دنیا
ٹرمپ کا ایران داؤ: وائٹ ہاؤس کی حکمت عملی جو’حکومت کی تبدیلی’ کو نئے دفاعی حربے کے طور پر دیکھتی ہے
واشنگٹن / دبئی، ایسے وقت میں جب ایران دہائیوں کے بدترین کریک ڈاؤن کی لپیٹ میں ہے، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کھلے عام ان فوجی اور غیر فوجی متبادل پر غور کر رہے ہیں جن کے بارے میں اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ یہ آمرانہ حکومتوں کے خلاف امریکہ کے رویے کو نئے سرے سے تشکیل دے سکتے ہیں اور مشرق وسطیٰ سے لاطینی امریکہ تک جغرافیائی سیاسی نقشہ بدل سکتے ہیں, عوامی سطح پر دھمکیوں اور نپی تلی مبہم گفتگو کے پیچھے ایک گہری تزویراتی (اسٹریٹجک) سوچ چھپی ہے: کیا ایران ’جبرا عدم استحکام‘ کے اس نظریے کے لیے اگلا میدانِ عمل بن سکتا ہے جس کے بارے میں ٹرمپ اور ان کے مشیروں کا خیال ہے کہ یہ وینزویلا میں کامیاب رہا اور اسے دوسری جگہوں پر بھی دہرایا جا سکتا ہے۔
اس کا فوری سبب ایران میں پھیلتی ہوئی بے چینی ہے۔ دسمبر کے آخر میں معاشی تباہی کے خلاف شروع ہونے والے مظاہرے (جہاں ریال کی قدر گر کر 1.4 ملین فی ڈالر تک پہنچ چکی ہے) اب ایرانی مذہبی قیادت کے لیے براہ راست چیلنج بن چکے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا اندازہ ہے کہ کم از کم 540 افراد ہلاک اور 10,600 سے زائد زیر حراست ہیں، تاہم انٹرنیٹ کی مکمل بندش کی وجہ سے ان اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق ناممکن ہے۔
ایک سینئر امریکی اہلکار نے کہا، ’’یہ صرف بے چینی نہیں ہے، یہ حکومت کی قانونی حیثیت کا بحران ہے۔‘‘
اندرونی مشاورت سے باخبر متعدد امریکی حکام کے مطابق، ٹرمپ کو مختلف ردعمل کی ایک فہرست پیش کی گئی ہے، جس میں ایرانی سکیورٹی فورسز کے خلاف سائبر آپریشنز سے لے کر ایسے ٹارگٹڈ فوجی حملے شامل ہیں جن کا مقصد امریکی زمینی افواج کو بھیجے بغیر حکومت کی مظاہرین کو کچلنے کی صلاحیت کو ختم کرنا ہے۔
ٹرمپ نے ’ایئر فورس ون‘ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’ فوج اس کا جائزہ لے رہی ہے، اور ہم کچھ بہت سخت آپشنز دیکھ رہے ہیں۔‘‘ جب ان سے ایرانی جوابی کارروائی کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا ’’اگر انہوں نے ایسا کیا، تو ہم ان پر ایساوارکریں گے جس کا انہوں نے پہلے کبھی سامنا نہیں کیا ہوگا۔‘‘
حکام کا کہنا ہے کہ ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا، لیکن ٹرمپ کے لہجے اور بریفنگز کی رفتار سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کارروائی کے قریب پہنچ رہے ہیں، باوجود اس کے کہ تہران مذاکرات کی خواہش ظاہر کر رہا ہے۔ ٹرمپ نے کہا، ’’ایران نے رابطہ کیا تھا، وہ مذاکرات کرنا چاہتے ہیں، لیکن ہمیں شاید ملاقات سے پہلے ہی کارروائی کرنی پڑے۔‘‘ ایران نے عوامی سطح پر ایسے کسی رابطے کا اعتراف نہیں کیا ہے۔
ٹرمپ کے مشیروں کا کہنا ہے کہ اس بار صورتحال مختلف اس لیے ہے کیونکہ صدر کو یقین ہے کہ دباؤ کام کرتا ہے۔ انتظامیہ کے اندر ٹرمپ اکثر وینزویلا کو ثبوت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ برسوں کی پابندیوں اور سفارتی تنہائی کے بعد، نکولس مادورو کا اقتدار ٹرمپ کے بقول ایک فیصلہ کن امریکی آپریشن کے بعد ختم ہو گیا جس نے قیادت کو بے بس کر کے باہر جانے پر مجبور کر دیا۔
اگرچہ اس کی تفصیلات خفیہ ہیں اور ناقدین وائٹ ہاؤس کے دعوؤں پر سوال اٹھاتے ہیں، لیکن ٹرمپ اب وینزویلا کو ایک اہم موڑ کے طور پر دیکھتے ہیں—وہ لمحہ جب دشمنوں نے ان کی دھمکیوں کو سنجیدگی سے لینا شروع کیا۔ محکمہ خارجہ کے ایک اہلکار نے حال ہی میں کہا، ’’ صدر ٹرمپ کے ساتھ کھیل نہ کھیلیں، جب وہ کچھ کرنے کا کہتے ہیں، تو ان کا مطلب وہی ہوتا ہے۔‘‘
