جموں و کشمیر
ریاستی درجہ کی بحالی ہی عوامی اطمینان کی واحد ضمانت: وزیراعلیٰ عمر عبداللہ
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے منگل کو واضح کیا ہے کہ ریاستی درجہ کی بحالی کے بغیر عوام مکمل طور پر مطمئن نہیں ہوسکتے۔ انہوں نے کہا کہ اس اہم مسئلے پر مرکز کے ساتھ لگاتار بات چیت جاری ہے اور امید ہے کہ جلد مثبت پیش رفت سامنے آئے گی۔
شیر کشمیر انٹرنیشنل کانفرنس سینٹر سری نگر میں نامہ نگاروں سے بات چیت کے دوران وزیرا علیٰ نے کہا کہ ریاستی درجہ کی بحالی کا عمل توقع سے زیادہ وقت لے رہا ہے، تاہم مذاکرات کا سلسلہ مسلسل جاری ہے اور حکومت عوام کی خواہشات پوری کرنے کے لیے تمام کوششیں کر رہی ہے۔
انہوں نے چودہ سیاحتی مقامات کو دوبارہ کھولنے کے حالیہ حکومتی فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یوسمرگ، دودھ پتری اور دیگر مقامات کی بندش سے مقامی لوگوں کو بھاری معاشی نقصان برداشت کرنا پڑا۔ اس کے دوبارہ کھلنے سے سیاحتی سرگرمیوں میں بہتری آئے گی اور لوگوں کو روزگار کا فائدہ ملے گا۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ اگرچہ اس معاملے پر کوئی حتمی نتیجہ سامنے نہیں آیا، لیکن مرکز کے ساتھ مسلسل رابطہ قائم ہے اور یہ سلسلہ ڈیڑھ برس سے جاری ہے۔ ان کے مطابق حکومت کو امید ہے کہ زیادہ دیر تک انتظار نہیں کرنا پڑے گا اور ریاستی درجہ کی بحالی سے متعلق کوئی خوشخبری جلد سامنے آئے گی۔
انہوں نے اس دوران بعض مالی اور انتظامی معاملات پر برسراقتدار جماعت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سرکاری زمین کے ایک پرانے معاملے پر ابھی تک کوئی کارروائی نہیں ہوئی، جبکہ جموں و کشمیر کے لیے مختص ترقیاتی فنڈ کا بڑا حصہ دوسری ریاستوں میں خرچ کیا جا رہا ہے، جو کہ یہاں کے لوگوں کے ساتھ ناانصافی ہے۔
وزیراعلیٰ نے یہ بھی بتایا کہ وادی اس وقت چونتیس فیصد بجلی کی کمی کا سامنا کر رہی ہے، تاہم کوشش کی جا رہی ہے کہ عوام کو کم سے کم مشکلات پیش آئیں، خصوصاً مقدس مہینے اور شہر بندی کے منصوبوں کے دوران۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے برسوں سے چلے آ رہے خسارے بتدریج ختم کیے جائیں گے اور نئی تعمیراتی منصوبہ بندی سے صورتحال بہتر ہو گی۔
عمر عبداللہ نے ملازمین کی باقاعدگی کے سلسلے میں بھی یقین دہانی کرائی کہ ایک مقررہ مدت کے تحت پالیسی نافذ کی جائے گی۔ ساتھ ہی انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ سڑکوں پر احتجاج سے گریز کریں، کیونکہ اس طرح کے اقدامات ان کے مفاد اور مستقبل کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
وزیراعلیٰ کے مطابق ریاستی درجہ کی بحالی ہی وہ قدم ہے جو جموں و کشمیر کے عوام کی اصل خواہش پوری کر سکتا ہے اور اسی سے یہاں کے سیاسی مستقبل میں استحکام آئے گا۔
یو این آئی۔ ارشید بٹ
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر کے ڈی جی پی نے عید میلاد النبی اور آئندہ تقریبات کے لیے سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا
سری نگر، جموں و کشمیر کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) نے منگل کے روز عید میلاد النبی اور آئندہ ہونے والی دیگر تقریبات، جن میں رکشا بندھن بھی شامل ہے، کے لیے سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے وادی میں خصوصاً اہم درگاہوں، مساجد اور دیگر مذہبی مقامات کے اطراف سخت نگرانی، فعال پولیسنگ اور فول پروف سکیورٹی انتظامات کی ہدایت دی۔
پولیس کنٹرول روم (پی سی آر) کشمیر میں منعقدہ اجلاس میں سینئر پولیس افسران نے شرکت کی۔ پولیس کے مطابق اجلاس میں سکیورٹی تیاریوں، فورسز کی تعیناتی، بھیڑ کے نظم و نسق اور ٹریفک کو منظم کرنے کے اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا تاکہ تمام تقریبات پرامن اور محفوظ انداز میں منعقد ہوسکیں۔
ڈی جی پی نے خاص طور پر حضرت بل درگاہ اور دیگر اہم مذہبی مقامات پر سکیورٹی کے فول پروف انتظامات پر زور دیا، جہاں رات بھر کی عبادت اور بڑی تعداد میں عقیدت مندوں کی آمد متوقع ہے۔ افسران کو ہدایت دی گئی کہ مناسب سکیورٹی تعیناتی یقینی بنانے کے ساتھ تمام فیلڈ یونٹس کے درمیان قریبی رابطہ برقرار رکھا جائے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹا جاسکے۔
ڈی جی پی نے حساس اور خطرے سے دوچار مقامات پر نگرانی مزید مضبوط بنانے اور اہم و زیادہ بھیڑ والے علاقوں میں مناسب فورس تعینات کرنے کی بھی ہدایت دی۔ مذہبی مقامات اور جلوس کے راستوں کے اطراف ٹریفک کو منظم کرنے اور روٹ مینجمنٹ کا مؤثر منصوبہ تیار کرنے پر بھی زور دیا گیا۔
رکشا بندھن کے انتظامات کا جائزہ لیتے ہوئے انہوں نے بازاروں اور مندروں میں پیشگی سکیورٹی و ٹریفک انتظامات یقینی بنانے اور اہم مذہبی مقامات پر نگرانی بڑھانے کی ہدایت دی۔
اجلاس کے اختتام پر ڈی جی پی نے کہا کہ جموں و کشمیر میں آئندہ تمام تقریبات کے پرامن، محفوظ اور خوش اسلوبی سے انعقاد کے لیے ضروری انتظامات پیشگی مکمل کیے جائیں۔
یو این آئی۔ م س
جموں و کشمیر
رکن پارلیمنٹ روح اللہ کا فاروق عبداللہ کے استعفے کے چیلنج پر چند روز میں جواب دینے کا اشارہ
سری نگر، نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ کی جانب سے سری نگر کے رکن پارلیمنٹ روح اللہ مہدی کو لوک سبھا اور پارٹی سے استعفیٰ دے کر آزاد حیثیت سے دوبارہ انتخاب لڑنے کے چیلنج کے ایک روز بعد رکن پارلیمنٹ نے منگل کو کہا کہ وہ آئندہ چند دنوں میں اس مطالبے کا جواب دیں گے۔ تاہم انہوں نے فاروق عبداللہ کے لیے اپنے احترام کا بھی اظہار کیا۔
مسٹر روح اللہ نے براہ راست جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس مطالبے پر سنجیدگی سے غور کررہے ہیں اور ایک دو روز میں اپنا جواب دیں گے۔ انہوں نے صحافیوں سے کہا، ’’ایسا ممکن نہیں کہ ڈاکٹر صاحب مجھ سے کوئی چیز مانگیں اور میں انہیں نہ دوں۔ یہ ممکن نہیں کہ میں انہیں خالی ہاتھ واپس بھیج دوں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ اس عمر میں فاروق عبداللہ نے ان سے کچھ مانگا ہے اور وہ ان کا احترام کرتے ہیں۔ روح اللہ کے مطابق وہ نہیں چاہتے کہ فاروق عبداللہ ان سے کچھ طلب کریں اور انہیں خالی ہاتھ واپس جانا پڑے۔ انہوں نے کہا کہ وہ چند دن میں جواب دیں گے۔
