دنیا
امریکہ ایران امن معاہدے کی نئی تجاویز پر نیتن یاہو پر گھبراہٹ طاری : ایکسیوس
واشنگٹن، امریکہ ایران امن معاہدے کی نئی تجاویز پر نیتن یاہو پر گھبراہٹ طاری ہو گئی ہے، صدر ٹرمپ سے فون پر گفتگو کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم شدید پریشانی کا شکار ہیں۔
امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسیوس نے تین امریکی حکام کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے منگل کو ایران کے ساتھ معاہدے کی نئی کوشش پر ایک ایسی ٹیلیفونک گفتگو کی جو سخت بدمزہ رہی، ذرائع نے بتایا کہ اس گفتگو کے بعد نیتن یاہو شدید پریشانی کا شکار تھے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے تند و تیز لہجے میں گفتگو کی تھی، امریکی صدر اور اسرائیلی وزیرِ اعظم کے درمیان یہ گفتگو گزشتہ رات ہوئی۔
اسرائیلی و زیرِ اعظم کے دفتر اور وائٹ ہاؤس نے اس رپورٹ پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا، تاہم ذرائع بتا رہے ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ سے بات کرکے اسرائیلی و زیر اعظم آگ بگولا ہو گئے تھے۔
ذرائع کے مطابق قطر اور پاکستان نے دیگر علاقائی ثالث ممالک کی مشاورت سے ایک نیا امن مسودہ تیار کیا ہے، جس کا مقصد امریکہ اور ایران کے درمیان اختلافات کم کرنا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ ایران پر بڑے حملے کا حکم دینے یا معاہدہ کرنے کے درمیان تذبذب کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔
دوسری طرف نیتن یاہو مذاکرات کے حوالے سے انتہائی شکوک رکھتے ہیں اور جنگ دوبارہ شروع کرکے ایران کی فوجی صلاحیتوں کو مزید کمزور اور اہم تنصیبات تباہ کرکے ایرانی حکومت کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ جب کہ ٹرمپ مسلسل یہ کہتے رہے ہیں کہ ان کے خیال میں معاہدہ ممکن ہے، تاہم اگر ایسا نہ ہوا تو وہ جنگ دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہیں۔
امریکہ کی ایران کو 25 ارب ڈالر کے اثاثوں کی واپسی اور 3.67 فی صد یورینیم افزودگی کی پیشکش ٹرمپ نے بدھ کو کوسٹ گارڈ اکیڈمی میں کہا ”صرف سوال یہ ہے کہ کیا ہم جا کر اس معاملے کو مکمل طور پر ختم کریں گے یا وہ کسی دستاویز پر دستخط کریں گے۔ دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ نیتن یاہو ”ایران کے معاملے میں وہی کریں گے جو میں چاہوں گا” تاہم انھوں نے یہ بھی کہا کہ دونوں کے تعلقات اچھے ہیں۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان ایران کے معاملے پر پہلے بھی وقتی اختلافات رہے ہیں، لیکن جنگ کے دوران دونوں قریبی رابطے میں رہے۔
ایران نے تصدیق کی ہے کہ وہ تازہ ترین تجویز کا جائزہ لے رہا ہے، تاہم اس نے ابھی تک کسی لچک کا واضح اشارہ نہیں دیا۔ تینوں ذرائع کے مطابق پاکستان، قطر، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر گزشتہ کئی دنوں سے مجوزہ مسودے کو بہتر بنانے اور اختلافات کم کرنے پر کام کر رہے ہیں۔ دو عرب حکام اور ایک اسرائیلی ذریعے کے مطابق قطر نے حال ہی میں امریکہ اور ایران کو ایک نیا مسودہ پیش کیا۔ تاہم چوتھے ذریعے نے کہا کہ یہ الگ قطری مسودہ نہیں بلکہ قطر سابق پاکستانی تجویز میں موجود اختلافات ختم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ایک عرب عہدیدار نے بتایا کہ قطری حکام نے اس ہفتے کے آغاز میں تہران کا دورہ کیا جہاں انھوں نے ایرانی حکام سے تازہ ترین مسودے پر بات چیت کی۔ ایران کی وزارتِ خارجہ نے بدھ کو کہا کہ مذاکرات ”ایران کی 14 نکاتی تجویز” کی بنیاد پر جاری ہیں، جب کہ پاکستان کے وزیرِ داخلہ ثالثی میں مدد کے لیے تہران میں موجود ہیں۔ ایک ہفتے سے کم عرصے میں وزیرِ داخلہ کا یہ دوسرا دورہ ہے۔ ایک عرب عہدیدار کے مطابق اس نئی کوشش کا مقصد ایران سے اس کے جوہری پروگرام کے حوالے سے زیادہ واضح وعدے لینا اور امریکہ سے منجمد ایرانی فنڈز مرحلہ وار جاری کرنے کے بارے میں مزید تفصیلات حاصل کرنا ہے۔
تینوں ذرائع نے اس بات پر زور دیا کہ ابھی واضح نہیں کہ ایران نئے مسودے سے اتفاق کرے گا یا اپنے مؤقف میں کوئی بڑی تبدیلی لائے گا۔ ایک قطری سفارت کار نے کہا ”جیسا کہ پہلے بھی کہا گیا، قطر پاکستانی قیادت میں جاری ثالثی کی کوششوں کی حمایت کرتا رہا ہے اور خطے اور اس کے عوام کے مفاد میں کشیدگی کم کرنے کی مسلسل وکالت کرتا رہا ہے۔” امریکی ذریعے کے مطابق منگل کی شام ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان طویل اور ”مشکل” گفتگو ہوئی۔ ذرائع کے مطابق ٹرمپ نے نیتن یاہو کو بتایا کہ ثالث ممالک ایک ”لیٹر آف انٹینٹ” پر کام کر رہے ہیں، جس پر امریکہ اور ایران دستخط کریں گے تاکہ جنگ کا باضابطہ خاتمہ ہو اور 30 روزہ مذاکراتی مرحلہ شروع کیا جا سکے۔ اس عرصے میں ایران کے جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز کھولنے جیسے معاملات پر بات چیت ہوگی۔
دو اسرائیلی ذرائع نے کہا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان آئندہ حکمتِ عملی پر اختلاف پایا گیا، جب کہ امریکی ذریعے کے مطابق ”کال کے بعد بی بی (نیتن یاہو) شدید پریشان تھے۔” ذریعے نے بتایا کہ واشنگٹن میں اسرائیلی سفیر نے امریکی قانون سازوں کو آگاہ کیا کہ نیتن یاہو اس گفتگو پر فکرمند ہیں۔ تاہم اسرائیلی سفارت خانے کے ترجمان نے اس تاثر کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ”سفیر نجی گفتگوؤں پر تبصرہ نہیں کرتے۔”
دو ذرائع نے نشان دہی کی کہ ماضی میں بھی مذاکرات کے مختلف مراحل پر نیتن یاہو شدید تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں، چاہے بعد میں معاہدے نہ ہو سکے ہوں۔ ایک ذریعے نے کہا ”بی بی ہمیشہ فکرمند رہتے ہیں۔” ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ مذاکرات کی کامیابی کے لیے امریکہ کو ایرانی جہازوں کے خلاف اپنی ”قزاقی” بند کرنا ہو گی اور منجمد فنڈز جاری کرنے پر آمادگی ظاہر کرنا ہو گی، جب کہ اسرائیل کو لبنان میں جنگ ختم کرنا ہوگی۔
واضح رہے کہ وائٹ ہاؤس اور اسرائیلی وزیرِ اعظم کے دفتر نے اس خبر پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا۔ ایک اسرائیلی ذریعے کے مطابق نیتن یاہو آئندہ چند ہفتوں میں ٹرمپ سے ملاقات کے لیے واشنگٹن جانا چاہتے ہیں۔
یو این آئیْ۔ ع ا۔
دنیا
کیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
تہران، ایران نے پیر کو بتایا کہ کیسپین سمندر کی قانونی حیثیت سے جڑے معاہدے کو منظوری دینے پر آخری فیصلہ ایران کی پارلیمنٹ کرے گی۔
