ہندوستان
سابق فضائیہ سربراہ اروپ راہا کی فضائی طاقت پر زور کے ساتھ دو محاذوں دہشت گردی کے خطرے پر وارننگ
خصوصی تحریر: جینت رائے چودھری نئی دہلی، ہندوستانی فضائیہ کے سابق سربراہ ایئرچیف مارشل اروپ راہا نے ہندوستان کے بدلتے سلامتی کے منظر نامے پر وسیع تنبیہات اور اسٹریٹیجک تجزیے پیش کیے ہیں۔ انہوں نے پاکستان اور بنگلہ دیش دونوں کی جانب سے دو محاذوں پر ممکنہ دہشت گردانہ حملوں کے بڑھتے ہوئے خطرات پر تشویش کا اظہار کیا اوراندرونِ ملک تیار کردہ لڑاکا طیاروں کی تیاری میں پختہ وابستگی اور بنگلہ دیش میں حالیہ نظریاتی تبدیلیوں پر محتاط تجزیہ پیش کیا ہے۔ یو این آئی کے ساتھ خصوصی گفتگو میں راہا، جو سابق چیف آف ڈیفنس اسٹاف بھی رہ چکے ہیں، نے کہا کہ ہندوستان کو پاکستان اور بنگلہ دیش دونوں جانب سے مربوط یا تقریباً ایک ہی وقت میں دہشت گردانہ حملوں کے بڑھتے ہوئے خدشے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا “دو محاذوں سے دہشت گردانہ حملے کا اندیشہ بڑھ رہا ہے اور ہمیں اس کے خلاف تیار رہنا ہوگا۔” انہوں نے ہندوستان کو ” عدم استحکام کے صحرا میں ایک نخلستان” قرار دیتے ہوئے کہا کہ پورے خطے میں پھیلی ہوئی بے چینی کے برعکس ملک کی معیشت مضبوط اور سیاسی نظام مستحکم ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی پشت پناہی والے دہشت گرد گروہ مسلسل خطرہ ہیں ۔انہوں نے متنبہ کیا کہ بنگلہ دیش میں بھی شیخ حسینہ حکومت کے خاتمے کے بعد نظریاتی جھکاؤ میں تشویشناک تبدیلیاں دیکھی جا رہی ہیں۔ راہا نے اشارہ کیا کہ بنگلہ دیش میں بڑھتی ہوئی بنیاد پرستی سیاسی ہلچل سے جڑی ہوئی ہے لیکن انہیں یقین ہے کہ یہ رجحان عارضی ہوگا۔ انہوں نے کہا “بنگلہ دیش کے عوام فطرتاً سیکولر اور امن پسند ہیں۔ لہٰذا بنیاد پرستی کا یہ رجحان زیادہ دیر تک برقرار نہیں رہے گا۔” اس کے باوجود انہوں نے خبردار کیا کہ پاکستان “غیر مستحکم حالات کا فائدہ اٹھا رہا ہے” اوربنگلہ دیش کے ساتھ انٹلی جنس اور فوجی روابط قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ تاہم انہوں نے دلیل دی کہ 1971 کی نسل کشی بنگلہ دیشی عوام کےاجتماعی حافظے میں موجود ہے اوران کے جذبات پر گہرا اثر رکھتی ہے اور اس سے پاکستان اور بنگلہ دیش کے گٹھ جوڑ کے امکانات محدود ہوجاتے ہیں۔ راہا نے زور دیا کہ ہندوستان اور بنگلہ دیش کے دیرینہ ثقافتی، معاشی اور سماجی روابط برقرار رہیں گے لیکن ان کے ساتھ بڑھتی ہوئی چوکسی بھی ضروری ہے۔ انہوں نے مزید کہا”ہمیں انٹیلی جنس معلومات جمع کرنے اور پاکستان کی آئی ایس آئی کی پشت پناہی سے ابھرنے والے مخصوص دہشت گرد گروہوں کو نشانہ بنانے میں فعال ہونا پڑے گا۔”
حالیہ لال قلعہ دھماکے اور دہلی کے قریب دھماکہ خیز کیمیکلز کی برآمدگی کا حوالہ دیتے ہوئے راہا نے کہا کہ یہ واقعہ ملک کو غیر مستحکم کرنے کی ایک گہری سازش کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ”لال قلعہ پر حملہ ایک بڑی سازش کا حصہ تھا… یہ ایک وسیع منصوبہ بندی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔” انہوں نے پاکستان کی پشت پناہی میں ہونے والی دہشت گردی کے خلاف مضبوط قومی مؤقف اور اہم معاشی اثاثوں کے تحفظ کی ضرورت پر زوردیا۔
