تازہ ترین
وادی میں 24گھنٹوں کے دوران 3حملے،پولیس کی طرف سے ایڈوائزری جاری؛ عوام سے تعاون طلب
خبراردو:
یوم جمہوری کی آمد سے قبل جنگجوؤں نے اپنی کارروائیاں تیز کرتے ہوئے شہر سرینگر اور جنوبی ضلع شوپیان میں پولیس و فورسز اہلکاروں پر دو الگ الگ ہتھ گولے داغے جو زار دار دھماکوں کے ساتھ پھٹ گئے تاہم دھماکوں میں کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ ادھر شہر کے گھنٹہ گھر کے قریب گرنیڈ حملے میں 4دکانوں اور ایک آلٹو گاڑی کے شیشے چکنا چور ہوگئے۔ دونوں حملوں کے فوراً بعد فوج، پولیس، سی آر پی ایف اور دیگر سیکورٹی ایجنسیوں کے افسران نے جائے حادثات کا دورہ کرتے ہوئے یہاں حالات کا گہرائی سے جائزہ لیا۔
فورسز اہلکاروں نے گرنیڈ حملوں کے فوراً بعد شہر کے ریذیڈنسی روڑ، ایم اے روڑ، کوکر بازار، بنڈ، گونی کھن، مہارج بازار، بتہ مالو سمیت کئی علاقوں میں فورسز کی اضافی کمک طلب کرتے ہوئے ہائی الرٹ جاری کردیا۔ ادھر فورسز اہلکاروں نے حملہ آور جنگجوؤں کو ڈھونڈ نکالنے کے لیے شہر میں جگہ جگہ جامہ تلاشی کا سلسلہ تیز کردیا جبکہ حساس اور اہم تنصیبات کے ارد گرد سیکورٹی فورسز کو الرٹ کردیا گیا۔ادھر 26جنوری کے پیش نظر جنگجوؤں کی طرف سے ممکنہ حملوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ریاستی پولیس نے محکمہ کے افسران اور اہلکاروں کو ہمہ وقت چوکس رہنے کی ہدایت کی ہے۔پولیس نے ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے تعلیمی اداروں، عام لوگوں ، ڈیفینس کمیٹی ممبران، لمبرداروں اور چوکیداروں کو یوم جمہوریہ کی تقریب پرامن طور پر منعقد کرنے کے حوالے سے بھر پور تعاون کی اپیل کی ہے۔
یوم جمہوریہ کی آمد سے ایک ہفتہ قبل وادی کشمیر میں جنگجوؤں نے اپنی کارروائیاں تیز کرتے ہوئے جمعہ دوپہر کو سرینگر اور شوپیان میں پولیس و سی آر پی ایف کو نشانہ بناتے ہوئے دو الگ الگ گرنیڈ داغے جس کے نتیجے میں دونوں مقامات پر افرا تفری کا ماحول پیدا ہوا۔ تفصیلات کے مطابق نامعلوم جنگجوؤں نے جمعہ دوپہر 01:40پر گھنٹہ گھر کے قریب سی آر پی ایف کے موبائل بنکر کو نشانہ بناتے ہوئے ایک ہتھ گولہ داغا جو سڑک پر گر کر زور دار دھماکے کے ساتھ پھٹ گیا۔معلوم ہوا ہے کہ جمعہ کو جونہی لوگ نماز کی تیاریوں میں مصروف تھے تو اسی اثنا میں گھنٹہ گھر کے بالکل سامنے واقع سی آر پی ایف کے موبائل بنکر پر نامعلوم سمت سے جنگجوؤں نے گرنیڈ داغا جو زور دار دھماکے کے ساتھ پھٹ گیا۔ معلوم ہوا کہ دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ آس پاس موجود گاڑیوں تجارتی ادارے لرز گئے اور یہاں موجود کئی دوکانات کے شیشے چکنا چور ہوئے۔ پولیس نے واقعے کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ بعد دوپہر جنگجوؤں نے یہاں موجود سی آر پی ایف اہلکاروں پر گرنیڈ داغا جو سڑک پر زور دار دھماکے کے ساتھ پھٹ گیا تاہم دھماکے میں کسی بھی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گرنیڈ حملے میں یہاں چار دوکانات کے شیشے چکنا چور ہونے کے علاوہ ایک آلو گاڑی زیر نمبر JK01AH-0279کے معمولی نقصان ہوا۔