ایران کے غیر ملکی امور کی وزارت کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اس کے ساتھ ہی ان قیاس آرائیوں کو مسترد کر دیا کہ یہ قدم حالیہ علاقائی پیش رفت یا کسی دوسرے ملک کے دباؤ سے متاثر ہے۔ دارالحکومت تہران میں اپنی ہفتہ وار پریس کانفرنس میں مسٹر بقائی نے واضح کیا کہ بین الاقوامی معاہدوں پر ایران کے فیصلے پوری طرح آزادانہ اور اس کے اپنے قومی مفادات پر مبنی ہوتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اگست 2018 میں کیسپین سمندر کے پانچ ساحلی ممالک (ایران، روس، آذربائیجان، قزاقستان اور ترکمانستان) کے دستخط شدہ اس معاہدے کو پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے سے پہلے کئی سال تک وزارتِ خارجہ اور دیگر متعلقہ اداروں میں جائزے کے تحت رکھا گیا تھا۔
مسٹر بقائی نے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا کہ اس معاہدے کو پارلیمنٹ میں بھیجنے کا وقت حالیہ جنگ یا کسی بیرونی دباؤ سے جڑا تھا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایران اپنے قومی مفادات سے جڑے فیصلے آزادانہ طور پر لیتا ہے اور بین الاقوامی معاہدوں پر ایران کا موقف پوری طرح سے اس کے اپنے مفادات پر مبنی ہوتا ہے۔
ترجمان نے واضح کیا کہ پانچوں دستخط کنندہ ممالک کی توثیق کے بغیر یہ معاہدہ نافذ نہیں ہو سکتا، اسی لیے دیگر چار ممالک چاہتے ہیں کہ یہ معاہدہ جلد از جلد نافذ ہو۔ مسٹر بقائی نے واضح کیا کہ وزارتِ خارجہ نے اس معاہدے پر اپنا کام پورا کر لیا ہے، لیکن ایران کے آئین کے تحت اس پر آخری فیصلہ لینے کا اختیار صرف پارلیمنٹ کے پاس ہے۔
یو این آئی۔ این یو۔
دنیا
آبنائے ہرمز کے مستقبل پر ایرانی مطالبات سے غیر یقینی بڑھنے کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ
ویانا، ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے پیش کی جانے والی نئی شرائط نے عالمی توانائی کی منڈیوں میں استحکام کی امیدوں کو متاثر کیا ہے، جس کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
بین الاقوامی معیار سمجھے جانے والے برینٹ خام تیل کی قیمت پیر کو ایک فیصد سے زیادہ بڑھ گئی۔ تہران کے اس مؤقف نے مارکیٹ میں تشویش بڑھا دی ہے کہ امریکہ کی جانب سے اہم مراعات دیے جانے تک آبنائے ہرمز کو دوبارہ نہیں کھولا جائے گا۔
گرین وچ مین ٹائم کے مطابق صبح 7:30 بجے اکتوبر کے لیے برینٹ خام تیل کے فی بیرل مستقبل کے سودوں کی قیمت 84.11 ڈالر تھی، جو 0.7 فیصد زیادہ ہے۔
حالیہ اضافے کے بعد عالمی بینچ مارک کی قیمت امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے سے پہلے کے مقابلے میں تقریباً 16 فیصد زیادہ ہو گئی ہے۔
آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں قائم کے سی ایم ٹریڈ کے چیف مارکیٹ تجزیہ کار ٹم واٹرر نے الجزیرہ کو بتایا، ’’ٹھوس پیش رفت نہ ہونے کے ساتھ ساتھ کسی بھی معاہدے کی عملی تفصیلات سے متعلق سوالات اب بھی موجود ہیں، جس کی وجہ سے قیمتوں میں خطرے کا اضافی عنصر برقرار ہے۔‘‘
انہوں نے کہا، ’’ہر گزرتا دن جس میں کوئی پیش رفت نہیں ہوتی، تاجروں کو مزید محتاط بنا رہا ہے۔‘‘
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اتوار کو کہا تھا کہ ایران اور عمان آبنائے ہرمز کے معاملے پر ایک معاہدے کے قریب ہیں، تاہم واشنگٹن کی جانب سے تہران پر عائد پابندیوں میں نرمی اور جنگی نقصانات کی تلافی سمیت بعض شرائط پوری کیے جانے تک یہ آبی گزرگاہ دوبارہ نہیں کھولی جائے گی۔