بڑھتے ہوئے خطرات کے ماحول میں، راہا نے ہندوستان کی فضائی طاقت کے شعبے میں خودکفالت کی ضرورت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے دبئی ایئرشو میں کرتب بازی کے دوران تیجس لڑاکا طیارے کے حادثے کے بعد ملکی لڑاکا طیارہ پروگرام پر نظرِ ثانی کی کسی بھی کوشش کے خلاف خبردار کیا۔ انہوں نے کہا “ہندوستان کو کسی بھی صورت میں اندرونِ ملک تیار کردہ لڑاکا طیارہ بنانے کے ہدف سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے۔ یہ ایک بنیادی ضرورت ہے۔”
انہوں نے کہا کہ تیجس نے کم پیداوار کے باوجود “خاطر خواہ کارکردگی” دکھائی ہے اور خبردار کیا کہ تیزی سے شمولیت نہ ہو تو بھی اگلے پانچ سے سات سال میں فضائیہ کے لڑاکا طیاروں کی تعداد کم ہو کر25 اسکواڈرن تک ہوسکتی ہے ۔
طیارے کی جدید خصوصیات مثلاً الیکٹرانکلی اسکیینڈ رڈار، فلائی بائی وائر کنٹرول، ری فیولنگ سسٹمز اور جدید ایویونکس کو اجاگر کرتے ہوئے راہا نے زور دیا کہ ایک دو حادثات کی وجہ سے دہائیوں کی پیش رفت کو متاثر نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا “اتنی بڑی تعداد میں تیار کردہ اور استعمال کیے جانے والے طیاروں میں صرف دو حادثات کا پیش آنا حوادث کی بہت کم شرح ہے۔” انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پہلے پیش آیا حادثہ امریکی ساختہ ایف404 انجن سے متعلق مسئلے کی وجہ سے ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان زیادہ جدید تیجس مارک-2 کی تیاری کی طرف بڑھ رہا ہے، جو ان کے خیال میں زیادہ کامیاب ہوگا نیز انہوں نے طویل مدتی اوراسٹریٹیجک خودمختاری کے لیے مسلسل ترقی اور بہتر پیداوار کی رفتار کی اہمیت پر زوردیا۔ دہشت گردی کے مقابلے سے، علاقائی جغرافیائی سیاست اور دفاعی اختراعات تک، ہر محاذ پر راہا نے مضبوط انٹیلی جنس رابطہ کاری، خطرات کی بروقت نشاندہی اور فوجی تیاری کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا “ہمیں اچھی انٹیلی جنس چاہیے اور ہمیں اپنی سکیورٹی فورسز کی اچھی تیاری بھی چاہیے۔” انہوں نے مزید کہا کہ قابلِ اعتماد روک تھام ہی تخریب کاری کو روکنے کا بنیادی ذریعہ ہے۔ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں ہندوستان کی آزادانہ صلاحیتوں پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا”ہمیں دہشت گردی کی اس جنگ میں بیرونی مدد پر انحصار نہیں کرنا چاہیے بلکہ اپنے طور پر آگے بڑھنا چاہیے۔” کولکاتہ کے اسٹریٹیجک تھنک ٹینک “ریسرچ سینٹر فار ایسٹ اینڈ نارتھ ایسٹ ریجنل اسٹڈیز (سینرز-کے)” کے سربراہ کی حیثیت سے، راہا نے اپنی گفتگو کو اس نتیجے پر ختم کیا کہ ہندوستان کو غیر ضروری تنازعہ سے بچنا چاہیے لیکن اس کے ساتھ ہر ممکن ہنگامی صورتحال کے لیے تیار بھی رہنا چاہیے۔
یو این آئی۔ایس وائی۔
ہندوستان
نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد 320 ہندوستانی شہری لاپتہ، 21 کو وطن واپس لایا گیا: وزارتِ خارجہ
نئی دہلی، نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد وہاں تقریباً 320 ہندوستانی شہری لاپتہ ہیں جبکہ 21 ہندوستانی شہریوں کو اب تک بحفاظت وطن واپس لایا گیا ہے وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے جمعہ کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ جمعرات کو ترشولی توانائی منصوبے میں پھنسے 63 افراد کو بچایا گیا تھا۔
