکٹرشاہ فیصل کے بیوروکریسی کوخیرباد کہہ دینے پرردعمل ظاہرکرتے ہوئے کہاکہ ڈاکٹرشاہ فیصل کااستعفیٰ،بیوروکریسی کونقصان اورسیاست کوفائدہ ہے۔
The bureaucracy’s loss is politics’ gain. Welcome to the fold @shahfaesal. https://t.co/955C4m5T6V
— Omar Abdullah (@OmarAbdullah) January 9, 2019
Actually I welcomed him to the fold of politicians. His future political plans are his to announce. https://t.co/y5FkD8ZTWE
— Omar Abdullah (@OmarAbdullah) January 9, 2019
عمرعبداللہ نے ایک سماجی رابطہ گاہ ٹویٹرپرلکھے ایک ٹویٹ میں مزیدکہاکہ میں ذاتی طورڈاکٹرشاہ فیصل کامیدان سیاست میں خیرمقدم کرتاہوں تاہم عمرعبداللہ نے لکھاکہ ڈاکٹرشاہ فیصل اپنے مستقبل کے سیاسی پروگراموں کاخودہی اعلان کریں گے ۔
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
پاکستان
کویت کے ساتھ معاہدے سے پاکستان کا مشرق وسطیٰ میں دفاعی حصار وسیع
اسلام آباد، پاکستان اور کویت نے جمعرات کو ایک نئے دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ پاکستان کی وزارت دفاع کے مطابق یہ معاہدہ 2023 سے موجود فوجی تعاون کے فریم ورک کو نمایاں طور پر وسعت دیتا ہے۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف اور کویت کے وزیر دفاع شیخ عبداللہ علی عبداللہ السالم الصباح نے راولپنڈی میں ’پروٹوکول ایگریمنٹ 2026‘ پر دستخط کیے۔
معاہدے کے تحت پاکستانی مسلح افواج کویت کی فوج کی تربیت، دفاعی صلاحیتوں میں اضافے اور سرحدی انتظام میں معاونت کریں گی۔یہ معاہدہ جون 2023 میں طے پانے والے ایک بنیادی معاہدے کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جس کی کویت نے گزشتہ ماہ باضابطہ طور پر توثیق کی تھی۔
یہ پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے بڑھتے ہوئے سلسلے میں تازہ ترین پیش رفت ہے۔
حالیہ برسوں میں پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدہ کیا، سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ ’مکہ پیکٹ‘ کے نام سے سہ فریقی اجتماعی سلامتی کے معاہدے میں شمولیت اختیار کی، سعودی عرب میں ہزاروں فوجی اور ایک جنگی طیاروں کا اسکواڈرن تعینات کیا اور قطر کے ساتھ فوجی تربیتی تعاون کو بھی وسعت دی ہے۔
پاکستان کئی دہائیوں سے خلیجی ممالک کی افواج کو تربیت اور افرادی قوت فراہم کرتا آیا ہے۔ تاہم اب فرق اس تعاون کی رفتار اور نمایاں حیثیت میں آیا ہے اور خلیجی دارالحکومت خاموش تعاون کے بجائے باضابطہ معاہدوں کے ذریعے اسے ادارہ جاتی شکل دینے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔
معاہدوں کے اس سلسلے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر خلیجی ممالک مسلسل پاکستان کا رخ کیوں کر رہے ہیں اور پاکستان ان معاہدوں کے ذریعے کیا حاصل کر رہا ہے؟
کویت اسلام آباد کے ساتھ دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے والا تازہ ترین خلیجی ملک ہے۔
کویت کے ساتھ پاکستان کا دفاعی تعاون 1960 کی دہائی کے اواخر سے جاری ہے۔ 1990-91 کی خلیجی جنگ کے دوران بھی پاکستان نے سعودی عرب میں ایک بڑا فوجی دستہ بھیجا تھا، جو 1990 میں عراق کی جانب سے کویت پر حملے کے بعد مکہ اور مدینہ کے اطراف دفاعی پوزیشنوں پر تعینات کیا گیا تھا۔
پاکستان کے سابق دو ستارہ جنرل اور اب دفاعی تجزیہ کار زاہد محمود نے کہا کہ یہی تاریخ جمعرات کو ہونے والے معاہدے کا پس منظر ہے۔انہوں نے کہا، ’’پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کوئی نئی بات نہیں ہے۔‘‘
محمود کے مطابق کویت کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا موازنہ گزشتہ ستمبر میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دستخط کردہ ’اسٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ‘ (ایس ایم ڈی اے) سے نہیں کیا جاسکتا۔ کویت معاہدے میں مکہ پیکٹ یا ایس ایم ڈی اے جیسی کوئی شق شامل نہیں، جن کے تحت کسی ایک فریق پر جارحیت کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
