تازہ ترین
این سی انتخابات میں پی ڈی پی کو ناکوں چنے چبوائے گی ،سجادلون، انجینئر رشید ایجنسیوں کی پیدوار: عبدالمجید لارمی
خبراردو:
جنوبی کشمیر کے ہوم شالی بگ حلقہ انتخاب سے تعلق رکھنے والے نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور سابق ایم ایل اے عبدالمجید لارمی نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی آنے والے اسمبلی انتخابات میں مضبوط عوامی منڈیت حاصل کرکے ہی دم لے گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ نیشنل کانفرنس رواں برس منعقد ہونے والے اسمبلی انتخابات میں پی ڈی پی، کانگریس اور دیگر سیاسی پارٹیوں کا زمینی سطح پر مکمل صفا یا کرے گی۔ لارمی کا کہنا تھا کہ میں نے اپنے حلقہ انتخاب میں عوام کی فلاح و بہبود کے لیے بہت ساری کوششیں کیں جن میں کالج کا قیام، بجلی کی فراہمی اور سڑکوں کی تعمیر و ترقی شامل ہیں۔ این سی لیڈر کا کہنا تھا کہ میں نے ایم ایل اے اور ایم ایل سی کی حیثیت سے اپنے حلقہ انتخاب کے لوگوں کے لیے وہ کچھ کیا جو گزشتہ 20برسوں کے دوران دیگر سیاسی پارٹیوں نے نہیں کیا۔ ’میں نے حلقہ انتخاب کے ہر گاؤں اور دیہات میں بجلی کی فراہمی کویقینی بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات اُٹھائے، میں نے یہاں بجلی پول، تاریں لگوائیں تاکہ لوگوں کو بہتر سہولیات میسر ہو۔
انہوں نے بتایا کہ یہاں کے لوگوں کی دیرینہ مانگ تھی کہ نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے ایک کالج ہو ، میں نے اس کے لئے اسمبلی اور بورڈ میٹنگیں میں بھی زورو شور کے ساتھ آواز اُٹھائی اور اس بات کو ممکن بنایا کہ نوجوانوں لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے ڈگری کالج ممکن ہوجائے۔انہوں نے کہا کہ فی الوقت میرے حلقہ انتخاب میں 42کروڑ کی لاگت سے تعمیر ہونے والے کھڈونی سنگم روڑ پر بھی کام جاری ہے اور میں پرامید ہوں کہ مستقبل قریب میں یہ راستہ بھی لوگوں کے لیے دستیاب رہے گا۔ایک سوال کے جواب میں این سی لیڈر کا کہنا تھا کہ حلقہ انتخاب ہوم شالی بگ میں آزادی کا جذبہ موجود ہے اور لوگ اس جذبے کے ساتھ وابستہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یہاں پر جماعت اسلامی والوں کا کافی اثر ہے اور لوگ ان کے نظریہ سے بے حد متاثر دکھائی دے رہے ہیں تاہم اب لوگوں کو بھی یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آئی ہے کہ بائیکاٹ کرنے سے کسی کا بھی بھلا نہیں ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حلقہ انتخابات میں 1977سے ہی لوگ جماعت اسلامی کے ساتھ وابستہ ہے اورجذبہ آزادی کے ساتھ لگاؤ رکھتے ہیں تاہم ایسے لوگوں کو بھی اب اس بات کا فہم حاصل ہوچکا ہے کہ انتخابات کا بائیکاٹ کرنے سے کچھ بھی حاصل ہونے والا نہیں ہے۔ عبدالمجید لارمی کا کہنا تھا کہ ہم نے گزشتہ پرس پنچایتی انتخابات کا بائیکاٹ کیا لیکن میں ذاتی طور پر اس کو ایک بہت بڑی غلطی سے تعبیر کرتا ہوں کیوں کہ ہمارے بائیکاٹ کا غیروں نے فائدہ اُٹھاکر وادی کشمیر میں اپنی پوزیشن مضبوط بنائی۔ انہوں نے بتایا کہ یہاں کی مجموعی آبادی جس جذبہ آزادی کے ساتھ وابستہ ہیں ہم بھی چاہتے ہیں کہ اُس مسئلہ کو سیاسی سطح پر ڈائیلاگ کے ذریعے حل کیا جائے۔انہوں نے بتایا کہ پارٹی کے نائب صدر اور سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے تو ببانگ دہل اسمبلی میں اس بات کا اعلان کیا کہ مسئلہ کشمیر کو فوجی قوت یا دھونس دباؤ سے حل نہیں کیا جاسکتا بلکہ اس کے لیے ساسی سطح پر پہل کی ضرورت ہے۔