انہوں نے بتایا کہ حملے کے فوراً بعد فورسز افسران نے یہاں دورہ کرکے حالات کا جائزہ لیا جبکہ اس دوران حملہ آور جنگجوؤں کو ڈھونڈ نکالنے کی خاطر بڑے پیمانے پر تلاشی کارروائی شروع کی گئی۔ پولیس کے مطابق شہر سرینگر میں گزشتہ دنوں کے دوران ہوئے پے در پے گرنیڈ حملوں کے نتیجے میں ہائی الرٹ جاری کیا گیا ہے جبکہ اہم اور حساس تنصیبات کے ارد گرد سیکورٹی گرڈ کو مزید مضبوط کرنے کی فورسز کو ہدایت جاری کی گئی ہے۔ادھر گھنٹہ گھر کے قریب ہوئے حملے کے فوراً بعد یہاں یہاں موجود لوگوں نے اپنی سلامتی کویقینی بنانے کی غرض سے محفوظ مقامات کی راہ لی تاہم دوکانات اور دیگر تجارتی اداروں نے شٹر گرائے جس کے ساتھ یہاں افرا تفری کا ماحول پیدا ہوا۔ معلوم ہوا کہ گرنیڈ حملے کے فوراً بعد یہاں کچھ وقفے کے لیے ٹریفک کی نقل وحمل بند ہوگئی ۔
ادھر شہر کے ریذیڈنسی روڑ، ایم اے روڑ، پولو ویو، ڈلگیٹ، ریگل چوک، پرتاپ پارک، مہاراجہ بازار، گونی کھن، امیر کدل،کورٹ روڑ اور مضافاتی علاقوں میں فورسز نے اضافی نفری تعینات کرتے ہوئے حملہ آوروں کو ڈھونڈ نکالنے کی خاطر تلاشی راہ گیروں کی جامہ تلاشی لینے کے ساتھ ساتھ ان کے شناختی کارڈ چیک کئے تاہم آخری اطلاعات ملنے تک کسی بھی شخص کی گرفتاری کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ دریں اثنا سرینگر کے بعد نامعلوم جنگجوؤں نے جنوبی کشمیر کے پہاڑی ضلع شوپیان میں پولیس پوسٹ گاگرن کو نشانہ بناتے ہوئے ہتھ گولہ داغا جو زور دار دھماکے کے ساتھ پھٹ گیا۔ پولیس کے مطابق جمعہ دوپہر کو نامعلوم سمت سے جنگجوؤں نے پولیس پوسٹ گاگرن کو نشانہ بناتے ہوئے ایک ہتھ گولہ داغا جو زور دار دھماکے کے ساتھ پھٹ گیا تاہم واقعے میں کسی بھی جانی یا مالی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ادھر معلوم ہوا ہے کہ جنگجوؤں کی طرف سے داغے گئے ہتھ گولے کے بعد یہاں افرا تفری کا ماحول پیدا ہوا جس دوران فوج، پولیس، سی آر پی ایف اور دیگر سیکورٹی ایجنسیوں کے اعلیٰ افسران نے گاگرن پولیس پوسٹ کا دورہ کرتے ہوئے زمینی صورتحال کا جائزہ لیا ۔ معلوم ہوا ہے کہ ادھر فورسز اہلکاروں نے حملہ آور جنگجوؤں کو ڈھونڈ نکالنے کی خاطر بڑے پیمانے پر تلاشی آپریشن شروع کردیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ حملے کے فوراً بعد فورسز اہلکاروں نے گاگرن کی کئی بستیوں میں گھر گھر تلاشی کارروائی شروع کی تاہم اس دوران کسی بھی شخص کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی۔
ادھر حملے کے فوراً بعد جموں کشمیر اسلامک فرنٹ نامی عسکری جماعت کے ترجمان نے کشمیر نیوز سروس کو فون کرکے گھنٹہ گھر کے پاس ہوئے حملے کی ذمہ داری قبول کی تاہم دیگر میڈیائی ذرائع کے مطابق شوپیان حملے کی ذمہ داری جیش محمد نے قبول کی۔ جیش ترجمان نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ شوپیان حملے میں کئی فورسز اہلکار زخمی ہوئے۔خیال رہے 26جنوری کی تقریب نزدیک آنے کے ساتھ ہی وادی کشمیر میں جنگجو کارروائیوں میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ادھر 17جنوری جمعرات کو نامعلوم جنگجوؤں نے شہر کے راجباغ زیروبرج کے نزدیک پولیس پوسٹ پر ہتھ گولہ داغا جس کے نتیجے میں اے ایس آئی سمیت پولیس کے 3اہلکاروں بری طرح زخمی ہوئے۔ اس سے قبل 11جنوری 2019جمعہ کی شام دیر گئے جنگجوؤں نے لعل چوک میں واقع پلیڈیم گلی پر قائم 132بٹالین کے سی آر پی ایف بنکر پر ایک ہتھ گولہ داغا تاہم اس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔واضح رہے دونوں حملوں کی ذمہ داری جیش محمد نامی عسکری تنظیم نے قبول کی تھی۔
