ہندوستان
ریلوے نے مسافروں سے محتاط رہنے اور مشکوک سرگرمیوں کے بارے میں ہیلپ لائن نمبر 139 پر اطلاع دینے کی اپیل کی
نئی دہلی، ریلوے نے مسافروں سے محتاط رہنے اور کسی بھی مشکوک سرگرمیوں یا اس میں ملوث افراد کے بارے میں معلومات ہیلپ لائن نمبر 139 پر دینے کی اپیل کی ہے ریلوے کے وزیر اشونی ویشنو نے جمعرات کو یہاں حال ہی میں پیش آئے واقعات کے تعلق سے افسران کے ساتھ مسافروں اور ریلوے املاک کی سکیورٹی کے لیے اٹھائے جا رہے اقدامات کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطحی سکیورٹی جائزہ میٹنگ کی۔ اس دوران ایسے واقعات کو روکنے کے لیے ایک بہتر رپورٹنگ سسٹم کے ذریعے زمینی سطح سے انٹیلی جنس معلومات جمع کرنے کے نظام کو مزید مستحکم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ ٹیکنالوجی پر مبنی سکیورٹی سسٹم کو اپ گریڈ کرنے، پورے ریل نیٹ ورک میں سی سی ٹی وی کوریج کو وسعت دینے اور ریلوے بورڈ ہیڈکوارٹر نیز مختلف علاقائی ڈویژنوں کے درمیان آپریشنل سکیورٹی کوآرڈینیشن کو بہتر بنانے پر بھی خصوصی زور دیا گیا۔ میٹنگ میں سائبر سکیورٹی کو مضبوط کرنے، کیمروں کی خصوصیات کو اپ گریڈ کرنے اور مصنوعی ذہانت پر مبنی نگرانی کا نظام لگانے پر بھی زور دیا گیا۔ اس کے علاوہ ریلوے نیٹ ورک پر زیادہ موثر سکیورٹی مینجمنٹ کے لیے آر پی ایف اور گورنمنٹ ریلوے پولیس (جی آر پی) کے درمیان معلومات کے تبادلے کے طریقوں کو بہتر بنا کر تال میل کو مضبوط کرنے پر بھی خاص توجہ دی گئی۔
میٹنگ کے دوران افسران نے مسٹر ویشنو کو بتایا کہ ریلوے ٹرینوں، مسافروں، اسٹیشن کے احاطے اور اپنے وسیع ریل نیٹ ورک کی سکیورٹی کو مضبوط کرنے کے لیے آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی)، ڈرون اور سی سی ٹی وی جیسے جدید ترین تکنیکی آلات کا بڑے پیمانے پر استعمال کر رہا ہے۔ یہ کام ‘مشن موڈ’ میں کیا جا رہا ہے اور اس کے تحت ریلوے پروٹیکشن فورس (آر پی ایف) کے بیٹ سطح پر انٹیلی جنس معلومات جمع کرنے کے نظام کو مضبوط کیا جا رہا ہے۔ اس میٹنگ میں مسٹر ویشنو کے علاوہ وزیر مملکت برائے ریل وی سومنا اور رونیت سنگھ بٹو کے ساتھ ساتھ ریلوے بورڈ کے چیئرمین ستیش کمار اور ملک بھر سے آئے علاقائی حکام شامل ہوئے۔
میٹنگ کے دوران افسران نے بتایا کہ گزشتہ چند دنوں میں پیش آنے والے واقعات (جن میں آگ لگنے کے کچھ حالیہ واقعات بھی شامل ہیں) کی ابتدائی جانچ میں سماج دشمن عناصر کے ملوث ہونے کے اشارے ملے ہیں۔ ہندوستانی ریلوے نے ان واقعات کو سنجیدگی سے لیا ہے اور آر پی ایف ان کی جانچ کر رہا ہے۔ کئی معاملات میں، ریلوے کی جانب سے کی گئی فوری اور فعال کارروائی کی بدولت بڑے حادثات کو ٹالنے میں کامیابی ملی ہے۔
ریلوے نے جمعرات کو جاری کردہ ریلیز میں کہا ہے کہ میٹنگ میں ایسے واقعات کو روکنے کے لیے انٹیلی جنس سسٹم کو مضبوط کرنے اور معلومات پر تیزی سے کارروائی کرنے کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال کرنے کے علاوہ مسافروں کو بھی اس بات کے لیے مزید ترغیب دی جائے گی کہ وہ اپنے سفر کے دوران اور اسٹیشن کے احاطے میں انتظار کرتے وقت سماج دشمن سرگرمیوں پر روک لگانے کی کوششوں میں سرگرمی سے تعاون کریں۔ ریلوے نے مسافروں سے گزارش کی ہے کہ وہ سفر کے دوران چوکس اور محتا رہیں۔ ریلوے کے احاطے میں کسی بھی مشکوک سرگرمی یا مشکوک شخص کے نظر آنے پر اس کی اطلاع فوری طور پر ریلوے ہیلپ لائن نمبر 139 پر دیں۔