ان کے یہ بیانات ایک روز بعد آئے جب فاروق عبداللہ نے ایک انٹرویو میں اپنی پارٹی سے الگ موقف رکھنے والے رکن پارلیمنٹ کو لوک سبھا اور نیشنل کانفرنس سے استعفیٰ دے کر آزاد حیثیت سے انتخاب لڑنے کا کھلا چیلنج دیا تھا۔
مسٹر فاروق عبداللہ نے دعویٰ کیا تھا کہ روح اللہ نے اپنے تمام انتخابات نیشنل کانفرنس کے ٹکٹ اور تنظیمی حمایت کی بدولت جیتے ہیں اور پارٹی کی حمایت کے بغیر وہ کامیاب نہیں ہوسکتے تھے۔
انہوں نے نیشنل کانفرنس میں 1984 کی بغاوت کا حوالہ دیتے ہوئے 14 ارکان اسمبلی کے پارٹی سے الگ ہوکر غلام محمد شاہ کی حمایت کرنے کا ذکر بھی کیا تھا، جس کے نتیجے میں ان کی حکومت گر گئی تھی اور کانگریس کی حمایت سے غلام محمد شاہ وزیراعلیٰ بنے تھے۔ فاروق عبداللہ نے کہا تھا کہ وہ ارکان آج ’’غیر اہم‘‘ ہوچکے ہیں۔
سری نگر کے رکن پارلیمنٹ روح اللہ مہدی طویل عرصے سے نیشنل کانفرنس کے مختلف معاملات پر موقف پر تنقید کرتے رہے ہیں۔ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت، شناخت، ریزرویشن اور سیاسی قیدیوں جیسے اہم معاملات پر ان کا موقف وادی میں انہیں خاصی مقبولیت دلا چکا ہے۔
کشمیری پنڈتوں کے قتل سے متعلق مقدمات دوبارہ کھولنے کے سوال پر مسٹر روح اللہ نے کہا کہ انصاف ضرور فراہم کیا جانا چاہیے، تاہم اس عمل کو انتقام کا ذریعہ نہیں بننے دیا جانا چاہیے۔
یو این آئی۔ م س
جموں و کشمیر
پلوامہ، شوپیان اور سوپور میں 8 مبینہ دہشت گرد ساتھی گرفتار، اسلحہ و گولہ بارود برآمد
سری نگر، جموں و کشمیر میں سکیورٹی فورسز نے مختلف مشترکہ کارروائیوں کے دوران 8 مبینہ دہشت گرد ساتھیوں کو گرفتار کرکے کشمیر میں امن و سلامتی کو متاثر کرنے کی کوششوں کو ناکام بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ پلوامہ، شوپیان اور سوپور میں کی گئی کارروائیوں کے دوران اسلحہ، گولہ بارود اور دیگر قابل اعتراض مواد بھی برآمد کیا گیا۔
جنوبی کشمیر کے پلوامہ اور شوپیان اضلاع میں الگ الگ مشترکہ کارروائیوں کے دوران مجموعی طور پر 8 مبینہ دہشت گرد ساتھی گرفتار کیے گئے۔ پلوامہ میں دو افراد کو گرفتار کرکے ایک پستول، 12 کارتوس اور ایک دستی بم برآمد کیا گیا، جبکہ شوپیان میں پولیس، فوج اور سی آر پی ایف کی مشترکہ کارروائیوں میں 6 افراد کو گرفتار کرکے دستی بم، اے کے-47 میگزین، گولہ بارود اور دیگر مواد برآمد کیا گیا۔
پولیس کے مطابق پلوامہ میں راجپورہ کے یروان جنگلات میں دہشت گردانہ سرگرمیوں سے متعلق خفیہ اطلاع ملنے پر پولیس، فوج کی 44 راشٹریہ رائفلز اور سی آر پی ایف کی 183 بٹالین نے مشترکہ کارروائی شروع کی۔ سی بی ناتھ کے قریب یروان جنگلات میں تلاشی کے دوران دو مشتبہ افراد کو گاؤں کی جانب آتے ہوئے دیکھا گیا، جنہیں فورسز نے فوری طور پر گرفتار کرلیا۔
