تازہ ترین
وادی میں 24گھنٹوں کے دوران 3حملے،پولیس کی طرف سے ایڈوائزری جاری؛ عوام سے تعاون طلب
خبراردو:
یوم جمہوری کی آمد سے قبل جنگجوؤں نے اپنی کارروائیاں تیز کرتے ہوئے شہر سرینگر اور جنوبی ضلع شوپیان میں پولیس و فورسز اہلکاروں پر دو الگ الگ ہتھ گولے داغے جو زار دار دھماکوں کے ساتھ پھٹ گئے تاہم دھماکوں میں کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ ادھر شہر کے گھنٹہ گھر کے قریب گرنیڈ حملے میں 4دکانوں اور ایک آلٹو گاڑی کے شیشے چکنا چور ہوگئے۔ دونوں حملوں کے فوراً بعد فوج، پولیس، سی آر پی ایف اور دیگر سیکورٹی ایجنسیوں کے افسران نے جائے حادثات کا دورہ کرتے ہوئے یہاں حالات کا گہرائی سے جائزہ لیا۔
فورسز اہلکاروں نے گرنیڈ حملوں کے فوراً بعد شہر کے ریذیڈنسی روڑ، ایم اے روڑ، کوکر بازار، بنڈ، گونی کھن، مہارج بازار، بتہ مالو سمیت کئی علاقوں میں فورسز کی اضافی کمک طلب کرتے ہوئے ہائی الرٹ جاری کردیا۔ ادھر فورسز اہلکاروں نے حملہ آور جنگجوؤں کو ڈھونڈ نکالنے کے لیے شہر میں جگہ جگہ جامہ تلاشی کا سلسلہ تیز کردیا جبکہ حساس اور اہم تنصیبات کے ارد گرد سیکورٹی فورسز کو الرٹ کردیا گیا۔ادھر 26جنوری کے پیش نظر جنگجوؤں کی طرف سے ممکنہ حملوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ریاستی پولیس نے محکمہ کے افسران اور اہلکاروں کو ہمہ وقت چوکس رہنے کی ہدایت کی ہے۔پولیس نے ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے تعلیمی اداروں، عام لوگوں ، ڈیفینس کمیٹی ممبران، لمبرداروں اور چوکیداروں کو یوم جمہوریہ کی تقریب پرامن طور پر منعقد کرنے کے حوالے سے بھر پور تعاون کی اپیل کی ہے۔
یوم جمہوریہ کی آمد سے ایک ہفتہ قبل وادی کشمیر میں جنگجوؤں نے اپنی کارروائیاں تیز کرتے ہوئے جمعہ دوپہر کو سرینگر اور شوپیان میں پولیس و سی آر پی ایف کو نشانہ بناتے ہوئے دو الگ الگ گرنیڈ داغے جس کے نتیجے میں دونوں مقامات پر افرا تفری کا ماحول پیدا ہوا۔ تفصیلات کے مطابق نامعلوم جنگجوؤں نے جمعہ دوپہر 01:40پر گھنٹہ گھر کے قریب سی آر پی ایف کے موبائل بنکر کو نشانہ بناتے ہوئے ایک ہتھ گولہ داغا جو سڑک پر گر کر زور دار دھماکے کے ساتھ پھٹ گیا۔معلوم ہوا ہے کہ جمعہ کو جونہی لوگ نماز کی تیاریوں میں مصروف تھے تو اسی اثنا میں گھنٹہ گھر کے بالکل سامنے واقع سی آر پی ایف کے موبائل بنکر پر نامعلوم سمت سے جنگجوؤں نے گرنیڈ داغا جو زور دار دھماکے کے ساتھ پھٹ گیا۔ معلوم ہوا کہ دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ آس پاس موجود گاڑیوں تجارتی ادارے لرز گئے اور یہاں موجود کئی دوکانات کے شیشے چکنا چور ہوئے۔ پولیس نے واقعے کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ بعد دوپہر جنگجوؤں نے یہاں موجود سی آر پی ایف اہلکاروں پر گرنیڈ داغا جو سڑک پر زور دار دھماکے کے ساتھ پھٹ گیا تاہم دھماکے میں کسی بھی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گرنیڈ حملے میں یہاں چار دوکانات کے شیشے چکنا چور ہونے کے علاوہ ایک آلو گاڑی زیر نمبر JK01AH-0279کے معمولی نقصان ہوا۔
انہوں نے بتایا کہ حملے کے فوراً بعد فورسز افسران نے یہاں دورہ کرکے حالات کا جائزہ لیا جبکہ اس دوران حملہ آور جنگجوؤں کو ڈھونڈ نکالنے کی خاطر بڑے پیمانے پر تلاشی کارروائی شروع کی گئی۔ پولیس کے مطابق شہر سرینگر میں گزشتہ دنوں کے دوران ہوئے پے در پے گرنیڈ حملوں کے نتیجے میں ہائی الرٹ جاری کیا گیا ہے جبکہ اہم اور حساس تنصیبات کے ارد گرد سیکورٹی گرڈ کو مزید مضبوط کرنے کی فورسز کو ہدایت جاری کی گئی ہے۔ادھر گھنٹہ گھر کے قریب ہوئے حملے کے فوراً بعد یہاں یہاں موجود لوگوں نے اپنی سلامتی کویقینی بنانے کی غرض سے محفوظ مقامات کی راہ لی تاہم دوکانات اور دیگر تجارتی اداروں نے شٹر گرائے جس کے ساتھ یہاں افرا تفری کا ماحول پیدا ہوا۔ معلوم ہوا کہ گرنیڈ حملے کے فوراً بعد یہاں کچھ وقفے کے لیے ٹریفک کی نقل وحمل بند ہوگئی ۔