تاہم، خود انتظامیہ کے اندر بھی بے چینی پائی جاتی ہے۔ کچھ حکام نے خبردار کیا ہے کہ فوجی کارروائی، چاہے وہ محدود ہی کیوں نہ ہو، الٹا اثر دکھا سکتی ہے اور ایرانی عوام کو حکومت کے گرد متحد کر سکتی ہے۔ ایران کی پارلیمنٹ کے ا سپیکر پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں کہ اگر واشنگٹن نے مداخلت کی تو امریکی اڈے اور اسرائیل ’’جائز اہداف‘‘ ہوں گے۔
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای، جو اب 86 برس کے ہیں، کئی دنوں سے منظر عام پر نہیں آئے۔ تنازع کو بڑھانے کا کوئی بھی فیصلہ ان کے ہاتھ میں ہے، جو امریکی منصوبہ سازوں کے لیے ایک غیر یقینی صورتحال ہے۔ ایک سابق انٹیلی جنس اہلکار نے کہا، ’’یہ 2011 کا لیبیا نہیں ہے۔ ایران کے پاس اتحادی، پراکسیز اور ایک طویل یادگار ہے۔‘‘
جس چیز نے سفارت کاروں کو سب سے زیادہ تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے وہ یہ ہے کہ شاید ایران آخری منزل نہیں ہے۔ ٹرمپ دنیا کو ایک بائنری (دو ٹوک) عینک سے دیکھتے ہیں: یا تو حکومتیں امریکہ کے معاشی اور سکیورٹی مطالبات کے ساتھ ہم آہنگ ہوں، یا پھر اس وقت تک بے پناہ دباؤ کا سامنا کریں جب تک کہ وہ ٹوٹ نہ جائیں۔ وائٹ ہاؤس کے اندر اس نقطہ نظر کے لیے جو سخت جملہ استعمال کیا جا رہا ہے وہ ہے: ’’گھٹنے ٹیکو یا مٹ جاؤ‘‘۔
ایران کے ساتھ کسی بھی کشیدگی کا براہ راست اثر چین اورہندوستام کے ساتھ ٹرمپ کے رویے پر بھی پڑے گا۔ چین، جو ایران کے تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے، اب تک تحمل کی تلقین کر رہا ہے۔ لیکن امریکی حکام کا خیال ہے کہ بیجنگ تہران کی خاطر واشنگٹن سے فوجی ٹکراؤ کے لیے تیار نہیں ہے۔
دوسری طرف ہندوستان ایک نازک مقام پر ہے۔ نئی دہلی کے واشنگٹن کے ساتھ اسٹریٹجک تعلقات اور تہران کے ساتھ تاریخی روابط ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ وہ ہندوستان پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ مغرب کے سے زیادہ قریب ہو—جو کہ ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت میں ہندوستان کی ’’ تزویراتی خودمختاری‘‘ کا امتحان ہوگا۔
یواین آئی۔ایف اے
دنیا
جنگ کے آغاز کے بعد ایران کا آبنائے ہرمز پر سابقہ کنٹرول بڑی حد تک کم ہوا: امریکہ کا دعویٰ
واشنگٹن/تہران، امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فوج نے جنگ کے آغاز کے بعد سے آبنائے ہرمز پر ایران کی گرفت کو بتدریج کمزور کر دیا ہے۔ واشنگٹن کے مطابق جو کارروائی ابتدا میں ایران کی میزائل اور جوہری صلاحیتوں کے خلاف مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، وہ اب دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں سے ایک پر کنٹرول حاصل کرنے کی طویل جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے، جو جنگ کے آغاز سے ہی تہران کا سب سے مؤثر دباؤ کا ذریعہ رہی ہے۔
امریکی حکام کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز کی بدلتی ہوئی صورتحال جنگ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، جس سے عالمی توانائی منڈیوں پر دباؤ کم ہوگا اور واشنگٹن کو تہران کے ساتھ مستقبل کے مذاکرات میں زیادہ اثر و رسوخ حاصل ہوگا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایک فون انٹرویو میں ’ایکسِیوس‘ سے کہا، ’’وہ جگہ کھلی ہوئی ہے۔ ایرانی ردعمل بہت معمولی ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ ہم دوبارہ ان پر حملہ کریں۔ یہی پوری بات ہے، باقی کسی چیز کی اہمیت نہیں۔‘‘
جنگ شروع ہونے کے وقت آبنائے ہرمز کھلی ہوئی تھی، عالمی سطح پر تیل کی ترسیل معمول کے مطابق جاری تھی اور برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 72 ڈالر فی بیرل تھی۔