گرفتار افراد کی شناخت پلوامہ کے لسی ڈبن کے رہنے والے لطیف احمد اور بون کھا بامنو کے رہنے والے اعجاز احمد کے طور پر ہوئی ہے۔ تلاشی میں ان کے قبضے سے ایک پستول، 12 کارتوس اور ایک دستی بم برآمد ہوا۔ راجپورہ تھانے میں اسلحہ ایکٹ کی دفعہ 7/25 اور غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ کی دفعات 13، 18، 23 اور 39 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
شوپیان میں ایک ناکہ چیکنگ کے دوران ہیئرپورہ علاقے میں موٹر سائیکل پر سوار تین افراد کو روکا گیا۔ ان کی شناخت کلگام کے رہنے والے جنید مظفر ڈار، عامر یوسف اور جنید بشیر ڈار کے طور پر ہوئی ہے۔ ان کے قبضے سے دو دستی بم اور قابل اعتراض پوسٹر برآمد کیے گئے۔
ایک اور کارروائی میں شوپیان کے امام صاحب علاقے میں پولیس، 34 راشٹریہ رائفلز اور سی آر پی ایف کی 178 بٹالین کی مشترکہ گشت ٹیم نے مزید تین افراد کو گرفتار کیا۔ ان کی شناخت اننت ناگ کے حارث منظور، عاشق حسین اور عارف احمد کمار کے طور پر ہوئی ہے۔ ان کے قبضے سے ایک دستی بم، دو اے کے-47 میگزین، 20 کارتوس اور قابل اعتراض پوسٹر برآمد ہوئے۔
پولیس کے مطابق دونوں معاملات میں متعلقہ دفعات کے تحت مقدمات درج کرکے مزید تحقیقات جاری ہیں، جن کا مقصد گرفتار افراد کی سرگرمیوں اور ان کے مبینہ دہشت گرد روابط کا پتہ لگانا ہے۔
ایک الگ کارروائی میں سوپور کے منجسیر علاقے میں فوج، سی آر پی ایف اور جموں و کشمیر پولیس نے خفیہ اطلاع کی بنیاد پر مشترکہ تلاشی مہم چلائی۔ فوج کی چنار کور کے مطابق کارروائی کے دوران ایک اے کے سیریز رائفل، تین میگزین، چار دستی بم، بڑی مقدار میں گولہ بارود اور دیگر جنگی سازو سامان برآمد کیا گیا۔ تلاشی مہم جاری تھی۔
یو این آئی۔ م س
-
دنیا1 week agoپوپ لیو کا مطالبہ: مغربی کنارے میں تشدّد بند کیا جائے
-
پاکستان1 week agoپاکستان کی سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا
-
ہندوستان1 week agoمحض 24 گھنٹوں میں ہی سامنے آ گیا کہ کس کے دماغ میں ’نکسل‘ ہے: بی جے پی
-
ہندوستان1 week agoیو جی سی – نیٹ کے تین مضامین کا امتحان دوبارہ کرانے پر جواب دیں مودی: راہل
-
ہندوستان1 week agoطلبہ کے مطالبات پر راہل گاندھی نے ہیمنت سورین سے مداخلت کی اپیل کی، مظاہرین سے ملنے کی خواہش ظاہر کی
-
دنیا1 week agoاردوغان کی ٹرمپ سے ایران کے ساتھ بات چیت جاری رکھنے کی اپیل
-
ہندوستان1 week agoملک میں ‘پیپر لیک نکسل’ کو ختم کرنے کی ضرورت: کانگریس
-
ہندوستان1 week agoٹرمپ کا ہندوستان کے انتخابی نظام کو ماڈل قرار دے کر۔ دو آخری واشنگٹن
-
دنیا1 week agoامریکہ نے بات چیت میں رکاوٹ ڈالنے پر عمان کو دھمکی دی
-
دنیا1 week agoکشنر نیتن یاہو سے ملاقات کرکے ٹرمپ کے غزہ منصوبے کو آگے بڑھائیں گے
-
جموں و کشمیر1 week agoرجیجو کے تبصرے کے بعد محبوبہ مفتی نے خود کو کہا ’دماغی نکسل‘
-
ہندوستان1 week agoہریانہ، پنجاب میں 17-18 اگست کو شدید بارش کی پیش گوئی، ہماچل اور جموں و کشمیر میں بہت شدید بارش کا خدشہ