ادھر شہر کے ریذیڈنسی روڑ، ایم اے روڑ، پولو ویو، ڈلگیٹ، ریگل چوک، پرتاپ پارک، مہاراجہ بازار، گونی کھن، امیر کدل،کورٹ روڑ اور مضافاتی علاقوں میں فورسز نے اضافی نفری تعینات کرتے ہوئے حملہ آوروں کو ڈھونڈ نکالنے کی خاطر تلاشی راہ گیروں کی جامہ تلاشی لینے کے ساتھ ساتھ ان کے شناختی کارڈ چیک کئے تاہم آخری اطلاعات ملنے تک کسی بھی شخص کی گرفتاری کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ دریں اثنا سرینگر کے بعد نامعلوم جنگجوؤں نے جنوبی کشمیر کے پہاڑی ضلع شوپیان میں پولیس پوسٹ گاگرن کو نشانہ بناتے ہوئے ہتھ گولہ داغا جو زور دار دھماکے کے ساتھ پھٹ گیا۔ پولیس کے مطابق جمعہ دوپہر کو نامعلوم سمت سے جنگجوؤں نے پولیس پوسٹ گاگرن کو نشانہ بناتے ہوئے ایک ہتھ گولہ داغا جو زور دار دھماکے کے ساتھ پھٹ گیا تاہم واقعے میں کسی بھی جانی یا مالی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ادھر معلوم ہوا ہے کہ جنگجوؤں کی طرف سے داغے گئے ہتھ گولے کے بعد یہاں افرا تفری کا ماحول پیدا ہوا جس دوران فوج، پولیس، سی آر پی ایف اور دیگر سیکورٹی ایجنسیوں کے اعلیٰ افسران نے گاگرن پولیس پوسٹ کا دورہ کرتے ہوئے زمینی صورتحال کا جائزہ لیا ۔ معلوم ہوا ہے کہ ادھر فورسز اہلکاروں نے حملہ آور جنگجوؤں کو ڈھونڈ نکالنے کی خاطر بڑے پیمانے پر تلاشی آپریشن شروع کردیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ حملے کے فوراً بعد فورسز اہلکاروں نے گاگرن کی کئی بستیوں میں گھر گھر تلاشی کارروائی شروع کی تاہم اس دوران کسی بھی شخص کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی۔
ادھر حملے کے فوراً بعد جموں کشمیر اسلامک فرنٹ نامی عسکری جماعت کے ترجمان نے کشمیر نیوز سروس کو فون کرکے گھنٹہ گھر کے پاس ہوئے حملے کی ذمہ داری قبول کی تاہم دیگر میڈیائی ذرائع کے مطابق شوپیان حملے کی ذمہ داری جیش محمد نے قبول کی۔ جیش ترجمان نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ شوپیان حملے میں کئی فورسز اہلکار زخمی ہوئے۔خیال رہے 26جنوری کی تقریب نزدیک آنے کے ساتھ ہی وادی کشمیر میں جنگجو کارروائیوں میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ادھر 17جنوری جمعرات کو نامعلوم جنگجوؤں نے شہر کے راجباغ زیروبرج کے نزدیک پولیس پوسٹ پر ہتھ گولہ داغا جس کے نتیجے میں اے ایس آئی سمیت پولیس کے 3اہلکاروں بری طرح زخمی ہوئے۔ اس سے قبل 11جنوری 2019جمعہ کی شام دیر گئے جنگجوؤں نے لعل چوک میں واقع پلیڈیم گلی پر قائم 132بٹالین کے سی آر پی ایف بنکر پر ایک ہتھ گولہ داغا تاہم اس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔واضح رہے دونوں حملوں کی ذمہ داری جیش محمد نامی عسکری تنظیم نے قبول کی تھی۔
ادھر 26جنوری کے پیش نظر جنگجوؤں کی طرف سے ممکنہ حملوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ریاستی پولیس نے محکمہ کے افسران اور اہلکاروں کو ہمہ وقت چوکس رہنے کی ہدایت کی ہے۔پولیس نے ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے بتایا کہ جنگجوؤں کی طرف سے کسی بھی حملے کو ناکام بنانے کی خاطر محکمہ کے افسران اور اہلکار چوبیسوں گھنٹے الرٹ رہیں۔ پولیس نے جاری ایڈوائزری میں عوام سے ناکوں پر تلاشیوں کے دوران بھر پور تعاون کی اپیل کی ہے۔ایڈوائزری میں تعلیمی اداروں کو بھی واضح ہدایت دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہ کسی اجنبی شخص کو ادارے میں داخل نہ ہونے دیں اور اس حوالے سے طلبا کو خصوصی ہدایات دیں۔پولیس نے لوگوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اجنبی اور لاوارث چیزوں کو ہاتھ نہ لگائیں اور کسی بھی مشکوک چیز یا شخص کو دیکھنے پر پولیس کو اطلاع فراہم کریں۔پولیس نے مسافر گاڑیوں میں سفر کرنے والوں سمیت جملہ لوگوں کو بازار،شاپنگ مالوں، ریلوے سٹیشنوں، بس اسٹینڈوں اور دیگر عوامی مقامات پر چوکسی برتنے کی ہدایت دی ہے۔پولیس نے تمام پولیس تھانوں کے سٹیشن ہاؤس افسران اورپوسٹ انچارجوں کو چوبیسوں گھنٹے ڈیوٹی پر حاضر رہنے کی ہدایت جاری کی ہے۔پولیس نے ولیج ڈیفینس کمیٹی ممبران، لمبرداروں، چوکیداروں کو بھی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پولیس کے ساتھ تعاون کریں تاکہ آنے والے یوم جمہوریہ کے سلسلے میں لوگوں کی حفاظت یقینی بنائی جاسکے۔