ادھر 26جنوری کے پیش نظر جنگجوؤں کی طرف سے ممکنہ حملوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ریاستی پولیس نے محکمہ کے افسران اور اہلکاروں کو ہمہ وقت چوکس رہنے کی ہدایت کی ہے۔پولیس نے ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے بتایا کہ جنگجوؤں کی طرف سے کسی بھی حملے کو ناکام بنانے کی خاطر محکمہ کے افسران اور اہلکار چوبیسوں گھنٹے الرٹ رہیں۔ پولیس نے جاری ایڈوائزری میں عوام سے ناکوں پر تلاشیوں کے دوران بھر پور تعاون کی اپیل کی ہے۔ایڈوائزری میں تعلیمی اداروں کو بھی واضح ہدایت دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہ کسی اجنبی شخص کو ادارے میں داخل نہ ہونے دیں اور اس حوالے سے طلبا کو خصوصی ہدایات دیں۔پولیس نے لوگوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اجنبی اور لاوارث چیزوں کو ہاتھ نہ لگائیں اور کسی بھی مشکوک چیز یا شخص کو دیکھنے پر پولیس کو اطلاع فراہم کریں۔پولیس نے مسافر گاڑیوں میں سفر کرنے والوں سمیت جملہ لوگوں کو بازار،شاپنگ مالوں، ریلوے سٹیشنوں، بس اسٹینڈوں اور دیگر عوامی مقامات پر چوکسی برتنے کی ہدایت دی ہے۔پولیس نے تمام پولیس تھانوں کے سٹیشن ہاؤس افسران اورپوسٹ انچارجوں کو چوبیسوں گھنٹے ڈیوٹی پر حاضر رہنے کی ہدایت جاری کی ہے۔پولیس نے ولیج ڈیفینس کمیٹی ممبران، لمبرداروں، چوکیداروں کو بھی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پولیس کے ساتھ تعاون کریں تاکہ آنے والے یوم جمہوریہ کے سلسلے میں لوگوں کی حفاظت یقینی بنائی جاسکے۔
دنیا
امریکہ یا اسرائیل کے دوبارہ حملے کی صورت میں خلیج فارس میں زیرِ سمندر انٹرنیٹ کیبلز کو نشانہ بنانے کی ایران کی تیاری
تہران، ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ اور اسرائیل نے دوبارہ حملے کیے تو وہ خلیج فارس میں زیرِ سمندر مواصلاتی کیبلز کو نشانہ بنانے کے منصوبوں پر عمل کر سکتا ہے۔ ایرانی سکیورٹی حکام کے اس انتباہ سے خطے میں انٹرنیٹ کنکٹیویٹی اور مالیاتی خدمات میں ممکنہ خلل کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
‘ٹائمز آف اسرائیل’ کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے دو سکیورٹی عہدیداروں نے کہا کہ اگر واشنگٹن کے ساتھ سفارتی کوششیں ناکام ہو جاتی ہیں تو تہران زیرِ سمندر کیبلز کو نشانہ بنانے پر غور کر رہا ہے۔ ایک عہدیدار نے کہا کہ ایران کسی بھی حملے کے بعد ان کیبلز کی مرمت روکنے کی کوشش کرے گا، تاکہ مواصلاتی نظام اور انٹرنیٹ کنکشن میں خلل طویل عرصے تک برقرار رہے۔