جنگ سے قبل عالمی تیل کی تقریباً پانچویں حصے کی رسد آبنائے ہرمز سے گزرتی تھی، لیکن فروری کے اواخر میں تنازع شروع ہونے کے بعد سے اس آبی گزرگاہ میں بحری آمدورفت تقریباً مکمل طور پر رک گئی ہے، جس کے نتیجے میں ریکارڈ شدہ تاریخ میں توانائی کی فراہمی میں سب سے بڑی رکاوٹ پیدا ہوئی ہے۔
بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے پلیٹ فارم میرین ٹریفک کے مطابق 4، 5 اور 6 اگست کو آبنائے ہرمز سے صرف 8 سے 15 بحری جہاز گزرے، جبکہ جنگ سے قبل روزانہ تقریباً 130 بحری جہاز اس راستے سے گزرتے تھے۔
ایران مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ اسے آبنائے میں بحری آمدورفت کو کنٹرول کرنے کا حق حاصل ہے، حالانکہ بین الاقوامی بحری قانون میں سمندری راستوں سے آزادانہ آمدورفت کو بنیادی اصول سمجھا جاتا ہے۔ ایران نے غیر منظور شدہ راستوں سے گزرنے کی کوشش کرنے والے تجارتی بحری جہازوں پر حملے کی دھمکی بھی دی ہے۔
ہفتے کے روز متحدہ عرب امارات نے تہران کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے ابو ظہبی نیشنل آئل کمپنی کی ملکیت والے ایک بحری جہاز پر میزائل حملہ کیا۔
بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد سے خطے میں تجارتی بحری جہازوں سے متعلق کم از کم 64 پرتشدد واقعات پیش آ چکے ہیں، جن میں 17 افراد ہلاک ہوئے۔ ان میں سے زیادہ تر واقعات کا الزام ایران پر عائد کیا گیا ہے۔
توانائی کی منڈیوں میں دوبارہ بڑھتی ہوئی بے یقینی کے باوجود ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں پیر کو تیزی دیکھی گئی۔ جاپان، جنوبی کوریا اور ہانگ کانگ کے اہم انڈیکس میں نمایاں اضافہ ہوا۔
جاپان کے نکی 225 انڈیکس میں 2.1 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ جنوبی کوریا کا کوسپی انڈیکس 0.65 فیصد اور ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ انڈیکس 1.1 فیصد اضافے کے ساتھ بند ہوا۔
ایشیا کی اسٹاک مارکیٹوں میں یہ تیزی جمعے کو امریکی اسٹاک مارکیٹ میں ریکارڈ بلند سطح پر پہنچنے کے بعد سامنے آئی۔
توقعات سے کمزور امریکی روزگار کے اعداد و شمار کے باعث امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے امکانات کم ہوئے ہیں۔
کے سی ایم ٹریڈ کے تجزیہ کار ٹم واٹرر نے کہا کہ تیل کی قیمتوں میں تازہ اضافہ اس بات پر مارکیٹ کے شکوک کی عکاسی کرتا ہے کہ مذاکرات کار آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے قابلِ عمل معاہدہ کتنی جلد طے کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا، ’’اگر بالآخر کسی معاہدے کا اعلان بھی ہو جاتا ہے تو تاریخ بتاتی ہے کہ اس طرح کی مفاہمتیں نازک ثابت ہو سکتی ہیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’معاہدہ ہونے کے باوجود دوبارہ صورتحال بدل جانے کا جو خطرہ برقرار رہے گا، اس کے باعث سفارتی پیش رفت کی صورت میں بھی تیل کی قیمتوں میں کمی محدود رہنے کا امکان ہے۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
تجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
تہران، ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای نے اسلامی انقلاب گارڈز کور (آئی آر جی سی) کے سابق کمانڈر محسن رضائی کو سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل (ایس این ایس سی) کا سکریٹری مقرر کیا ہے، جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ ملک میں پرانے نظام کے بااثر حلقے اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کر رہے ہیں۔
