تازہ ترین
این سی انتخابات میں پی ڈی پی کو ناکوں چنے چبوائے گی ،سجادلون، انجینئر رشید ایجنسیوں کی پیدوار: عبدالمجید لارمی
خبراردو:
جنوبی کشمیر کے ہوم شالی بگ حلقہ انتخاب سے تعلق رکھنے والے نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور سابق ایم ایل اے عبدالمجید لارمی نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی آنے والے اسمبلی انتخابات میں مضبوط عوامی منڈیت حاصل کرکے ہی دم لے گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ نیشنل کانفرنس رواں برس منعقد ہونے والے اسمبلی انتخابات میں پی ڈی پی، کانگریس اور دیگر سیاسی پارٹیوں کا زمینی سطح پر مکمل صفا یا کرے گی۔ لارمی کا کہنا تھا کہ میں نے اپنے حلقہ انتخاب میں عوام کی فلاح و بہبود کے لیے بہت ساری کوششیں کیں جن میں کالج کا قیام، بجلی کی فراہمی اور سڑکوں کی تعمیر و ترقی شامل ہیں۔ این سی لیڈر کا کہنا تھا کہ میں نے ایم ایل اے اور ایم ایل سی کی حیثیت سے اپنے حلقہ انتخاب کے لوگوں کے لیے وہ کچھ کیا جو گزشتہ 20برسوں کے دوران دیگر سیاسی پارٹیوں نے نہیں کیا۔ ’میں نے حلقہ انتخاب کے ہر گاؤں اور دیہات میں بجلی کی فراہمی کویقینی بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات اُٹھائے، میں نے یہاں بجلی پول، تاریں لگوائیں تاکہ لوگوں کو بہتر سہولیات میسر ہو۔
انہوں نے بتایا کہ یہاں کے لوگوں کی دیرینہ مانگ تھی کہ نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے ایک کالج ہو ، میں نے اس کے لئے اسمبلی اور بورڈ میٹنگیں میں بھی زورو شور کے ساتھ آواز اُٹھائی اور اس بات کو ممکن بنایا کہ نوجوانوں لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے ڈگری کالج ممکن ہوجائے۔انہوں نے کہا کہ فی الوقت میرے حلقہ انتخاب میں 42کروڑ کی لاگت سے تعمیر ہونے والے کھڈونی سنگم روڑ پر بھی کام جاری ہے اور میں پرامید ہوں کہ مستقبل قریب میں یہ راستہ بھی لوگوں کے لیے دستیاب رہے گا۔ایک سوال کے جواب میں این سی لیڈر کا کہنا تھا کہ حلقہ انتخاب ہوم شالی بگ میں آزادی کا جذبہ موجود ہے اور لوگ اس جذبے کے ساتھ وابستہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یہاں پر جماعت اسلامی والوں کا کافی اثر ہے اور لوگ ان کے نظریہ سے بے حد متاثر دکھائی دے رہے ہیں تاہم اب لوگوں کو بھی یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آئی ہے کہ بائیکاٹ کرنے سے کسی کا بھی بھلا نہیں ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حلقہ انتخابات میں 1977سے ہی لوگ جماعت اسلامی کے ساتھ وابستہ ہے اورجذبہ آزادی کے ساتھ لگاؤ رکھتے ہیں تاہم ایسے لوگوں کو بھی اب اس بات کا فہم حاصل ہوچکا ہے کہ انتخابات کا بائیکاٹ کرنے سے کچھ بھی حاصل ہونے والا نہیں ہے۔ عبدالمجید لارمی کا کہنا تھا کہ ہم نے گزشتہ پرس پنچایتی انتخابات کا بائیکاٹ کیا لیکن میں ذاتی طور پر اس کو ایک بہت بڑی غلطی سے تعبیر کرتا ہوں کیوں کہ ہمارے بائیکاٹ کا غیروں نے فائدہ اُٹھاکر وادی کشمیر میں اپنی پوزیشن مضبوط بنائی۔ انہوں نے بتایا کہ یہاں کی مجموعی آبادی جس جذبہ آزادی کے ساتھ وابستہ ہیں ہم بھی چاہتے ہیں کہ اُس مسئلہ کو سیاسی سطح پر ڈائیلاگ کے ذریعے حل کیا جائے۔