عہدیدار نے واشنگٹن کو ”آگ سے نہ کھیلنے” کی تنبیہ کرتے ہوئے کہا، ”اگر ایران پر حملہ کیا گیا تو پھر کوئی سرخ لکیر باقی نہیں رہے گی۔۔۔ زیرِ سمندر کیبلز سے لے کر فوجی اڈوں تک، جن میں خفیہ اڈے بھی شامل ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی ان کیبلز تک رسائی ہے اور وہ انہیں تباہ کر سکتا ہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کے نائب سربراہ برائے سیاسی امور یداللہ جوانی نے بدھ کو کہا کہ اگر ایران کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ کیا گیا تو تہران آبنائے ہرمز کے نیچے سے گزرنے والی انٹرنیٹ کی سات بڑی کیبلز کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
بین الاقوامی ٹیلی کمیونیکیشن یونین کے مطابق، زیرِ سمندر کیبلز کے ذریعے دنیا بھر میں انٹرنیٹ ٹریفک کا تقریباً 99 فیصد منتقل ہوتا ہے۔ تاہم، ٹیلی مواصلات پر تحقیق کرنے والے ادارے ٹیلی جیوگرافی کے ریسرچ ڈائریکٹر ایلن مولڈن نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں حملوں کے عالمی اثرات محدود ہو سکتے ہیں، کیونکہ بین الاقوامی بینڈوڈتھ کا ایک فیصد سے بھی کم حصہ اس آبی گزرگاہ سے گزرتا ہے۔ آبنائے ہرمز ایران اور عمان کے درمیان واقع ہے اور خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرۂ عرب سے ملاتی ہے۔
یہ دھمکیاں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ تہران کے نزدیک امریکہ کی جانب سے کسی نئی فوجی کارروائی کی صورت میں گزشتہ تنازع کے مقابلے میں زیادہ سخت ردعمل دینا ضروری ہوگا۔ ایران کے سینئر سکیورٹی عہدیدار محسن رضائی نے بھی رواں ماہ کے اوائل میں خبردار کیا تھا کہ خلیج فارس کے علاقے میں امریکہ سے منسلک ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے، بشمول ڈیٹا سینٹرز اور مصنوعی ذہانت کی تنصیبات، کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
ایران کے دوسرے سکیورٹی عہدیدار نے کہا کہ خلیجی ممالک کو زیرِ سمندر کیبلز کو پہنچنے والے کسی بھی نقصان کا ذمہ دار واشنگٹن کو ٹھہرانا چاہیے، کیونکہ خطے کے ممالک نے ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے میں بھاری سرمایہ کاری کی ہے۔
واشنگٹن میں مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے ایران پروگرام کے ڈائریکٹر الیکس واتانکا نے کہا کہ ان دھمکیوں کا مقصد خلیجی حکومتوں اور امریکی کمپنیوں میں ان کی سرمایہ کاری کے تحفظ سے متعلق خدشات بڑھا کر امریکہ کو دوبارہ فوجی کارروائی سے روکنا ہے۔
واتانکا نے کہا، ”تہران چاہتا ہے کہ خلیجی ممالک اور کارپوریٹ اداروں کے سربراہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر دباؤ ڈالیں کہ ان کی پالیسیوں سے ان کے سرمایہ کاری منصوبوں کو لاحق خطرات پر غور کیا جائے۔”
مولڈن کے مطابق، متعدد کیبلز کٹنے سے انٹرنیٹ خدمات کی رفتار سست ہو سکتی ہے اور مالیاتی لین دین، آن لائن تجارت اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ متاثر ہو سکتی ہے۔ خلل کی شدت اس بات پر منحصر ہوگی کہ آیا آپریٹرز ٹریفک کو متبادل رابطوں کی جانب منتقل کر سکتے ہیں اور آیا ان نیٹ ورکس میں اضافی گنجائش موجود ہے۔