یواین آئی۔ایف اے
ہندوستان
طلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن کے رہنما راہل گاندھی نے طلبہ کے احتجاج کے دوران پولیس کی کارروائی کو لے کر حکومت پر حملہ کرتے ہوئے ایک انگریزی روزنامے میں مضمون لکھا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ نوجوانوں کی آواز دبانے کے لیے ان کے خلاف کارروائی کی گئی ہے، جس پر حکومت کو جواب دینا ضروری ہے۔
مسٹر گاندھی کے اس مضمون کی حمایت کرتے ہوئے کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے اور پارٹی کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے کہا ہے کہ طلبہ کے خلاف کارروائی کے لیے وزیر داخلہ امت شاہ ذمہ دار ہیں۔
انگریزی روزنامے ’دی ہندو‘ میں شائع اپنے مضمون میں مسٹر گاندھی نے طلبہ پر طاقت کے استعمال کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے مستقبل کے بارے میں سوال پوچھنے والے طلبہ پر پیلٹ گن، کیل لگی لاٹھیاں اور آنسو گیس استعمال کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی حقیقت سے پوری طرح کٹ چکے ہیں اور طلبہ کی یہ تحریک ان کے لیے ایک انتباہ ہے کہ ملک کے نوجوان بیدار ہو چکے ہیں۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ نوجوانوں کے درمیان وزیر اعظم کی شبیہ تباہ ہو چکی ہے اور اسے دوبارہ بحال نہیں کیا جا سکتا۔
ملک کے نوجوان مسٹر مودی، مسٹر شاہ یا کسی افسر کو ان کے اقدامات کے نتائج سے بچنے نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نوجوانوں کے ساتھ کھڑی ہے اور ان مبینہ جرائم کو سزا کے بغیر نہیں جانے دے گی۔
مسٹر کھڑگے نے مسٹر گاندھی کے مضمون کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے مضمون کے ذریعے نوجوانوں کی آواز کو مضبوطی سے اٹھایا ہے۔ کانگریس صدر نے کہا کہ نوجوانوں کے ساتھ ہوئی زیادتی کا جواب حکومت کو دینا ہوگا۔
محترمہ واڈرا نے بھی مسٹر گاندھی کے الزامات کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ سے محض 500 میٹر کی دوری پر طلبہ کے خلاف وحشیانہ کارروائی کی گئی اور اس کی ذمہ داری مسٹر شاہ کی ہے۔
انہوں نے راہل گاندھی کے حوالے سے کہا کہ اس معاملے میں صرف 2 امکانات ہیں—یا تو وزیر داخلہ نے طلبہ کے خلاف کارروائی کی اجازت دی، ایسی صورت میں وہ ذمہ دار ہیں، یا پھر انہیں اس کی اطلاع ہی نہیں تھی، تو یہ ان کی مکمل نااہلی کو ظاہر کرتا ہے۔ دونوں صورتوں میں وزیر داخلہ کی حیثیت سے اس واقعے کی ذمہ داری انہی کی ہے اور انہیں استعفیٰ دینا چاہیے۔
راہل گاندھی نے ایک اور تبصرے میں کہا کہ نوجوان خواتین کے ساتھ پولیس اہلکاروں نے مارپیٹ کی، کئی طلبہ زخمی ہوئے اور نابالغ طلبہ کی ہڈیاں تک ٹوٹنے کی بات سامنے آئی۔ انہوں نے سوال کیا کہ حکومت طلبہ کے سوالوں کا جواب اس طرح کیوں دے رہی ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ واقعے کے تقریباً 20 دن بعد بھی وزیر داخلہ امت شاہ پارلیمنٹ میں اس معاملے پر جواب دینے نہیں آئے ہیں اور بحث کے لیے اپوزیشن کی جانب سے پیش کی گئی ہر تجویز کو مسترد کر دیا گیا ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ وزیر داخلہ کی خاموشی محض کوتاہی نہیں ہے، بلکہ یہ تشدد کو منظوری دینے کے مترادف ہے۔ انہوں نے پورے معاملے کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اپوزیشن طلبہ کو انصاف دلانے اور ذمہ دار لوگوں کی جواب دہی طے ہونے تک اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔
یو این آئی ایم جے
ہندوستان
راہل گاندھی کا مودی اور امت شاہ پر نوجوانوں کی آواز دبانے کا الزام
نئی دہلی، کانگریس کے سینئر رہنما اور لوک سبھا میں اپوزیشن رہنما راہل گاندھی نے وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت جین زی کی آواز کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔
مسٹر راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک پوسٹ میں کہا، “مودی اور امت شاہ، آپ جین زی کو خاموش نہیں کرا سکتے۔ پہلے آپ نے ان کی ہڈیاں توڑیں، اب ان کے خلاف ایف آئی آر درج کر رہے ہیں اور ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کرا رہے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا، “آپ ہندوستان کا ماضی ہیں، اس لیے ہندوستان کے مستقبل کے ساتھ اپنے رویے میں احتیاط برتیں۔”
راہل گاندھی کے اس بیان کو ملک میں حالیہ واقعات اور نوجوانوں کے خلاف کارروائیوں کے تناظر میں حکومت پر ایک سخت سیاسی حملہ تصور کیا جا رہا ہے۔
یو این آئی۔ م س
ہندوستان
حکومت بتائے، گولی چلانے کا حکم کس نے دیا : کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے کہا ہے کہ حکومت بتائے کہ دہلی میں احتجاج کر رہے طلبہ کے خلاف پولیس کارروائی اوران پر گولی چلانے کا حکم کس نے دیا پارٹی نے کہا کہ اس پورے معاملے میں ملک کے وزیرِ داخلہ امت شاہ کو جواب دینا چاہیے۔
ہمارا یہ بھی سوال ہے کہ وزیرِ داخلہ پارلیمنٹ سے کیوں بھاگ رہے ہیں اور اس مسئلے پر جواب دینے سے کیوں بچ رہے ہیں۔
کانگریس جنرل سکریٹری کے سی وینو گوپال نے جمعرات کو پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں صحافیوں سے کہا کہ دہلی میں طلبہ کے خلاف پولیس کارروائی اور گولی چلانے کا حکم کس نے دیا، اس سوال کا جواب وزیرِ داخلہ کو دینا چاہیے اور انہیں پارلیمنٹ میں آنا چاہیے، پارلیمنٹ آنے سے بھاگنا نہیں چاہیے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن کے رہنما کو پارلیمنٹ میں بولنے تک کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔ حکومت کو طالب علموں پر ہوئی کارروائی کے لیے جوابدہ ہونا چاہیے اور پورے معاملے کی سچائی ملک کے سامنے رکھنی چاہیے۔
یو این آئی۔ ایف اے
-
دنیا13 hours agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان17 hours agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا17 hours agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا12 hours agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا20 hours agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا12 hours agoآبنائے ہرمز کے مستقبل پر ایرانی مطالبات سے غیر یقینی بڑھنے کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ
-
جموں و کشمیر11 hours ago7.12 لاکھ روپے کے کپواڑہ پل گھپلے کے معاملے میں اے سی بی نے 10 افراد کے خلاف فردِ جرم عائد کی
-
دنیا10 hours agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
جموں و کشمیر11 hours agoکابینہ میں توسیع ’کسی وقت‘ ہوگی، عمر عبداللہ