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
پاکستان
کویت کے ساتھ معاہدے سے پاکستان کا مشرق وسطیٰ میں دفاعی حصار وسیع
اسلام آباد، پاکستان اور کویت نے جمعرات کو ایک نئے دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ پاکستان کی وزارت دفاع کے مطابق یہ معاہدہ 2023 سے موجود فوجی تعاون کے فریم ورک کو نمایاں طور پر وسعت دیتا ہے۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف اور کویت کے وزیر دفاع شیخ عبداللہ علی عبداللہ السالم الصباح نے راولپنڈی میں ’پروٹوکول ایگریمنٹ 2026‘ پر دستخط کیے۔
معاہدے کے تحت پاکستانی مسلح افواج کویت کی فوج کی تربیت، دفاعی صلاحیتوں میں اضافے اور سرحدی انتظام میں معاونت کریں گی۔یہ معاہدہ جون 2023 میں طے پانے والے ایک بنیادی معاہدے کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جس کی کویت نے گزشتہ ماہ باضابطہ طور پر توثیق کی تھی۔
یہ پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے بڑھتے ہوئے سلسلے میں تازہ ترین پیش رفت ہے۔
حالیہ برسوں میں پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدہ کیا، سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ ’مکہ پیکٹ‘ کے نام سے سہ فریقی اجتماعی سلامتی کے معاہدے میں شمولیت اختیار کی، سعودی عرب میں ہزاروں فوجی اور ایک جنگی طیاروں کا اسکواڈرن تعینات کیا اور قطر کے ساتھ فوجی تربیتی تعاون کو بھی وسعت دی ہے۔
پاکستان کئی دہائیوں سے خلیجی ممالک کی افواج کو تربیت اور افرادی قوت فراہم کرتا آیا ہے۔ تاہم اب فرق اس تعاون کی رفتار اور نمایاں حیثیت میں آیا ہے اور خلیجی دارالحکومت خاموش تعاون کے بجائے باضابطہ معاہدوں کے ذریعے اسے ادارہ جاتی شکل دینے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔
معاہدوں کے اس سلسلے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر خلیجی ممالک مسلسل پاکستان کا رخ کیوں کر رہے ہیں اور پاکستان ان معاہدوں کے ذریعے کیا حاصل کر رہا ہے؟
کویت اسلام آباد کے ساتھ دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے والا تازہ ترین خلیجی ملک ہے۔
کویت کے ساتھ پاکستان کا دفاعی تعاون 1960 کی دہائی کے اواخر سے جاری ہے۔ 1990-91 کی خلیجی جنگ کے دوران بھی پاکستان نے سعودی عرب میں ایک بڑا فوجی دستہ بھیجا تھا، جو 1990 میں عراق کی جانب سے کویت پر حملے کے بعد مکہ اور مدینہ کے اطراف دفاعی پوزیشنوں پر تعینات کیا گیا تھا۔
پاکستان کے سابق دو ستارہ جنرل اور اب دفاعی تجزیہ کار زاہد محمود نے کہا کہ یہی تاریخ جمعرات کو ہونے والے معاہدے کا پس منظر ہے۔انہوں نے کہا، ’’پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کوئی نئی بات نہیں ہے۔‘‘
محمود کے مطابق کویت کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا موازنہ گزشتہ ستمبر میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دستخط کردہ ’اسٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ‘ (ایس ایم ڈی اے) سے نہیں کیا جاسکتا۔ کویت معاہدے میں مکہ پیکٹ یا ایس ایم ڈی اے جیسی کوئی شق شامل نہیں، جن کے تحت کسی ایک فریق پر جارحیت کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
جنگ کے آغاز کے بعد ایران کا آبنائے ہرمز پر سابقہ کنٹرول بڑی حد تک کم ہوا: امریکہ کا دعویٰ