دو اسرائیلی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا فیصلہ اس وقت پاسداران انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر جنرل علی رضا تنگسیری نے کیا تھا۔ جنگ کے پہلے 72 گھنٹوں کے اندر ایران نے آبی گزرگاہ کی بندش کا اعلان کیا اور خبردار کیا کہ گزرنے کی کوشش کرنے والے ٹینکروں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
اسرائیلی اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس کے بعد تنگسیری نے ایرانی افواج کو آبنائے ہرمز کے اندر ’ٹریفک سیپریشن اسکیم‘ یعنی بین الاقوامی جہاز رانی کے مرکزی راستے میں بحری سرنگیں بچھانے کا حکم دیا۔ تنگسیری تین ہفتے بعد بندر عباس میں اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے۔
حملوں اور سمندری سرنگوں کے خطرے کے باعث آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی۔ اس کے نتیجے میں برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 126 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی اور عالمی توانائی منڈیوں پر شدید دباؤ پڑنے لگا۔
ٹرمپ نے 8 اپریل کو جنگ بندی پر اتفاق کیا، جس کی ایک وجہ امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں میں بڑے اضافے اور توانائی منڈیوں کے دباؤ کو بھی قرار دیا گیا۔ یہ بالکل اسی نوعیت کا معاشی خلل تھا جسے ایران پیدا کرنا چاہتا تھا۔
دو ماہ بعد امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا مرکزی معاملہ بن گیا۔ تاہم آبی گزرگاہ مکمل طور پر معمول پر نہ آسکی اور جلد ہی یہ معاہدہ بھی ناکام ہوگیا۔
مفاہمتی یادداشت کے خاتمے کے بعد امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کو اپنے طور پر دوبارہ کھولنے کی کوشش شروع کردی۔ امریکہ نے متحدہ عرب امارات کے تعاون سے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی، جس نے جنوبی راستے سے تجارتی جہازوں کی رہنمائی شروع کی، انہیں فضائی تحفظ فراہم کیا اور ایرانی ڈرونز اور کروز میزائلوں کو روکنے کی کارروائیاں کیں۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ٹرمپ نے اونٹاریو جھیل کا نام تبدیل کرکے ‘لیک امریکہ’ رکھ دیا
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ اور کینیڈا کے درمیان واقع اونٹاریو جھیل کا نام تبدیل کرکے ”لیک امریکہ” رکھنے کے لیے ایک انتظامی حکم نامے پر دستخط کیے ہیں۔
ٹرمپ نے حکم نامے پر دستخط کرنے سے قبل اوول آفس میں کہا، ”ہم اونٹاریو جھیل کا نام فوری طور پر تبدیل کرکے لیک امریکہ کرنے جا رہے ہیں۔ میں ابھی اس حکم نامے پر دستخط کر رہا ہوں۔” انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے ذریعے وہ کوئی خاص پیغام نہیں دے رہے، تاہم وہ طویل عرصے سے اس بارے میں سوچ رہے تھے۔
ایک روز قبل صدر ٹرمپ نے کینیڈا کے ساتھ جاری تجارتی تنازع کے دوران ایک ویڈیو پوسٹ کی تھی، جس میں انہوں نے نقشے پر علامتی طور پر اونٹاریو جھیل کا نام تبدیل کرکے ”لیک امریکہ” دکھایا تھا۔
تاہم کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے اس کا نام ”لیک امریکہ” رکھے جانے کے باوجود کینیڈا اس جھیل کو اونٹاریو جھیل ہی کہتا رہے گا۔
کارنی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا، ”ہم جانتے ہیں کہ امریکہ تجارتی تعلقات، خارجہ پالیسیاں، قومی یادگاروں اور آبی ذخائر کے نام بھی تبدیل کر رہا ہے، لیکن کینیڈین جانتے ہیں کہ حقیقت میں اس کا نام اونٹاریو جھیل ہی ہے—تب بھی، اب بھی اور ہمیشہ یہی رہے گا۔”
وزیر اعظم نے یاد دلایا کہ جھیل کا نام مقامی باشندوں کی زبان سے نکلا ہے اور اس کی تاریخ چار صدیوں سے بھی زیادہ پرانی ہے۔ یہ نام کینیڈین کنفیڈریشن اور امریکہ کے اعلانِ آزادی، دونوں سے بھی پہلے کا ہے۔