کاٹھمنڈو میں ہندوستانی سفیر نے ان سے ملاقات کی ہے۔ اس کے علاوہ 96 ہندوستانی شہری چین کے علاقے سے زمینی راستے سے نیپال کی طرف بحفاظت پہنچ چکے ہیں۔ ان تمام کو وطن واپس لانے کے لیے حکومت انتظام کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین کے علاقے میں ابھی بھی تقریباً 400 ہندوستانی شہری ہیں لیکن وہ تمام محفوظ ہیں اور ان کے اہل خانہ نیز ہندوستانی سفارت خانے سے ان کی بات ہوئی ہے کیونکہ وہاں موبائل نیٹ ورک کام کر رہا ہے۔ اس علاقے میں بھی لینڈ سلائیڈنگ ہوئی ہے اور راستوں کی خرابی کی وجہ سے ان کی واپسی میں وقت لگ سکتا ہے۔ حکومت انہیں وطن واپس لانے کا انتظام کر رہی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ اس کے علاوہ ہند نژاد تقریبا 100 مزید افراد لاپتہ ہیں جو مختلف ممالک کے رہنے والے ہیں۔ ممکن ہے کہ یہ لوگ کیلاش مانسروور یاترا کے لیے گئے ہوں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ابھی تک صرف لاپتہ افراد کا اعداد و شمار ملا ہے اور کسی ہندوستانی شہری کی موت کی تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔
مسٹر جیسوال نے کہا کہ تمل ناڈو کے جن 21 افراد کو کل محفوظ بچایا گیا تھا آج وہ وطن واپس لوٹ آئے۔ وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے ہوائی اڈے پر ان لوگوں سے ملاقات کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جہاں تک انسانی امداد کا تعلق ہے تو اب تک دو طیاروں میں بالترتیب دس ٹن اور 37.5 ٹن امدادی سامان بھیجا جا چکا ہے اور تیسرا طیارہ آج جانے والا ہے جس میں 12 سے 13 ٹن امدادی سامان بھیجا جائے گا۔
ترجمان نے کہا کہ نیپال کی درخواست کے مطابق ایک سرنگ بچاؤ ٹیم بھیجنے کی تیاری کر رہے ہیں، جس کے لیے ضروری سامان وغیرہ کا جائزہ لینے کے لیے پہلے ایک ریکی ٹیم بھیجی جا رہی ہے۔ ایک طبی ٹیم بھی بھیجی جا رہی ہے۔ ہندوستان نے متعلقہ تکنیکی ٹیموں کے ساتھ بیلی برج کی بھی پیشکش کی ہے، تاکہ نیپال کے متاثرہ حصوں میں مواصلاتی نظام کو جلد بحال کیا جا سکے۔ ایک بیلی برج پہلے سے ہی نیپال میں موجود ہے اور اسے امدادی کوششوں کے لیے تعینات کیا جا سکتا ہے۔
مسٹر جیسوال نے کہا کہ ہندوستان نے نیپال کے حکام کو این ڈی آر ایف کی ٹیموں کو ان کے متعلقہ سامان کے ساتھ بھیجنے کی بھی خاص پیشکش کی ہے، جو تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں میں مدد کر سکتی ہیں اور سانحے سے متاثرہ لوگوں تک امداد پہنچا سکتی ہیں۔ اس سلسلے میں نیپال حکومت کے جواب کا انتظار ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان نیپال کی درخواست پر کوئی بھی دیگر امداد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
کوچنگ پر حکومت سے 2.5 گنا زیادہ خرچ کر رہے ہیں لوگ، مفت کوچنگ اسکیم ہدف سے 74 فیصد پیچھے: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے کہا ہے کہ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے 17 جون کو کوٹا میں ‘چھاتروں کی گونج’ پروگرام میں تعلیم کے شعبے کے اہم مسئلے کو اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ منافع کمانے والی کوچنگ انڈسٹری نے عوام کے تعلیمی نظام کی جگہ لے لی ہے اور ہندوستانی خاندان کوچنگ سینٹروں پر حکومت کی طرف سے تعلیم میں کی جانے والی سرمایہ کاری سے 2.5 گنا زیادہ خرچ کر رہے ہیں۔
کانگریس شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے جمعہ کے روز کہا کہ اسی انکشاف کے بعد وزیرِ اعظم نریندر مودی نے بڑھتے ہوئے عوامی دباؤ سے بچنے کی کوشش میں 15 اگست کو طلبہ کے لیے مفت آن لائن کوچنگ کا اعلان کیا ہے، تاہم حکومت کی مفت کوچنگ اسکیم کی کارکردگی لوگوں میں اعتماد پیدا نہیں کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سماجی انصاف اور تفویضِ اختیارات کی وزارت کو تین برسوں میں 10,500 امیدواروں کو مفت کوچنگ کے لیے نامزد کرنا تھا لیکن اب تک صرف 2,790 طلبہ کا ہی اندراج ہوا ہے، جو ہدف کا محض 26 فیصد ہے۔
