تازہ ترین
ویڈیو: ڈاکٹر شاہ فیصل’’مستقبل کے سیاستدان‘‘
رضوان سلطان:
وادی لولاب سے تعلق رکھنے والے ۳۵ سالہ ڈاکٹر شاہ فیصل نے جیسے ۲۰۰۹ میں بھارت میں آئی اے ایس امتحان میں ٹاپ آنے کے بعد خبروں کی زینت بن گئے تھے ، آج اسی ایڈمنسٹریٹیو سروس کو خیرباد کہنے کی وجہ سے میڈیا میں ان کی چرچا ہو رہی ہے ۔
کچھ روز قبل ہی ہاروڈ کنیڈی سکول سے واپس آئے شاہ فیصل فیصل نے ۹ جنوری کو ایک فیس بک پوسٹ کے ذریعے استعفی دے دیا ۔ اور اس استعفیٰ کی وجوہات بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’ کشمیر میں بڑھتی ہوئی ہلاکتوں اور بھارت میں میں آباد ۲۰ کروڑ مسلمانون کو غیر اہم بنانے اور گمنامی کی طرف دھکیلنے اور انہیں بنیاد پرست ہندتوا طاقتوں کی طرف سے عملاََ دوسرے درجے کے شہری بنانے کی مہم کے خلاف استعفیٰ دیتا ہوں ‘‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ استعفیٰ بھارت میں ریزرو بنک آف انڈیا ، سی بی آئی ، این آئی اے جیسے قومی عوامی اداروں کو غیر فعال بنانے اور انہیں سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کرنے کی کوششوں کے خلاف بھی ہے ۔‘‘
اسکے بعد دلی کی ایک ویب پورٹل میں کیا گیا کہ شاہ فیصل این سی کو جوائن کرنے والے ہیں اور بارہمولہ کی پارلیمانی سیٹ سے اگلے آنے ولاے انتخابات میں حصہ لیں گے ۔
پھر کیا تھا نوجوانوں نے کمنٹ کرنے شروع کئے اور اس پوسٹ پر پچیس سو سے زائد کمنٹ کرنے والوں میں سے زیادہ تر یوزرس نے شاہ فیصل کو مشورہ دیا کہ وہ یا تو اپنی پارٹی بنائے ، یا پھر بیوروکریسی میں ہی رہے ، موجودہ جماعتوں میں شمولیت کا مشورہ نہ کے برابر رہا ۔
اسکے بعد شاہ فیصل نے ان قیاس آرائیوں کو ختم کرنے کرنے لئے جمعہ کو سرینگر میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس بلا کر صاف کہہ دیا کہ وہ اگلے آنے والے انتخابات میں حصہ لینے کی خواہش رکھتے ہیں لیکن فی الحال کسی جماعت میں شامل نہیں ہو نگے ۔ کچھ نے انہیں حریت پسند جماعت میں شامل ہونے بھی کہا تھا ، شاہ فیصل نے اس پر کہا کہ انہوں نے سید علی گیلانی کی جماعت میں پہلے شامل ہونے کا سوچا تھا لیکن وہاں کیا کروں گا وہ انتخابات میں حصہ نہیں لیتے ۔
لیکن کہیں نوجوانوں کی بے چینی ختم ہونے کے بجائے بڑھ ہی گئی کیوں کہ ان کی طرف سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں لیا گیا ۔ بلکہ اب وہ آج سے نوجوانوں سے صلہ مشورہ کرنے کے بعد ہی اپنا فیصلہ لیں گے ۔
شاہ فیصل کے اس استعفیٰ اور سیاست میں قدم رکھنے کے فیصلے پر سب سے پہلے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا ’’ شاہ فیصل کا استعفیٰ ، بیوروکریسی کو نقصان سیاست کو فائدہ ، ۔ میر واعظ عمر فاروق نے ٹویٹ میں شاہ فیصل کے ہلاکتوں کے خلاف احتجاجاََ استعفیٰ دینے کو خوش آئید قراردے کر کہا کہ امید ہے ہلاکتوں کے خلاف شاہ فیصل کا ردعمل انہیں بہتر سیاسی فیصلہ لینے میں مدد دے گا ۔محبوبہ مفتی نے شاہ فیصل کے خلاف نا زیبہ زبان استعمال کرنے کو غلط قرار دے کر کہا کہ ہمیں اسکے جزبات کی قدر کرنی چاہیے ۔، میرا ساتھ شاہ فیصل کے ساتھ ہے ۔انجینئر رشید نے شاہ فیصل کو اے آئی پی میں شامل ہونے کا مشورہ دے ڈالا کیوں کہ ان کے مطابق باقی جماعتوں کا ریکارڈ ٹھیک نہیں ۔
ادھر دلی سے کانگریس کے سینر لیڈر پی چدمبرم نے شاہ فیصل کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کا مستعفی ہونا بد قسمتی ہے ان کے بیان کا ہر لفظ درست ہے اور پوری دنیا فیصل کے غم وغصے کا نوٹس لے گی ۔
لیکن ممبر پارلیمنٹ نذیر احمد لاوے کچھ اور سوچ رہے ہیں انہوں نے کہا کہ شاہ کا سیاست میں آنا محض بہانا ہے اصل میں باہر کہیں سیٹل ہونا چاہتے ہیں ۔محبوب مخدومی جنہوں نے کچھ روز قبل ان کے ساتھ ایک مضمون بھی لکھا تھا ، انہوں نے شاہ فیصل کے فیصلے کو احمقانہ قرار دے کر کہا کہ میں نے پوری کوشش کی کہ انہیں اس گٹر میں نہ جانے دوں ۔ اور میں ہر ایک سے کہتا ہوں وہ انہیں شراکتداروں کیساتھ جانے سے روکے ۔
کچھ کا یہ ماننا ہے کہ شاہ فیصل کا این سی کے ساتھ جوائن کرنا طے تھا ۔ لیکن انہوں نے پہلے کشمیری عوام کی اس پر ریکشنز دیکھنے کے بعد شائد اپنا فیصلہ روکا ۔