انہوں نے بتایا کہ پارٹی کے نائب صدر اور سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے تو ببانگ دہل اسمبلی میں اس بات کا اعلان کیا کہ مسئلہ کشمیر کو فوجی قوت یا دھونس دباؤ سے حل نہیں کیا جاسکتا بلکہ اس کے لیے ساسی سطح پر پہل کی ضرورت ہے۔انہوں نے بتایا کہ پارٹی کے بانی مرحوم شیخ محمد عبداللہ نے بھی مسئلہ کشمیر کو سیاسی سطح پر حل کرنے کی وکالت کی۔ انہوں نے 1953کو وزیر اعظم جواہر لعل نہرو کے سامنے اس بات کا کھلا اعلان کیا کہ ہمیں اپنا حق دیا جائے لیکن بدقسمتی سے اُس کی مرکزی قیادت نے مرحوم شیخ محمد عبداللہ کی بات سننے کے بجائے انہیں جیل میں ڈال دیا۔
عبدالمجید لارمی کا کہنا تھا کہ مرحوم شیخ محمد عبداللہ 22سال تک جیل میں رہے تاہم اس دوران نئی دہلی نے یہاں بخشی، میر قاسم، صادق اور مفتی پیدا کرکے یہاں کے نظام کو درہم برہم کردیا۔ انہوں نے بتایا کہ جیل سے باہر آنے کے بعد 1975میں مرحوم شیخ محمد عبداللہ نے جو ایکارڈ کیا اُس کاالگ پس منظر تھاکیوں کہ اُس وقت حال ہی میں پاک بھارت جنگ کے نتیجے میں مشرقی پاکستان ’بنگلہ دیش‘ الگ ہوچکا تھا اور اس ساری صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے پاکستان انتہائی کمزور ہوا تھا اور بھارت کو بھی اس بات کا شدت کے ساتھ احساس ہونے لگا تھا کہ اس طرح کا طریق کار دیرپا نہیں ہوسکتا۔این سی لیڈر کا کہنا تھا کہ مرحوم شیخ محمد عبداللہ ریاست کی اٹانومی کوبحال کرنے کی خاطر ہی 1975میں ایکار ڈعمل میں لایا اور اُس وقت نئی دہلی نے بھی مرحوم کو یقین دہائی کرائی کہ ریاست کی اندرونی خود مختاری کو فوری طور پر بحال کردیا جائیگا لیکن بدقسمتی کے ساتھ مرحوم شیخ محمد عبداللہ اس دنیا سے انتقال کرگئے اور نئی دہلی نے اپنی یقین دہانی کو پورا نہیں کیا۔ عبدالمجید لارمی کا کہنا تھا کہ سال 1996میں جونہی نیشنل کانفرنس اقتدار میںآگئی تو اس نے 2002میں ریاست اسمبلی میں اٹانومی سے متعلق قرار داد پاس کرائی تاہم بدقسمتی سے نئی دہلی نے اٹانومی کی قرار داد کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا۔این سی لیڈر نے بتایا کہ میں ذاتی طور پر اس بات کا اعتراف کرتا ہوں کہ ہمیں اُسی وقت بطور احتجاج اقتدار سے دستبردار ہونا چاہیے تھا لیکن ہم نے عوامی خواہشات کے خلاف جاکر بڑی غلطی کا ارتکاب کیا۔انہوں نے بتایا کہ اگر آنے والے انتخابات میں پارٹی مضبوط منڈیت کے ساتھ اقتدار میں آتی ہے تو ہم اسمبلی میں اٹانومی سے متعلق قرار لائیں گے اور کو پاس کرواکر ہی دم لیں گے۔این سی لیڈر کا کہنا تھا کہ ریاست جموں وکشمیر میں امن کے قیام اور تینوں خطوں جموں، کشمیر اور لداخ میں یکساں تعمیر و ترقی کے لیے اٹانومی واحد حل ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر ریاست میں اٹانومی کو بحال کیا جاتا ہے تو اس کا سب سے بڑا فائدہ جموی عوام کو حاصل ہوگا لیکن فرقہ پرست سیاسی جماعتوں نے وہاں الگ ماحول قائم کرتے ہوئے جموی عوام کے قلب و ذہن میں دوریاں پید اکی ہیں۔ریاست کے تینوں خطوں جموں، کشمیر اور لداخ کے عوام میں پائی جارہی دوریوں پر بات کرتے ہوئے عبدالمجید لارمی کا کہنا تھا کہ اس کے لیے صرف اور پی ڈی پی کے بانی مرحوم مفتی محمد سعید ہی ذمہ دار ہے جنہوں نے فرقہ پرست بی جے پی کے ساتھ سیاسی نکاح کرتے ہوئے ریاستی عوام کی خواہشات کا سودا کیا۔ انہوں نے بتایا کہ سابق مخلوط حکومت کے دورا قدار میں جموی عوام پر فرقہ پرستوں کے کافی تشدد ڈھایا۔ وہاں کی مسلم آبادی کو اپنے آبائی علاقوں سے بے دخل کردیا گیا۔ مسلمان گوجروں کو سدھرا، وجے پور اور بھٹندی جیسے علاقوں سے نکلوایا گیا۔ اگر محبوبہ مفتی اُس وقت جموں میں مسلمانوں پر ہورہی زیادتیوں پر آواز اُٹھائی تو ہم بھی سمجھتے کہ انہیں ریاستی عوام کی فکر لاحق ہے تاہم اب جب کہ موصوفہ اقتدار سے باہر کردی گئی ، لہٰذا اُن کی آواز ڈرامہ بازی کے سوا کچھ بھی نہیں۔عبدالمجید لارمی کا کہنا تھا کہ اگر چہ جنوبی کشمیر کو پی ڈی پی کا گڑھ مانا جاتا ہے تاہم آنے والے اسمبلی انتخاب میں نیشنل کانفرنس پی ڈی پی اوردیگر سیاسی جماعتوں کا صفایا کرنے میں کامیاب ہوجائے گی۔انہوں نے کہا کہ ہمیں اُمید ہے کہ پارٹی جنوبی کشمیر کی 16میں سے 12نشستوں پر جیت درج کرنے میں کامیاب ہوجائے گی۔انہوں نے الزم عائد کرتے ہوئے کہا کہ ایجنسیوں نے نیشنل کانفرنس کا مقابلہ کرنے کی خاطر سجاد غنی لون ، انجینئر رشید اور دیگر نئے چہروں کو میدان میں اُتارا ہے لیکن عوام صرف اور صرف نیشنل کانفرنس کو ہی ووٹ دے گی ۔ سال 2010میں عمر عبداللہ کی سرکار کے وقت وادی کشمیر میں نوجوانوں کی ہلاکت پر لارمی کا کہنا تھا کہ یہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ اُس وقت بہت ساری جانیں ضائع ہوئیں تاہم اُس کے لیے عمر عبداللہ نے عوام سے معافی طلب کی اور میں بھی پارٹی کا ادنی کارکن ہونے کی حیثیت سے اُن ہلاکتوں پر عوام سے معافی طلب کرتا ہوں۔
دنیا
اسرائیلی انتخابات سے قبل نیتن یاہو کی لیکوڈ اور آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ
یروشلم، اسرائیل میں منگل کو ہونے والے انتخابات سے قبل وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی حمایت کرنے والے اور ان کی مخالفت کرنے والے جماعتی اتحادوں کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔ تاہم، زمان اسرائیل کے ایک تازہ ترین سروے کے مطابق، کسی بھی اتحاد کو 120 رکنی کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمان) میں اکثریت حاصل ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔
14 اور 15 اکتوبر کو 500 یہودی اور عرب افراد کے درمیان کیے گئے اس سروے میں یہودی قیادت والے دونوں بڑے سیاسی اتحادوں کو 51، 51 نشستیں ملنے کا اندازہ ظاہر کیا گیا ہے، جو حکومت تشکیل دینے کے لیے درکار 61 نشستوں سے کافی کم ہے۔
عرب قیادت والی جماعتوں کو مجموعی طور پر 14 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ کسی اتحاد کا حصہ نہ بننے والی ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
دونوں میں سے کسی بھی اتحاد کے لیے بعض حریف جماعتوں کے ساتھ حکومت نہ بنانے سے متعلق انتخابی وعدوں سے پیچھے ہٹے بغیر اکثریت حاصل کرنا مشکل ہوگا۔
اگر کوئی اتحاد حکومت تشکیل دینے میں ناکام رہتا ہے تو 2027 کے اوائل میں دوبارہ انتخابات کرائے جا سکتے ہیں اور اس دوران نیتن یاہو نگراں وزیر اعظم برقرار رہیں گے۔