انہوں نے بتایا کہ پارٹی کے بانی مرحوم شیخ محمد عبداللہ نے بھی مسئلہ کشمیر کو سیاسی سطح پر حل کرنے کی وکالت کی۔ انہوں نے 1953کو وزیر اعظم جواہر لعل نہرو کے سامنے اس بات کا کھلا اعلان کیا کہ ہمیں اپنا حق دیا جائے لیکن بدقسمتی سے اُس کی مرکزی قیادت نے مرحوم شیخ محمد عبداللہ کی بات سننے کے بجائے انہیں جیل میں ڈال دیا۔
عبدالمجید لارمی کا کہنا تھا کہ مرحوم شیخ محمد عبداللہ 22سال تک جیل میں رہے تاہم اس دوران نئی دہلی نے یہاں بخشی، میر قاسم، صادق اور مفتی پیدا کرکے یہاں کے نظام کو درہم برہم کردیا۔ انہوں نے بتایا کہ جیل سے باہر آنے کے بعد 1975میں مرحوم شیخ محمد عبداللہ نے جو ایکارڈ کیا اُس کاالگ پس منظر تھاکیوں کہ اُس وقت حال ہی میں پاک بھارت جنگ کے نتیجے میں مشرقی پاکستان ’بنگلہ دیش‘ الگ ہوچکا تھا اور اس ساری صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے پاکستان انتہائی کمزور ہوا تھا اور بھارت کو بھی اس بات کا شدت کے ساتھ احساس ہونے لگا تھا کہ اس طرح کا طریق کار دیرپا نہیں ہوسکتا۔این سی لیڈر کا کہنا تھا کہ مرحوم شیخ محمد عبداللہ ریاست کی اٹانومی کوبحال کرنے کی خاطر ہی 1975میں ایکار ڈعمل میں لایا اور اُس وقت نئی دہلی نے بھی مرحوم کو یقین دہائی کرائی کہ ریاست کی اندرونی خود مختاری کو فوری طور پر بحال کردیا جائیگا لیکن بدقسمتی کے ساتھ مرحوم شیخ محمد عبداللہ اس دنیا سے انتقال کرگئے اور نئی دہلی نے اپنی یقین دہانی کو پورا نہیں کیا۔ عبدالمجید لارمی کا کہنا تھا کہ سال 1996میں جونہی نیشنل کانفرنس اقتدار میںآگئی تو اس نے 2002میں ریاست اسمبلی میں اٹانومی سے متعلق قرار داد پاس کرائی تاہم بدقسمتی سے نئی دہلی نے اٹانومی کی قرار داد کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا۔این سی لیڈر نے بتایا کہ میں ذاتی طور پر اس بات کا اعتراف کرتا ہوں کہ ہمیں اُسی وقت بطور احتجاج اقتدار سے دستبردار ہونا چاہیے تھا لیکن ہم نے عوامی خواہشات کے خلاف جاکر بڑی غلطی کا ارتکاب کیا۔انہوں نے بتایا کہ اگر آنے والے انتخابات میں پارٹی مضبوط منڈیت کے ساتھ اقتدار میں آتی ہے تو ہم اسمبلی میں اٹانومی سے متعلق قرار لائیں گے اور کو پاس کرواکر ہی دم لیں گے۔این سی لیڈر کا کہنا تھا کہ ریاست جموں وکشمیر میں امن کے قیام اور تینوں خطوں جموں، کشمیر اور لداخ میں یکساں تعمیر و ترقی کے لیے اٹانومی واحد حل ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر ریاست میں اٹانومی کو بحال کیا جاتا ہے تو اس کا سب سے بڑا فائدہ جموی عوام کو حاصل ہوگا لیکن فرقہ پرست سیاسی جماعتوں نے وہاں الگ ماحول قائم کرتے ہوئے جموی عوام کے قلب و ذہن میں دوریاں پید اکی ہیں۔ریاست کے تینوں خطوں جموں، کشمیر اور لداخ کے عوام میں پائی جارہی دوریوں پر بات کرتے ہوئے عبدالمجید لارمی کا کہنا تھا کہ اس کے لیے صرف اور پی ڈی پی کے بانی مرحوم مفتی محمد سعید ہی ذمہ دار ہے جنہوں نے فرقہ پرست بی جے پی کے ساتھ سیاسی نکاح کرتے ہوئے ریاستی عوام کی خواہشات کا سودا کیا۔ انہوں نے بتایا کہ سابق مخلوط حکومت کے دورا قدار میں جموی عوام پر فرقہ پرستوں کے کافی تشدد ڈھایا۔ وہاں کی مسلم آبادی کو اپنے آبائی علاقوں سے بے دخل کردیا گیا۔ مسلمان گوجروں کو سدھرا، وجے پور اور بھٹندی جیسے علاقوں سے نکلوایا گیا۔ اگر محبوبہ مفتی اُس وقت جموں میں مسلمانوں پر ہورہی زیادتیوں پر آواز اُٹھائی تو ہم بھی سمجھتے کہ انہیں ریاستی عوام کی فکر لاحق ہے تاہم اب جب کہ موصوفہ اقتدار سے باہر کردی گئی ، لہٰذا اُن کی آواز ڈرامہ بازی کے سوا کچھ بھی نہیں۔عبدالمجید لارمی کا کہنا تھا کہ اگر چہ جنوبی کشمیر کو پی ڈی پی کا گڑھ مانا جاتا ہے تاہم آنے والے اسمبلی انتخاب میں نیشنل کانفرنس پی ڈی پی اوردیگر سیاسی جماعتوں کا صفایا کرنے میں کامیاب ہوجائے گی۔انہوں نے کہا کہ ہمیں اُمید ہے کہ پارٹی جنوبی کشمیر کی 16میں سے 12نشستوں پر جیت درج کرنے میں کامیاب ہوجائے گی۔انہوں نے الزم عائد کرتے ہوئے کہا کہ ایجنسیوں نے نیشنل کانفرنس کا مقابلہ کرنے کی خاطر سجاد غنی لون ، انجینئر رشید اور دیگر نئے چہروں کو میدان میں اُتارا ہے لیکن عوام صرف اور صرف نیشنل کانفرنس کو ہی ووٹ دے گی ۔ سال 2010میں عمر عبداللہ کی سرکار کے وقت وادی کشمیر میں نوجوانوں کی ہلاکت پر لارمی کا کہنا تھا کہ یہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ اُس وقت بہت ساری جانیں ضائع ہوئیں تاہم اُس کے لیے عمر عبداللہ نے عوام سے معافی طلب کی اور میں بھی پارٹی کا ادنی کارکن ہونے کی حیثیت سے اُن ہلاکتوں پر عوام سے معافی طلب کرتا ہوں۔
دنیا
روبیو نے میکسیکو پر ہجرت، فینٹانائل اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف کارروائی تیز کرنے پر زور دیا
واشنگٹن، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے میکسیکو پر زور دیا ہے کہ وہ غیر قانونی ہجرت، فینٹانائل کی اسمگلنگ اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق روبیو نے واشنگٹن میں میکسیکو کے وزیر خارجہ روبرٹو ویلاسکو کے ساتھ مذاکرات کے دوران یہ مطالبہ کیا۔
محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ روبیو نے غیر قانونی ہجرت کے خاتمے، فینٹانائل اور دیگر غیر قانونی منشیات کی امریکہ میں اسمگلنگ روکنے، غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں اور منشیات فروش گروہوں کو ختم کرنے اور ان کی ہتھیاروں تک رسائی روکنے کے لیے اقدامات پر زور دیا۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ میکسیکو کے ساتھ تعلقات میں سرحدی سکیورٹی اور غیر قانونی منشیات کے خلاف جنگ کو اہم ترجیحات قرار دے رہی ہے۔
واشنگٹن میکسیکو پر ان جرائم پیشہ تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے جو منشیات، خصوصاً فینٹانائل، کی تیاری اور اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔ فینٹانائل امریکہ اور میکسیکو کے درمیان سکیورٹی تعاون میں ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔
میکسیکو سرحدی سکیورٹی، منظم جرائم اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں میں امریکہ کا ایک اہم شراکت دار ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
گجرات میں زہریلی شراب سے 13 اموات کے معاملے میں بھرت پور سے دو ملزمان گرفتار
بھرت پور، گجرات کے بھاو نگر میں زہریلی شراب سے 13 افراد کی موت کے معاملے میں گجرات پولیس نے راجستھان کے بھرت پور میں نقلی اور زہریلی شراب بنانے کے کاروبار سے مبینہ طور پر وابستہ دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق گجرات پولیس نے مَتھرا گیٹ تھانہ علاقے کی ہاؤسنگ بورڈ کالونی میں چھاپہ مار کر شیر سنگھ کو گرفتار کیا، جبکہ وجے نگر سے کومل نامی شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ م س