واشنگٹن/تہران، امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فوج نے جنگ کے آغاز کے بعد سے آبنائے ہرمز پر ایران کی گرفت کو بتدریج کمزور کر دیا ہے۔ واشنگٹن کے مطابق جو کارروائی ابتدا میں ایران کی میزائل اور جوہری صلاحیتوں کے خلاف مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، وہ اب دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں سے ایک پر کنٹرول حاصل کرنے کی طویل جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے، جو جنگ کے آغاز سے ہی تہران کا سب سے مؤثر دباؤ کا ذریعہ رہی ہے۔
امریکی حکام کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز کی بدلتی ہوئی صورتحال جنگ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، جس سے عالمی توانائی منڈیوں پر دباؤ کم ہوگا اور واشنگٹن کو تہران کے ساتھ مستقبل کے مذاکرات میں زیادہ اثر و رسوخ حاصل ہوگا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایک فون انٹرویو میں ’ایکسِیوس‘ سے کہا، ’’وہ جگہ کھلی ہوئی ہے۔ ایرانی ردعمل بہت معمولی ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ ہم دوبارہ ان پر حملہ کریں۔ یہی پوری بات ہے، باقی کسی چیز کی اہمیت نہیں۔‘‘
جنگ شروع ہونے کے وقت آبنائے ہرمز کھلی ہوئی تھی، عالمی سطح پر تیل کی ترسیل معمول کے مطابق جاری تھی اور برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 72 ڈالر فی بیرل تھی۔
دو اسرائیلی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا فیصلہ اس وقت پاسداران انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر جنرل علی رضا تنگسیری نے کیا تھا۔ جنگ کے پہلے 72 گھنٹوں کے اندر ایران نے آبی گزرگاہ کی بندش کا اعلان کیا اور خبردار کیا کہ گزرنے کی کوشش کرنے والے ٹینکروں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
اسرائیلی اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس کے بعد تنگسیری نے ایرانی افواج کو آبنائے ہرمز کے اندر ’ٹریفک سیپریشن اسکیم‘ یعنی بین الاقوامی جہاز رانی کے مرکزی راستے میں بحری سرنگیں بچھانے کا حکم دیا۔ تنگسیری تین ہفتے بعد بندر عباس میں اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے۔
حملوں اور سمندری سرنگوں کے خطرے کے باعث آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی۔ اس کے نتیجے میں برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 126 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی اور عالمی توانائی منڈیوں پر شدید دباؤ پڑنے لگا۔
ٹرمپ نے 8 اپریل کو جنگ بندی پر اتفاق کیا، جس کی ایک وجہ امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں میں بڑے اضافے اور توانائی منڈیوں کے دباؤ کو بھی قرار دیا گیا۔ یہ بالکل اسی نوعیت کا معاشی خلل تھا جسے ایران پیدا کرنا چاہتا تھا۔
دو ماہ بعد امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا مرکزی معاملہ بن گیا۔ تاہم آبی گزرگاہ مکمل طور پر معمول پر نہ آسکی اور جلد ہی یہ معاہدہ بھی ناکام ہوگیا۔
مفاہمتی یادداشت کے خاتمے کے بعد امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کو اپنے طور پر دوبارہ کھولنے کی کوشش شروع کردی۔ امریکہ نے متحدہ عرب امارات کے تعاون سے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی، جس نے جنوبی راستے سے تجارتی جہازوں کی رہنمائی شروع کی، انہیں فضائی تحفظ فراہم کیا اور ایرانی ڈرونز اور کروز میزائلوں کو روکنے کی کارروائیاں کیں۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا7 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا7 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا7 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