تنازع کے دوران کیبلز کی مرمت بھی مشکل ہو سکتی ہے۔ بیمہ اخراجات میں اضافے اور علاقائی سمندری حدود میں داخلے کے اجازت نامے حاصل کرنے میں تاخیر سے مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں۔
بحیرۂ احمر اس سے زیادہ اہم ہدف ثابت ہو سکتا ہے، بالخصوص اگر ایران کو یمن میں اپنے حلیف حوثی باغیوں کی حمایت حاصل ہو۔ تاہم، تہران نے وہاں کیبلز پر حملے کے کسی منصوبے کا عوامی طور پر اعلان نہیں کیا ہے۔
مولڈن کے مطابق، بحیرۂ احمر سے گزرنے والی کیبلز یورپ، مشرقی افریقہ اور ایشیا کے درمیان ڈیٹا کی ترسیل کرتی ہیں۔ عالمی بین الاقوامی ڈیٹا ٹریفک کی طلب میں اس آبی گزرگاہ کا حصہ تقریباً تین فیصد، جبکہ مختلف خطوں کے درمیان منتقل ہونے والی ٹریفک میں اس کا حصہ تقریباً 10 فیصد ہے۔
یہ دھمکیاں ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب خلیجی حکومتیں تیل پر انحصار کم کرنے اور اپنی معیشتوں کو متنوع بنانے کے لیے ٹیکنالوجی کے شعبے کو وسعت دے رہی ہیں اور خود کو مصنوعی ذہانت کے عالمی مراکز کے طور پر قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ ان کے تعلقات بھی گہرے ہو رہے ہیں۔
مارچ میں ایرانی حملوں میں متحدہ عرب امارات میں ایمیزون ویب سروسز کی دو تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا، جبکہ بحرین میں ایک دوسری تنصیب کے قریب بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا تھا۔ اسی ماہ تنازع کے عروج پر پاسدارانِ انقلاب نے مائیکروسافٹ، گوگل، ایپل اور اینویڈیا سمیت امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو بھی جائز اہداف قرار دیا تھا۔
زمین پر قائم نیٹ ورک انٹرنیٹ ٹریفک کی ترسیل کے لیے متبادل راستے فراہم کر سکتے ہیں۔ خلیجی حکومتیں اور امریکی ٹیکنالوجی کمپنیاں بھی نیٹ ورک کی مضبوطی اور ہنگامی حالات میں اس کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے اضافی بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ مائیکروسافٹ نے 2030 تک خطے میں زیرِ سمندر اور زمینی مواصلاتی رابطوں کے لیے 40 کروڑ ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کا منصوبہ بنایا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایردوان: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو زیادہ منصفانہ اور جامع بنایا جانا چاہیے
انقرہ، ترکیہ کے صدر ایردوان نے اپنے پیغام میں درج ذیل الفاظ بیان کیے: “اقوامِ متحدہ کے قیام کی 81ویں سالگرہ پر میں اپنی اور ترک عوام کی جانب سے دلی جذبات کے ساتھ مبارکباد پیش کرتا ہوں اور سیکریٹری جنرل جناب انتونیو گوترش صاحب اور ہمارے ملک میں اور دنیا کے مختلف علاقوں میں خدمات انجام دینے والے اقوامِ متحدہ کے کارکنوں کو مبارکباد دیتا ہوں۔”
دو عالمی جنگوں کے بعد ‘جنگ کی آفت سے آنے والی نسلوں کا تحفظ’ کے عزم کے تحت قائم ہونے والے اقوامِ متحدہ نے بین الاقوامی امن و امان کے تحفظ، ترقی اور خوشحالی کے فروغ کے لیے ابتدا سے ہی اہم ذمہ داریاں سنبھالی ہیں۔
آج جن عالمی آزمائشوں کا سامنا ہے – جنگیں، انسانی آفات، موسمیاتی تبدیلی، بھوک اور غربت، نسل پرستی، بیرونِ وطن دشمنی اور اسلام مخالف رجحانات – وہ دکھاتی ہیں کہ اقوامِ متحدہ کے قیام کا مشن کم نہیں ہوا بلکہ اس کی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے۔