دنیا
ایران جنگ کے دوران ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس میں تیل اور گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رہی
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران بھی تیل اور قدرتی گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رکھی۔ 2026 کی دوسری سہ ماہی تک کے مالیاتی گوشواروں کے مطابق، ان لین دین میں توانائی کے شعبے کے حصص کی لاکھوں ڈالر مالیت کی خرید و فروخت شامل تھی۔
سی بی ایس نیوز کی جانب سے جائزہ لیے گئے مالیاتی گوشواروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع کے دوران، جنگ میں عارضی جنگ بندی اور پھر دوبارہ جنگ شروع ہونے کے مرحلے میں ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے ایکسون موبل، شیورون اور کونکو فلپس سمیت مختلف کمپنیوں کے حصص خریدے اور فروخت کیے۔
ٹرمپ کا مجموعی سرمایہ کاری پورٹ فولیو وسیع ہے۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق سال کے پہلے تین ماہ کے دوران ان کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے تقریباً 3,600 اسٹاک اور سیکیورٹیز لین دین کیے، جن کی مجموعی مالیت 21 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے 69 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی۔
جوائنٹ اکنامک کمیٹی کے ڈیموکریٹ ارکان نے الگ سے اندازہ لگایا ہے کہ 2026 کے آغاز میں ٹرمپ کے تیل اور گیس کے اثاثوں کی مالیت ایک کروڑ 30 لاکھ سے 4 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی، جو اگست کے وسط تک بڑھ کر ایک کروڑ 70 لاکھ سے 6 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کے درمیان ہوگئی۔
یہ اندازے لازمی طور پر غیر حتمی ہیں کیونکہ وفاقی مالیاتی گوشواروں کے قواعد کے تحت حکام کو لین دین کی درست رقم کے بجائے مالیت کی ایک حد ظاہر کرنا ہوتی ہے۔ ان اعداد و شمار میں 2025 کے بعد ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے تمام لین دین بھی شامل نہیں ہیں۔
گوشواروں میں نمایاں کیے گئے ایک لین دین کے مطابق 7 اپریل کو، جس روز ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ میں جنگ بندی کا اعلان کیا، ان کے اکاؤنٹس نے 5 لاکھ سے 10 لاکھ ڈالر مالیت کے ایکسون موبل کے حصص فروخت کیے۔
ایکسون موبل کا حصص اس روز 163.91 ڈالر پر بند ہوا تھا، جبکہ ٹرمپ نے اسی شام جنگ بندی کا اعلان کیا۔ اگلے روز کمپنی کے حصص 6.5 فیصد کمی کے ساتھ 153.52 ڈالر پر کھلے۔
ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے سال کی پہلی ششماہی کے دوران شیورون، کونکو فلپس اور دیگر تیل و گیس کمپنیوں کے حصص میں بھی لاکھوں ڈالر کی خرید و فروخت کی۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا ان لین دین کے وقت یا فیصلوں میں کوئی کردار نہیں۔ ترجمان ڈیوس انگل نے کہا کہ صدر کا پورٹ فولیو “تیسرے فریق کے مالیاتی اداروں کی جانب سے آزادانہ طور پر منظم کیا جاتا ہے” اور ان کے اثاثے ایسے اختیاری اکاؤنٹس میں رکھے گئے ہیں جن میں کمپیوٹر پر مبنی ماڈل پورٹ فولیو استعمال ہوتے ہیں اور جو خودکار طور پر معروف انڈیکسز کی نقل کرتے ہیں۔