ٹائمز آف اسرائیل کے ایک الگ سروے کے مطابق، تقریباً 60 فیصد جواب دہندگان چاہتے ہیں کہ اگر نیتن یاہو حکومت بنانے میں ناکام رہتے ہیں تو وہ سیاست سے سبکدوش ہوجائیں۔
ٹائمز آف اسرائیل کے جماعت وار اندازوں کے مطابق، اپوزیشن رہنما گادی آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی 23 نشستوں کے ساتھ پہلے مقام پر ہے، اگرچہ گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں اس کی متوقع نشستوں میں تین کی کمی آئی ہے۔
دوسری جانب نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی 21 نشستوں کے ساتھ دوسرے مقام پر ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی حمایت کے چند روز بعد لیکوڈ کی متوقع نشستوں میں ایک کا اضافہ ہوا ہے۔
اسرائیل کے سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کی جماعت بی یاخاد کو 11 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ سخت گیر موقف رکھنے والی یسرائیل بیتینو کو نو نشستیں مل سکتی ہیں۔ عرب قیادت والے جوائنٹ لسٹ اتحاد کو بھی نو نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
انتہائی قدامت پسند مذہبی جماعتوں شاس اور یونائیٹڈ توراہ جوڈازم، بائیں بازو کی ڈیموکریٹس اور انتہائی دائیں بازو کی اوتسما یہودیت، ہر ایک کو آٹھ نشستیں ملنے کا اندازہ ہے۔ مذہبی صہیونیت پارٹی کو چھ، تاریخی طور پر اسلام پسند جماعت راعم کو پانچ اور ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
اوفیر ونٹر کی قیادت والی دائیں بازو کی پیپلز آف اسرائیل پارٹی کے بارے میں اندازہ ہے کہ وہ انتخابی حد عبور نہیں کر پائے گی۔ اس جماعت نے وعدہ کیا ہے کہ وہ
جاری ۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
سرائیلی فوج کے سربراہ نے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران پر حملے کی ضرورت مسترد کردی
یروشلم، اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر نے فی الحال ایران پر حملے کے لیے کسی عملی ضرورت سے انکار کیا ہے۔ چینل 13 نے جمعرات کو یہ اطلاع دی۔ ان کا یہ بیان اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع ہونے کے خدشات کے درمیان سامنے آیا ہے۔
چینل 13 کے مطابق، زامیر نے حالیہ ایک نجی اجلاس میں کہا، ”ہمیں ایسے کوئی اشارے نہیں ملے ہیں جن سے ظاہر ہو کہ انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ ضروری ہے۔ اگر ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ ایران پر حملہ ضروری ہے تو ہم ایسا کریں گے۔”
وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے اہم حریف اور یاشار پارٹی کے سربراہ گادی آئزنکوٹ نے بھی جمعرات کو اسی طرح کا موقف ظاہر کیا۔ انہوں نے چینل 13 سے کہا، ”ایران کی جانب سے کوئی ایسا براہ راست اور فوری خطرہ نہیں ہے جو انتخابات سے پہلے جنگ شروع کرنے کو ضروری بنائے۔”
نیتن یاہو کو ناقدین کی جانب سے ان الزامات کا سامنا ہے کہ وہ اسرائیلی انتخابات پر اثرانداز ہونے یا انہیں ملتوی کرانے کے لیے ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم، انہوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا6 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