انسانیت آج بھی اُس مستقبل کی آرزو رکھتی ہے جس میں اقوامِ متحدہ کے منشور کے مطابق مشترکہ ارادہ عملی طور پر نافذ ہو، جنگیں ختم ہوں اور دائمی امن قائم ہو۔
اقوامِ متحدہ ان عظیم ذمہ داریوں کو مناسب طریقے سے نبھانے کے قابل ہونے کے لیے تمام ممالک کی طرف سے اقوامِ متحدہ کے منشور کی مضبوط حمایت اور تنظیم کے بنیادی اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے والی اصلاحات کی حمایت کرنا انسانی مفاد میں ضروری ہے۔
اسی نقطۂ نظر کے تحت، اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو زیادہ منصفانہ، جامع اور بین الاقوامی برادری کی توقعات کے مطابق بنانے کی ضرورت خاص طور پر اہم ہو گئی ہے۔ غزہ میں پیش آنے والا واقعہ، جسے نسل کشی قرار دیا جا رہا ہے اور جس کے نتیجے میں 74 ہزار سے زائد غزہ کے باشندگان کی جانیں ضائع ہوئیں، اور دنیا کے دیگر خطوں میں پھیلنے والے بحران اور تصادم اس ضرورت کی کتنا فوری ہونے کو عیاں کر دیتے ہیں۔
اسی فہم کے ساتھ، ہم محترم سیکریٹری جنرل کی جانب سے شروع کیے گئے UN 80 اقدام کی حمایت کرتے ہیں؛ استنبول کو اقوامِ متحدہ کا ایک مرکز بنانے کے ہمارے ہدف کے تناظر میں ہم تنظیم کے ساتھ قریبی تعاون میں کام کر رہے ہیں۔
ان خیالات کے ساتھ، میں 24 اکتوبر اقوامِ متحدہ کے دن کی مبارکباد پیش کرتا ہوں اور اس یقین کے ساتھ کہ ایک زیادہ منصفانہ دنیا ممکن ہے، بین الاقوامی نظام اور اسی کے مرکز میں موجود اقوامِ متحدہ کو زیادہ مؤثر اور جامع بنانے کے لیے ہماری کاوشیں ہم عزم طور پر جاری رکھیں گے، ایک بار پھر زور دیتا ہوں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
پاکستان کا ترکیہ اور سعودی عرب کے ساتھ دستخط شدہ مکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کا اعلان
سلام آباد، پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے ایک نیوز کانفرنس میں بتایا پاکستان نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کے عمل کو مکمل کر لیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دفاعی معاہدہ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ اجتماعی دفاع اور علاقائی سلامتی و استحکام کے لیے تعاون کو مضبوط کریں گے۔
معاہدے کے متعلقہ امور، اس کی توثیق، اور اس کے عملی نفاذ پر تینوں فریق بات چیت کر رہے ہیں جن میں اسٹریٹجک پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی بھی شامل ہے جس کی حالیہ ملاقات 5 اکتوبر کو ہوئی تھی۔
حیدر خان نے کہا کہ ہر ملک بین الاقوامی معاہدوں کی منظوری اور توثیق کے لیے اپنے آئینی اور قانونی طریقہ کار پر عمل کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے بھی اپنے توثیقی مراحل مکمل کر لیے ہیں۔
خان نے مزید کہا کہ اسلام آباد معاہدے کی شقوں اور اس کے نچوڑ دونوں کے ساتھ مکمل پابند ہے، جو دفاعی نوعیت کا ہے، اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق ہے اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کے فروغ کے لیے ہے۔