کارنی کے مطابق ”لیک اونٹاریو” کا نام وینڈاٹ زبان کے لفظ ”اونٹاریو” سے ماخوذ ہے، جس کا مطلب ”جھیل خوبصورت ہے، جھیل بڑی ہے” ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نام 400 سال سے زیادہ پرانا ہے۔
اونٹاریو جھیل گریٹ لیکس نظام کا حصہ ہے اور امریکہ اور کینیڈا کی سرحد پر واقع ہے۔ اس کے ساحل امریکی ریاست نیویارک اور کینیڈا کے صوبے اونٹاریو سے ملتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
سیتا رمن نے کینیڈین مالیاتی اداروں کو ہندستان میں بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کی دعوت دی
ٹورنٹو، مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے جمعرات کو کینیڈا کے مالیاتی اداروں سے ہندستان کے تیزی سے ترقی کرتے بنیادی ڈھانچے کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنے کی اپیل کی محترمہ سیتا رمن نے یہاں اعلیٰ سطحی ہندستان-کینیڈا بزنس گول میز کانفرنس سے خطاب کیا اس موقع پر کینیڈا کے وزیر خزانہ و محصولات فرانسوا-فلپ شامپین بھی موجود تھے۔
وزیر خزانہ نے کینیڈا کے مالیاتی اداروں کو گفٹ آئی ایف ایس سی میں دستیاب مواقع سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دی۔ گفٹ آئی ایف ایس سی ہندستان میں سرحد پار مالیاتی سرگرمیوں کے لیے ایک اہم دروازہ ہے۔ انہوں نے بینکنگ، فنڈ مینجمنٹ، ازسرنو بیمہ، پائیدار مالیات، عالمی صلاحیتی مراکز اور طیاروں و بحری جہازوں کی لیزنگ جیسے شعبوں میں بھی مواقع پر زور دیا۔
اجلاس میں کینیڈا اور ہندستان کے پالیسی سازوں، مالیاتی اداروں، بینکنگ شعبے کے اعلیٰ عہدیداروں اور نجی شعبے کے نمائندوں نے شرکت کی۔
انہوں نے ہندستان کے مالیاتی نظام میں جاری تبدیلیوں پر بھی روشنی ڈالی۔ سرمایہ بازاروں کی توسیع، بیمہ شعبے کی بڑھتی رسائی، فن ٹیک میں جدت اور یو پی آئی جیسے ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے عالمی سرمایہ کاروں اور اداروں کے لیے نئے مواقع پیدا کر رہے ہیں۔
مرکزی وزیر خزانہ نے کہا کہ ہندستان میں بنیادی ڈھانچے کی تیزی سے توسیع ہو رہی ہے۔ نقل و حمل، توانائی، شہری اور ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے میں طویل مدتی ادارہ جاتی سرمایہ کاری کے لیے بڑے پیمانے پر مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔
وزیر خزانہ نے قومی سرمایہ کاری و بنیادی ڈھانچہ فنڈ (این آئی آئی ایف) کو ایک تجارتی نقطۂ نظر سے چلنے والا پلیٹ فارم قرار دیا، جو عالمی ادارہ جاتی سرمائے کو ہندستان کے بنیادی ڈھانچے اور ترقی کے مواقع سے جوڑتا ہے۔ اس میں بنیادی ڈھانچہ فنڈ 2 اور نجی بازار فنڈ 2 کے ذریعے سرمایہ کاری کے مواقع بھی شامل ہیں۔
محترمہ سیتا رمن نے گزشتہ ایک دہائی کے دوران ہندستان میں ہونے والی اصلاحات پر مبنی تبدیلیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اثاثوں کے معیار کا جائزہ، دیوالیہ پن اور دیوالیہ پن سے متعلق ضابطہ، 4 آر حکمت عملی اور دیگر اصلاحات نے بینکنگ نظام کو مضبوط کیا ہے۔ درج شدہ تجارتی بینکوں کا مجموعی این پی اے تناسب مارچ 2018 کے 11.18 فیصد سے کم ہوکر مارچ 2025 میں 2.31 فیصد رہ گیا ہے، جو گزشتہ 2 دہائیوں کی کم ترین سطح ہے۔
انہوں نے دونوں معیشتوں کی باہمی تکمیل پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندستان بڑے پیمانے، اقتصادی ترقی اور مواقع فراہم کرتا ہے، جبکہ کینیڈا طویل مدتی سرمایہ، ادارہ جاتی صلاحیت اور مہارت لے کر آتا ہے۔
یو این آئی، ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
ہندوستان1 week agoراہل پیلیٹ گن متاثرہ کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کے حق میں ڈی سی پی دفتر کے باہر دھرنے پر بیٹھے