71 سالہ رضائی ایک تجربہ کار فوجی کمانڈر اور نظام کی نمایاں شخصیت ہیں۔ انہیں ایس این ایس سی کا سکریٹری مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے محمد باقر ذوالقدر کی جگہ لی ہے، جو مارچ سے اس عہدے پر فائز تھے۔
رضائی طویل عرصے سے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے بارے میں گہری بداعتمادی کا اظہار کرتے رہے ہیں اور ان کی تقرری ایران کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے حوالے سے نسبتاً زیادہ سخت گیر رویے کی جانب اشارہ کرتی ہے۔
سرکاری طور پر جاری کیے گئے فرمان کے مطابق، سپریم لیڈر نے انہیں سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل میں اپنا نمائندہ مقرر کیا اور رضائی کے ’’قیمتی تجربات‘‘ کو سراہتے ہوئے انہیں ’’آٹھ سالہ مقدس دفاع‘‘ کا ایک پیش رو قرار دیا۔ ’’مقدس دفاع‘‘ سے مراد 1980 کی دہائی کی ایران۔عراق جنگ ہے۔
رضائی نے 1981 سے 1997 تک آئی آر جی سی کی کمان سنبھالی۔ وہ اس وقت مصلحت تشخیصی کونسل کے رکن اور سپریم کونسل برائے اقتصادی رابطہ کاری کے سکریٹری بھی ہیں۔
فرمان میں محمد باقر ذوالقدر کی اس عہدے پر ’’شب و روز کی کوششوں‘‘ پر ان کا شکریہ بھی ادا کیا گیا اور سبکدوش ہونے والے نمائندے کی خدمات کو سراہا گیا۔
سپریم لیڈر نے فرمان میں لکھا، ’’مجھے امید ہے کہ آپ اس اہم ذمہ داری کی انجام دہی میں مکمل کامیابی حاصل کریں گے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’ہمارے آقا امام مہدی کی برکتوں کے سائے میں آپ ہمیشہ ایران کی سربلند قوم کے وفادار سپاہی بنے رہیں۔‘‘
ایس این ایس سی کی سربراہی باضابطہ طور پر صدر مسعود پزشکیان کرتے ہیں اور یہ کونسل ایران کی سلامتی اور خارجہ پالیسی میں رابطہ کاری کا اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس میں سپریم لیڈر کے نمائندے کے علاوہ اعلیٰ فوجی، انٹیلی جنس اور حکومتی عہدیدار شامل ہیں۔
رضائی پہلے ہ۔ی سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے قابلِ اعتماد معاونین کے محدود حلقے کا حصہ تھے اور ان کے فوجی مشیر کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ تاہم، نئی تقرری نے انہیں ایران کے سکیورٹی نظام کے انتہائی بااثر عہدوں میں سے ایک پر پہنچا دیا ہے۔
رضائی کو 1980 کی دہائی میں ایران۔عراق جنگ کے دوران اسلامی انقلابی گارڈز کور کا کمانڈر انچیف مقرر کیا گیا تھا۔ وہ پانچ دہائیوں سے زیادہ عرصے سے ایران کے سیاسی، سکیورٹی اور فوجی نظام کے مرکز میں رہے ہیں۔ آئی آر جی سی میں رضائی کو ان کے پیشرو ذوالقدر کے مقابلے میں کہیں زیادہ اختیارات حاصل رہے ہیں۔
رضائی نے 1979 کے اسلامی انقلاب کے دوران اسلامی انقلابی زیرِ زمین سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہوئے اور اسلامی گوریلا گروپوں کے ساتھ مل کر لڑتے ہوئے ایران کے سیاسی و سکیورٹی نظام میں اپنا مقام بنایا۔ انہوں نے آئی آر جی سی کے ابتدائی منشور کی تیاری میں بھی مدد کی۔ بعد ازاں وہ اس فورس کے سب سے طویل عرصے تک کمانڈر رہنے والے سربراہ بنے اور آئی آر جی سی کو ایران کے طاقتور ترین اداروں میں تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