مسٹر رمیش نے کہا، “اس اسکیم کا بجٹ ہر سال کم ہوا ہے اور گزشتہ سال اس پر کیا گیا خرچ مقررہ بجٹ کے آدھے سے بھی کم تھا۔ یہ حقائق سماجی انصاف اور تفویضِ اختیارات کی وزارت کی پارلیمانی قائمہ کمیٹی کی تازہ ترین رپورٹ میں سامنے آئے ہیں، جسے 10 اگست 2026 کو پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا۔”
کانگریس لیڈر نے الزام لگایا کہ ملک کے ابتر تعلیمی نظام کو بنیادی طور پر ٹھیک کرنے اور عوامی تعلیم میں دوبارہ سرمایہ کاری کرنے کے بجائے مودی حکومت نے عوامی وسائل کو آن لائن کوچنگ میں لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے اسے جواب دہی سے بچنے کا ایک ڈراما قرار دیا اور کہا کہ حکومت پہلے ہی دکھا چکی ہے کہ اس اسکیم کو کامیابی سے نافذ کرنے کی اس کی صلاحیت انتہائی کم ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
مالی شمولیت میں جن دھن یوجنا کے یکسرتبدیلی لانے والے رول کی وزیرِ اعظم مودی نے کی ستائش
نئی دہلی، وزیرِ اعظم نریندر مودی نے جمعہ کے روز پردھان منتری جن دھن یوجنا کی ستائش کرتے ہوئے اس کے سفر کو ” غیرمعمولی وسعت اورانقلابی نتائج” سے تعبیر کیا اور ملک بھر میں مالی شمولیت پر اس کے دور رس اثرات کو اجاگر کیا سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں وزیرِ اعظم نے کہا، ” غیرمعمولی وسعت اورانقلابی نتائج! جن دھن یوجنا کا ایک بے مثال اثر رہا ہے۔”
ان کے یہ تبصرے مالی شمولیت کی اس اہم اسکیم کے 28 اگست 2014 کو اپنے آغاز سے 12 سال مکمل ہونے پر سامنے آئے۔ پردھان منتری جن دھن یوجنا کو بینکنگ خدمات تک ہمہ گیر رسائی فراہم کرنے اور رسمی مالیاتی نظام سے باہر رہنے والے لاکھوں لوگوں کو بینکنگ نیٹ ورک میں لانے کے لیے شروع کیا گیا تھا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، 19 اگست 2026 تک 59 کروڑ سے زیادہ جن دھن کھاتے کھولے جا چکے تھے، جن میں کل جمع رقم 3.16 لاکھ کروڑ روپے سے تجاوز کر گئی ہے۔ مستفیدین میں خواتین کا تناسب 55 فیصد سے زیادہ ہے، جبکہ تقریباً 78 فیصد کھاتے دیہی اور نیم شہری علاقوں میں ہیں۔ اس اسکیم کے تحت 41 کروڑ سے زیادہ روپے۔کارڈ بھی جاری کیے گئے ہیں۔
گزشتہ 12 برسوں میں، جن دھن یوجنا حکومت کی مالی شمولیت کی کوششوں کا ایک مرکزی ستون بن گئی ہے، جس نے مستفیدین کو بینکنگ، بچت، کریڈٹ، انشورنس، پینشن کی سہولیات اور ڈیجیٹل ادائیگی کی خدمات تک رسائی حاصل کرنے میں مدد کی ہے۔
اس اسکیم نے جن دھن-آدھار-موبائل، یا جے اے ایم، فریم ورک میں بھی ایک اہم کردار ادا کیا ہے، جس نے مستفیدین کے بینک کھاتوں میں سرکاری فوائد کی براہِ راست منتقلی کو ممکن بنایا ہے اور فلاحی امداد کی فراہمی میں خامیوں کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔
اب جب کہ یہ پروگرام اپنے 13 ویں سال میں داخل ہو رہا ہے، حکومت کا کہنا ہے کہ جن دھن یوجنا رسمی مالیاتی خدمات تک رسائی کو وسعت دے رہی ہے اور ان لوگوں کی معاشی شراکت کو مضبوط کر رہی ہے جو پہلے مین اسٹریم بینکنگ نظام سے باہر تھے۔
یو این آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا7 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا7 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا7 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
تازہ ترین6 days agoیوم آزادی اور مسلمان