جنگ کے آغاز کے بعد ایران کا آبنائے ہرمز پر سابقہ کنٹرول بڑی حد تک کم ہوا: امریکہ کا دعویٰ
واشنگٹن/تہران، امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فوج نے جنگ کے آغاز کے بعد سے آبنائے ہرمز پر ایران کی گرفت کو بتدریج کمزور کر دیا ہے۔ واشنگٹن کے مطابق جو کارروائی ابتدا میں ایران کی میزائل اور جوہری صلاحیتوں کے خلاف مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، وہ اب دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں سے ایک پر کنٹرول حاصل کرنے کی طویل جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے، جو جنگ کے آغاز سے ہی تہران کا سب سے مؤثر دباؤ کا ذریعہ رہی ہے۔
امریکی حکام کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز کی بدلتی ہوئی صورتحال جنگ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، جس سے عالمی توانائی منڈیوں پر دباؤ کم ہوگا اور واشنگٹن کو تہران کے ساتھ مستقبل کے مذاکرات میں زیادہ اثر و رسوخ حاصل ہوگا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایک فون انٹرویو میں ’ایکسِیوس‘ سے کہا، ’’وہ جگہ کھلی ہوئی ہے۔ ایرانی ردعمل بہت معمولی ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ ہم دوبارہ ان پر حملہ کریں۔ یہی پوری بات ہے، باقی کسی چیز کی اہمیت نہیں۔‘‘
جنگ شروع ہونے کے وقت آبنائے ہرمز کھلی ہوئی تھی، عالمی سطح پر تیل کی ترسیل معمول کے مطابق جاری تھی اور برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 72 ڈالر فی بیرل تھی۔
دو اسرائیلی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا فیصلہ اس وقت پاسداران انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر جنرل علی رضا تنگسیری نے کیا تھا۔ جنگ کے پہلے 72 گھنٹوں کے اندر ایران نے آبی گزرگاہ کی بندش کا اعلان کیا اور خبردار کیا کہ گزرنے کی کوشش کرنے والے ٹینکروں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
اسرائیلی اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس کے بعد تنگسیری نے ایرانی افواج کو آبنائے ہرمز کے اندر ’ٹریفک سیپریشن اسکیم‘ یعنی بین الاقوامی جہاز رانی کے مرکزی راستے میں بحری سرنگیں بچھانے کا حکم دیا۔ تنگسیری تین ہفتے بعد بندر عباس میں اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے۔
حملوں اور سمندری سرنگوں کے خطرے کے باعث آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی۔ اس کے نتیجے میں برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 126 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی اور عالمی توانائی منڈیوں پر شدید دباؤ پڑنے لگا۔
ٹرمپ نے 8 اپریل کو جنگ بندی پر اتفاق کیا، جس کی ایک وجہ امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں میں بڑے اضافے اور توانائی منڈیوں کے دباؤ کو بھی قرار دیا گیا۔ یہ بالکل اسی نوعیت کا معاشی خلل تھا جسے ایران پیدا کرنا چاہتا تھا۔
دو ماہ بعد امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا مرکزی معاملہ بن گیا۔ تاہم آبی گزرگاہ مکمل طور پر معمول پر نہ آسکی اور جلد ہی یہ معاہدہ بھی ناکام ہوگیا۔
مفاہمتی یادداشت کے خاتمے کے بعد امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کو اپنے طور پر دوبارہ کھولنے کی کوشش شروع کردی۔ امریکہ نے متحدہ عرب امارات کے تعاون سے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی، جس نے جنوبی راستے سے تجارتی جہازوں کی رہنمائی شروع کی، انہیں فضائی تحفظ فراہم کیا اور ایرانی ڈرونز اور کروز میزائلوں کو روکنے کی کارروائیاں کیں۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا7 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا7 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا7 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
تازہ ترین7 days agoیوم آزادی اور مسلمان