انگل کے مطابق نہ تو ٹرمپ اور نہ ہی ان کے خاندان کے ارکان سرمایہ کاری کے فیصلوں کو “براہ راست ہدایت، متاثر یا ان میں رائے شامل” کرسکتے ہیں۔
اس کے باوجود ان لین دین پر اس لیے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ جنگ کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے توانائی کمپنیوں کے حصص کو فائدہ پہنچا تھا۔ ٹرمپ نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھنے سے انکار کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ انفرادی کمپنیوں کے حصص بدستور رکھتے ہیں، بجائے اس کے کہ اپنی سرمایہ کاری کو صرف انڈیکس فنڈز، میوچل فنڈز یا دیگر وسیع پیمانے پر متنوع سرمایہ کاری تک محدود کریں۔
کچھ سرمایہ کاری ماہرین نے کہا ہے کہ کم از کم بعض لین دین کا تعلق مخصوص کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں پر شرط لگانے کے بجائے ٹیکس مینجمنٹ سے ہوسکتا ہے۔
ہیج آئی ایسٹ مینجمنٹ کے پورٹ فولیو مینیجر ڈیوڈ سیلم نے اس سے قبل ان لین دین کو “روایتی ٹیکس لاس ہارویسٹنگ سرگرمی” قرار دیا تھا، جس میں ایک جگہ ہونے والے منافع کو دوسری جگہ کے نقصان سے متوازن کرنے کے لیے بعض سیکیورٹیز نقصان پر فروخت کی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق جدید ڈائریکٹ انڈیکسنگ سسٹمز کے ذریعے ایسی حکمت عملی خودکار طور پر بھی اختیار کی جاسکتی ہے۔
آفس آف گورنمنٹ ایتھکس کے قواعد کے تحت حکام کو مقررہ مدت کے اندر 1,000 ڈالر سے زیادہ مالیت کے اسٹاک کی خرید و فروخت ظاہر کرنا ہوتی ہے، تاہم ان گوشواروں میں اصل لین دین کے مقابلے میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ ٹرمپ نے 2026 میں کیے گئے بعض لین دین کی اطلاع بھی مقررہ وقت کے بعد دی۔
اس معاملے پر سرکاری اخلاقیات کے حامیوں نے بھی تنقید کی ہے۔ سِٹیزنز فار ریسپانسبلٹی اینڈ ایتھکس اِن واشنگٹن کے صدر ڈونلڈ شرمن نے کہا کہ ٹرمپ کو ایران جنگ کے نتائج سے مالی فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔
شرمن نے کہا، “ٹرمپ کے بروکرز ان کی جانب سے تیل اور گیس کے حصص کی خرید و فروخت کررہے ہیں،” اور ان کا مؤقف تھا کہ صدر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مالی مفادات اور امریکی عوام کے مفادات کے درمیان ممکنہ تضاد سے گریز کریں۔
امریکہ میں صدر، کانگریس کے ارکان اور دیگر تمام وفاقی حکام کو قانونی طور پر انفرادی کمپنیوں کے حصص میں سرمایہ کاری اور ان کی خرید و فروخت کی اجازت ہے، اگرچہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے قانون ساز اس عمل پر پابندی عائد کرنے کی تجاویز بارہا پیش کرچکے ہیں۔
امریکی تاریخ کے دولت مند ترین صدور میں شمار ہونے والے ٹرمپ نے اپنے حالیہ پیش روؤں کے مقابلے میں بالکل مختلف طریقہ اختیار کیا ہے۔ مثال کے طور پر جارج ڈبلیو بش نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھے تھے، جبکہ بارک اوباما نے زیادہ تر انڈیکس اور میوچل فنڈز اور امریکی ٹریژری سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری رکھی۔ دوسری جانب جو بائیڈن کے پاس انفرادی کمپنیوں کے حصص نہیں تھے۔
یو این آئی۔ ع ا
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
ہندوستان6 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا6 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