شاہ فیصل اس پہلے کہیں بار خبرو ں میں رہ چکے ہیں ۔ ۲۰۱۶ میں بر ہان وانی کے جانبحق ہونے کے بعد دلی کے کہیں میڈیا چینلز کی طرفسے شاہ کی برہان کیسا تھ تصویر دیکھنانے پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ ’’ میڈیا کا ایک حصہ ایک بار پھر اپنے روایتی خونخوار طریقہ اپناتے ہوئے جھوٹ پھیلا رہا ہے ۔ لوگوں کو صرف بانٹنے اور زیادہ نفرت پھیلانے میں لگے ہیں ۔
گزشتہ سال شاہ فیصل نے بڑھتی عصمت دری پر ایک ٹویٹ میں ریپستان لفظ کا استعمال کیا ۔جس کے بعد مرکز نے ریاستی حکومت کو ان کے خلاف کارروائی کرنے کو کہا ۔عمر عبداللہ نے شاہ کا دفاع کرتے ہوئے ایک ٹویٹ میں لکھا تھا کہ لگتا ہے ڈپارٹمنٹ آف پرسنل ٹریننگ شاہ فیصل کو سیول سروس سے باہر کرنے پر تلی ہوئی ہے ۔
بہرحال اب شاہ فیصل نے نوجوانوں کیساتھ مشورہ کرنے بعد ہی فیصلہ لینے کو کہا ہے ۔ شاہ فیصل کو حریت پسند جماعتیں، این سی ، کوئی اور علاقائی جماعت ، اپنی پارٹی بنانی چاہیے یا آزاد امید وار کے طور آنا چاہیے ۔
یا پھر وہ آئی اے ایس آفیسر ہی ٹھیک تھے ۔ آپ ہمیں کمنٹ بکس میں ضرور بتائیں ۔
پاکستان
کویت کے ساتھ معاہدے سے پاکستان کا مشرق وسطیٰ میں دفاعی حصار وسیع
اسلام آباد، پاکستان اور کویت نے جمعرات کو ایک نئے دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ پاکستان کی وزارت دفاع کے مطابق یہ معاہدہ 2023 سے موجود فوجی تعاون کے فریم ورک کو نمایاں طور پر وسعت دیتا ہے۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف اور کویت کے وزیر دفاع شیخ عبداللہ علی عبداللہ السالم الصباح نے راولپنڈی میں ’پروٹوکول ایگریمنٹ 2026‘ پر دستخط کیے۔
معاہدے کے تحت پاکستانی مسلح افواج کویت کی فوج کی تربیت، دفاعی صلاحیتوں میں اضافے اور سرحدی انتظام میں معاونت کریں گی۔یہ معاہدہ جون 2023 میں طے پانے والے ایک بنیادی معاہدے کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جس کی کویت نے گزشتہ ماہ باضابطہ طور پر توثیق کی تھی۔
یہ پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے بڑھتے ہوئے سلسلے میں تازہ ترین پیش رفت ہے۔
حالیہ برسوں میں پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدہ کیا، سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ ’مکہ پیکٹ‘ کے نام سے سہ فریقی اجتماعی سلامتی کے معاہدے میں شمولیت اختیار کی، سعودی عرب میں ہزاروں فوجی اور ایک جنگی طیاروں کا اسکواڈرن تعینات کیا اور قطر کے ساتھ فوجی تربیتی تعاون کو بھی وسعت دی ہے۔
پاکستان کئی دہائیوں سے خلیجی ممالک کی افواج کو تربیت اور افرادی قوت فراہم کرتا آیا ہے۔ تاہم اب فرق اس تعاون کی رفتار اور نمایاں حیثیت میں آیا ہے اور خلیجی دارالحکومت خاموش تعاون کے بجائے باضابطہ معاہدوں کے ذریعے اسے ادارہ جاتی شکل دینے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔
معاہدوں کے اس سلسلے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر خلیجی ممالک مسلسل پاکستان کا رخ کیوں کر رہے ہیں اور پاکستان ان معاہدوں کے ذریعے کیا حاصل کر رہا ہے؟
کویت اسلام آباد کے ساتھ دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے والا تازہ ترین خلیجی ملک ہے۔
کویت کے ساتھ پاکستان کا دفاعی تعاون 1960 کی دہائی کے اواخر سے جاری ہے۔ 1990-91 کی خلیجی جنگ کے دوران بھی پاکستان نے سعودی عرب میں ایک بڑا فوجی دستہ بھیجا تھا، جو 1990 میں عراق کی جانب سے کویت پر حملے کے بعد مکہ اور مدینہ کے اطراف دفاعی پوزیشنوں پر تعینات کیا گیا تھا۔
پاکستان کے سابق دو ستارہ جنرل اور اب دفاعی تجزیہ کار زاہد محمود نے کہا کہ یہی تاریخ جمعرات کو ہونے والے معاہدے کا پس منظر ہے۔انہوں نے کہا، ’’پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کوئی نئی بات نہیں ہے۔‘‘