ایران کے سکیورٹی نظام میں گہری جڑیں رکھنے والے رضائی بعد میں مصلحت تشخیصی کونسل میں شامل ہوئے، جو سپریم لیڈر کو مشورے دیتی ہے اور سابق صدر ابراہیم رئیسی کے دور میں نائب صدر کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔ رضائی نے چار مرتبہ صدارتی انتخابات میں حصہ لیا، تاہم کبھی کامیاب نہیں ہوئے۔
حالیہ عرصے میں رضائی نے امریکہ کے خلاف سخت گیر مؤقف اختیار کیا ہے۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ’’دانش مندی اور تدبر کی کمی‘‘ کا شکار قرار دیا۔
ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں رضائی نے کہا کہ حالیہ کشیدگی کے دوران ایران کے جوابی حملوں نے خطے میں امریکی افواج کو اپنی پوزیشن تبدیل کرنے پر مجبور کر دیا۔
انہوں نے کہا، ’’ایران نے ان کے منصوبے کو ناکام بنا دیا۔ ٹرمپ کی ایران کے خلاف تیسری جنگ درمیان ہی میں شکست سے دوچار ہو گئی، جس سے ان کی سابقہ ناکامیوں میں ایک اور سنگین ناکامی کا اضافہ ہوا۔‘
رضائی نے گزشتہ ہفتے ایکس پر جاری کردہ اپنی ایک پوسٹ میں خبردار کیا کہ اگر ایران کی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی جاری رہی تو ’’امریکی بحری جہازوں اور افواج کو سنگین خطرات اور جانی نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘‘ رضائی یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ اہم آبی گزرگاہ پر ایران اور عمان کی خودمختاری ہے۔
گزشتہ ماہ رضائی نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کو ’’ختم‘‘ قرار دیا تھا، تاہم ساتھ ہی کہا تھا کہ مذاکرات ’’صرف عبور کرنے کے لیے ایک پل ہیں، کوئی مستقل عہد نہیں۔‘
امریکی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں رضائی نے کہا کہ اگر مذاکرات ناکام ہو جاتے ہیں تو ایران اپنی سرزمین پر ممکنہ امریکی حملے کے لیے تیار ہے اور ’’دنیا ایران کی حقیقی صلاحیتوں سے واقف ہو جائے گی۔‘‘
ذوالقدر نے اس وقت یہ عہدہ سنبھالا تھا جب کونسل کے سابق سیکریٹری علی لاریجانی رواں سال کے اوائل میں ایران پر امریکی۔اسرائیلی حملوں کے دوران اسرائیلی حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔
یہ کونسل، جس میں اعلیٰ سول اور فوجی عہدیدار شامل ہیں، امریکہ کے ساتھ جاری تنازع کے حوالے سے ایران کی پالیسی طے کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان17 hours agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا16 hours agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا12 hours agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا19 hours agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا11 hours agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا11 hours agoآبنائے ہرمز کے مستقبل پر ایرانی مطالبات سے غیر یقینی بڑھنے کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ
-
جموں و کشمیر10 hours ago7.12 لاکھ روپے کے کپواڑہ پل گھپلے کے معاملے میں اے سی بی نے 10 افراد کے خلاف فردِ جرم عائد کی
-
دنیا9 hours agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
جموں و کشمیر10 hours agoکابینہ میں توسیع ’کسی وقت‘ ہوگی، عمر عبداللہ