7 اگست کو ترک صدر رجب طیب ایردوان، پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف، اور سعودی ولی عہد و وزیر اعظم محمد بن سلمان نے مکہ میں اس معاہدے پر دستخط کیے تھے۔
یہ معاہدہ ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ علاقائی مسائل کے لیے علاقائی حل تلاش کریں گے اور ان کی مشترکہ اسٹریٹجک بصیرت علاقائی سلامتی اور استحکام پر مرکوز ہے۔
یہ تینوں ممالک کی سلامتی کو اجتماعی بازدارندگی اور دفاع کے ذریعے مضبوط کرنے کا مقصد رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب نے پہلے ہی اپنے توثیقی مراحل مکمل کر لیے ہیں، جبکہ ترکیہ اپنے داخلی قانونی فریم ورک کے مطابق مطلوبہ طریقہ کار اختیار کر رہا ہے،
ترکیہ نے بدھ کو پارلیمنٹ میں تین شقوں پر مشتمل بل جمع کرایا ہے جس کا مقصد اس معاہدے کی منظوری حاصل کرنا ہے۔
اس معاہدے سے توقع ہے کہ ترکیہ کے پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ دوطرفہ دفاعی اور سیکیورٹی تعلقات گہرے ہوں گے اور ایک جامع علاقائی سیکیورٹی میکانزم کی حمایت ہوگی۔
یہ بل پارلیمنٹ کی خارجہ امور کمیٹی میں زیرِ غور آئے گا، جسے قیادت کرنے والی کمیٹی مقرر کیا گیا ہے۔اگر کمیٹی نے منظوری دے دی تو اسے پارلیمنٹ کی جنرل اسمبلی کے ایجنڈے پر رکھا جائے گا۔
مکہ معاہدہ ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، جو 28 فروری کو ایران کے خلاف امریکی-اسرائیلی جنگ کے آغاز کے بعد بڑھ گئی۔
امریکہ اور ایران کے درمیان کوئی فعال یا حتمی امن معاہدہ موجود نہیں ہے۔
اگرچہ ایک ابتدائی 60 روزہ مفاہمتی یادداشت جو عارضی جنگ بندی قائم کرتی تھی جون 2026 میں دستخط ہوئی تھی، بات چیت زیادہ تر ناکام ہو چکی ہیں اور دونوں ممالک اس وقت پاکستان اور دیگر ثالثوں کے ذریعے غیر مستقیم، معطل مذاکرات میں مصروف ہیں۔
اس تنازع نے ایران کی سرحدوں سے باہر بھی وسعت اختیار کی ہے، اور حوثی ملیشیا نے بحرِ احمر میں سعودی جہاز رانی اور دیگر انفراسٹرکچر پر حملے بڑھا دیے ہیں۔
سیکیورٹی کے بگڑتے ہوئے ماحول نے علاقائی شراکت داروں کے درمیان دفاعی تعاون کو تیز کر دیا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا1 week agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
دنیا1 week agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
ہندوستان1 week agoسی جے پی بانی ابھیجیت دیپکے کو ملی ضمانت
-
دنیا1 week agoایران کا ٹرمپ روٹ پر ردعمل: “ہم خطے میں امریکی موجودگی پر خدشات رکھتے ہیں”
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
ہندوستان1 week agoاقتدار کے لالچ میں آئینی اداروں پر سوال اٹھا کر جمہوریت کے وقار کو ٹھیس پہنچاتے ہیں راہل گاندھی: دھرمیندر پردھان
-
ہندوستان1 week agoجی ٹی ٹی سی آئی اور شری دھرمک لیلا کمیٹی نے لال قلعے میں ‘عالمی یومِ خوراک’ منایا
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے صوبہ بلوچستان میں 5.8 شدت کا زلزلہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: رام بن میں چرس اور ہیروئن کے ساتھ تین افراد گرفتار