محمود کے مطابق کویت کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا موازنہ گزشتہ ستمبر میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دستخط کردہ ’اسٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ‘ (ایس ایم ڈی اے) سے نہیں کیا جاسکتا۔ کویت معاہدے میں مکہ پیکٹ یا ایس ایم ڈی اے جیسی کوئی شق شامل نہیں، جن کے تحت کسی ایک فریق پر جارحیت کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
جنگ کے آغاز کے بعد ایران کا آبنائے ہرمز پر سابقہ کنٹرول بڑی حد تک کم ہوا: امریکہ کا دعویٰ
واشنگٹن/تہران، امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فوج نے جنگ کے آغاز کے بعد سے آبنائے ہرمز پر ایران کی گرفت کو بتدریج کمزور کر دیا ہے۔ واشنگٹن کے مطابق جو کارروائی ابتدا میں ایران کی میزائل اور جوہری صلاحیتوں کے خلاف مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، وہ اب دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں سے ایک پر کنٹرول حاصل کرنے کی طویل جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے، جو جنگ کے آغاز سے ہی تہران کا سب سے مؤثر دباؤ کا ذریعہ رہی ہے۔
امریکی حکام کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز کی بدلتی ہوئی صورتحال جنگ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، جس سے عالمی توانائی منڈیوں پر دباؤ کم ہوگا اور واشنگٹن کو تہران کے ساتھ مستقبل کے مذاکرات میں زیادہ اثر و رسوخ حاصل ہوگا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایک فون انٹرویو میں ’ایکسِیوس‘ سے کہا، ’’وہ جگہ کھلی ہوئی ہے۔ ایرانی ردعمل بہت معمولی ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ ہم دوبارہ ان پر حملہ کریں۔ یہی پوری بات ہے، باقی کسی چیز کی اہمیت نہیں۔‘‘
جنگ شروع ہونے کے وقت آبنائے ہرمز کھلی ہوئی تھی، عالمی سطح پر تیل کی ترسیل معمول کے مطابق جاری تھی اور برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 72 ڈالر فی بیرل تھی۔
دو اسرائیلی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا فیصلہ اس وقت پاسداران انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر جنرل علی رضا تنگسیری نے کیا تھا۔ جنگ کے پہلے 72 گھنٹوں کے اندر ایران نے آبی گزرگاہ کی بندش کا اعلان کیا اور خبردار کیا کہ گزرنے کی کوشش کرنے والے ٹینکروں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
اسرائیلی اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس کے بعد تنگسیری نے ایرانی افواج کو آبنائے ہرمز کے اندر ’ٹریفک سیپریشن اسکیم‘ یعنی بین الاقوامی جہاز رانی کے مرکزی راستے میں بحری سرنگیں بچھانے کا حکم دیا۔ تنگسیری تین ہفتے بعد بندر عباس میں اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے۔
حملوں اور سمندری سرنگوں کے خطرے کے باعث آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی۔ اس کے نتیجے میں برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 126 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی اور عالمی توانائی منڈیوں پر شدید دباؤ پڑنے لگا۔
ٹرمپ نے 8 اپریل کو جنگ بندی پر اتفاق کیا، جس کی ایک وجہ امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں میں بڑے اضافے اور توانائی منڈیوں کے دباؤ کو بھی قرار دیا گیا۔ یہ بالکل اسی نوعیت کا معاشی خلل تھا جسے ایران پیدا کرنا چاہتا تھا۔
دو ماہ بعد امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا مرکزی معاملہ بن گیا۔ تاہم آبی گزرگاہ مکمل طور پر معمول پر نہ آسکی اور جلد ہی یہ معاہدہ بھی ناکام ہوگیا۔
مفاہمتی یادداشت کے خاتمے کے بعد امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کو اپنے طور پر دوبارہ کھولنے کی کوشش شروع کردی۔ امریکہ نے متحدہ عرب امارات کے تعاون سے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی، جس نے جنوبی راستے سے تجارتی جہازوں کی رہنمائی شروع کی، انہیں فضائی تحفظ فراہم کیا اور ایرانی ڈرونز اور کروز میزائلوں کو روکنے کی کارروائیاں کیں۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان7 days agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
